تازہ تر ین

صدرمملکت کامفید مشورہ

حلیم عادل شیخ …. گردش دہر
ملکی صنعت و معیشت کی بحالی اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی ساز اداروں، حکومت اور عوام کا ایک پیج پر جمع ہونا بہت ضروری ہوگیاہے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان نے جذبہ حب الوطنی سے سرشار پاکستانیوں کا جذبہ مزیدبڑھادیاہے، جبکہ حکومت کی طرف سے متعارف کروائی گئی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کی معیشت میں نمایاں بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ گو کہ ہر چیز کا رزلٹ فوری نہیں ہوتا مگر اس ملک کے معاشی دانشوروں نے پاکستانیوں کوآنے والے دنوں میں معیشت کی بہتری کی نوید سنا ڈالی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈالر کے وقتی بڑھاﺅ پر قوم کو تسلی دی ہے کہ یہ سب کچھ عارضی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوںنے ملک میں کاروباری سہولتوں میں اضافے کے ذریعے تاجروں اور صنعت کاروں کو بھرپور مواقع فراہم کرنے کا بھی عندیہ دیدیا ہے جسے تاجر برادری نے مثبت انداز میں سراہاہے۔ماضی کی صورتحال کو دیکھیں تو یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ قوم نے کس طرح سے مشکل وقت کاٹاہے پوری قوم کو جھوٹ کے اندھیروں میں رکھاگیا‘ وزیراعظم عمران خان نے آتے ہی جو سچائی اور اصل حقیقت ہے اس پر سے پردہ اٹھادیاہے۔ غیر ضروری اخراجات ختم کرکے وزرااور مشیروں کی عیاشیوں کا خاتمہ کردیاہے اور اس سچ سے حکومت کا آغاز کیا کہ ہم چاہے کتنی بھی سختیاں جھیل لیں مگر ہم مزید غیر ملکی قرضوں سے اپنی قوم کو نہیں پالیں گے بلکہ آزادی اور خودمختاری کے لیے ہر مشکل کا مقابلہ مل کرکرینگے۔
موجودہ حکومت کے چند روزقبل ہی سو دن مکمل ہوئے ہیں‘ ناقدین نے اس پر واویلا شروع کیا ہواہے کہ ان سودنوں میں شاید حکومت عوام کے لیے کچھ نہ کرسکی ہے جب کہ جن لوگوں نے یہ شور شرابا ڈال رکھاہے آج سے تین ماہ قبل ان ہی لوگوں نے اس ملک کا یہ حال کیا تھا آج وہ اپنے کئی ادوار کی حکومتوں اور ان میں کی جانے والی عیاشیوں کا ملبہ جمعہ جمعہ چار دن کی حکومت پر ڈال کر بری الزمہ ہونے کی کوششیں کررہے ہیں۔قوم یہ جان چکی ہے کہ عمران خان نے اس قوم کی آنکھوں سے جن تلخ حقیقتوں پر سے پردہ اٹھایاہے اس پر یقینی طور پر اب پاکستانی عوام کی آنکھیں کھل جانی چاہیے کہ ماضی میں کس کس انداز میں اس ملک کی بڑی جماعتوں نے ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا اور قومی خزانے کے ساتھ غیر ملکی قرضوں پر کس طرح سے اپنے اور اپنے بچوں کے کاروبار کو پروان چڑھایا گیا۔سابقہ حکومت یہ بات نہیں جانتی تھی کہ عوام کو وقتی جھانسے دیکر یہ کبھی اس قوم کے لیے دیرپا خوشی کا باعث نہیں بن سکتے ،تحریک انصاف کی حکومت سے قبل جو بھی حکومت آئی ہے اس نے یہ ہی کہاہے کہ روپے کی قدر میں کمی اس لیے ہے کہ ہم بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے ایسا کررہے ہیں مگر یہ پہلی حکومت ہے جس کے صدر مملکت اور خود وزیراعظم نے روپے کی قدر کی اہمیت کو محسوس کیااورروپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔ماضی میں دو روپے کی تندوری روٹی بیچنے کا اعلان کرکے اربوں روپے کا چونا لگایا گیا، لیپ ٹاپ اور رنگ برنگی ٹرینوں سمیت برجوں اور انڈر پاس کے نام پر اس ملک کے خزانے کو خالی کیا گیا،وزیراعظم عمران خان نے ایک اچھا کام یہ کیاکہ آتے ہی قوم کو یہ بتادیا کہ اس ملک کے خزانے میں کچھ نہیں اور یہ کہ سابقہ حکومت نے کس کس انداز میں غیر ملکی قرضوں سے قوم کے غریبوں کو چھوڑ کر اپنی نسلوں کی آبیاری کی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی معیشت پر گہری نظر رکھتے ہیں‘ ہمیں انہیں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور جو انہوںنے مشورہ دیاہے اس پریکسوئی کے ساتھ عمل درآمد کرنا چاہیے ،لہٰذاقوم کو یہ تہیہ کرلینا چاہیے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم لوگ صرف پاکستانی پروڈکٹس ہی خریدیں گے ، معاشی خوشحالی اور روپے کو مستحکم کرنے کے لیے صدر مملکت کے اس مشورے کوپوری قوم ایک مہم کا رنگ دے کر ایک سچا پاکستانی ہونے کا ثبوت دے سکتی ہے ۔
ماضی کی حکومتوں میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدی اشیا پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتارہاہے‘ جب مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاتمہ ہواتو اس وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان پچھلے چودہ سالوں میں تقریباً 500ارب ڈالر کی چیزیں دنیا بھر سے خرید چکاہے یعنی پاکستانی سالانہ چار ارب ڈالر کا سامان باہر کا خرید رہی ہے۔گزشتہ حکومتوں میں ریکارڈ انداز میں اربوں روپے کی تو گاڑیاں باہر سے منگوائی جاتی رہی ہیں اس میں اگر ہم بھارت کی مثال نہ دے سکے تو یہ درست نہ ہوگا۔ بھارتی معیشت کی یہ خاصیت ہے کہ وہ میڈان بھارت پر مکمل یقین رکھتا ہے وہاں کی حکومت کی کامیابی ان کی عوام کا حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہے جہاں گزشتہ حکومت کے شاہانہ انداز کو برقرار رکھنے کے لیے اربوں روپے کی گاڑیاں دنیا بھر سے خریدی گئیں وہاں بھارت میں اگر دیکھا جائے تو وہاں کی حکومتی مشینری کا تمام تر کاروبار ان کی اپنے ہی ملک کی بنائی گئی گاڑیوں پر چلتاہے ،مگر ہم پاکستانیوں کی یہ فطرت بن چکی ہے کہ ایک پرفیوم جو پاکستان میں بنتا ہے اور جس کی پاکستانی قیمت 500 روپے ہے اس کی نسبت ہم کسی اور ملک کی پراڈکٹ یعنی وہی خوشبو والا پرفیوم 500کی بجائے 800روپے میں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے نہ صرف پاکستان مصنوعات کی بے قدری ہوتی ہے بلکہ اس سے ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے‘ کیاکمی ہے ہمارے ملک میں‘ ہاں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک میں بننے والی تمام پروڈکٹس کے معیار کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنائیں ، یعنی جہاں ہم اشیائے پرتعیشں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کررہے ہیں وہاں یہی چیزیں اپنے ہی ملک سے معیاری انداز میں خریدی جاسکتی ہےں جب فارمولہ ایک ہے تو پھر پاکستانی اشیاءہی خریدی جائیں‘ اس سے قبل ہما رے یہاں جو بین الاقوامی اشیاءخریدنے کا رحجان ہے اس کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی مصنوعات کے معیار کو بہتر کرنے پر بھی توجہ دیں ۔ ان تمام باتوں میں جہاں ڈالر کی اڑان کا معاملہ ہے ا س میں گزشتہ حکومت کو معلوم تھا کہ اس بار تو کیا اگلی دو بار بھی اب ان کے اقتدار کا چانس نہیں ہے اس لیے انہوں نے جاتے جاتے کچھ ایسے گھناﺅنے کھیل کھیلے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ان تمام رکاٹوں سے سے گزرنا پڑا جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے ان کے راستے میں کھڑی کی تھیں آج ڈالر کی صورتحال لازماًتشویشناک ہوسکتی ہے مگر کوئی بھی صاحب عقل آدمی یہ بات ضرور جانتا ہوگا کہ پاکستان کو اس وقت گزشتہ حکومت کی جانب سے چڑھائے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی ڈالرز ہی چاہیے اور ملک میں ڈالر کی کمی اس کی قدر میں اضافہ کرتی ہے جس سے ڈالر تو مہنگا ہوجاتاہے مگراس عمل سے روپے کی قدر کم ہوجاتی ہے۔ مگر قوم کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومت ابھی نئی نئی ہے مشکل وقت ہے تو جلد ہی گزر بھی جائے گا اور وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی یقین دلادیاہے کہ مستقبل میں ملک میں ڈالر کی کمی نہیں ہوگی جبکہ وزیرخزانہ اسد عمر نے بھی اس اعتماد کا اظہار کیاہے کہ ان کے پاس اب آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہے لہذا عوام اب جہاں اس بات کی تسلی رکھےں تو وہاں انہیں جلد از جلد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اس مہم کو بھی آگے بڑھانا ہے کہ اب وہ صرف اور صرف میڈ ان پاکستان پر ہی انحصار کرینگے ۔
(کالم نگارتحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved