تازہ تر ین

جنوبی پنجاب صوبہ کی بحث

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
صدرمملکت جناب عارف علوی جنوبی پنجاب صوبہ پر بولے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانا آسان نہیں ہے۔وہاں مشکلات بہت ہیں۔اثاثوں کی تقسیم ،پانی کے حصے کا تعین کرنا دیگر ایسے ایشوز ہیں جوکہ اس صوبہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ہم صدر مملکت عارف علوی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانا آسان نہیں ہے کیونکہ اس ملک کی سیاسی جماعتوں نے اس ایشو کوبڑی دیر سے اقتدار کی سیڑھی چڑھنے کی خاطر استعمال کرنے کیلئے رکھا ہوا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت بھی حکومت میں آنے کے بعد اسی جگہ پر آکھڑی ہوئی ہے، جہاں پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی قیادت اقتدار حاصل کرنے کے بعد کھڑی تھیں‘ مطلب اقتدار میں پنجاب کی تقسیم بالخصوص جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی ناممکن ہوجاتی ہے جبکہ اپوزیشن میں سارے نعرے پنجاب کی تقسیم کے بارے میں ہوتے ہیں اور نوازشریف جیسے لیڈر بھی الیکشن مہم میں رحیم یارخان میں کھڑے ہوکر پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں کہ آﺅ ملکر پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے بات چیت کرتے ہیں لیکن جونہی اقتدار ملتاہے ،پھر نہ وہ نعرے ہوتے ہیں اور نہ اس ایشوکا تذکرہ ہوتاہے۔ اور نہ ہی اپوزیشن کو اس معاملے پر بات چیت کی دعوت دی جاتی ہے بلکہ پنجاب کی تقسیم تو درکنار جنوبی پنجاب کے فنڈز کا رخ بھی لاہور کی طرف کردیاجاتاہے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دوراقتدار میں آصف علی زرداری سرائیکی صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی کے معاملے پر سیاست کرتے رہے اور اپوزیشن میں تو سرائیکی صوبہ کا قیام اور بہاولپور صوبہ کی بحالی پہلی ترجیح تھی‘ لیکن جوں جوں صدر مملکت عارف علوی کی طرح ایوان صدر کی آب وہوا راس آتی گئی تو انہوں نے بھی بہاولپور صوبہ بحالی اور سرائیکی صوبہ کے حامیوں کے جذبات کیساتھ سیاسی میدان میں کھیلنا شروع کردیا۔اور اسی طرح کی بیان بازی شروع کردی جیسے اب عارف علوی صاحب کررہے ہیں کہ او جی مشکل کام ہے،اکثریت کا ایشوہے وغیرہ وغیرہ۔حد تو یہاں تک پہنچی کہ موصوف نے ملتان میں بیٹھ کراپنے پیارے سرائیکی دانشوروں کو یوں چونا لگایاکہ اب تو سرائیکی صوبہ ممکن نہیں ہے۔آپ کیلئے سرائیکی بنک بناتے ہیںلیکن وہ آج تک تو نہیں بناہے لیکن اگر زرداری صاحب نے اس سرائیکی بنک کو کسی سیارہ پر بنوایاہے تو راقم الحروف کے علم میں نہیں ہے۔
موجودہ صورتحال میں گزارش صرف اتنی تھی کہ حضور یہ بات تو اس وقت سوچ لینی تھی کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانا آسان نہیں ہے، جب جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی ادھر ادھر کی اکٹھی ہوئی قیادت سمیت آپ کے لیڈر عمران خان وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس میں اس بات کے بلند وبانگ دعوے کررہے تھے کہ ہم سو دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ بنادینگے۔پھر یوں ہم نے دیکھا کہ آپ کی جماعت کے لیڈر عمران خان جنرل الیکشن میں پنجاب میں جاکر اسی جنوبی پنجاب صوبہ محاذسے بات شروع کرتے تھے اور اسی پر ختم کرتے تھے ۔اور آپ جیسے ذہین ‘ فطین اوردیگر قیادت بھی خاموش تھی وگرنہ پارٹی قیادت آگے بڑھتی اور خان صاحب کو کہتے کہ حضور ایسا وعدہ نہ کریں جوکہ ہم کل کو پورانہ کرسکیں اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔اب جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آیاہے تو آپ ایک نئی کہانی لیکر میدان میں آگئے ہیں ۔ یہی جو آپ اب فرمارہے ہیں وہ صوبہ محاذ کے کوٹہ سے وزارتیں حاصل کرنیوالے جنوبی پنجاب صوبہ کے حامی‘صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں پہلے ہی سناچکے ہیں ۔ اس بات کوآپ بھی جانتے ہیں کہ نئے صوبوں کا ایشو صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں صوبے بنتے رہتے ہیں اور وہاں پر بھی اثاثوں سمیت دیگر حساس معاملات کو سامنے رکھ کر ان پر اتفاق رائے پیداکیاجاتاہے۔ایسا کہیں نہیں ہوا جوکہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے ایک طویل عرصہ سے ہورہاہے۔مطلب ایک وقت میں ساری جماعتیں اس بات پر اتفاق کرتی ہیں کہ نئے صوبوں کی ضرورت ہے اور پھر وہی جماعتیں اقتدار میں پہنچتے ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔انکی اداکاری سے یوں لگتاہے کہ انہوں نے اس ایشو پر کبھی بات ہی نہیں کی ہے جبکہ عوام کے کانوں میں ان کی تقریریں بلند وبانگ دعوے گونج رہے ہوتے ہیںکہ ہم بہاولپور صوبہ بحال کریں گے اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کو یقینی بنائینگے لیکن عملی طورپر وہی سلیبس برقرار رہتاہے جوکہ پیچھے سے چلا آرہاہے کہ عوام کو لولی پاپ پر ٹرخاﺅ اور حکومت کرو۔اپوزیشن میں آئینگے تو پسماندگی کی دلدل میں کھڑی اس بھوکی اورننگی عوام کو دیکھ لینگے۔ایک طرف سیاسی جماعتوں کی یہ سوچ تسلسل کیساتھ سامنے آرہی ہے ،دوسری طرف جنوبی پنجاب کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اپنے علاقوں میں تو جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کے معاملے پر سیاسی میدان میں ڈھولکی بجاتے رہتے ہیں لیکن قومی وصوبائی اسمبلی کے فلور آف دی ہاﺅس پر پنجاب کی تقسیم اورنئے صوبوں کے معاملے پر احتجاج تو درکنار بات کرنا بھی توہین سمجھتے ہیں۔انکی اسلام آباد اور لاہور میں ترجیحات اور ہوتی ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ جنوبی پنجاب میں جاری استحصال کی واردات میں یہاں کے سیاستدان برابر کے شریک جرم ہیں۔انہوں نے پنجاب کی تقسیم کے نعرے کو اقتدار میں اچھی بارگیننگ کیلئے رکھا ہوا ہے۔وہ نہیں چاہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب او بہاولپور صوبہ بن جائے اور یہ سیڑھی راستہ سے ہٹ جائے اور ان کو وہ مال اور اقتدار کی شراکت نہ مل سکے جوکہ وہ یہاں کی پسماندگی کے نام پر ڈرامہ کرکے حاصل کرتے ہیں۔جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کا منہ بندکرنے کیلئے تخت لاہور نے پولیس اور ریونیو رکھا ہوا ہے۔ یوں ان کو پولیس کے معاملے میں مرضی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ایس ایچ اوز لگوانے کیلئے مکمل آزادی دی جاتی ہے۔اب بھی بدقسمتی سے تحریک انصاف کی حکومت نے بھی پنجاب میں وہی سلیبس شروع کردیاہے،جس سے یہاں کے لوگ شہبازشریف کے دور میں تنگ تھے‘ مطلب اب ان سب انسپکٹروں کو تھانوں کا ایس ایچ او لگایاجارہاہے جوکہ اسی ضلع کے رہائشی ہیں اور حدتو یہ ہے کہ لیہ میںتھانہ سٹی کا ایس ایچ او اسی تھانہ کی حدود کا رہائشی ہے۔ اسی طرح چوک اعظم سمیت دیگر تھانوں میں بھی ارکان اسمبلی کے من پسند ایس ایچ اوز لگوائے جارہے ہیں جوکہ اسی ضلع کے رہائشی ہیں۔یہ وہ طریقہ واردات ہے جوکہ تخت لاہور یہاں کے عوام کو دیوار کیساتھ لگانے کیلئے جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کیلئے جاری رکھے ہوا ہے۔جنوبی پنجاب صوبہ کے نام پر صوبہ محاذ کے ارکان اسمبلی کی لاٹری یوں نکلی ہے کہ ایک ایک گھر میں دودو وزراتیں بھی دی گئی ہیں مثال کے طورپر خسرو بختیار کو وفاقی وزرات ملی ہے تو پنجاب میں موصوف کے بھائی نے وزرات پکی کرلی ہے۔اب وہ صوبہ کے مطالبہ پر عوام کا سامنا کرنے سے کنی کترارہے ہیں لیکن جب وزراتوں سے دور تھے تو جنوبی پنجاب کی عوام کیلئے جان نکل رہی تھی۔ادھر صدر مملکت عارف علوی دوٹوک موقف کیساتھ میدان میں آگئے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بن سکتاہے۔ یعنی اب یہ امید بھی جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبہ کے حامیوں سے چھین لی ہے ۔اس صورتحال میںراقم الحروف چند ایشورکھنے جارہاہے جوکہ ہوسکتاہے،اس کیلئے کوئی صوبہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا آبائی علاقہ میانوالی ہے جوکہ تھل میں آتاہے۔اس تھل کا تعارف یوں ہے کہ یہ دوآبہ ہے مطلب‘ اس کے ایک طرف دریائے چناب بہتاہے تو دوسری طرف شیر دل دریائے سندھ دھاڑتا ہے۔اسی طرح دریائے جہلم بھی اس دھرتی تھل کا ماتھا چومتا رہتاہے۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ تھل چھ اضلاع خوشاب،میانوالی،بھکر ،لیہ ،مظفرگڑھ اور جھنگ پر مشتمل ہے۔ قومی وصوبائی اسمبلی کی نشستیں بہاولپور اور ملتان ڈویژن سے زیادہ ہیں۔اسی طرح رقبہ کے لحاظ بھی بڑا علاقہ ہے۔تھل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ کالا باغ اسی تھل میں ہے اور یوں کالا باغ ڈیم جوکہ اس ملک کے سیاستدانوں کی سیاست کا شکار ہے اگر کبھی بنا تو اسی تھل میں ہوگا۔اب ذرا توجہ سے سنیئے گا،جس تھل کا اوپر تعارف کروایا ہے،اس کی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ ان چھ اضلاع خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفر گڑھ اور جھنگ میں ایک میڈیکل کالج نہیں ہے۔جی چیک کروالیں،ایک انجئینرنگ یوینورسٹی نہیں ہے،ایک کارڈیالوجی سنٹر نہیں ہے،ایک وویمن یونیورسٹی نہیں ہے،ایک ڈینٹل کالج نہیں ہے،ایک زرعی یونیورسٹی نہیں ہے،ایک زچہ بچہ سنٹر نہیں ہے،کوئی کرکٹ اسٹیڈیم نہیں ہے،ایک ہائی کورٹ کا بنچ نہیں ہے،ایک ٹیکنالوجی کالج نہیں ہے،ایک ٹیچنگ ہسپتال نہیں ہے،ایک نرسنگ کالج نہیں ہے،کوئی ہاکی اسٹیڈیم نہیں ہے،ایک ڈویثرنل ہیڈکوارٹر نہیں ہے۔ایک تعلیمی بورڈ نہیں ہے،ایک ٹراما سنٹر نہیں ہے،ایک موٹروے تو چھوڑیں ایکسپریس ہائی وے تک نہیں ہے۔اسی طرح انڈسٹری کا قیام تو درکنار اسکی آواز پر بھی تھل میں پابندی ہے،تھل کے چھ اضلاع میں ایک ائرپورٹ تک نہیں ہے‘ مطلب کچھ بھی تو نہیں ہے،جس کا یہاں ذکرکروں۔ادھرتھل کے سینہ پر ایک اہم روڈ گزرتاہے جوکہ ملتان میانوالی روڈ کے نام سے پہچان رکھتا تھا اور اب ٹریفک حادثات میں ہزاروں زندگیوں کو نگلنے کے بعد قاتل روڈ کے نام سے جانا جاتاہے۔ پوچھنایہ تھاکہ جنوبی پنجاب کے حامیوں کیلئے تویہ کہہ دیاگیا کہ یہ جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بن سکتاہے کیوں کہ اس کو بنانا آسان نہیں ہے اور آپ اقتدار میںشاید مشکل کاموںکیلئے تشریف نہیں لائے ہیں لیکن ہمارے تھل کے باسیوں کیلئے کیاحکم ہے ؟ انکو جینے کا حق مل سکتاہے یا پھر ان کیلئے بھی آپ کا یہی حکم ہے تھل کے عوام کو اسی بدترین پسماندگی کے سلیبس میں زندگی کے دن پورے کرنے ہونگے کیونکہ ان کی زندگیوں میں تبدیلی لانا آسان کام نہیں ہے اور مشکل میں آپ پڑنا نہیں چاہتے ہیں۔آخر پر بھکر کی قابل احترام شخصیت وشاعر بشیر احمد بشر صاحب کا شعر حاضر خدمت ہے۔
مجھ کو تھل کی تیز آندھی پیغام ہدایت دیتی ہے
حرف ہے ریت کا ذرہ ذرہ‘ ٹیلہ ٹیلہ طور میرا
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved