تازہ تر ین

دسمبر کے زخم

محمد فاروق عزمی….جواں عزم
دسمبر کے آتے ہی میں دکھی ہو جاتا ہوں گلابی سردیوں کا یہ موسم کئی زخم تازہ کر دیتا ہے ۔یادوں کے نوکیلے پنچے دل کی نازک رگوں کو اپنے بے رحم ہاتھوں سے مسلنے لگتے ہیں۔ 22دسمبر 2006ءکو میرے والد صاحب اس دارِفانی سے کوچ کر گئے میں نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد ان کی وفات تک انہیں زندگی میں صرف دو بار روتے دیکھا ایک جس دن میرے تایا ابا فوت ہوئے اور دو سرے 16دسمبر 1971ءکو جب ریڈیو پاکستان لاہور سے سقوط ڈھاکہ کی خبر نشر ہوئی۔ میں چھوٹا تھا اور ابا جی کے پاس بیٹھا ہوا تھا ابا جی نے شیو بنانے کیلئے چہرے پر صابن لگا لیا تھا یہ خبر سنتے ہی اُنہوںنے تولیہ سے صابن پونچھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے میں سمجھ نہ پایا کہ ہوا کیا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارا ایک بازو کٹ گیا۔ہائے ہمارا ایک بازو کٹ گیا اس ظالم دسمبر نے ایک زخم اور لگایا 16دسمبر 2014ءکو سانحہ آرمی پبلک سکول رونما ہوا پاکستان پر گویا ایک قیامت ِ صغریٰ گزر گئی 1994ءمیں اسی دسمبر کی 26تاریخ کو پروین شاکر ایک حادثے میں خالقِ حقیقی سے جا ملیںلہٰذا دسمبر کی یہ سرد اور ٹھنڈی ہوائیں سارے زخم تازہ کر دیتی ہیں۔
دل کی چوٹوں نے کہیں چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تمہیں یاد کیا
سقوط ڈھاکہ کے وقت شباب و کباب کی رسیا قیادت برسرِ اقتدار تھی حکمران جب عیاشیوں اور خر مستیوں میں مبتلا ہو جائیں تو دشمن کو کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ کی ایک خاتون سے دوستی بہت مشہور ہوئی جسے لوگ جنرل رانی کہتے تھے اصل نام کلیم اختر عرف رانی تھا جنرل یحییٰ کے فیصلے و ہی صادر کرتی تھی۔ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ قائد اعظم کی رحلت کے بعد پاکستان میں ہمیشہ قیادت کا فقدان رہا جتنے بھی حکمران آئے وہ فہم و فراست ،غیرت و حمیت اور عقل و دانش سے عاری دکھائی دئیے۔ 71ءکی جنگ کے ابتدائی ایام تھے پاکستان ائیر فورس کے شاہین ہندو بنیے پر جھپٹنے کیلئے طیاروںمیں بیٹھ چکے تھے اور ٹیک آف کرنے کے احکامات کے منتظر تھے اچانک اعلیٰ کمان کی طرف سے حکم ملا صدر محترم تھوڑی دیر میں یہاں آنے والے ہیںوہ خود تمام پائلٹوں کو ضروری ہدایات دیں گے چنانچہ تمام پائلٹ طیاروں سے اتر کر صدر صاحب کا انتظار کرنے لگے کافی وقت گزر جانے کے بعد صدر صاحب تشریف لائے تو تمام افسران یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ وہ ملک جو حالتِ جنگ میں ہے اور چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے اُس کا سربراہ نشے میں دھت ہے جس سے نہ اپنے قدم سنبھالے جا رہے ہیں اور نہ ہی لب و لہجے پر کنٹرول ہے صدرنے اپنے جنگجوو¿ں سے بھارت پر ٹوٹ پڑنے کا کہا اور زور دار مُکا بھی فضا میں لہرایا لیکن ساتھ ہی وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے ۔ یہ ہماری عسکری تاریخ کا بد ترین واقعہ تھا اس زمانے میں جب جنگ اپنے عروج پر تھی ایک روز پاکستان مسلم لیگ کے صدر نور الامین جنگی صورتِ حال پر بات چیت کیلئے ایوان صدر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اعلیٰ افسران شراب و شباب کی محفل میں مدہوش خرمستیوںمیں مصروف ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں اگر چہ اُنہوںنے اس موقع پر اس ”عیاش گروہ“کو شرم دلانے کی کوشش کی لیکن انہیں یہ کہہ کر رخصت کر دیاگیا ”ہم سب سنبھال لیںگے“تم فکر نہ کرو 71ءکی جنگ میںہماری شکست کی ایک بڑی وجہ ہماری قیادت کایہی رویہ تھا جس کا ہمارے دشمنوں نے خوب فائدہ اُٹھایا اور ہم پستیوںمیںاُترتے چلے گئے حتیٰ کہ اپنا ایک بازو گنوا بیٹھے۔
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ امم کیا ہے
شمشیرو سناں اول طاوس و رباب و آخر
دشمن اپنی چالیں چلتا رہا بالآخر اس نے مشرقی پاکستان میں نفرت کی فصل کاشت کر دی بنگالیوں کو مغربی پاکستان کے خلاف کرنے اور ان سے بد ظن کرکے مکتی باہنی کی شکل میں مشرقی پاکستان میں خون کی ہولی کھیلی گئی ۔قتل و غارت اورلوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا ،عزتیں تار تار ہوئیں اور سارا الزام پاکستان کی مسلح افواج کے سر دھر دیا گیا۔حکمران اپنے اقتدار کی خاطر نفرتوں کو ہوا دیتے رہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے ایک بازو سے محروم ہو گئے ۔
آج کی نئی نسل کو پتا ہی نہیں کہ پاکستان کے دو صوبے تھے،ایک مشرقی پاکستان اور دوسرا مغربی پاکستان ‘وہ سنہرا روپہلاسرسبز و شاداب مشرقی پاکستان جسے آج بھی بنگلہ دیش کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے جو پٹ سن اور چاول کی پیدا وار کا مرکز تھا جہاں آج بھی پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ بستے ہیں جو اپنے دل میں پاکستان کا درد رکھتے ہیں جہاں آج نوے نوے سال کے بوڑھوں کو پاکستان سے وفاداری کے جرم میں پھانسیاں دی جا رہی ہیںوہ خوبصور ت خطہ¿ جہاںآبشاریں گیت گاتی تھیں ،جس کے ندی نالوںاور دریاو¿ں پر برستی بارشیںقدرت کے حسن کا شہکار تھیں ،لیکن چند غداروں اور ضمیر فروشوں نے دشمن سے مل کر نفرت کے بیج بوئے۔ان نفرتوںکا ذمہ دار کون ہے کیا کیا سازشیں تھیں کون دشمن کا مہرہ بنا کون بھارت کی گود میں بیٹھ کر اپنے ہم وطنوں اور اپنی دھرتی ماں سے غداری کرتا رہا 16 دسمبر کا سانحہ صدیوں کا خون کر گیا اسلام کی تاریخ میں ایسی ذلت ایسی رسوائی کبھی نہ ہوئی تھی جوانوں کا ہتھیار ڈالنا آج بھی خون کے آنسورُلاتا ہے سیّد ضمیر جعفری نے ایک نظم لکھی تھی جسے” مثنوی شیر خان “ کا نام دیا تھا اس نظم کا ایک بند آپ بھی پڑھئیے۔
نیازی نے ”روڑا“ کو باچشمِ تَر
کیا پیش جب اپنا ریوالور
تو اک پل میں صدیوں کا خوں ہو گیا
سر پاک پرچم نگوں ہو گیا
اس پرچم کی سر بلندی کیلئے جذبہ ایمانی اور غیرت و حمیت کی ضرورت تھی محبتوں اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت تھی دشمن آج و ہی کھیل بلوچستان میں کھیل رہا ہے بلوچ محب و طن قوم ہیںلیکن حق تلفی کے احساس کو دشمن ہوا دیتا ہے راکھ میں دبی چنگاریا ں سلگ اُٹھتی ہیںضرورت ہے کہ محبتوں کی فصل کاشت کی جائے دوستی اور مروت کے پھول کھلائے جائیں ایک دوسرے کے حقوق تسلم کئے جائےں یہاں نہ کوئی بلوچی ہے نہ سندھی نہ پٹھان اور نہ پنجابی ہم سب پاکستانی ہیںپاکستان ہماری پہچان ہے پاکستان ہے تو ہم ہیں۔
سقوط ڈھاکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت امریکا اور اسرائیل کی مکرو سازشوں کا شاخسانہ تھا لیکن اس کی ایک بڑی وجہ حکمرانوں کی عیاشیاں بھی تھیں یہ تاریخِ پاکستان کا ایسا باب ہے جو رہتی دنیا تک ہمیں ملول و افسردہ کرتا رہے گا ،عروج و زوال کی تاریخیںبہت لکھی گئیںاور شاید لکھی جاتی رہیں گی مگر ہر ایک کی نوعیت اور پس منظر جدا ہے سقوط ڈھاکہ کے پس منظر میں جو باتیں ،جو ماحول اور افراد ہیں وہ کہیں اور نظر نہیں آتے گھر کے چراغ گھر جلاتے آئے ہیںمگر وہ آگ اتنی آنچ نہیں دیتی جتنی یہ آگ دے گئی یہ کیسی آگ تھی جس نے جسم و جاں کو ہی نہیں روح تک کو جھلسا دیا ،قلب و ذہن کو جلایا تاریخ کی درخشندگی کو مٹایا صدیوں کی تابناکی کو ختم کر دیا ۔
کلمہ طیبہ کے نعرے اور اسلام کی بنیاد پر حاصل کیے گئے اس ملک میں شراب بیچنے پر پابندی کا بل مسترد کر دیا جاتا ہے ایسی خبریں پڑھ کر دل دکھتا ہے ہم آج بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھ رہے مجھ جیسے لوگ جنہوں نے اپنے بزرگوں کو پاکستان کے دو لخت ہونے پر پھو ٹ پھوٹ کر روتے دیکھا ہو گا آج تو شاید کسی کو اس سانحہ کا اتنا دکھ بھی نہ ہو جتنا کسی کو جیب کٹ جانے پر ہوتا ہے۔
کسی قوم پر ایسی ساعت نہ آئے
کہ بچوں کے لب پر ہنسی سُوکھ جائے
نہ رکتا تھا جو سیل یَم رک گیا
یہ سر اور پیشِ بُتاں جھک گیا
یہ جانباز لشکر نہ کھاتا شکست
مگر تھا قیادت کا کردار پست
عزائم تو بےدار سینوں تھے
مگر سانپ بھی آستینوں میں تھے
”میان“ میں ہو تلوار یا بے نیام
ہزیمت ہے دل ہار جانے کا نام
نگوں سر ہوئے زک اُٹھائے بغیر
سپر ڈال دی ،مات کھائے بغیر
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved