تازہ تر ین

” روشن صدی کی بات“

محمد صغیر قمر……..چنار کہانی
”روشن صدی کی بات“ میرے سامنے ہے اوراس کے مرتب عالمی شہرت یافتہ سیاح لاتعداد کتابوں کے مصنف برادربزرگ ےعقوب نظامی کا مسکراتا چہرہ بھی۔بظاہر یہ ایک کتاب ہے لیکن اصل میں ایک تاریخ ہے۔یہ کتاب انہوں نے اپنے بڑے بھائی معروف قانون دان ایوب صابر ایڈووکیٹ کی ہمہ جہت زندگی پر مرتب کی ہے ،جس میںریاست جموں کشمیر کے باشندوں پر بیتنے والی قیامتوں اورہجرت کے سفر کی جگر پاش داستان درج ہے۔ کشمیر کے مرغزاروں سے مہاجرکیمپوں تک اورپاکستان کی مہربان گود سے روزگارکی تلاش تک،ایک ایسی کہانی جس کے کردار لاکھوں میں ہیں۔ایوب صابر اس کہانی کا ایک ایسا زندہ کردار ہے جس نے دار ہجراںسے اپنی منزل تک بلا تکان سفرکیا ہے۔بے شک وہ ریاست جموں کشمیر کا ایک رو ل ماڈل ہیں۔ اسم بامسمٰی، ایوب صابر سے برسوں پہلے تعارف ہوا تھا،یہ 1984ءکا ذکر ہے۔
میں اپنے حالات سے مجبور گاﺅں سے میرپور منتقل ہوا تھا۔عجیب سا شہر،کہاں گاﺅں کی پسماندگی اور کہاں میر پور کی لش پش زندگی؟ایک طرف گاﺅں کے کچے مکانات،بے ڈھب راستے اور افلاس زدہ عوام‘ دوسری طرف بڑی بڑی کوٹھیاں ، کھلی سڑکیں،مارکیٹیں اور دولت مندوں کے نخرے۔شروع میں تو ایسے لگا کہ چند دن کے بعد احساس کمتری مجھے اس شہر سے بھی نقل مکانی پر مجبور کر دے گا۔یہاں آئے مجھے کچھ ہی روز گزرے تھے کہ ایک شام مرکزی جامع مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر نکلا تو سامنے ایک صاحب نے لپک کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔کوئی پنتیس ، چالیس سال کے پیٹے میں ہوئے ہوں گے شاید اس سے بھی کم ۔بہر حال ہمیں اپنے سے ”بزرگ“ ہی لگے تھے۔انہوں نے کمال شفقت سے گلے لگا لیا۔اجنبی اور بے مہارروایتوں کے اس شہر میںکسی کا یوں محبت سے ملنا مجھے بہت اچھا لگا۔میں نے عقیدت اور محبت سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔
©”میرا نام ایوب صابر ایڈووکیٹ ہے“۔انہوں نے کہا تو مجھے یوں لگاجیسے برسوں سے کھوئی ہوئی کوئی قیمتی چیز مل گئی ہو۔ایوب صابر کا تذکرہ اپنے خاندان میں بچپن سے ہی سنتا چلا آیا تھا۔مقبوضہ مینڈھر کے گاﺅں سلوا سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آنے والے مہاجروں میں سے خال ہی کوئی ہو گا جو اس ”مہاجر“سے ناواقف رہا ہو۔ایک پڑھے لکھے ،صاحب علم اور دینی گھرانے کا چشم چراغ ایوب صابراس علاقے کے مہاجروں میں سے وہ پہلا فرد تھاجس نے ایل ایل بی کیا تھااور بابو محمد اسماعیل شاید پہلے پٹواری تھے جنہوں نے مہاجروں میں نام کمایا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو پٹواری یا ایل ایل بی کر کے وکیل بننے کی تاکید کرتی تھیں۔جملہ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ میں نے مڈل کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا تورزلٹ کارڈ لے کر بھاگتا ہوا گھر پہنچا۔گھر کے صحن میں دادی اماں (میرے والد کی پھوپھی )حقے کے کش لگا رہی تھیں میں نے رزلٹ کارڈ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔”دادی اماں میں نے فرسٹ پوزیشن لی ہے©©“۔انہوں نے حقے کی نال منہ سے ہٹاتے ہوئے دھوئیں کے مرغولے میرے چہرے پرچھوڑتے ہوئے کہا۔”میں صدقے جاواں اب بس کرو اور پٹواری بن جاﺅ۔“
میں پٹواری تو نہ بن سکا۔البتہ کچھ دنوں بعد تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرنے لگا۔ایک روز صوفی باغ حسین (مرحوم) کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ مجھے پکڑ کر حکیم عبدا لرزاق کے پاس لے گئے۔نہ جانے دونوں نے کیا کسر پھسر کی۔کچھ دن بعد میں ہائی سکول گیاتھا۔مجھے انہوں نے کچھ نہیںدیا ، بس یہی کہا کہ تم جتنا زیادہ پڑھ لو گے اتنے بڑے انسان بنوگے‘ دیکھو!ایوب صابر نے کس مشکل وقت کے ساتھ گزارا کیا اور اب وہ میرپور میں ایک بڑا وکیل ہے۔واہ!کیا خوش گزار نام تھا۔ایک بڑا وکیل ، ایک بڑا انسان میرا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا۔اس پہلی ملاقات کا سبب بھی وہ خود ہی تھے۔وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔مسجد سے نکل کر ہم پیدل چل پڑے۔میرا ہاتھ ابھی تک انہوں نے تھام رکھاتھا۔چلتے چلتے سٹاف کالونی کے ایک گھر پر انہوں نے دستک دی ”یہ میرا غریب خانہ ہے“۔ انہوں نے کہا تو میرے پسینے چھوٹ گئے۔ایک قطعاََاجنبی ماحول میں اتنے بڑے انسان کے گھر داخلہ مجھے منظور ہی نہیں تھا۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے بہانا کیا کہ کچھ ضروری کام سے جانا ہے ۔پھر کبھی آجاﺅں گا۔انہوں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے مجھے مہمان خانے میں بٹھایا ۔ ایک چھوٹا سا کمرہ ، جس میں پہلے ہی تین چار نوجوان بیٹھے تھے۔ایک جانب تین چار کرسیاں اور دوسری طرف ایک بیڈ۔وہ نوجوان آپس میں کسی دینی موضوع پر بات کر رہے تھے۔مگرانہیں میر ی موجودگی کا احساس ہوا تو ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا ۔مجھے لگا کہ وہ کہیں اور دیکھ رہا ہے۔وہ الیاس ایوب تھا۔پیدائشی نابینا الیاس ایوب آگے چل کر اس ملک کا سرمایا افتخار بن گیا۔ایوب صابر نے کمال تربیت کے ساتھ اپنے نابینابیٹے الیا س کو اعتماد عطا کیا۔الیاس نے انگلش میں ماسٹر کیا اور پروفیسر الیاس بن گیا۔آج پاکستان میں نابینا افراد کا سب سے بڑا ادارہ ”آکاب“الیاس ایوب کی نگرانی میںہی چل رہا ہے۔اس چھوٹے سے ڈرائینگ روم میں ایوب صابر نے ایک جہاں آباد کر رکھا تھا۔وہ بوقت اپنے بھائیوں اپنے بچوں اور معاشرے میں لاتعداد دوستوں کاسہارا بن گئے تھے ۔کسی کو اپنی مشکل ان سے شئیر کرتے ، اپنے ذاتی راز بتاتے اور بلا تردد مدد طلب کرنے میں کبھی عار محسوس نہیں ہوتی تھی۔اس پہلی ملاقات کے بعد ایوب صابر سے میری ملاقاتیں دوستی اور دوستی عقیدت میں بدل گئی۔
لوگ کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کے بعد آپ نے پاکستان میں گھر بسا لیابلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گاکہ انہوں نے پاکستان دل میں بسا لیا۔پاکستان سے لازوال محبت اور نظریہ پاکستان سے کمال کا تعلق، ہم نے ان جیسوں سے سیکھا۔ہجرت کے بعد وہ جماعت اسلامی سے باقاعدہ منسلک ہو گئے۔جماعت اسلامی ان کی اول و آخر محبت ٹھہری ۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے تعلیم کو مقصد زندگی کے طور پر اپنایا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کا سارا قبیلہ بہترین پڑھے لکھے افرادمیں شمارہوتا ہے۔بے غرض دوستی اور خدمت ان کا شعار بن گیا۔وہ کہا کرتے تھے کہ جب بھی انسان کو خوشیاں اور وسائل ملیں ایک بات یاد رکھے کہ وہ اپنے رب کو نہ بھولے، اس کی مخلوق کا خیال رکھے اور اپنی اوقات ہمیشہ یاد رکھے۔یہ محض ان کا کہنا نہیں تھاانہوں نے یہ کر کے بھی دکھا دیا۔یہ سب کر کے دکھا نا کتنا دشوار ہے؟یہ وہ لوگ ہی جانتے ہیں جنہیں اللہ نے اس کام کے لیے بھیجا ہوتا ہے۔ایوب صابر سے برسوں کے تعلق نے ہمیں ایک ہی سبق دیا ہے کہ اگر مرنے کے بعد اس دنیا میں باقی رہنا ہے تو دوسروں کے لیے اپنا آپ کو وقف کر دو۔سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ ایوب صابر اور میری مشترکہ محبت ہیں۔مجھے نہیں معلوم کے ان کے ساتھ میرے خون کا رشتہ بھی ہے اگر ہے تو کہاں جا ملتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمارا نظریاتی تعلق اتنا گہرا اور مضبوط رہا ہے کہ تین دہائیوں کا ربط ایک لمحے کے لیے نہیں ٹوٹا۔یوں کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا کہ یہ رشتہ روح سے جڑا ہو ا ہے۔ان کے صالح متین (مرحوم) چھوٹے بھائی یعقوب نظامی (معروف ادیب اور سیاح ) اور ڈاکٹر یوسف طارق سے محبت اور عقیدتوں کے تعلق کا سبب بھی یہی ”بابا“ہے۔ایوب صابر نے جس طرح محبت کے یہ ہیرے تراشے ہیں یہ انہی کا کمال ہے۔پورے خاندان کا نیو کلیس بن جانا بھی ایک اعزاز ہے۔کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں ایوب صابر کو مقناطیس کا پہاڑ کہا کروں ۔ پورے خاندان کو ان کی کشش کھینچ کھینچ کر لاتی ہے ۔پاکستا ن اور اسلام سے لازوال وابستگی اس خاندان کا اثاثہ ہے اور اس اثاثے کو خاندان تک منتقل کرنے میں ایوب صابر نے بہت محنت کی ہے۔ایوب صابر کی زندگی بھر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود پورے خاندان کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا اور باعزت روزگار تک رہنمائی کی ۔انہوں نے اپنے خاندان کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے نہ صرف آشنا کیا بلکہ اسلام کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کے گر بھی سکھائے۔وہ اپنے عزم اور ارادے میں اتنے یکسو ہیں کہ ہر حال میں اپنے نام کی طرح صابر اورمتحرک رہتے ہیں۔اس عمر میں جب کہ وہ کمر کے آپریشن سے گزرے ہیں۔واکران کا سہارہ ہے اس کے باوجود رب کی رضا پر اتنا خوش انسان خال ہی دیکھنے کوملتاہے ۔وہ اب بھی وکالت کے لیے کورٹس میںجاتے ہیں۔وہ اب بھی دوسروں کے لیے جینے کا حوصلہ اور ہمت رکھتے ہیں۔وہ اب بھی ہر دم مسکراتے اور آگے بڑھتے جاتے ہیں۔اللہ ان کی حفاظت کرے،ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔آخری بات یہ کہ پہلی ملاقات سے آج تک وہ مجھے ”سر“ کہتے رہے ہیں،کیوں ؟اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں ان کے لیے اہم ہوں۔۔ان کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ ہر ایک کے ساتھ ایسے ہی پیش آتے ہیں۔آج ان پر بے اختیار پیار آرہا ہے۔۔۔دل کرتا ہے کہ برسوں کی اس دوستی اور محبت پر انہیں کہا جائے۔”تھنک یو سر!!“
”روشن صدی کی بات“پڑھتے ہوئے کتنی بار آنکھیں نمناک ہو گیئں،یہ ریاست جموں کشمیر کی ایک ایسی تاریخ ہے جو پڑھنے والے کو برسوں یا درہے گی۔یعقوب نظامی جیسا لکھاری جو اپنے سفر ناموں میں اٹھکیلیاں اور گدگدیاں کرتا نظر آتا تھااس طرح کی کتاب لکھ کراپنے ہی ماضی پر لکیر پھیر گیا۔اللہ ان کے قلم اور جذبے سلامت رکھے۔
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved