تازہ تر ین

حسےن شہےد سہروردی‘تحریک پاکستان اوربنگال

زید حبیب…. قلم آزمائی
تحریک پاکستان کے دوران اہل بنگال کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، اس خطہ میں رہنے والے مسلمانوں نے قیام پاکستان کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا۔آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ڈھاکہ میںعمل میں آیا جبکہ مارچ1940ءکو مسلم لیگ کے سالانہ تاریخی اجلاس میں قرارداد پاکستان پیش کرنے کا اعزاز بھی بنگال کے ایک مسلم رہنما مولوی اے کے فضل الحق کے حصے میں آیا۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے متعدد بار اہل بنگال کی قربانیوں کو سراہا ۔
بنگال کی سرزمین نے کئی نامور رہنماﺅں کو جنم دیا انہی میں ایک نمایاں نام حسین شہید سہروردی کا بھی ہے جنہوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ان کی صلاحیتوں کااعتراف اس سے بڑھ کرکیا ہو سکتا ہے کہ قائداعظمؒ کی بھی خواہش تھی کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہوں اور مشترکہ ہندوستان کے صوبے بنگال میں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالیں۔آپ ایک زیرک سیاست دان تھے اور بابائے قوم کی توقعات پر پورا اترے۔ حسےن شہےد سہروردی کی زندگی پرنظردوڑائیں تو آپ 1893ءکو مدناپور (بنگال) کے ایک نامور مسلم گھرانہ مےں پےدا ہوئے۔ آپ جسٹس سر زاہد سہروردی کے چھوٹے صاحبزادے تھے جو کلکتہ ہائی کورٹ کے معروف جج تھے۔ آپ کی والدہ خجستہ اختر بنوں اردو ادب کا مایہ ناز نام اور فارسی کی اسکالر تھیں۔ 1910 میں حسین شہیدسہروردی نے سینٹ زیورس کالج سے ریاضی میں بی ایس کیا۔ اس کے بعد کلکتہ یورنیورسٹی کے شعبہ آرٹس میں داخلہ لیا۔ 1913میں آپ نے عربی زبان میں ایم اے کیا ، بیرون ملک تعلیم کے لیے اسکالر شپ حاصل کیا اور انگلینڈ روانہ ہو گئے جہاں سینٹ کیتھرین سوسائٹی آکسفوڈ سے سول لاءمیں گریجویشن کی۔ ہندوستان واپس آکر وکالت شروع کی اور سےاست مےں عملی حصہ لےا۔ کلکتہ کے ڈپٹی مےئر منتخب ہوئے۔ خدمت خلق کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا چنانچہ عملی سےاست مےں آکر جلد ہی لوگوں مےں مقبولےت حاصل کرلی اور صرف اٹھائےس سال کی عمر مےں 1921ءمےں بنگال لیجیسلےٹو کونسل کے ممبر بن گئے۔ مختلف عہدوں پر فائزہ رہ کر انہوں نے مسلمانوں کے مفادات اور حقوق کی خاطر کسی نہ کسی سطح پر ضرور کام کےا۔ حسےن شہےد سہروردی نے تحرےک خلافت مےں بھی سرگرم حصہ لےا اور خلافت کمےٹی کلکتہ کے سےکرٹری تھے۔ اس حےثےت سے جلسوں اور جلوسوں کا اہتمام کےا اور انگرےزحکومت کی حکمت عملےوں پر تنقےد کی۔ 1937ءمےں حسےن شہےد سہروردی مسلم لےگ مےں شامل ہوگئے اور اسی سال مسلم لےگ کے ٹکٹ پر اسمبلی کی نشست حاصل کی۔ انہوں نے جلد ہی مسلم لےگ کے اےک سرگرم رکن کے طور پر خدمات انجام دےنا شروع کردےں۔ اسی دوران وہ بنگال پراونشیل مسلم لےگ کے سےکرٹری بنا دےئے گئے۔ حسین شہید سہروردی کئی بار بنگال کابےنہ کے رکن بھی مقرر ہوئے۔ ان کے پاس مختلف اوقات مےں تجارت‘ لےبر‘ مالےات‘ صحت‘ دےہات سدھار اور خوراک کے محکمے رہے۔ وہ اپنے مناصب کے حوالے سے بہتر اور تعمےری خدمات انجام دےتے رہے۔
1946ءکے انتخابات تحریک پاکستان میں نہایت اہمیت کے حامل تصور کیے جاتے ہیں ان انتخابات مےں حسےن شہےد سہروردی نے مسلم لےگ کی انتخابی مہم کو بڑی عمدگی سے منظم کےا اور مسلم لےگ نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس موقع پر حسےن شہےد سہروردی نے آزاد ارکان کے ساتھ مل کر بنگال مےں وزارت قائم کی اور وہ وزےراعلیٰ منتخب ہوئے۔ قےام پاکستان کے بعد جب بنگال مےں فساد شروع ہوا تو انہوں نے مغربی بنگال کا دورہ کےا اور مسلمانوں کو بحفاظت پاکستان پہنچانے مےں مدد دی۔ پاکستان پہنچنے کے بعد 1949ءمےں عوامی لےگ کی بنےاد ڈالی اور اس کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 20دسمبر 1954ءکو وزےر قانون بنے۔ اگست 1955ءمےں جب مسلم لےگ اور متحدہ محاذ کی مشترکہ وزارت قائم ہوئی تو سہروردی حزب اختلاف کے لےڈر منتخب ہوئے۔ 12ستمبر 1956ءکو حسین شہید سہروردی نے ری پبلکن پارٹی کی حمایت سے مرکز میں حکومت بنائی اور پاکستان کے وزیرِاعظم بن گئے۔ یوں متحدہ ہندوستان میں بنگال کی وزارتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہنے والے عوامی رہنما، سہروردی نے پاکستان کے اعلیٰ ترین منصب کو بھی پا لیا۔ تاہم، ابھی امتحان ختم نہیں ہوا تھا چنانچہ محض 11ماہ کے اندر اتحادی جماعتوں میں اختلاف پیدا ہوا، جس نے بڑھ کر بحران کی شکل اختیار کی اور حسین شہید سہروردی نے محض تیرہویں ماہ ہی میں وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد حسےن شہےد سہروردی حزب اختلاف کے رہنماکا کردار ادا کرنے لگے۔ جنرل محمد اےوب خان کے مارشل لاءکی سخت مخالفت کی اور ملک مےں جمہورےت کی بحالی کی جدوجہد کا آغاز کےا۔ 1958ءکا مارشل لا سیاست دانوں کے لیے سخت ثابت ہوا۔جنرل ایوب خان نے ایبڈو کے ذریعے جب سیاست دانوں کو نااہل قرا ر دیا، تو اس کی زد میں سہروردی بھی آئے۔ 1962ءکو انہیں گرفتار کیا گیا، سات ماہ کی قیدِ تنہائی کے بعد رہائی ملی۔ بعدازاں انہیں عارضہ قلب کی شکایت ہوئی۔ علاج کے لیے بیروت گئے اور وہیں 5دسمبر 1963ءکو انتقال کر گئے۔ انہیں وطن واپس لا کر ڈھاکہ مےں دفن کیا گیا۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved