تازہ تر ین

بابری مسجد کا ےوم شہادت

محمد جمیل …. منزل
ہندو انتہا پسند جماعتوں کی طرف سے چلائی گئی مہم کے نتیجہ مےں 6 دسمبر 1992ءکو ایودھیا مےں تاریخی بابری مسجد پر دھاوا بول کر اسے شہیدکردیا گیا، جس مےں ہزاروں جنونی ہندو جتھوں، بھارتیہ جنتا پارٹی، بجرنگ دل، راشٹریہ سیوک سنگھ، شیوسینا اور دیگر انتہا پسند تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انھوں نے جواز پیش کیا کہ شہنشاہ بابر کے دور حکومت مےں ےہ مسجد ایودھیا کے حاکم نے مندر گراکر اسی جگہ پر تعمیر کرائی تھی۔ بہرکیف اس کام کے لیے ایل کے ایڈوانی، بال ٹھاکرے، رام منوہر جوشی وغیرہ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی اور ان کی قیادت مےں بھارت کے جنوب سے لے کر ایودھیا تک ” رتھ یاترا “ کے نام پر وہاں کے شہروں، قصبوں، دیہات مےں بابری مسجد کی شہادت کے لیے عوام مےں جوش و خروش پیدا کیا گیا اور پھر 6 دسمبر کو ےہ سانحہ رونما ہوا۔ ایل کے ایڈوانی اور دیگر رہنما¶ں پر جن کی سرپرستی مےں ےہ گھنا¶نا کھیل کھیلا گیا تھا مقدمہ چلایا گیا، جس مےں انھوں نے مو¿قف اختیار کیا کہ مسجد کی تعمیر سے قبل وہاں مندر تھا اور ےہ جگہ رام کی جنم بھومی ہے۔
عدالت نے آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو تحقیق کرنے کا کام سونپا اور محکمہ کے ماہرین کی کمیٹی کے سربراہ کی رپورٹ کے مطابق کھدائی مےں مندر کے کسی بھی سٹرکچر کا نشان تک نہ ملا۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ اس جگہ مسجد دوبارہ بنائی جائے اور وہاں سے ہٹ کر کچھ فاصلے پر مندر بنالیا جائے۔ انتہاپسند جماعتوں اور جنونیوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے حق مےں چار کروڑ لوگوں کے دستخط ہےں، لہٰذا وہاں مندر ضرور بنے گا۔ بہرکیف انتہا پسند عدالتی فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے ۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھارت کے بڑے شہروں بشمول بمبئی، دہلی، حیدرآباد مےں ہنگامے ہوئے ان مےں تقریباً 2 ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے، لہٰذا تمام دنیا کے مسلمان ہر سال 6 دسمبر کو بابری مسجد کا یومِ شہادت مناتے ہےں۔ گجرات مےں ریاست کے حکام اور پولیس کو اس سازش کو عملی جامہ پہنانے مےں براہِ راست ملوث قرار دیا گیا۔ دوسرے ہندو انتہا پسند گروپ جو ذمہ دار ٹھہرائے گئے ان مےں وشوا ہندوپریشد، بجرانگ دل اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ شامل تھے، جنھیں مجموعی طو پر ’سنگھ پریوار‘ کہا جاتا ہے۔
اس وقت مرکز مےں کانگریس کی حکومت تھی، جس کے وزیراعظم نرسیمارا¶ تھے۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ 100 دن کے اندر وہاں مسجد کی دوبارہ تعمیر کردی جائے گی، مگر آج تک اس بارے کوئی پیش رفت نہےں ہوئی۔کانگریس کو کسی طور بری الذمہ قرار نہےں دیا جاسکتا، کیونکہ کانگریس کے قائدےن کی مسلم دشمنی ایک مسلمہ امر ہے۔ برٹش راج کے دوران گاندھی، نہرو اور پٹیل نے ہر اس تجویز کو رد کیا، جس سے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ مقصود تھا۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا پاکستان کو دو لخت کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنانا ےہ سب کانگریس کے ادوار مےں ہوا۔ راجیوگاندھی جن انتخابات مےں جیت کر وزیراعظم بنا تھا، سب سے پہلے بابری مسجد کی بے حرمتی اس نے کی تھی۔ اس نے مسجد کے تالے تڑوا کر اس مےں پوجا پاٹ کی تھی، جب کہ عدالت کے حکم پر ایک عرصہ سے بابری مسجد کو تالے لگادیئے گئے تھے۔ اس کے بعد انتہا پسند ہندو¶ں نے مسجد مےں بت اور مورتیاں بھی رکھ دی تھیں، اس سے ےہ نتیجہ اخذ کرنے مےں کوئی دشواری نہےں ہونی چاہیے کہ جہاں تک مسلم دشمنی کا تعلق ہے، بی جے پی اور کانگریس مےں کوئی فرق نہےں۔
بھارت کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایم ایس لیبرہان کی سربراہی مےں 16 دسمبر 1992ءکو بھارت کی ہوم یونین منسٹری کے حکم پر ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، جسے 6 دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت اور ایودھیا مےں بلو¶ں کے نتیجے مےں مسلمانوں کے قتل عام کے بارے تین ماہ مےں رپورٹ پیش کرنا تھی۔ اڑتالیس مرتبہ اس مےں توسیع کی گئی اور 17 برسوں کی تاخیر کے بعد 17 جون 2009ءکو رپورٹ اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کو پیش کی گئی۔ کمیشن کی رپورٹ مےں بی جے پی کے قائدین کو بابری مسجد کے انہدام کی پلاننگ مےں ملوث قرار دیا گیا جن مےں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اٹل بہاری واجپائی اور کلیان سنگھ وغیرہ شامل تھے۔ رپورٹ مےں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس، اٹل بہاری واجپائی، ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی کو ’جعلی اعتدال پسندوں‘ کا لقب دیا گیا۔
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست قرار دیتا ہے،مگر وہاں اقلیتوں کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔ ماضی مےں سکھوں کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا گیا اور 1984ءمےں گولڈن ٹیمپل مےں فوج نے جوتوں سمیت گھس کر وہاں سکھوں کے خون سے ہولی کھیلی اور ان کی عبادت گاہ کی بے حرمتی کی۔ ستمبر 1998ءمےں مدھیہ پردیش مےں ” پریتی شرن “ کرسچن کمیونٹی مشنری سنٹر مےں چار رہبا¶ں کی عصمت دری کرکے انھیں قتل کردیا گیا۔ اسی ماہ نواپارہ کے عیسائی مشن پر حملہ کیا گیا اور بھوپال ریاست کے دار الخلافہ مےں بھی مشنری سنٹر پر حملہ کیا گیا۔ کرسچن کمیونٹی نے سخت احتجاج کیا تھا کہ بھارتی جنتا پارٹی کے دور مےں چرچوں کو جلادیا گیا اور حکومت نے انتہا پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ ستمبر 2008ءمےں اڑیسہ مےں مسیحیوں کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا، ان کے چرچوں کو جلایا گیا اور درجنوں مسیحوں کو قتل کردیا گیا۔
بھارتی حکمرانوں کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔ ہیومن رایٹس واچ کی عالمی رپورٹ 2003ءکے مطابق 27 فروری 2002ءکو گودھرا مےں اس ٹرین پر حملہ ہوا، جس مےں ہندو سرگرم کارکن ایودھیا سے واپس آرہے تھے، جہاں وہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی مہم مےں حصہ لینے کے لیے گئے تھے۔ اس کے بعد چار دن تک مسلمانوں کے خون سے ہولی کھلی گئی، ہزاروں مسلمانوں کو شہید کردیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق گودھرا کے واقعہ سے قبل مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ رپورٹ مےں ےہ بتایا گیا کہ پولیس نے تشدد کو روکنے کی کوشش نہ کی اور کئی ایک جگہ پولیس خود اس مےں ملوث تھی۔ اگر ہندو بلوائیوں کے جتھوں کے سامنے کوئی بھی روکنے کے لیے آگے بڑھا تو پولیس نے انھیں بھون کر رکھ دیا۔ جو گروپ اس تشدد مےں براہِ راست ملوث پائے گئے ان مےں عالمی ہندو کونسل، بجرنگ دل، راشٹریہ سیوک سنگھ کے ارکان شامل تھے۔ ان واقعات کے بعد اگر چند پولیس افسران نے مجرموں کو پکڑنے کی کوشش کی تو صوبائی حکام نے دبا¶ ڈالا کہ انھیں گرفتار نہ کیا جائے۔
دنیا بھر مےں بھارت کی عدالتوں کی تعریف کی جاتی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتی ہےں۔ مگر سوال ےہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہےں ہوتا، مظلوم کی داد رسی نہےں ہوتی اور اسے حق نہےں ملتا تو ایسے فیصلوں کا فائدہ ہی کیا۔ سنگھ پریوار کی تنظیمےں نفرت آمیز لٹریچر آج بھی تقسیم کررہی ہےں اور تبدیلی مذہب کے لیے اقلیتوں پر دبا¶ ڈالتی ہےں۔ بھارت مےں گجرات کے تشدد کے واقعات کے ضمن مےں شہادتوں کے بعد ےہ کہنا غالباً غلط نہ ہوگا کہ بھارتی حکمرانوں مےں جو انتہا پسند افراد یا گروہ ہےں اپنی ناتمام آرز¶ں کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہےں۔ نرےندرا مودی کی سر بر اہی میں بی جے پی کی حکومت کے دور میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے، اور پچھلے ہفتے ہزاروں انتہا پسند وں نے اےودھیا میں جمع ہو کرمطالبہ کیا کہ رام مندر کی تعمیر کی جا ئے۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved