تازہ تر ین

میری بھی سنو!

ناصرقریشی….کل سے پہلے
ہماری جیلوں میں بھرے ہوئے قیدی ایک ایسے فوجداری نظام میں پس کر بنتے ہیں جس کے باٹ چکی کی طرح دونوں اطراف سے رگڑ رگڑ کر ایک شخص کو صحیح معنوں میں ”پسا“ ہوا شخص بنا دیتا ہے۔
میری محدود زندگی میں آج تک کوئی کیس ایسا نہیں گزرا کہ جس میں 100% فیصد انصاف ہوا ہو۔ کبھی ترازو ایک اور کبھی دوسری طرف جھک گیا۔ تول پورا نہ ہوا۔ یا تو ملزم سے زیادتی ہو گئی اور یاپھر شکایت کنندہ ترستا رہ گیا۔ مگر انصاف شاید کرنا کام ہی ”ربّی“ ہے۔ انسان کے کرنے کا کام نہیں۔ مگر پھر بھی …. جیسا تیسا نظام یہ ہے‘ چلتا رہا ہے اور چاہے اسکو وڈیرے اور جاگیردار نے اپنے‘ کارخانہ دار نے اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا ہو…. جتنا بھی اسے سرمایہ دار کی چوکھٹ سے انس رہا ہو‘ یہ نظام کبھی کبھی خود اپنے ہونے کی توجیح دے جاتا ہے اور الغرض یہ نظام چلتا رہا ہے۔
مگر آپ کے کچھ ہی دن پہلے دیے گئے انٹرویو کے مطابق آپ خود جانتے ہیں کہ اکثریت کہ جو‘ ان جیلوں میں بھری ہوئی ہے‘ وہ بے قصور لوگوں پر مشتمل ہے‘ ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لہٰذا جناب وزیراعظم صاحب‘ جیلوں کو خالی کرنا اور وہ بھی مفاد عامہ میں‘ اسکی اشد ضرورت ہے۔ جیل کب سے ہے؟ یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ جسے کسی اچھے مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاتا…. اسی لئے اسلام میں جیل کا کوئی تصور ہی نہیں۔جناب رسالت مآب نے کبھی جیل نہ بنائی۔ اگر کچھ تھا تو وہ مسجد نبوی میں تعلیم و تربیت میں مصروف قیدی تھے کہ جنہیں کھلا رکھا گیا تھا۔ یہاں سالوں قید کاٹنے اور مقدمہ لڑنے کے بعد پھانسی کے سزا پانے والے بعد ازاں بے قصور نکلتے ہیں‘ تو کیا اﷲتعالیٰ کی ذات جل جلالہ و جل شانہ برکات نازل کرے گی ایسی بستی پر؟ حضرت یوسفؑ کی قید بھی ثابت کرتی ہے کہ یہ محکمہ کچھ خاص قرب الٰہی کا موجب نہیں ماسوائے حکمران کی خوشنودی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا یہاں۔ حضرت یوسفؑ کے فرمان کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جیل یا قید خانہ اولاً زندوں کا قبرستان ہے‘ دوئم‘ دشمن کی بد خوئی ہے‘سوم اچھوں کی آزمائش ہے۔ ویسے جیل بروں کی آرام گاہ بھی رہا ہے کہ برے سے برے فرد کو تین وقت کا کھانا‘ ایک محفوظ رہنے کی جگہ‘ ملاقات کا وسیلہ‘ دشمنوں سے دور مگر زندگی کا ضامن ایک ادارہ مل جاتا ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تھے اور میں انکا ACSO یعنی ایڈیشنل چیف سکیورٹی آفیسر تھا۔ انہوں نے اڈیالہ جیل جانے کا فیصلہ کیا اور ہم ہیلی میں سوار ہو کر اڈیالہ آگئے۔ وہاں انکی رہائش جس سیل میں تھی‘ وہ ایک بہت صاف ستھرا سفیدی کیا ہوا سیل تھا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ سیل (جو کہ صدر زرداری کے سیل سے ملحق تھا) ایسا ہی تھا یا کہ اس میں تبدیلی آئی تھی۔ مگر یہ یقینی تھا کہ یہ سیل ایک شخص کےلئے کافی چھوٹی تھی۔ خود جیل کا منہ دیکھا تو مزید یقین ہو گیا کہ جیل انسان سے حیوان بنانے کا راستہ تو ہو سکتی ہے‘ انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی۔ یہ ایک مشکل کام ہے کہ آپ کو جانور کی طرح باندھا جائے یا پھر جنگلے کے پیچھے دھکیل دیا جائے اور توقع یہ کی جائے کہ باہر آئیں گے تو آپ میں انسانیت باقی رہ جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان صاحب‘ آپ نے اپنے جیل میں رہنے کا ذکر کیا‘ یہ کالم اس سے پہلے سے لکھا جا رہا ہے۔ امید یہ ہے کہ آپ ریلوے منسٹر شیخ رشید سے مشورہ کر لیں گے کہ انہیں سستی بلکہ مفت کی مزدور ٹیم اگر مل جائے تو کیسا رہے گا…. دوسری جانب ان قیدیوں کو کچھ زندگانی میں مقصد مل جائے گا اور اگر کچھ کرنے کو ہو گا تو وہ اموات نہیں ہونگی جو نیم تاریک راہوں میں مارے جانے والے لوگوں کا مقدر ہوتی ہیں۔ اب آپکے سامنے اخبار تو کوئی رکھتا نہیں ہو گا اور نہ آپ کے سامنے یہ کالم گزرے گا…. مگر…. شاید یہ ممکن ہو کہ جیل میں ڈالے جانے کے غم میں جن لوگوں نے موت کو لبیک کہا‘ وہ آپکے خواب میں آجائیں اور آپکے ضمیر کو جھنجھوڑ کر یہ کہیں کہ ہمیں کیوں بھلا دیا ہے؟ جیل 50فیصد مظلوموں سے بے قصوروں سے بھری ہوئی ہے اور آپ یہ بات اگر جانتے ہیں اور اینکرز کے سامنے تسلیم کر چکے ہیں تو پھر کچھ کرتے کیوں نہیں؟ کیا آپکو نہیں معلوم کہ باب العلم نے فرمایا ہے کہ معاشرے کفر پر قائم رہ سکتے ہیں مگر ظلم و ناانصافی پر نہیں۔
کیا آپکی پارٹی تحریک انصاف نہیں….؟ اور کیا جیل کی غیر انسانی زندگی سے آزادی دلوانا وہ بھی جب کہ آپ جانتے ہوںکہ جیل مظلوم افراد سے بھری ہوئی ہے…. قرین انصاف نہیں؟ کیا امیدِ انصاف اتنا ہی گھناﺅنا جرم ہے کہ آپکے آنے سے تبدیلی کے آنے کی امید رکھنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے اور قانون جنگل کا ہی رہے…. جیل کل بھی ”اُن“ کے دشمنوں سے بھری تھی اور کل بھی بھری رہے؟
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved