تازہ تر ین

کرپشن کا تناور درخت اور ملکی معیشت

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ ِ نظر
ہر حکومت کے وزراءاور اقتصادی ماہرین ہمیشہ بلند و بانگ دعویٰ کرتے ہیں کہ 2025ءتک پاکستان دنیا کے مضبوط معیشت کے حامل ممالک کی صف میں آ جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سطح پر ہونے والی کرپشن کی وجہ سے ہماری معیشت مکمل تباہی کا شکار ہو چکی ہے ریاست کا نظام چلانے کیلئے ہمارا زیادہ تر دارومدار غیر ملکی قرضوں پر ہے جسکی وجہ سے ملک پر قرضوں کے بھاری بوجھ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے پھر ان قرضوں پر ہونے والی کرپشن نے ہماری معیشت کی تباہی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے 30 ہزار ارب روپے کے قرضوں تلے دبا ہوا یہ ملک ترقی پذیر کہلانے کی بجائے پسماندہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوا نظر آتا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہی ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 2 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے جبکہ سالانہ 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ بھی ہوتی ہے۔ اس وقت سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔ حکومت نے چند دن پہلے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے 5 ہزار سے زائد جعلی بینک اکاﺅنٹس کا بھی کھوج لگایا ہے جن سے اربوں روپے ادھر سے ادھر ہوئے ہیں اس کے علاوہ کہ دنیا کے کئی ممالک کے بنکوں میں 700 ارب روپے کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا۔ کرپشن کی اس داستان میں اگر ہم پانامہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق 444 پاکستانیوں کی کرپشن کو بھی شامل کر لیں تو معیشت کی تباہی کے تمام صورتحال کھل کر سامنے آ جاتی ہے ایف آئی اے نے خیبرپختونخوا میں 30 بے نامی بنک اکاﺅنٹس ملے جو 10 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کھوج لگایا ہے اس طرح کے ”حیران کن اکاﺅنٹس“ ملک کے ہر حصے میں پائے گئے ہیں فالودے والا چائے والا رکشے والا کھوکھے والا، کریانہ سٹور والا، چوکیدار، خانسامہ، ڈرائیور اور دیگر گھریلو ملازمین کے ناموں پر بینک اکاﺅنٹس اور اس میں موجود کرپشن کی بھاری رقوم ہماری مالیاتی بدعنوانی اور اخلاقی پشتی کی بدترین مثال ہے پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں بعض صنعتکاروں اور سرکاری افسران کے گھروں سے کرپشن کی دولت سے بھری نوٹوں کی بوریاں، دیگیں، غیر ملکی کرنسی اور ہیرے جواہرات ہماری مالیاتی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں ملکی دولت کو بے دردی سے لوٹنا اب بہادری دلیری اور ذہانت سمجھا جانے لگا ہے کمیشن، ککس بیک، انڈر انڈر انوائیسنگ، اوور انوائیسنگ، ٹیکس چوری، سمگلنگ، مالیاتی لوٹ کھسوٹ کے الفاظ اب ہماری زندگی کی ”اخلاقی کتاب“ سے غائب ہوتے جا رہے ہیں دھوکہ دہی، فریب، جعلسازی، بے ایمانی، رشوت ستانی، بددیانتی، اقرباپروری، دھونس دھاندلی، دشمنی، عناد، فساد، لاقانونیت اور وطن دشمنی جیسی اخلاقی اور معاشرتی بیماریاں تیزی سے پھیلتی جا رہی ہیں۔
اسلامی جمہوری مملکت ہونے کے باوجود دنیا ہمیں دہشت گردی اور مالیاتی دہشت گردی کے بھی طعنے دیتی ہے لیکن ہم کان بند کر کے اخلاقی اور مالیاتی کرپشن کے دلدل میں غرق ہوتے ہی جا رہے ہیں۔ اصلاح احوال کی ہمیں کوئی بھی صورت نظر نہیں آ رہی۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کرپشن کا یہ تناور درخت مزید پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ کرپٹ مافیا کو نہ کوئی شرم ہے نہ حیا۔ ان کا احساس انسانیت موت کی نیند سو چکا ہے یقینا یہ افسوسناک خبر ضرور آپ کی نظروں سے گزری ہو گی کہ ایک 80سالہ بزرگ کی قومی بچت مرکز میں جمع شدہ زندگی بھر کی پونجی ایک کروڑ 85لاکھ روپے مرکز کے 3بددیانت افراد نے جعلسازی سے نکلوا لی۔ اس طرح کے واقعات روز ہی ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حکومتی سطح پر سیاستدانوں و سرکاری افسران اور عوامی سطح پر کرپشن کا یہ گھناﺅنا کھیل رکنے کا نام ہی نہیں لیتا ہے۔ مالیاتی‘ معاشی اور انتظامی بدعنوانیوں کی وجہ سے پاکستان پر ملکی اور غیرملکی قرضوں کا بوجھ جس تیزی سے بڑھ رہا ہے اس سے ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی بے حد پریشان ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران پاکستان نے 101کھرب روپے کے غیرملکی اور 13140ارب روپے کے ملکی قرضے حاصل کئے جس سے پاکستان کا ہر شہری اور پاکستانی مجموعی طور پر مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ قرضے کی اس رقم پر جس بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ ہم کرپشن کے مرتکب ہوتے ہیں اس سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ خاک میں مل چکی ہے۔ کوئی بھی اب ہمیں قرضے دینے پر بھی تیار نہیں۔ ہم کشکول لے کر ان کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ موجودہ حکمران جماعت نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بار بار اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم برسراقتدار آ کر کسی صورت میں بھی قرضے نہیں لیں گے اور نہ ہی آئی ایم ایف کے آگے قرضے کے حصول کیلئے جھکیں گے اور آج وہ کشکول اٹھائے ملکی خزانہ بھرنے اور روزمرہ کے مالیاتی امور چلانے کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے بعد چین اور پھر چین کے بعد آئی ایم ایف اور اب ملائیشیا سے حصول زر کیلئے کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے اور ہر سطح پر ہونے والی کرپشن کی وجہ سے دنیا ہمیں بالکل اہمیت نہیں دیتی۔ آپ حیران ہوں گے کہ ہم نے آج تک قرضوں کے بدلے بڑی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کی سخت ترین شرائط بھی خوشی سے تسلیم کی ہیں۔ اس وقت آئی ایم ایف کی اعلیٰ سطح کی ٹیم دو ہفتوں سے پاکستان میں ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے اور ہماری مالیاتی ٹیم سے نہ جانے کن کن امور پر بات چیت کر رہی ہے۔ قرضے کے عوض نہ جانے ہمیں کس چنگل میں پھنسانے کی کوششیں کر رہی ہے کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے کی کسی بھی ٹیم نے اس سے پہلے پاکستان میں اس قدر طویل عرصے تک قیام نہیں کیا۔ اگر پاکستان سے مالیاتی کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت بھی ہمیں سرنگوں نہیں کر سکتی۔ قوم اس انتظار میں ہے کہ ہمارے حکمران کب وعدوں، وعدوں اور نعروں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کشکول توڑتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں اپنا مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانا ہوگا۔ مالیاتی تجارتی اور تعمیراتی منصوبوں میں شفافیت اور کرپشن فری ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ مالی منصوبہ بندی کرتے وقت اعدادوشمارکا درست ہونا بے حد ضروری ہے لیکن ہمارے ہاں ہر شعبے میں اور ہر سطح پر کارکردگی کے جھوٹے اعدادوشمار بڑی ڈھٹائی سے پیش کیے جاتے ہیں۔ مالیاتی خسارہ ہویا افراط ر، شرح نمو کا مسئلہ ہویا بیرونی سرمایہ کاری، بنکوں کی شرح سود ہو یا شرح منافع، ٹیکس ہو یا ڈیوٹی ڈرا بیک قومی پیداوار برآمدات ہو یا پھردرآمدات سب کے اعدادوشمار دیکھ کرایسے لگتا ہے کہ پاکستان شاہراہ ترقی پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن عملاً معاملا بالکل الٹ ہوتا ہے۔ جب تک ہمارے اعدادوشمار درست نہیں ہونگے اور ہماری مالیاتی و معاشی منصوبہ بندی قابل عمل نہیں ہوگی ہم صرف ترقی کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں، عملاً کچھ بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرپشن کے تناور درخت کو جڑ سے کس طرح اکھاڑا جائے، اس بارے میں کس طرح کی قانون سازی کی جائے؟ حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتیں، غیرسرکاری سماجی تنظیمیں میڈیا اور سوشل میڈیا سب مل کر کس طرح کی قابل عمل منصوبہ بندی کریں؟ بیرون ممالک پاکستان کے سفارتخانے ملک کی ساکھ اور شہرت کو بحال کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائیں؟ یہ بات سب کے ذہن نشین رہے کہ ہمیں ہر صورت میں کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے ملک و قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لا کر ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے ہمیں سمگلنگ ، منی لانڈرنگ، کمیشن مافیا ، ٹیکس چوری، کک بیکس، رشوت خوری، آف شورکمپنیوں، جعلی اکاﺅنٹ ہولڈروں، سرکاری وسائل اور قومی دولت کو لوٹنے والے حکمرانوں سیاستدانوں اور بااثر افراد کی سازشوں کی ہر صورت میں خاتمہ کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاکستان میں آئے ہوئے وفد نے بھی پاکستان کے مختلف شعبوں اور محکموں کے بارے میں ایسی ہی ہدایات دی ہیں اور اقدامات تجویز کیے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ حکومت سرمایہ دار ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے ایسے وعدے اور یقین دہانیاں کرکے سخت شرائط پر قرضے تو حاصل کرلیتی ہے لیکن ”کرپشن کا پرنالہ“ وہیں کا وہیں رہتاہے یہ الگ بات ہے کہ کرپشن کے خلاف چند روزہ مہم بھی چلا دی جاتی ہے۔ سیمینار مذاکرے، سمپوزیم اورواک کا بھی اہتمام کردیا جاتا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کرپشن کے خاتمہ کیلئے بھرپور پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ ہرطرف ہمیں بظاہر Say No To Corruption کے نعرے اور دعوے سنائی دیتے ہیں اور دکھائی بھی دیتے ہیں لیکن نتیجہ صفر ضرب صفر= صفر کے زیادہ نہیں نکلتا۔ دلچسپ مگر افسوسناک بات یہ بھی کہ کرپشن کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے فنڈ سے بھی مالیاتی کرپشن کرلی جاتی ہے ایسے لگ رہا ہے جیسے کرپشن ہمارے مزاج میں رچ بس گئی ہے اس لئے سیانے لوگ سچ سہی تو کہتے ہیں کہ کرپشن کرنے والوں کو اگر ہم سزا کے طور پر سمندر کی لہریں گننے پر بھی لگا دیں تو وہ وہاں پر بھی کرپشن کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور ڈھونڈ لیں گے۔
یہ افسوس ناک اور شرمناک حقیقت ہے کہ 2017-18ءکی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (TRANSPARENCY INTERNATIONAL) کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے کرپٹ ترین 175 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 117واں نمبر ہے جبکہ 1995ءمیں ہم 39ویں نمبر پر تھے اس حساب سے دیکھا جائے تو گذشتہ 23سالوں کے دوران ہم نے کرپشن کے شعبے میں بے پناہ ترقی کی ہے ایک عالمی ادارے کے مندرجہ بالا اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے حکومتی ادارے‘ نجی ادارے اور سرمایہ دار حضرات بڑے پیمانے پر مالیاتی کرپشن میں بُر ی طرح ملوث ہیں ایسی صورتحال میں ہم ترقی پذیر ملک سے ترقی یافتہ ملک کس طرح بن سکتے ہیں؟ مالی اور اقتصادی طور پر مضبوط معیشت ہونے کے دیرینہ خواب کو کس طرح حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں؟ کرپشن کا بڑھتا ہوا دائرہ یقیناً ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے جس کے خاتمے کیلئے عملی جدوجہد کرنا حکومت اور پوری قوم پر فرض ہے یہ حقیقت ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کر کے ہی ہم ترقی اور خوشحالی کے راستے پر چل سکتے ہیں۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved