تازہ تر ین

کرتار پور راہداری

کامران گورائیہ
کرتار پور کو سکھ کمیونٹی میں ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ بابا گرونانک نے اپنے آخری ایام اسی مقام پر گزارے۔ سکھ کمیونٹی بابا گرو نانک کے جنم بھومی ننکانہ صاحب کے ساتھ ساتھ کرتار پور کو بھی بے حد اہم اور مقدس قرار دیتی ہے۔ کرتار پور جو اب ایک راہداری ہے اس راہداری کو کھولنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں بھی مذاکرات ہوئے مگر عملی اقدامات نہ کیے جا سکے جس کی وجوہات میں پاک بھارت روایتی کشیدگی ، مسئلہ کشمیر ، ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی جیسے معاملات شامل رہے ہیں۔ 1998ءمیں نوازشریف اور اٹل بہاری واجپائی کی حکومتوں کے درمیان پہلی بار کرتارپور راہداری کی تعمیر کے لیے بات چیت کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1998ءمیں کرتار پور راہداری کی تعمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ بات چیت ہوئی۔ ان دنوں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ کرتار پور راہداری تعمیر کی جائے ۔ دوسری مرتبہ 2004-05 ءمیں پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران بھی پاک بھارت جامع مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سندھ میں کھوکھرا پار ، مونا باﺅریلوے لائن ، امرتسر اور کرتارپور راہداری کھولنے پر اتفاق بھی کیا گیا تھا لیکن سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ ن لیگ کی گذشتہ حکومت کے دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی کرتار پور گردوارہ تک سکھ یاتریوں کی رسائی کو آسان بنانے کے لیے بہت زیادہ کام کیا مگر اس معاملہ پر عملاً کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ کرتار پور راہداری کی تعمیر اور سکھوں کو ان کے مذہبی مقامات تک رسائی میں سہولیات دینے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کی منتخب حکومتوں کے درمیان شایدہم آہنگی کا فقدان رہا جس کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔
کرتار پور راہداری کو کھولنے اور اس کو از سر نو تعمیر کرنے کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی پیش رفت کیونکر دیکھنے میں آئی ۔ کرتار پور بارڈر کو کن وجوہات کی بنا پر کھولا گیا‘ یہ ایک سوال تھا جس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا‘ مگر میں نے اپنا تجسس دورکرنے اور کرتار پور بارڈر پر اٹھنے والے سوال کے جواب کی تلاش شروع کر دی۔ اس حوالے سے میں نے اپنے طور پر بھی مختلف زاویوں اور حوالوں کا جائزہ لیا پھر اپنے کچھ خاص دوستوں سے معلومات کا تبادلہ بھی کیا اور آہستہ آہستہ کرتارپور بارڈر کھولنے کی وجوہات بھی ظاہر ہونے لگیں۔ بھارت ہمیشہ ہی سے پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر مخالفانہ اور جارحانہ انداز اختیار کرتا چلا آیا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اسی لیے اس نے کبھی بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف مشرقی اور مغربی سرحدوں کو بھرپور طریقہ سے مخالفانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا ۔ بھارت نے کبھی بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور ناراض بلوچوں کو پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے کی ترغیب دی اور کبھی انہیں اسلحہ اور بارود فراہم کر کے ملک دشمنی پر اکسایا۔ بھارت اب بھی بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور ناراض گروپوں کو جدید ترین اسلحہ کے ساتھ ساتھ بھاری رقوم فراہم کررہا ہے اب وہ ان تمام معاملات کی نگرانی افغانستان میں موجود اپنی ایجنسیوں کے ذریعے کررہا ہے۔ ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ بھارت پشتون تحفظ موومنٹ کی سرپرستی میں ملوث ہے ۔ اس بات کو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی مخالفت میں بہت سے مظاہرے کیے در حقیقت اس موومنٹ اور احتجاجی مظاہروں کی سرپرستی بھارت نے کی ۔ بھارت نے یہ تمام اقدامات صرف اور صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کیے ہیں۔ بھارت کی چالبازی کا مقصد پاکستان کو جہاں کمزور کرنا تھا وہاں پر اس بات کے لیے مجبور کرنا بھی تھا کہ پاکستان بھارت کے آگے گھٹنے ٹیک دے اور مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے بھلا دے ۔1984ءمیں جب بھارتی افواج نے دربار صاحب خالصہ پر چڑھائی کی تو سکھ کمیونٹی نے بھی مخالفت میں خالصہ تحریک کا آغاز کر دیا تھا جس کا مقصد بھارت میں بسنے والے سکھوں کے لیے خالصتان کے نام سے الگ ریاست قائم کرنا تھا۔ اس حوالے سے بھی بھارت پاکستان ہی کو موردالزام ٹھہراتا آیا ہے کہ سکھوں کی خالصہ تحریک کی پشت پناہی اور سرپرستی پاکستان نے بھرپور طریقہ سے کی۔ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی سکھ کمیونٹی بڑی تعداد میں برسہا برس سے قیام پذیر ہے ۔ بھارت نے بارہا کوشش کی کہ مقبوضہ وادی میں رہنے والے مسلمانوں اورسکھوں کے درمیان فرقہ واریت اور نفرت کے بیج بو دیئے جائیں مگر اسے اپنے اس مکروہ مقصد میں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
پچھلے کچھ عرصہ سے بھارت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے ۔ اب بھارت سکھوں کی نوجوان نسل میں فلم ، ٹیلی ویژن اور ابلاغ عامہ کے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے یہ گمراہ کن پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے سکھوں کے آخری گرو پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے تھے یہی نہیں بلکہ مغل بادشاہ نے سکھوں کی نسل کشی کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر اس نئے بھارتی پرپیگنڈے کو بھی خاطر خواہ مقبولیت حاصل نہیں ہو رہی اور سکھوں کی پاکستان سے محبت اور عقیدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تقسیم ہند کے وقت بھی بھارت نے جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے سکھ نوجوانوں کو اشتعال دلایا تھا کہ مسلمانوں نے سکھ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہے ۔ تقسیم ہند کے موقع پر یہ پروپیگنڈہ کسی حد تک کامیاب بھی رہا کیونکہ سکھوں نے مسلمان مرد، خواتین ، بچوں اور بزرگوں کو ناصرف تشدد کا نشانہ بنایا تھا بلکہ بہت سے مسلمان مرد، خواتین ، بچے اور بوڑھے ایسے بھی تھے جنہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سقوط ڈھاکہ کی سازش اور منصوبہ بندی 1950ءکی دہائی میں ہی شروع کر دی گئی تھی ۔ بھارت نے 50 ءکی دہائی کے دوران ہی بنگالیوں کو پاکستان دشمنی پر اکسانا شروع کر دیا تھا جس کا نتیجہ 1971ءمیں سقوط ڈھاکہ کی صورت میں علیحدہ ریاست بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آیا۔2018ءکے عام انتخابات کے بعد حکومت پاکستان نے کرتار پور بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد سکھ کمیونٹی کو یہ تاثر دینا تھا کہ اس ملک میں ان کے تمام مذہبی مقامات تک رسائی آسان بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ کرتارپور بارڈر کھولنے پر بھارت سمیت دنیا بھر میں موجود سکھوں نے اس اقدام کو سراہا اور پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہاں پر سرمایہ کاری کرنے کی خواہش بھی ظاہر کر دی ۔ بھارت کرتار پور بارڈر کھولنے پر تلملا رہا ہے مگر اسے ہر طرف سے منہ کی کھانا پڑ رہی ہے ۔ کرتار پور بارڈر پر بھارت کی تلملاہٹ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی فتح ہے کیونکہ امریکہ نے بھی کرتار پور بارڈر کھولنے پر حکومت پاکستان کی تعریف کی ہے مگر حکومت پاکستان کو یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ بھارت کرتار پور بارڈر پر شکست سے دو چار ہو چکا ہے اور کوئی بھی جوابی وار کر سکتا ہے اس لیے ہمارے سکیورٹی اداروں پر یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ ملکی دفاع کے لیے ہوشیار رہیں۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved