تازہ تر ین

”تم“

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
تم‘ عوام تو کیا انسان کہلوانے کے بھی حقدار نہیں ہو‘ پچھلے 70 سال سے تمہارا بے دریغ استحصال ہورہا ہے لیکن تم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ سات دہائیوں سے بدستور تم ”آوے ای اوے“ اور جاوے ای جاوے کے نعرے لگا کر انہی ٹوانے‘ قریشی‘ خانزادے‘ نوابزادے‘ قریشی‘ چیمے‘ چٹھے اور سجادہ نشینوں کی ”موٹی“ گرد نوں میں ہار ڈال کر انہیں اپنی کبھی نہ بدلنے والی قسمت بدلنے کے لئے اسمبلیوں میں پہنچا رہے ہو‘ تمہیں کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ بڑے پیٹوں والے تمہاری حالت کبھی نہیں بدلیں گے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اگر تمہاری قسمت بدل گئی تو ان کی اپنی تقدیر کا چمکتا سورج ماند ہوکر کہیں غروب ہوجائے گا۔ تمہارا حق سلب ہوتا رہے گا‘ تمہارے بچے اغوا اور ان کا ریپ ہوتا رہے گا‘ انہیں قتل بھی کیا جاتا رہے گا‘ تمہارے ہی بچے گٹر میں گر کر مرتے رہیں گے‘ تمہیں یہ سیاست دان فقط خوشنما نعرے دیں گے۔ وہ وعدے کریں گے جو کبھی ایفا نہیں ہوں گے حالانکہ تمہیں اچھی طرح پتہ ہوتا ے کہ یہ لوگ کامیاب ہوکر تمہارا ہی خون چوسیں گے لیکن کیونکہ تم پوری طرح بے حس ہوچکے ہو‘ تمہیں اپنی تکلیف کا احساس تک نہیں ہوتا‘ تم اندھوں‘ گونگوں اور بہروں کی طرح موت کی طرف تیزی سے بھاگ رہے ہو۔ تم تو اتنے بے شرم اور غیرت کے دشمن ہوچکے ہو کہ تمہاری بچیوں کی عصمت دریاں ہوتی رہیں‘ تمہاری بہن بیٹیوں پر تیزاب پھینکے جاتے رہیں‘ ان پر تیل کے چولہے اور گیس کے سلنڈر بے دریغ پھٹتے رہیں‘ انہیں سرعام شعلوں کی نذر کیا جاتا رہے‘ تمہارے بچوں کو قرآن پڑھانے کے نام پر بیڑیاں پہنائی جاتی رہیں‘ انہیں خودکش جیکٹس پہنا کر موت کا ایندھن بنایا جاتا رہے لیکن تمہیں کیا تم تو گنگ رہو گے‘ ہمیشہ کی طرح لاقانونیت‘ دروغ گوئی اور ناانصافی کے نظام پر کوئی آواز نہیں اٹھاﺅ گے!!
تم‘ جو خود کو انسان کہتے ہو‘ لیکن کبھی تم نے انسان اور جانور کے درمیان کا واضح فرق جاننے کی خواہش کی ہے‘ کبھی اس حقیقت پر غور کیا کہ انسانوں کے اندر غیرت و شرم کا جو جذبہ ہوتا ہے اپنی ناموس کے لئے مرمٹنے کا جو مادہ ہوتا ہے وہ جانوروں میں نہیں ہوتا‘ تمہارے اندر تو عزت و توقیر کی یہ بنیادی خواہش بھی دم توڑ چکی ہے کیونکہ تم ہمیشہ اشرافیہ کو تقویت پہنچاتے ہو ‘خود پر ہونے والی زیادتی پر کبھی آواز نہیں اٹھاتے‘ تم ہمیشہ انہی لباب پیٹوں والوں کے مفاد کے لئے سڑکوں پر آتے ہو‘ یہ لوگ تمہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور تم حشرات الارض کی طرح سڑکوں پر جوق در جوق بکھر جاتے ہو‘ پولیس کے ڈنڈے تم کھاتے ہو‘ آنسوگیس تمہاری آنکھوں اور نتھنوں میں گھس جاتی ہے لیکن مقاصد ان موقع پرستوں کے پورے ہوتے ہیں جو اپنے نرم و گرم اور ٹھنڈے گھروں میں بیٹھ کر ٹیلی ویژن سکرینوں پر تمہارا تماشا دیکھتے اور دل ہی دل میں تمہاری بے وقوفی پر قہقہے لگاتے ہیں۔ تمہیں کبھی یہ سوچ نہیں آتی کہ بے کسی پہلے بھی ہے‘ غربت کی نہ جھکنے والی چکی میں تو تم پہلے بھی پس ہی رہے ہو تو کچھ عرصہ اور برداشت کر لو۔ ان موقع پرستوں کی خواہشوں کا اندھن مت بنو اپنے حقوق کے لئے انہیں انکار کردو۔ اپنی بات پر ڈٹ جاﺅ‘ تھوڑا صبر کرو اپنی بات تو ان سے منواﺅ‘ انہیں احساس تو دلاﺅ تاکہ اثرانداز ہونے والی دیدہ ونادیدہ قوتیں تمہاری محرومیوں کا کچھ تو مداوا کریں‘ انہیں کسی بات پر مجبور تو کرو کہ وہ تمہیں اپنے سے کم ہی سہی اپنے جیسا انسان تو سمجھیں اور تم لوگوں کو بنیادی یعنی روٹی کپڑا مکان و صحت کی سہولتیں دینے کا سوچیں تو سہی‘ وہ تمہیں عزت و توقیر کے کسی پیمانے پر پرکھنے پر مجبور تو ہوں، وہ تمہیں انصاف و قانون کی فراہمی کے پیمانے تو بتائیں اور وہ سمجھ لیں کہ تم بھی گوشت پوست کے انسان ہو اور تمہارے جسموں میں بھی جان ہے۔
حالت یہ ہے تم لوگ جوان کو محلات میں پہنچاتے ہو لیکن خود تمہارے کچے پکے گھروندوں میں صاف ہوا ہے نہ شفاف پینے کا پانی، تمہارا بچہ بیمار ہو جائے تو دو اکیلئے پیسے نہیں اگر پیسے ہوں تو دوا کے نام پر تمہیں زہر ملتا ہے‘ غلط دواﺅں اور دو نمبر ٹیکوں سے تم، تمہارے عزیز اور بچے ہر روز موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ تم تو اپنے بچوں کو سکول تک بھی بھجوانے کے قابل نہیں ہو ’ارے تم تو انہیں محلے کے ٹاٹ والے سکول میں بھی نہیں بھجوا سکتے‘ تو پھر تعلیم کیسی؟ لیکن ان کے اپنے بچے برطانیہ و امریکہ کی ٹاپ اور مہنگی ترین یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرتے اور واپس پاکستان آ کر تم جیسوں کی گردنیں دبوچ لیتے ہیں لیکن آفرین ہے تم پر کہ اس قدر ڈھیٹ ہو کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے بلکہ چند ٹکوں کی خاطر پھر بکنے کیلئے تیار ہو جاتے ہو، تمہارا یہ تیرانسل درنسل جاری ہے تمہارے اندر سے کم تری اور غلامی کے جراثیم جاتے ہی نہیں، تم تو اس قدر ڈھیٹ اور نافرمان ہو کہ اللہ کے اس فرمان کو بھی نہیںمانتے کہ سب انسان برابر ہیں، دولت و ثرت کی بنا پر کوئی چھوٹا بڑا نہیں اور کسی گورے کو کالے اور کالے کو گورے پر فوقیت حاصل نہیں شائد اسی لئے آسمانی خدا اور ’زمینی خدا‘ تمہاری ناگفتہ بہ حالت نہیں بدلتے جیسا کہ حضرت شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا
اور یہ بھی کہ لنڈے کی ایک پچاس روپے والی شرٹ خریدنے کیلئے چالیس ریڑھیاں چھان مارنے والی قوم حکمران چنتے وقت اندھی ہو جاتی ہے اور شریفوں‘ زرداریوں اور اب خانوں کو حکمران بنا کر تالیاں بجاتی ہے۔
چلو‘ اگر تمہیں میری معروضات سے اتفاق نہیں ہے تو ٹھیک ہے اگر تمہیں یہ وہم ہے کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اور وہ کوئی من و سلویٰ تم پر اتارے گا‘ تم سوچتے ہو کہ تم جو بدبو اور تعفن زدہ و مچھر کالونی کے باسی ہو‘ تم جو اینٹوں کے بھٹوں پر غلاموں کی طرح مزدوری کرتے ہو تم جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے اپنا رزق تلاش کرتے ہو اور اشرافیہ کے پھینکے ہوئے ٹکڑوں کو اپنے بھوکے شکموں میں انڈیلتے ہو اور اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی ظلم حتیٰ کہ انہیں قتل کر دینے پر بھی خاموش رہتے ہو‘ حکمرانوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تم سمجھتے ہو کہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں کہ تم اپنے حکمرانوں کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر بات و سوال کرنے کی جرا¿ت کر سکو اور تم 100فیصد اس بات پر راضی ہو کہ زندہ ہو کر بھی مُردوں کی طرح جینا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ یہی تمہاری تقدیر ہے تم اپنی قسمت کو اپنے ہاتھوں سے بدل نہیں سکتے اور اس ملک کے تمام ترثمرات پر انہی موٹی توندوں اور اکڑی ہوئی گردنوں والوں کا حق ہے تو پھر یقینا نہ تمہیں کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہی تمہیں بچانے کیلئے آسمان سے ابابیلوں کے کوئی لشکر اتریں گے، چنانچہ طے ہوا کہ تمہیں یونہی کیڑے مکوڑوں کی طرح بے کسی و بے بسی کی حالت میں مرنا ہے لیکن مرنے سے پہلے براہ کرم جناب قتیل شفائی کی کہی چند لائنیں ضرور پڑھ لو۔
وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا
ہنستا ہے مجھے دیکھ کے‘ نفرت نہیںکرتا
گھر والوں کی غفلت پہ سبہی کوس رہے ہیں
چوروں کی مگر کوئی ملامت نہیں کرتا
دیتے ہیں اجالے میرے سجدوں کی گواہی
میں چھپ کے اندھیروں میں عبادت نہیں کرتا
بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی
میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا
دنیا میں اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے‘ بغاوت نہیں کرتا
تو تم عوام جو کچھ بھی کرو یا سوچو لیکن اس پر غور ضرور کرو۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved