تازہ تر ین

قتل کا ملزم 1 لاکھ میں خرید کر قتل ، ” خبریں ہیلپ لائن “میں انکشاف

اوکاڑہ(بیورورپورٹ)رشتہ کے تنازعہ میں دو افراد موت کی بھینٹ چڑھ گئے، ایک سال قبل رشتہ کے تنازعہ میں ایک ہی برادری کے درجنوں افراد آپس میں جھگڑ پڑے جس دوران ایک فرد صابر حسین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاںبحق ہوگیا جس کا مقدمہ نمبر 462 بجرم 302ذاکر حسین کی مدعیت میں درج ہوا جس میں الزام علیہان عنصر عباس، اظہر حسین، شمل حسین، ظفر جاوید، غضنفر حسین ، محمد فاضل گرفتار ہوکر جیل گئے ، ان میں سے عنصر عباس ، ظفر جاوید فاضل اور غضنفر ضمانتوں پر رہا ہوگئے، مقدمہ نمبر 385بجرم 302کے مدعی محمد یونس کا بیٹا حافظ عنصر عباس بھی اس تنازعہ کا شکار ہوا، مدعی محمد یونس کے مطابق اس کے بیٹے مقتول حافظ عنصر عباس کو ملزم سلیم عباس نے مقدمہ نمبر462 کے مدعی ذاکر حسین اور گواہان جعفر حسین ، بشیر احمد اور ضیاءکو ایک لاکھ روپے کے حوالے دیا جنہوں نے اپنے مقتول صابرحسین کے قتل کا بدلہ لینے کی خاطر عنصر عباس کو بے دردی سے قتل کردیا اور نعش نہر میں بہادی، ملزم سلیم عباس نے پولیس کے سامنے میرے اور گواہان کی موجودگی میں تسلیم کیا تھا کہ عنصر عباس کو ایک لاکھ روپے لیکر دیگر ملزمان کے حوالہ کردیاتھا ، مدعی مقدمہ نے مزید بتایا کہ پولیس ہومی سائیڈ تھانہ بنگلہ گوگیرہ اب اصل ملزمان ذاکر حسین ، جعفرت حسین، بشیر احمد اور ضیاءکو بیگناہ قرار دیکر چھوڑ رہی ہے اور ان کو رعایت دے رکھی ہے، مدعی مقدمہ نے بتایا کہ 5اکتوبر 2018بوقت صبح ساڑھے سات بجے الزام علیہ سلیم عباس ساکن فتح پور مقتول حافظ عنصر عباس کو اس بہانے ساتھ لے گیا کہ جو ادھار کی رقم مبلغ دس ہزار روپے وہ اوکاڑہ شہر لےجاکر واپس کرونگا جب وہ دو گھنٹے تک واپس نہ آیا تو مقتول کے والد محمد یونس نے ملزم سلیم عباس سے پوچھ گچھ کی تو اس نے یہ کہہ پر اپنی جان چھڑالی کہ وہ رقم لیکر چلا گیا تھا ، پندرہ دن کے بعد سلیم عباس اپنی پیشی کے سلسلہ میں عدالت آیا تو محمد یونس کے الزام پر پولیس تھانہ بنگلہ گوگیرہ نے سلیم کو حراست میں لے لیا، تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ عنصر عباس کو دیگر ملزمان ذاکر حسین، جعفر حسین ، بشیر احمد اور ضیاءکے ساتھ ملکر قتل کرکے نعش نہر لوئرباری دو آبہ میں بہادی ہے ، مورخہ 8اکتوبر 2018کو پولیس تھانہ نورشاہ ضلع ساہیوال کو نہر سے نعش ملی ، موقع پر پولیس نے نعش کی تصاویر بناکر شناخت کیلئے مختلف جگہوں پر آویزاں کردیں، مدعی مقدمہ محمد یونس نے کپڑوں سے شناخت کرلیا، مدعی مقدمہ کے مطابق مقتول کی آنکھوں اور جسم پر تیزاب پھینکا گیاتھا جبکہ تھانہ نورشاہ کے انوسٹی گیشن انچارج سب انسپکٹر محمد اسمعیٰل کے مطابق نعش پھول چکی تھی آزاربند سے گردن اور دونوں ہاتھوں کو باندھا ہوا تھا جسم گل سڑ گیاتھا لیکن بظاہر تیزاب پھینکا ثابت نہ ہواتھا، پولیس تھانہ بنگلہ گوگیرہ کے تفتیشی خادم حسین کے ساتھ رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ مدعی مقدمہ نے جو ملزمان نامزد کئے ہیں ان میں مدعی مقدمہ نمبر 462بجرم 302ذاکر حسین اور گواہان جعفر حسین، بشیر احمد اور انکا عزیز ضیاءکی انکوائری جاری ہے اور میرے نقطہ نظر میں وہ بے گناہ ہیں ، انکی بے گناہی موبائل ریکارڈ سے ظاہر ہوتی ہے جبکہ ملزم سلیم عباس، مزمل ولد اکرم اور مقتول حافظ عنصر عباس کی لوکیشن وقوعہ کے روز کی ایک ہی جگہ چک نمبر 34ٹو آر ظاہر ہوتی رہی ہے، ان دونوں نے تسلیم کیا کہ ہم دونوں نے ہی قتل کیا اور آزار بند سے باندھ کر نہر میں پھینک دیا ، سلیم عباس گرفتار ہے بہت جلد ملزم مزمل کو بھی گرفتار کرلیا جائیگا جبکہ دیگر چار الزام علیہان مسمیان ذاکر حیسن، جعفر حسین، بشیر احمد اور ضیاءکے موبائل کی لوکیشن موضع فتح پور پائی گئی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ مقتول کی نعش کا ڈی این اے بھی نہیں کرایاگیا اور پولیس ملزمان کو وی آئی پی پروٹوکول دے رہی ہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved