تازہ تر ین

مدینہ کی ریاست‘ حکومت کیلئے رہنمائی

پروفیسر خورشید احمد ….خاص مضمون
مدینہ منورہ کی ریاست کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان بار بار یہ کہتے ہیں کہ ان کا آئیڈیل مدینہ کی ریاست اور حکومت ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے یقینا ان کا دل بھی یہی چاہتا ہو گا کہ وہ یہ کام کریں اور اس کی عملی تشکیل کی سمت میں بامعنی قدم بڑھائیں۔ ہمیں اس خواہش کو محض سیاسی بیان سمجھنے کے بجائے ان کے قول کو اقبال‘ قائداعظم اور تحریک پاکستان کے تصور پاکستان کا اعادہ سمجھنا چاہئے اور حکومت اور قوم دونوں کی ذمہ داری ہے کہ عملاً اس سمت میں پوری یکسوئی کے ساتھ پیش قدمی کریں۔
یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم متعین کر کے بتائیں کہ یہ ماڈل کیا ہے؟ پھر اس بات کو واضح کیا جائے کہ اس ماڈل کو حاصل کرنے کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ریاست مدینہ کے ماڈل کے حوالے سے بنیادی طور پر غور طلب باتیں حسب ذیل ہیں۔
محمدصلی اللہ علیہ وسلم:مدینہ کے ماڈل میں خود حضرت محمد کو مرکزیت حاصل ہے‘ یعنی آپ کے فرمودات (جووحی پر مبنی ہوتے تھے)‘ آپ کا کردار‘ آپ کے فیصلے اور بحیثیت مجموعی آپ کا قائم کردہ طرز حکمرانی ہی اصل ماڈل ہے۔ چنانچہ حضور کی ذات سے تعلق‘ ان سے رہنمائی لینا اور سنت کو معیار (CRITERIA) بنانا‘ یہ اس ریاست کی پہلی ضرورت ہے۔
مدینہ‘ مکہ کا تسلسل: دوسری بات یہ ہے کہ مدینہ دراصل مکہ میں پیش کی جانے والی دعوت‘ جدوجہد‘ کش مکش اور تربیت کا تسلسل اور تکمیل ہے۔ مدینہ کا معنی صرف مدینہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مکہ اور مدینہ کا رسالت محمدی کا پورا دور ہے۔ گویا کہ مکہ اور مدینہ میں دوئی نہیں یک رنگی اور یک جائی ہے۔
میثاق: تیسری چیز یہ ہے کہ مدینہ کی سیاسی تنظیم اور بنیاد دو میثاق ہیں۔ یہ دونوں اہم تاریخی دستاویزات ہیں جن کا ازسرنو مطالعہ اور تجزیہ کرنے اور ان سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ ان کی اشاعت بھی اس کیلئے مفید اور ضروری ہے۔
پہلا میثاق وہ ہے جو حضور اور اہل مدینہ میں سے قبولِ اسلام کرنے والوں کے درمیان ہوا‘ خاص طور سے ’بیعت عقبہ¿ ثانی‘۔ اس بیعت میں جس چیز پر لوگوں نے بیعت کی وہ حضور کو صرف نبی ماننا ہی نہیں تھا بلکہ انہیں قائد‘ سربراہ مملکت اور مدینہ کا سربراہ تسلیم کرنا تھا۔ بیعت عقبہ¿ ثانی کے موقع پر پوری بحث کو پڑھیں تو وہاں یہ الفاظ بیان ہوئے تھے کہ مدینہ سے آنے والے ایک یا ایک سے زیادہ لوگوں نے یہ کہا کہ سوچ لو تم کیا بات تسلیم کرنے جا رہے ہو؟ یہ ماننے کے بعدساری دنیا تمہارے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی اور تم حضرت محمد کا ساتھ دینے اور ان کے دفاع اور دین کیلئے جان دینے کا عہد کر رہے ہو۔ یہ ان کا وژن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں‘ ہم سمجھتے ہیں کہ کیا عہد کر رہے ہیں اور ہمیں یہ قبول ہے۔ گویا یہ حضور کو نبی ماننا‘ ان کو پولٹیکل اتھارٹی ماننا اور ان کی بنیاد پر ایک مملکت قائم کرنا ہے۔ یہ پہلے میثاق کی بنیاد تھی۔ یہ حضور کے اور حضور کے ماننے والوں کے درمیان میثاق ہوا تھا۔
دوسرا ”میثاق مدینہ“ ہے جو پہلی ہجری میں غیر مسلموں کے ساتھ ہوا تھا‘ جس میں خصوصیت سے بنی اسرائیل‘ مدینہ کے قبائل اور قبائل کے سردار شامل تھے۔ اس معاہدے کی روح یہ ہے کہ حضور نے غیر مسلموں کو غیر مسلم رہتے ہوئے اسلامی ریاست کا شہری مانا‘ ان کے حقوق طے کئے اور یہ اہداف طے کئے کہ کس طرح سے مل کر دفاع کریں گے۔ طے ہوا کہ یہود اپنے دفاعی اخراجات خود برداشت کریں گے اور مسلمان اپنے دفاعی اخراجات خود برداشت کریں گے۔
معلوم ہوا کہ شہریت‘ حقوق اور ذمہ داریاں ان دونوں میثاقوں کی بنیاد ہیں۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مختلف عقائد کے حامل افراد ایک ریاست کے شہری ہو سکتے ہیں اور اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے مشترک تعلقات (JOINT RELATIONSHIP)کے ساتھ ریاست کا نظام چلایا جا سکتا ہے‘ یعنی ایک یہ کہ مسلمانوں کا حضور کو بحیثیت نبی ماننااور ریاست کا سربراہ ماننا اور غیر مسلموں کا حضور کو نبی تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی انہیں ریاست کا سربراہ ماننا‘ آخری سیاسی اتھارٹی تسلیم کرنا۔ پھر یہ کہ ایک اسلامی قیادت اور اسلامی مملکت کا غیر مسلموں کے حقوق اور ان کے مقام کا تعین کرنا۔ مدینہ کا ماڈل سمجھنے کیلئے یہ دونوں معاہدے بنیاد ہیں۔
مسجد: حضور نے مدینہ میں آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ جہاں آپ کی اونٹنی بیٹھی‘ آپ نے وہ زمین حاصل کر کے وہاں مسجد کی تعمیر فرمائی۔ ہمارے وزیراعظم صاحب کو جاننا چاہئے کہ یہ مسجد عبادت گاہ بھی تھی اور مشاورت کیلئے آج کی اصطلاح میں پارلیمنٹ بھی‘ مقام عدل و قضا بھی تھا اور امور خارجہ و امور دفاع کا مرکز بھی۔ یہ تمام امور اﷲ کے گھر میں ‘ اﷲ کی رہنمائی اور رسول کی قیادت میں‘ آخرت کی جواب دہی اور انسانیت کی فلاح کیلئے انجام پاتے تھے۔
مدرسہ: پھر اس مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ قائم کیا اور تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جس کا مطلب ہے کہ ریاست مدینہ میں جتنی اہمیت مسجد کی ہے‘ اسی قدر اہمیت قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس اور علم کی بھی ہے۔
ماں: ام المومنین حضرت خدیجہؓ کا دین میں بڑا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے حضور کی تسکین‘ مالی معاونت‘ وفاداری‘ اولاد کی تربیت کی اور صحابیات نے مکی دور میں بے پناہ قربانیاں دیں۔ تا ہم‘ ماں کا کردار مدینہ میں آکر ایک اور شان کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ خاندان کی تشکیل‘ مذکورہ تمام قربانیوں سے بڑی قربانی یہ کہ امت کی اصلاح اور تربیت کےلئے ام المومنین کا اپنی نجی زندگی کو عام کر دینا ہے۔ یہ مرحلہ مدینہ منورہ میں پیش آیا‘ جس نے رسول کی نجی زندگی کو پبلک زندگی میں تبدیل کر دیا اور نجی اور مجلسی زندگی کا ہر پہلو امت کیلئے سنت اور نمونہ قرار پایا۔
مواخات: اس کے بعد آپ نے اسلامی معاشرت اور مواخات کے فروغ کیلئے معاہدہ مواخات کیا‘ یعنی مدینہ کی نئی آبادی مہاجر و انصار کے درمیان نئے تعلقات قائم کئے۔ اگرآپ دیکھیں تو دو مختلف قومیں‘ مختلف روایات کی علم بردار ہیں۔ قریش عرب میں ایک اونچا مقام رکھتے تھے مگر یہاں وہ ایک مجبور اور مہاجر کی حیثیت سے آئے تھے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا کہ کیسے سوسائٹی کے اندر ایک نیا بھائی چارہ‘ نئی اخوت قائم کی جائے اور معاشرتی تعلقات قائم کئے جائیں؟ اس کو مواخات کہا جاتا ہے اور یہی مواخات اسلامی و حدت اور امت بنانے کی بنیاد بن گئی اور مدینہ کو صحیح معنوں میں مدینہ بنا دیا۔ پھر مدینہ محض انصار اور مہاجروں کا مسکن نہیں رہا بلکہ امت مسلمہ کا مرکزو محور بن گیا اور ہمیشہ رہے گا۔
مساوات: یہاں سے مساوات کا تصور ابھرتا ہے۔ ایسی مساوات کہ جس میں مسلم وغیر مسلم کے درمیان‘ امیر اور غریب کے درمیان‘ اعلیٰ نسب اور کم نسب کے درمیان اور غلام اور آقا کے درمیان انصاف کرنا ہے بلکہ انصاف سے آگے بڑھ کر اپنا حق دوسرے کیلئے قربان کرنا‘ یعنی احسان کا رویہ اپنانا۔
مفاد عامہ: یہاں سے مفاد عامہ سامنے آتا ہے۔ اسلام میں جہاں اﷲ سے تعلق اور محمد کی پیروی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے‘ وہیں ہماری اجتماعی زندگی اور معاشرت کا مرکز مفاد عامہ ہے‘ یعنی فلاحی ریاست میں فلاحی معاشرے کا قیام ضروری ہے۔ قرآن پاک میں جس طرح نماز اور زکوٰة کی تلقین ہے‘ اسی طرح حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم بھی ہے۔ خون کے رشتوں کے احترام اور ان کو نفقہ اور میراث کے قوانین کے ذریعے ایک سوشل سکیورٹی کے نظام میںمربوط کرنا ضروری ہے۔ پھر سوسائٹی کے مظلوم اور محروم طبقات‘خصوصیت سے یتامیٰ‘ مساکین اور بیواﺅں کی کفالت کیلئے فکر مندی اور زکوٰة اور زکوٰة سے بھی زیادہ انفرادی اور اجتماعی ایثار کے ذریعے وسائل فراہم کرنے کی ہدایت۔ اسلام کا یہ فلاحی نظام اخلاق اور قانون دونوں کو مو¿ثر طور پر استعمال کرتا ہے اور یتیم اور مسکین کے حق سے لاپروائی کو دین اور یوم آخرت کے انکار سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ عمل مدینہ کے فلاحی نظام کو تاریخ کا ایک منفرد نظام بنا دیتا ہے۔
مجاہدہ اور جہاد: پھر تمام غزوات اور سرایا اسی زمانے میں ہوتے ہیں اور جہاد فی سبیل اﷲ‘ دعوت‘ ہجرت براے دعوت۔ نیز ہجرت دعوت بھی تھی اور ظلم سے بچنے کا ذریعہ بھی۔ حضور کے دور میں اور حضور کے بعد دنیا کے گوشے گوشے میں لوگوں کو دعوت کیلئے بھیجا گیا۔ اس مجاہدے کا آغاز دعوت اور اس کا فطری نتیجہ‘ حق و باطل کی کش مکش اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کوشش ہے۔ اس کا ایک مرحلہ مقابلہ اور تصادم بھی ہے۔ جہاد فی سبیل اﷲ ان تمام پہلوﺅں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ شرک اور نفاق‘ بیرونی اور اندرونی چیلنجوں سے نمٹنے کے مراحل میں جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔
مذاکرات: حضور نے مدینہ کے دور حکمرانی میں‘ اس زمانے کے تمام حکمرانوں کے نام خطوط لکھ کر سفیروں کو روانہ کیا۔ اسی طرح قریش کے ساتھ مذاکرات کئے اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حق کی آبیاری کے لئے دعوت‘ دفاع اور مذاکرات سب چیزیں ضروری ہےں۔
معبود حقیقی کا قرب: ان سب چیزوں کا ہدف اور مقصود معبود حقیقی کا قرب ہے‘ اس کی رضا کا حصول ہے اور اس کے حصول پر کامیابی ہے۔
یہ 12 کے 12 نکات ”میم“ سے شروع ہوتے ہیں: محمد ‘ مدینہ‘ میثاق‘ مسجد‘ مدرسہ‘ ماں‘ مواخات‘ مساوات‘ مفادعامہ‘ مجاہدہ اور جہاد‘ مذاکرات اور معبود حقیقی کا قرب۔
یہ ہے مدینہ کا ماڈل اور یہ ہیں اس ماڈل کے بنیادی جزائ۔ آج کے زمان و مکان (Time and Space) میں آپ جتنا بھی رنگ بھر لیں اور اس کو وسعت دے لیں‘ آپ کے لئے‘ امت کے لئے اور انسانیت کے لئے سعادت مندی کا راستہ آنحضور کی قائم کردہ ریاست مدینہ کے اتباع میں مضمر ہے۔
(بشکریہ:ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved