تازہ تر ین

بھارتی جنرل کی گیدڑ بھبکیاں

حیات عبداللہ……..انگارے
شاید تیرہ شبی نے غلط فہمیوں کی پوشاک پہن لی ہے جو مینڈکی کو نزلہ زکام کے ساتھ کھانسی بھی ہونے لگی ہے، یقینا سناٹے خوش فہمیوں کی قبامیں بکل مارے مسلسل چیخنے چلانے لگے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف نفرت اور حقارت اگلنے سے باز ہی نہیں آ رہا۔ سشماسوراج کی نسوانی ہرزہ سرائی اور زنانی دھمکی تو ایک خفیف سی سسکی اور نحیف سی ہچکی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی مگر مجھے تو بپن راوت کی عقل بھی گدی کے پیچھے نظر آتی ہے جو پاکستان کو ایک تسلسل کے ساتھ ڈرانے دھمکانے کی ناکام جسارتیں کئے جا رہا ہے۔ مودی پاکستان کو دھمکی دینے کیلئے بپن راوت کو استعمال کر رہا ہے۔ اسی لئے بپن راوت کا دماغ کئی عارضوں سے دوچار ہے۔ یہ اس کے دماغ کا خلل ہی تو ہے کہ کبھی وہ پاکستان کیخلاف سرجیکل سٹرائیک کا سرپرائز اپنی قوم کو دینے کے خواب دیکھتا ہے تو کبھی پاکستان کو درد محسوس کروانے کے وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اب وہ پاکستان پر ڈرون حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کو ڈرون سے نقصان کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ ایل او سی پار بھی کارروائی کر سکتے ہیں نارسائی کے جس کرب سے بپن راوت دوچار ہے وہ ایسے ہی ذہنی انتشار اور خلفشار کا موجب بنتا ہے کہ انسان انہونی باتیں بڑبڑانے لگتا ہے، بپن راوت نے یہ محاورہ نہیں سنا تو میں سنائے دیتا ہوں کہ ”تنگ آمد بہ جنگ آمد“ ہو جاتا ہے۔
میں بپن راوت کو ذہنی مریض نہ کہوں تو کیا کہوں کہ وہ خود ہی پاکستان پر حملوں کی دھمکی دیتا ہے اور پھر خود ہی ان حملوں سے بچاﺅ کیلئے پاکستان کو مشورے بھی دیتا ہے کہ پاکستان اسلامی ملک کے بجائے سیکولر ملک بن جائے تب مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ مذہب کے نام پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ متشدد ملک کا آرمی چیف بھی سیکولر ازم کی بات کرے تو اس سے زیادہ مکرو فریب اور کیا ہو سکتا ہے؟ گجرات اور احمد آباد کے مسلمانوں کو قتل کر کے مودی نہ صرف تین بار گجرات کا وزیراعلیٰ بنا بلکہ آج بھارت کا پردھان منتری بھی بن چکا ہے۔ بھارتی سیکولر ازم کی اوٹ اور پوٹ میں ہندوﺅانہ مذہبی عناد اور بغض کبھی نہیں چھپایا جا سکتا۔ اگر بھارت سیکولر ملک ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ پھر الہ آباد کا نام تبدیل کر کے پریاگ راج کیوں رکھا گیا؟ اگر بپن راوت بھارت کو سیکولر ملک سمجھتا ہے تو سوال یہ بھی ہے کہ پھر گائے ذبح کرنے کے محض شک میں ہی مسلمانوں کو کیوں ذبح کر دیا جاتا ہے؟ آج پورے بھارت میں گائے کے نام پر مسلمانوں پر تشدد میں 100 فیصد اضافہ بھارتی سیکولر ازم کے لئے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت نے گائے کو ذبح کرنے اور گوشت استعمال کرنے پر پانچ سال قید کی سزا رکھ دی ہے۔ پوچھنا تو یہ بھی بنتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو جبراً کیوں ہندو بنایا جا رہا ہے؟ بھارت میں مدارس اور مساجد پر حملے کیوں ہیں؟ میوات کے علاقے میں مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے آئمہ کو دھمکیاں کیوں دی جا رہی ہیں؟ لاﺅڈ سپیکر میں اذان دینے پر قدغنیں کس لئے عائد کی جا رہی ہیں اور مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟
یہ ایک امریکی کمیشن ہے اس کا نام ”یونائیٹڈ سٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجن فریڈم ہے۔ اس کی رپورٹ کے مطابق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشواہندو پریشد جیسی راشٹریہ وادی تنظیموں کے ذریعے بھارت میں غیر ہندوﺅں اور ہندوﺅں کے اندر نچلی ذاتوں کو الگ کرنے کیلئے چلائی گئی کثیر جہت مہم کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں کی حالت بگڑ چکی ہے۔ اس مہم کے شکار مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ جین اور دلت ہندو ہیں۔ اس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی دس ریاستوں اترپردیش، آندھرا پردیش، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات اور کرناٹک میں مذہبی آزادی کو شدید خطرات ہیں۔ مودی ہو یا بپن راوت درحقیقت ان کی بغل میں ہندو ازم جبکہ منہ میں سیکولر ازم ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ عبادت، تعلیم، کاروبار اور روز گار ہر معاملے میں مذہبی تعصب کا نشانہ بنے بھارتی مسلمان کیا بھارتی سیکولر ازم کے ڈھول کا پول نہیں کھول رہے؟ یاد رکھیں کہ سرجیکل سٹرائیک کے سپنے اور ڈرون حملوں کے خواب بپن راوت کے لئے عذاب کے سانچے میں ڈھل سکتے ہیں۔ تاریکیاں جتنی بھی گہری ہوں محض روشنی کی ایک کرن کی مار ہوتی ہیں۔ سناٹے کو کچلنے کیلئے ایک زناٹے دار طمانچے ہی کی تو ضرورت ہوتی ہے۔ بپن راوت کی حرکات و سکنات مجھے مجبور کر رہی ہیں کہ اردو زبان اور ادب کو ایک نئی کہاوت ہدیہ کر دوں ”بپن کی دھمکیاں اور گیدڑ کی بھبکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں“۔
(کالم نگارقومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved