تازہ تر ین

نئی جے آئی ٹی نواز شریف ، شہباز شریف کیلئے بڑا خطرہ : ضیا شاہد ، قیام پاکستان کے بعد ہندو بھارت چلے گئے ان کی پراپرٹی پر مقامی زمینداروں نے قبضہ کر لیا : رمیش کمار ،ملیں کرشنگ لیٹ کر کے گنا اونے پونے داموں خریدنا چاہتی ہیں : محمد انور ، چینل۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں نئی جے آئی ٹی بنانے کی بات نوازشریف کے ساتھیوں خاص طور پر شہباز شریف، رانا ثناءاللہ، چودھری نثار کے لئے کافی خوفناک خبر ہے کہ اس لئے کہ جب پہلی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت یہ لوگ حکمران تھے۔ ان کے اثرات تھے۔ رانا ثناءاللہ صاحب اس وقت وزیرقانون پنجاب تھے وزیر قانون قانون تو اپنے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہونے دیتا۔ ب جبکہ دونوں بھائی حکومت میں نہیں ہیں اور رانا ثناءاللہ صاحب حکومت میں نہیں اب تو بہت اکھاڑ بچھاڑ ہو گی اب تو پولیس والوں میں سے بھی بہت لوگ وعدہ معاف گواہ بنتے ہوئے نظر آئے اور یہ ایک بڑی خبر ہے۔آبادی کے حوالے سے سمپوزیم بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ آبادی کا مسئلہ بڑا اہم ہے کیونکہ ہر حکومت کے دور میں سنتے آئے ہیں آبادی بہت بڑھ گئی ہے۔ پاپولیشن پلاننگ کو کچھ اور فنڈ دوکچھ اور اقدامات کئے جائیں لیکن ہوتا ہواتا کچھ نہیں اور آبادی سے پہلے سے بڑھ گئی ہے چنانچہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جس طرح پیش بندی کی اور وزیراعظم کا وعدہ کرنا کہ اب وہ مزید قانون سازی کریں گے جس طرح بتایا جا رہا ہے کہ 2030ءمیں 45 کروڑ آبادی ہو جائے گی تو بھائی پہلے ہی بے روزگاری کا مسئلہ ہے۔ صحت کا مسئلہ ہے۔ علاج کا مسئلہ ہے، تعلیم کا مسئلہ ہے۔ اگر آبادی دوگنا ہو جائے گی تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مسائل کتنے بڑھ جائیں گے۔ یہ بروقت فیصلہ ہوا ہے۔ صرف سیمینار کر کے تقریریں کر کے گھروں کو نہیں جانا چاہئے بلکہ واقعی سنجیدگی کے ساتھ جو شخص حکومت میں ہے اسے اور جو حکومت سے باہر ہے اسے، فوج، عدلیہ، مقننہ کو قانون ساز اداروں کو، اسمبلیوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔زلمے خلیل زاد سے نہ صرف ملاقات ہوئی جناب عمران خان کی بلکہ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی حکومت نے واقعی عمران خان کو خط لکھا تھا اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ انہوں نے تعاون کی اپیل کی ہے۔ اس کے جواب میں حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ ہم تعاون کریں گے۔ اعظم سواتی عمران خان کے وفاقی وزیر ہیں لیکن ان سے کو کچھ بھی سرزد ہوا اس کی جو استدعا تھی۔ اس کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب عمران خان کو اپنے وعدے کے مطابق ان کو فارغ کرنا پڑے۔ بہرحال چونکہ مقدمہ ابھی چل رہا ہے اعظم سواتی صاحب کی طرف سے جو ہیں ایس ایم ظفر کے صاحبزادے علی ظفر پیش ہوئے ہیں اور دوسری طرف سے اعتزاز احسن صاحب پیش ہوئے ہیں۔ یہ اہم کیس ہے کوئی بڑا فیصلہ آنے والا ہے۔ شیخ رشید نے دو بیانات دیئے ہیں، دونوں بڑے اہم ہیں۔ ایک تو انہوں نے کہا ہے آصف زرداری نے سندھی ٹوپی پہن لی اور لگتا ہےکہ وہ جیل جانے والے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے مارچ تک بڑے پیمانے پر جھاڑو پھرنے والا ہے۔ ان کے اکثر بیانات کی پیش گوئیاں درست ہوتی ہیں لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ اگلے چند ماہ میں بقول شیخ رشید جھاڑو پھرنے والا ہے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہونے والی ہیں۔ دونوں قسم کی گرفتاریاں ہو سکتی ہیں جب عدل کی مشینری حرکت میں ااتی ہے تو جو سامنے آتا ہے پس جاتا ہے۔ آج بڑے چاچے عطاءالحق قاسمی کی بیان بازی کا جو انہوں نے جب پی ٹی وی چھوڑا تھا اس وقت بھی بڑا شور مچا تھا پھر 10 لاکھ کی ویاگرہ خریدی ہے پھر عدالت میں مقدمہ پیش ہوا تو اس میں 18 میں 9 کروڑ روپے ان کے ذمے لگے۔ یہ وہ واپس جمع کرائیں۔ آج انہوں نے جوابی الزام میں مریم اورنگزیب پر الزام لگایا ہے کہ میرے خلاف جتنی کارروائی ہوئی یہ مریم اورنگزیب نے کی ہے اس وقت جو بھی کلیہ سامنے مجھے مریم اورنگزیب نے نکلوایا ہے اور مریم اورنگ زیب ن لیگ کے مفاد میں کام نہیں کر رہی تھیں بلکہ ذاتی مفادات کے تحت کام کر رہی ہیں۔ آنے والے وقت میں واضح ہو جائے گا کہ قاسمی صاحب کے الزامات کس حد تک درست ہیں۔ آج کسانوں کا مسئلہ بہت اہم ہے میرے پاس کسان رہنما محمد انور آئے تھے وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم دوبارہ اپنے کسانوں کو لے کر آ گئے ہیں ہم نے لاہور کی سڑک بلاک کر دی ہے اور یہ سڑکیں بلاک کرنے والی بات بڑی خطرناک ہے۔ پہلے خدا خدا کر کے خادم حسین رضوی صاحب سے جان چھوٹی ہے اب کسان آ گئے ہیں اگر افہام و تفہیم کے ذریعے بات طے ہو جائے تو اور جو کچھ کسانوں کے مطالبات ہیں ان کے لئے بھی جو پراپر لوگ جو ہیں وہ توجہ دیں بجائے اس کے کہ سڑکیں بند کی جائیں اس کو ہر قیمت پر روکنا چاہئے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گندم کی فصل کاشت ہو رہی ہے اس پر یوریا کھاد اور پیسٹی سائڈ اور باقی چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں کین کی قیمت میں حکومت نے اصافہ نہیں کیا، قیمت وہی 1300 روپے من ہے جو پچھلے سال تھی۔ ان کا موقف ہے کہ اب چونکہ فی من اخراجات بڑھ گئے ہیں اس لئے گندم قیمت خرید حکومت کو مقرر کرتی ہے اس کو زیادہ ہونا چاہئے ان کی بات میں وزن بھی ہے۔ دوسری وہ لرائی ہے کہ کسان کہہ رہے ہیں کہ گنے کی فصل تیار ہے شوگر ملیں گنا لینا شروع کریں۔ دوسری طرف شوگر ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے مسلسل اشتہارات چھپ رہے ہیں اور حکومت سے اپیل کی جا رہی ہے کہ ابھی گنا کا کرشنگ سیزن نہ شروع کیا جائے ابھی مل مالکان کو مجبور نہ کیا جائے۔ کسان رہنما محمد انور نے کہا ہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن اشتہارات دے رہا ہے کہ یہ نورا کشتی کر رہا ہے کہ یہ دسمبر کے آخر اور جنوری کے شروع میں گنا خریدے گا۔ یہ اس چکر میں بیٹھا ہے کہ جتنی لیٹ خریداری کروں گا اصل میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا چکر ہو گا۔ ہر کاشتکار کی کوشش ہو گی کہ میں اپنا گنا مل کے گیٹ تک پہنچاﺅ۔ جب سارے کاشتکار گنا کاٹ کے مل کو پہنچائیں گے سپلائی زیادہ ہو گی تو ملوں کی ڈیمانڈ تو اتنی ہو گی اور یہ اونے پونے داموں پر خریدے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں جتنا گنا پچھلے سال کم ریٹوں پر خریدا گیا ہے تمام مل والے ریٹ اپنی مرصی کا دیا کٹوتی اپنی مرضی کی کی پیسے آج تک بھی نہیں دیئے زمیندار کے پورے سال کے لئے شوگر مل والوں کے پاس پڑے ہیں ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ کم از کم ہمارا پچھلے سال کا پیسہ بقایا جات تو دلوا دیئے جائیں۔ دوسری بات حیہ شوگر مل والا اشتہار دے رہا ہے کہ ہم ملیں نہیں چلائیں گے اگر حکومت ان سے ملیں نہیں چلوا سکتی تو حکومت کیسے چلے گی یہ حکومت پر چلے گی نہیں۔ جو چاہے کا اپنی مرضی کرے گا جب چاہے گا حکومت کے خلاف بات کرے گا کل کو جننگ فیکٹریاں نہیں چلیں گی کپاس مرضی سے خریدیں گی۔ پرسوں گندم آئے گی تو گندم کا حریدار کہے گا ہم 1100 روپے میں خریدیں گے۔ حکومت کی ذمہ داری ہےکہ ملو ںکو چالو کرے۔ ہمارے کسان مزدور کو پکڑکر جیلوں میں بند کر دیتے ہیں یہ مل کو بند کریں۔ اشتہار میں جو انہوں نے کہا ان کو کون مجبور کر رہا ہے۔ یہ ملیں چالو کریں یہ گنا کمپی ٹیشن میں خریدیں گے یہ لیٹ کر اس لئے کر رہے ہیں کہ اپنی مرضی کے مطابق ریٹ دے کر خریدیں گے۔کیونکہ گنے کا ٹائم بیچنے کا کم رہ جائے گا اپریل میں ملیں بند ہو جاتی ہیں تو پھر گنے کی سپلائی زیادہ بڑھے گی اور اگر ان کو ریٹ وارہ نہیں کھاتا تو میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ مل اونرز اور ہمیں بٹھایا جائے ہم سے جمع ضرب کر کے وہی ریٹ مقرر کر لیں جو ان کو وارے کھاتا ہے۔ گنا تو خریدیں۔ اس دفعہ گنا خریدیں ریٹ مل والا وہ بنائے جس پر اس کا نقصان نہ ہو لیکن ادائیگی ہمیں نقد کرے۔ محمد انور نے مزید کہا کہ سیکرٹری سطح پر 15 دنوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرانے کی درخواست کی تھی جس پر تاحال عمل نہیں ہوا۔ ظلم یہ ہے کہ عثمان بزدار جن کی عمران خان صفت یہ بتاتے تھے کہ ان کے گھر بجلی نہیں ہے، اب عثمان بزدار کے گھر بجلی آ گئی ہے، ہماری کاٹی جا رہی ہے۔ ہماری بجلی، ٹیوب ویل بند، راشن پانی ختم، گنے کا گاہک کوئی نہیں، کپاس آج 2 ہزار میں کوئی خرید نہیں رہا۔ضیا شاہد نے کہا کہ میں کسانوں کے معاملے پر پرامن مذاکرات کے حق میں ہوں جو سیکرٹری سطح پر گفتگو ہو رہی ہے اسے وزیروں کی سطح پر لانا چاہئے۔ ضرورت پڑے تو وزیراعلیٰ خود بات چیت کریں۔ عوام کو تنگ نہ کیا جائے، جو کوئی مطالبہ کرتا ہے سڑکیں بھر دیتا ہے۔ خادم حسین رضوی کے ہنگامے ہوئے تو اس وقت 4,3 دن تک دفتر آنا مشکل ہو گیا تھا۔ حکومت مذاکرات کر کے کسانوں کے مسئلے کو حل کرے۔ انہوں نے مزید کہا عمران خان نے پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کے اچھے عزم کا اظہار کیا ہے، ہم سب حکومت، عدلیہ، فوج سمیت تمام اداروں کے ساتھ ہیں اور چاہتے ہیں کہ تیزی کے ساتھ مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رمیش کمار کا میں نے خصوصی انٹرویو کیا ان سے یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ جب پاکستان بنا تو بہت سارے لوگ جو بڑی جائیدادوں کے مالک تھے وہ چھوڑ کر چلے گئے تھے، سندھ میں وہ اراضی محکمہ اوقاف نے لینے کے بجائے، زمینداروں نے قبضے کر لئے ہیں۔ حالانکہ یہ ساری اراضی محکمہ اوقاف کے پاس آ گئی تھی۔رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا ہے کہ ہندوﺅں کی زمینوں پر قبضہ بہت پرانا ہے، ماضی میں تو 5,5 ہزار ہندو تنگ آ کر ہجرت بھی کر گئے۔ میرے پاس جو شکایات آئی ہیں اس میں ایک وزیر ہے مکیش چاولہ اس کی بھی ایک شکایت ہے، اس کی زمین پر بھی ایک پی پی کے ایم پی اے کی سرپرستی میں قبضہ ہو رہا ہے۔ یہ کشمور کی بات ہے۔ سندھ میں قبضے کی بہت ساری شکایات آئیں جو چیف جسٹس کے سامنے رکھیں اس پر انہو ںنے ایک کمیٹی بنائی جس میں میں بھی شامل ہوں۔ میرے پاس لاڑکانہ ڈویژن کی 46 شکایات آئیں، ان ساری شکایات پر کمشنر لاڑکانہ کی رپورٹ کے مطابق بات سامنے آئی ہے کہ یہ ساری زمینیں ہندوﺅں کے نام پر ہیں مگر قبضہ اور کسی کا ہے۔ سکھر سے ایک شخص ملئی مل نے مجھ سے کہا کہ سائیں خورشید شاہ کی سرپرستی میں میری زمینوں پر قبضہ ہو چکا ہے۔ میں نے اس سے تحریری درخواست لی پھر اس نے مجھے بتایا کہ عثمان چاچڑ کمشنر تھا اس طرح سے قبضہ ہوا، عثمان چاچڑ اس وقت ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہیلتھ ہے نے اس سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا بالکل اس کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی، میں نے بہت بچانے کی کوشش کی لیکن پولیس سپورٹ کر رہی تھی بچا نہیں سکا پھر میں نے آپ کو درخواست کی آپ نے جو مجھے لاڑکانہ کا ٹارگٹ دیا ہے اس میں توسیع کرتے ہوئے مزید ڈویژن کی چیلنگ کی بھی اجازت دیں جو مل گئے پھر سکھر سمیت دیگر ڈویژنوں سے بھی تحریری شکاایات آ گئی ہیں۔ جس پر اب تمام کمشنرز سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ میں نے چیف جسٹس سے یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت جو کمشنرز ہیں ان کے اوپر سیاسی دباﺅ بہت زیادہ ہے اس لئے آپ سابق کمشنر عثمان چاچڑ کی بھی رپورٹ لیں۔ دیکھتے ہیں اب آگے کیا فیصلہ آتا ہے، عدالت میں کیس لگا ہوا ہے۔ نوٹس بھی جاری ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوﺅں کی بہت ساری اراضی ہے جس میں 1122 مندر اور 517 گوردوارے ہیں، سیاسی سرپرستی میں قبضے ہو گئے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ میٹر ریڈر ہو یا کوئی اور لیکن ترقی میں شفافیت ہونی چاہئے، ملک ریاض کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے ترقی مل بھی جاتی ہے۔ اگر ترقی ناجائز طریقے سے ہو تو وہ دنیا و آخرت کیسی بھی ہضم نہیں ہوتی۔ ہندوﺅں کی زمینونں پر قبضہ میں صرف خورشید شاہ ہی نہیں میرے پاس 46 لوگوں کی فہرست ہے۔ حیرت ہے انتظامیہ سو رہی تھی، قبضہ کیسے ہوا۔ ڈپٹی کمشنر نے لکھ کر بھیجا ہےکہ زمین ہندوﺅئں کے نام ہے لیکن قبضہ کسی اور کا ہے۔ حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ کام نہیں کرتی لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ انہوں نے کہا کہ اے وائی کیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے اندر 1122 مندر،517 گوردوارے اور لاکھوں ایکڑ زمین ہے جو پاکستان بننے کے بعد یہاں سے لوگ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ لیاقت علی خان اور نہرو کے درمیان جو طے پایا تھا اس کے مطابق وہ مسلمان اور یہاں ہندو چیئرمین بنتا تھا مگر یہاں پر ہندو چیئرمین نہیں بن سکا جبکہ بھارت میں 70 سال سے مسلمان چیئرمین بنتا آ رہا ہے۔ 17 سال سے پارلیمنٹ میں ہوں جو بھی حکومت آتی ہے وہ اسی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ پر اپنا کوئی چہیتا لگاتی ہے اور اس قبضے کی جگہ کو لیز پر دیتی رہتی ہے اور پیسے کماتے جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جہاں جہاں سرداری نظام ہے وہاں بھی غریب لوگوں سے حصے داری یا زبردستی لکھوا لیتے تھے، ایسے بھی بہت سارے ایشو آئے ہیں۔ انہوں نے کہا بھگوان داس کی بھی لاڑکانہ میں 104 ایکڑ زمین تھی، اس پر قبضہ ہے۔ لاڑکانہ کی گراﺅنڈ، دھرم شالہ پر اس طریقے سے قبضے ہیں۔ لاڑکانہ کا جب فیصلہ آئے گا، قبضے چھوٹیں گے، تجاوزات کا خاتمہ ہو گا تو ہزار مزید شکایات آئیں گی۔ ذمہ داران کو پکڑنا چاہئے، ان کو سزا ملنے تک یہ چیزیں رگوں سے ختم نہیں ہوں گی۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved