تازہ تر ین

تحقیقات کیلئے اب غیرجانبدار جے آئی ٹی بنے گی : خرم نواز گنڈا پور ، اسد عمر اور عمران خان میں معاملہ کچھ گڑبڑ لگتا ہے :سابق گورنر سندھ محمد زبیر ، اسحاق ڈار نے قرضے بہت لئے : سلمان شاہ ، جنہیں سزائیں نظر آ رہی ہیں وہ تنقید کر رہے ہیں:صداقت عباسی ، آرٹیکل 62اور 13اچھے برے سیاستدانوں کی چھانٹی کرتا ہے : احمد رضا قصوری کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7“ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسکؓ) چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ 7“ میں گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ پہلے جو جے آئی ٹی بنی تھی اس نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے کسی شہید کے رشتے دار یا زخمی کو بلاکر بیان نہیں لیا تھا۔ پولیس کے گواہان کے بیانات پر رپورٹ لکھ دی گئی تھی۔ جے آئی ٹی کے 2افراد نے رپورٹ پر اختلافی نوٹ دیا جسکو غائب کر دیا گیا۔ جس پراسیکیوٹر جنرل نے تجویز دی کہ ان 12افراد کے خلاف مقدمہ نہیں چلنا چاہئے۔ اس پراسیکیوٹر جنرل کو میاں نوازشریف نے 17جون کے سانحے کے 5دن بعد تعینات کیا۔ مدت ختم ہونے پر توسیع دی گئی۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان میں انصاف کی جیت ہوئی ہے‘ ایک غریب بچی جس نے چیف جسٹس کے دروازے کو کھٹکھٹایا وہ گزشتہ روز سب سے بڑی عدالت کے 5رکنی بنچ کے سامنے بغیر کسی وکیل کے پیش ہوئی۔ اسکا مطلب ہے آج عدلیہ انصاف کیلئے لوگوں کی پکار سننے کو تیار ہے۔ اب جو بھی جے آئی ٹی بنے گی اس پر نون لیگ کی جانب سے بہت واویلا کیا جائے گا لیکن یہ ایک غیرجانبدار جے آئی ٹی ہو گی۔ نئی جے آئی ٹی کی جو بھی فائینڈنگ ہونگی قبول کرینگے۔ ہمارا ایک ہی سوال ہے کہ کیا پولیس نے یہ ایکشن اپنے طور پر کیا یا کسی کے کہنے پر کیا۔ پولیس نے کیا تو انکو سزا ملنی چاہئے اور اگر کسی کے کہنے پر کیا تو وہ چہرے بے نقاب ہونے چاہئیں‘ انکو سزا ہونی چاہئے۔ طاقتوروں کو سزا ہو گی تو ہر غریب کو امید پیدا ہو جائے گی کہ عدالتوں سے انصاف ملے گا۔ شہبازشریف نے اگر نہیں کیا تھا تو پھر انہوں نے پولیس کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ملوث افسروں کو ترقیاں کیوں دیں؟ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ملوث اہلکاروں کو او ایس ڈی بنایا جائے لیکن آئی جی پنجاب طاہر نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا لیکن حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔ درانی صاحب نے بھی بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا‘ حیران ہوں ان دونوں افسروں پر جنہوں نے اپنی آنکھوں سے آٹومیٹک اسلحے سے فائرنگ ہوتے دیکھنے کے باوجود انکو او ایس ڈی تک بنانا مناسب نہیں سمجھا۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہاکہ عمران خان اور انکی پارٹی کو پاکستان کو درپیش چیلنجز کا اندازہ نہیں تھا۔ باہر بیٹھ کر باتیں کرنا آسان‘ حکومت میں آکر مسائل و وسائل کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ میرا نہیں خیال کہ اسد عمر کوئی بھی فیصلہ وزیراعظم کی مرضی کے بغیر کرتے ہونگے۔ اسد عمر اور عمران خان کے درمیان معاملہ کچھ گڑبڑھ لگتا ہے لیکن ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا کہ وزیراعظم کی کسی وزیر‘ کچھ وزراءسے نہیں بنتی۔ معیشت بہتری کی طرف جا رہی تھی صرف ایک مسئلہ تھا کہ ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنا تھا‘ حکومت وہ بھی نہیں کر سکی۔سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ نے کہا کہ معاشی حالات خراب ہیں‘ نئی حکومت کا جو ہنی مون پیریڈ ہونا چاہئے تھا وہ اکنامک ایشوز کیوجہ سے نہیں ہو سکا۔ 100ارب ڈالر کا بیرونی قرضے کا پاکستانی معیشت پر بہت بوجھ ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وزیر خزانہ کا بہت اہم کردار ہوتا ہے‘ مذاکرات ہوتے ہیں‘ پوری تیاری ہوتی ہے‘ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو بھی درست سمت میں لے جانے کی ضرورت ہے۔ اسد عمر کیلئے کافی مشکل پیدا ہوئی ہے۔ اسحاق ڈار کے آنے سے پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہو چکا تھا‘ نئی حکومت نے تھوڑی تاخیر کی ہے۔ جب مالی حالات ٹھیک نہیں تو عام سی بات ہے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا جاتا ہے یہ ادارہ اسی کام کیلئے ہوتا ہے۔ اسحاق ڈار نے قرضے بہت لئے‘ ایکسپورٹ نہیں بڑھائی لیکن قرضے بہت بڑھا دئیے۔ تحریک انصاف کے صداقت عباسی نے کہا جنکو سزائیں ہوتی نظر آ رہی ہیں وہ حکومت پر تنقیدی نشتر برسانے پر لگے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت بہت اچھا پرفارم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ خدائی مخلوق ہم کو لاتی تھی‘ وہی ہمارے ساتھ ہیں۔ سرے محل والوں سے قوم کی جان چھوٹنی چاہئے۔ سینئر قانون دان احمد رضا قصوری نے کہاکہ آرٹیکل 62اور 63اچھے اور بُرے سیاستدانوں کی چھانٹی کرتا ہے۔ عوام بُرے سیاستدانوں کی دولت سے متاثر ہوکر انہیں اسمبلیوں میں لے آتے ہیں۔ اب اچھے اور بُرے سیاستدانوں کی چھانٹی کا کام شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان نے بڑی اچھی بات کی ہے کہ اگر عدالت اعظم سواتی پر کوئی الزام عائد کرتی ہے تو اعظم سواتی خود مستعفی ہو جائیں گے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved