تازہ تر ین

کرتار پور سے تھوڑی دور

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
اسے قسمت کی خرابی کہیے یا پھر مقدر کا لکھا کہ کچھ صورتوں میں سب کچھ اچھا کرنے کے بعد بھی ہماری اچھائی یا پھر حسن سلوک کو ستائش اور پذیرائی نہیں ملتی۔Do good Have goodجیسے مقبول عام مقولے بے جان اور بے حیثیت سے دکھائی دینے لگتے ہیں، ’نیکی کر دریا میں ڈال‘ والا سارے کا سارا فلسفہ دریا برد ہونے لگتا ہے، اور پھر ایک نہج ایسی آتی ہے کہ انسان اچھائی پر مبنی اپنے رویوں پر نظر ثانی کے لیے مجبور ہوجاتا ہے انفرادی سطح پر تو یہ سب کچھ بارہا ہوتا ہے لیکن ملکوں کی سطح پر بھی ایسا ہونا بعید از قیاس اور خارج از امکان نہیں ہوتا۔ممبئی دھماکوں اور پٹھان کوٹ واقعات کی تحقیقات میں تعاون سے لے کر حال ہی میں کرتار پور بارڈر پر ہونے والی افتتاحی تقریب تک ، پاک بھارت مراسم کی ایک پوری تاریخ ہے، کبھی اس تاریخ کے کچھ ورق پلٹنے کی کوشش کیجیئے، آپ کو اندازہ ہوگا کہ بھارت کے ساتھ معاملات میں بہت کچھ اچھا کرنے کے بعد بھی پاکستان اپنے اس قریب ترین ہمسایہ ملک کے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک الزامات کی وہی بارش، لعن طعن کی وہی ژالہ باری، پاکستان کچھ بھی اچھا کر لے، بھارت کی طرف سے اسے نہ کبھی ستائش ملے گی نہ ہی کوئی تعریف اور توصیف۔بھارت کی نظروں میں پاکستان کل بھی برا تھا، آج بھی ویسا ہی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔ ہاں ایک راستہ ضرور ہے بھارت کا دل جیتنے کا، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی حمایت چھوڑ دے، کشمیریوں کو بھارتی قابض فوجیوں کے ظلم و ستم کا شکار ہونے کے لیے لاوارث چھوڑ دے، کلبھوشن یادیو جیسے راءکے ایجنٹوں کو پاکستان تباہ کرنے کی مکمل آزادی دے دے اور اگر پاکستان میں معصوم لوگوں کے قتل عام اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے قبیح فعل میں ملوث کوئی بھی بھارتی ہرکارہ پکڑا جائے تو اسے وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ اس کی جنم بھومی بھارت واپس پہنچادے تو شاید بھارت کی نظروں میں پاکستان نیک نام اورپاک پوتر ہوجائے۔لیکن اس اوج کمال تک پہنچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ بلوچستان میں راءکے ایجنٹوں کو بھی انتشار پھیلانے کی مکمل آزادی دے دی جائے۔
حال ہی میں حکومت پاکستان نے ہندوستان سے آنے والے سکھ زائرین کی سہولت کے لیے کرتارپور بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا تو ہندوستان اورپاکستان میں آباد سکھ برادری میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔کرتارپور بارڈر کھولے جانے کی اہمیت ان سکھ زائرین سے پوچھیے جن کی زندگی بارڈر کے اس پار اونچے اونچے ٹیلوں پر کھڑے ہوکرگوردوارہ دربار صاحب کے گنبد کا حسرت بھری نظروں سے ’درشن‘ کرتے گذر گئی۔کرتارپور میں واقع گوردوارہ دربار صاحب کا ہندوستان سے فاصلہ بمشکل تین چار کلومیٹر کے قریب ہے ۔ جبکہ واہگہ بارڈر کے راستے گردوارہ دربار صاحب تک فاصلہ 132کلومیٹر کے قریب بنتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے یہ فاصلہ تقریبا سوا دو گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ نارووال ڈسٹرکٹ میں دریائے راوی پر بنے اس گوردوارے کی اہمیت یہ ہے کہ 1539میں بابا گرونانک نے یہاں وفات پائی تھی۔ 2000میں سکھ زائرین کی سہولت کے پیش نظر پاکستان نے تجویز دی تھی کہ بارڈر سے گوردوارے تک ایک پل نما راستہ بنا دیا جائے جہاں سے زائرین کو اس گوردوارے تک آنے جانے کے لیے ویزے کی پابندی کا سامنا نہ ہو۔پاکستان کی طرف سے دی جانے والی اس تجویز پر ہندوستان کی طرف سے اس وقت کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ۔ مئی 2017میں وہاں کی پارلیمنٹ کی طرف سے بنائی گئی ایک سٹینڈنگ کمیٹی نے اس طرح کا کوئی بھی راستہ بنانے کے ہر امکان کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دینے ہوئے یکسرمسترد کردیا۔اور ساتھ ہی ایک نہایت مضحکہ خیز تجویز پیش کردی گئی کہ سکھ زائرین کو ’ درشن‘ کی آسانی دینے کے لیے ہندوستانی علاقے میں سرحد کے قریب چار بھاری بھرکم دوربینیں نصب کر دی جائیں جن کی مدد سے سکھ زائرین کو درشن کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔ کسی نے یہ خبر بھی اڑا دی کہ دوربین سے گوردوارے کے درشن کرنے والوں پر ٹکٹ بھی لگا دیا جائے گا اور اس سے ہونے والی آمدن کو ہندوستان میں سکھوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ مختصر یہ کہ اس سارے معاملے کا نتیجہ حسب توقع صفر بٹا صفر رہا۔
پھر ہوا یوں کہ اگست 2018میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تقریب حلف برداری میں ان کے ایک بہت پرانے دوست، ماضی کے کرکٹر اور بھارتی صوبہ بنجاب کے موجودہ وزیر سیاحت نوجوت سنگھ سدھو شرکت کے لیے آئے تو ان کی ایک نہایت گرمجوش قسم کی ملاقات پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ سے بھی ہوئی جس میںنوجوت سنگھ سدھو کے کہنے کے مطابق جنرل باجوہ نے انہیں خبر دی کہ بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن پر دنیا بھر کی سکھ برادری کو کرتار پور بارڈر کاریڈور کی صورت میں پوری پاکستانی قوم کی طرف سے تحفہ دیا جائے گا۔پاکستان نے اپنا وعدہ پورا کر دیا، پوری دنیا کے سکھوں نے شکریے کے پیغامات کی بھرمار کر دی لیکن افسوس کا مقام یہ کہ مودی سرکار نے پاکستان کی ایک انتہائی مخلصانہ کوشش کو بھی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا۔ بھارتی میڈیا نے حسب روایت اس عمل کو بھارت کے خلاف ایک سازش قرار دینا شروع کردیا اور بھارتی سیاستدانوں نے پاکستان کے اس عمل کو سکھوں کی خالصتان تحریک کو ہوا دینے کی ایک کوشش کا نام دے دیا۔ جہاں تک خالصتان تحریک کا تعلق ہے، اس تحریک کو مذکورہ بارڈر کاریڈور کھلنے یا نہ کھلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔سکھ ہر لحاظ سے ایک مکمل قوم اور مکمل نسل ہیں، انہیں اپنے نظریہ حیات کے مطابق زندگی گذارنے کا ہر طرح سے حق حاصل ہے، اپنی آزاد شناخت کے حصول کے لیے جاری ان کی تحریک کوئی آج کا واقعہ نہیں، خالصتان تحریک کو تو کئی دہائیاں گذر چکی ہیں، بے شمار سکھ راہنماﺅں کی جانیں بھی جا چکی ہیں،آج نہیں تو کل سکھ ہر صورت میں اپنے لیے ایک علیحدہ سرزمین حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کرتارپور بارڈر کاریڈور وجود میں آنے کے بہت پہلے سے خالصتان تحریک بہت سے کامیاب مراحل طے کر چکی ہے۔ لہذا اس کا ریڈور کو سازش اور سیاست کا رنگ دینا محض حماقت سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔تاہم اس راستے کے کھلنے کے بعد ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کو پہلے سے بھی زیادہ چوکس اور محتاط ہونا پڑے گا کیونکہ راءکے ایجنٹ پاکستان کو سکھوں سے بدظن کرنے کے لیے کس بھی وقت دہشت گردی کی کوئی نہ کوئی ایسی مکروہ کارروائی کر سکتے ہیں جس سے پاکستان کا سکھوں سے تعلق کمزور پڑ جائے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved