تازہ تر ین

میں نے تو سب حساب جاں برسرعام رکھ دیا

انجینئر افتخار چودھری ….باعث افتخار
18 دسمبر ہر سال آتا ہے اور ہر سال مجھے بہت سے اور لوگوں کی طرح دکھی کر دیتا ہے‘ اے پی ایس کے بچوں کا دکھ شامل ہونے کے بعد یہ دن اب پہلے سے بھی زیادہ غمگین کر دیتا ہے۔ اس روز یوم شہدائے اے پی ایس اور یوم شہدائے مشرقی پاکستان کی یاد میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتاہے۔امسال کا یوم دسمبر پنڈی آرٹس کونسل میں بیگم یاسمین فاروقی کے زیر انتظام ایک اجلاس میں شرکت کر کے منایا۔ مہمان خاص اسٹیشن کمانڈر بریگیڈئر ندیم شہزاد تھے نظامت آغا اعزاز جعفری نے کی چیئرمین آر ڈی اے عارف عباسی نے خطاب بھی کیا ۔ننھے منے اسکولوں کے بچے جب ٹیبلو پیش کر رہے تھے جس انداز سے انہوں نے 2014ءدسمبر کی منظر کشی کی اس نے سب کو رلا دیا۔چیئرمین پی ایچ اے میرے ساتھ تھے ہمارے اس نوجوان سابق ایم پی اے نے پنجاب اسمبلی میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اللہ آصف محمود اور عارف دونوں کو کامیا بی دے ۔
دسمبر1971ءمیں اس وقت پندرہ سال کا تھا۔دسمبر کی طویل سرد راتوںمیں خود سے سلوائی وردی اور گلے میں سیٹی لٹکائے باغبانپورے گجرانوالہ کی گلیوں میں پھرتا۔رات کو شکر گڑھ کی جانب سے آنے والے مہاجرین کی ٹرالیوں میں سے سامان اٹھاتے اور ان کی مدد کرتے یہ رضا کار قومی جذبے سے سر شار تھے۔1965ءکی جنگ کو گزرے چند سال ہی ہوئے تھے۔بابا ابرا ہیم شیخ سے ہم جنگ کے بارے میں ماہرانہ تبصرہ مانگتے وہ چوک میں اپنی دکان میں بیٹھ کر ہمیں بتاتے کہ ہماری فوجیں توی کے پل کے پاس پہنچ چکی ہیں۔ہم بابا جی سے پوچھتے توی جموں سے کتنا دور ہے ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ توی کا پل کراس کرنے کے بعد جموں آ جاتا ہے۔میں بہت سوال کیا کرتا تھا کہا چا چا جی کیا اس رات ہماری فوجیں توی پار کر جائیں گی وہ کہتے یہ گھنٹے دو گھنٹے کی مار ہے۔ رات سویا سونی کے ریڈیوسے میں سننا چاہتا تھا کہ ہماری فوجوں نے توی پار کر لیا ہے وہ دشمن کو شکست دے کر جموں شہر میں داخل ہو گئیں ہیں۔لیکن افسوس یہ خبر نہ سن سکا۔مغربی پاکستان میں جنگ تین دسمبر کو شروع ہوئی قیصر ہند قلعے کو فتح کر لیا گیا تھا یہ قلعہ جنرل مجید ملک کی قیادت میں فتح ہوا۔اس دسمبر کی سیاہ راتوں میں دوستوں کے ساتھ مل کر دن میں شہری دفاع کی تربیت حاصل کرتے شام کو کھانا کھا کر گلیوں میں نکل جاتے کہیں لائٹ جل رہی ہو تو گھر والوں سے اپیل کرتے کہ جنگ میں آپ کی جانب سے کوئی چھوٹی سی غلطی ملک کا بڑا نقصان کر سکتی ہے۔یہ جنگ ہوئی کیوں ؟یہ سوال آج کی نسل ہم سب سے پوچھتی ہے؟میں تو اس ہولناک دن کو یاد کر کے اب بھی اداس ہو جاتا ہوں۔اس روز آپا یاسمین فاروقی اور نوجوان احمد کی دعوت تھی وہ اس 16 دسمبر کو شہدائے اے پی ایس کے نام سے منانا چاہتے تھے۔میں نے کہا اس دن شہدائے مشرقی پاکستان کو بھی یاد کیجئے۔میں اس 16دسمبر کے سیاہ دن کو یاد کرتا ہوں تو دل دہل کے رہ جاتا ہے۔بے جی میری وردی استری کر کے رکھی ۔کوئلے والی استری کو سنبھال کر کہنے لگیں بیٹا تمہاری وردی تیار ہے۔میں بلک بلک کے رو پڑا اور کہا بے جی یہ وردی اب رہنے دیں ہم ہار چکے ہیں پاکستان کے مشرقی بازو پر ہندوستانی فوجوں نے قبضہ کر لیا ہے۔میری سادہ ماں اس لئے پریشان ہو گئیں کہ اس کا پاکستان پر فدا ہونے والا بیٹا غمگین ہے۔میں گھر سے مسجد مدنی چوک کی طرف بڑھا ۔ڈاکٹر شمس دین کی دکان پر آل انڈیا ریڈیو چل رہا تھا مکیش کی آواز میں گانے کی آواز میرے پردہ سماعت کو پھاڑ رہی تھی۔آج کسی کی ہار ہوئی ہے اور کسی کی جیت رے ‘گاﺅ خوشی کے گیت رے‘ جھوم جھوم کے۔۔میرا جی چاہا کہ اس ریڈیو کو توڑ دوں لیکن یہ بھی ممکن نہ تھا۔بھینس کا چارہ لانا میری ذمہ داری تھی نہ میں نے کھانا کھایا اور نہ ہی میری بھینس نے۔
پاکستان کے ٹوٹنے کی ابتداءکا ذکر کہاں سے کروں۔بنگالیوں کا پاکستان بنانے میں بڑا کردار تھا۔ان کی جد وجہد بھی عظیم تھی۔ادھر مغربی پاکستان میں آزادی کی لڑائی بھی زور سے لڑی گئی مگر وہاں زور شور سے معرکہ ہوا۔کہتے ہیں مجیب الرحمن جو بنگلہ بندو بنا وہ اپنے سائکل پر پاکستان کا پرچم لہرا کر نکلا تھا۔پھر راستے میں کیا ہوا اس کی جھلک اس کالم میں دیکھ لیجئے گا۔آئےے سچ بولیں ۔پاکستان بننے کے بعد جب پاکستان کی سرکاری زبان اردو قرار دی گئی تو بنگالیوں کو اس وقت احساس ہوا کہ ہم اس وفاق میں انگریزوں کی غلامی کے بعد مغربی پاکستانیوں کے غلام ہو گئے ہیں۔بنگالی زبان کوئی بانجھ زبان نہ تھی۔اس زبان میں ادب ثقافت کی آمیزش تھی۔ ان سے ان کی زبان چھین لی گئی۔مشرقی پاکستان ایک ہزار میل دور تھا۔اسے نظرےے کی رسی سے باندھنے کی کوشش کی گئی لیکن افسوس یہ ہے کہ اسلامی نظرئے کی روح کو قتل کیا گیا۔بنگالیوں کی غلط اردو اور ان کی سیاہ رنگت کو مزحیہ عنوان دے دیا گیا۔ان کے پستہ قد اور اردو کے انداز تکلم پر لطیفے بنا دئےے گئے۔وہ ملک جو اسلام کے نام پر بنا تھا اسے زبان کے نام پر توڑا جا رہا تھا۔یہ اس لئے نہیں کہ بنگلہ زبان بولنے والوں نے کوئی غلط اقدام اٹھایا´بلکہ مجھے کہنے دیجےے کہ اردو بولنے والوں نے ان کی حق تلفی کی۔ان پر اپنا کلچر نافذ کرنے کا جرم کیا۔نفرتوں کو مہمیز دینے میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے ان بھارت نواز ہندﺅں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے ظلم کی داستانوں کے عنوان سے جھوٹے افسانے گھڑے۔بنگالی خواتین پر جنسی حملوں کی جھوٹی داستانیں گڑیں۔بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا یہ سب کچھ فراڈ تھا جھوٹ تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی لیگ انتخابات جیت چکی تھی۔لیکن اس میں یہ بات شامل کر لیجئے کے مشرقی پاکستان میں انتخابات خونی تھے۔ انتخابات سے پہلے جماعت اسلامی کا جلسہ الٹا دیا گیا تھا۔مغربی پاکستان سے جانے والے لیڈران کو قدم نہیں جمانے دیا جا رہا تھا۔جال جالو آگن جالو کے نعرے بھی لگائے گئے۔ستر کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 300نشستوں میںسے عوامی مسلم لیگ کو161 نشستیں مل چکی تھیں۔صوبہ مشرقی پاکستان میں 310صوبائی نشستوں میں عوامی لیگ 298 نشستیں جیت چکی تھیں اس نے قومی اسمبلی کے لئے ایک کروڑ انتیس لاکھ سینتیس ہزار ایک سو باسٹھ ووٹ حاصل کئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان سے اکسٹھ لاکھ ارتالیس ہزار نو سو تئیس ووٹ حاصل کئے۔مغربی پاکستان سے پیپلز پارٹی کو اکیاسی نشستیں ملیں وہ سندھ اور پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے کونسل مسلم لیگ،قیوم لیگ،جماعت اسلامی،جمعیت العلمائے اسلام،جمعیت علماءپاکستان کو بھی اسمبلی میں نشستیں ملیں۔
بھٹو نے یحییٰ خان کو شیشے میں اتار لیا اس نے ذوالفقار علی بھٹو کو آئینے میں اتارا المرتضے لاڑکانے میں یحییٰ خان خود گئے۔اور کہنے والے کہتے ہیں اگر لاڑکانے کے لان میں برگد کے درخت کو زبان ملے تو وہ بتائے گا کہ اسی کے سائے میں پاکستان کو توڑنے کا پلان بنا۔اس پر بہت لکھا جا چکا ہے لیکن میں نے جو دیکھا اور سمجھا اس کی بات کر رہا ہوں۔پاکستان کو توڑنے میں اگر میری بات سنی اور سمجھی جائے تو وہ ایک ٹرائکا کا کام ہے جو یحییٰ خان،بھٹو،اور مجیب پر مشتمل ہے۔پاکستان توڑنے میں چوتھا کردار اندرا گاندھی کا ہے۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ چاروں کا انجام عبرت ناک ہوا۔یحییٰ خان اور اور اس کا کتا ہارلے سٹریٹ کے کسی گھر میں گمنامی کی موت مرے،بھٹو کو پھانسی ہوئی،مجیب اور اس کا خاندان بے دردی سے قتل کر دئے گئے یہ انجام تھا پاکستان کے قاتلوں گا۔
16 دسمبر کے اس سیاہ دن کو یاد کرتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔بھٹو نے ٹوٹے ہوئے پاکستان کا اقتتدار سنبھالا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں پولینڈ کی قرار داد کو جب پھاڑا گیا تو اسی وقت پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے۔میں نے اپنی آنکھوں سے وہ اخبار دیکھا جس کی سرخی تھی ادھر تم ادھر ہم۔ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کو بدنام کرنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا۔جنرل ٹکا خان جو بعد میں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے انہوں نے بندے نہیں زمین چاہئے کے نام پر جو کچھ کیا اس کا بھرنہ آپ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی پر نہیں ڈال سکتے۔جنرل نیازی نے سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ اس نے ہتھیار ڈالے۔لیکن میں اپنے قاری کو بتانا چاہتا ہوں۔قیدی نوے ہزار نہیں تھے۔یہ چھتیس ہزار تھے ان کے اہل خانہ اور ایسٹ پاکستان رائفلز کی تعداد ڈال کر انہیں نوے ہزار بتایا گیا۔شکست شرمناک ہوتی ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کچھ بھی ہو وہ ایک ایسے شخص کی رپورٹ تھی جو فوج سے کسی وجہ سے ناراض تھا۔
میں سمجھتا ہوں حقائق کو نئے سرے سے جانچنا ضروری ہے۔مجیب غدار تھا وہ اگرتلہ سازش کیس کا مجرم تھا جو ساٹھ کی دہائی میں پکڑی گئی تھی۔میاں نواز شریف صرف بغض فوج میں مجیب کو ہیرو بنا رہے ہیں۔ایسی کوئی حقیقت نہیں ہے مجیب اور بھٹو اور تیسرا لالچی جرنیل یحییٰ یہ سب برابر کے مجرم ہیں اور چوتھی بیورو کریسی جس نے مشرقی پاکستان کو ہمیشہ بوجھ سمجھا۔ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ہم نے اکہتر کی جنگ میں ساتھ دینے والے بہاریوں کو اکیلا چھوڑ دیا ہم نے پھانسیوں پر جھولتے لوگوں کو جماعت اسلامی کے بندے سمجھا اور ہم ایک بار پھر اسی جرم میں مبتلاہیں‘ میں نے گلگت بلتستان،بلوچستان،سندھ کے دیہی علاقے، جنوبی پنجاب،ہزارہ کے پی کے میں وہی زیادتیاں شروع کر رکھی ہیں۔لوگوں کے دلوں پر پٹی باندھئے۔قومی وسائل پسماندہ لوگوں اور علاقوں پر خرچ کریں۔نئے صوبے بنائیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہوں گا کہ قومی اداروں کی تذلیل نہ کریں۔میں کیا لکھا کیسا لکھا دوستو اس موقع پر شہدائے مشرقی پاکستان اور پشاور کو لکھے دیتا ہوں وہ پہلا زخم بھارت کی مدد سے کیا گیا اور دوسرا بھی اسی کی جانب سے۔باغبانپورے کی گلی چودھری برخوردار کا لمبا تڑنگا سیٹیاں بجاتا،بتی بند کرو جی کی آواز لگاتے اس افتخار نے آج آپ سے دکھ بانٹا ہے ۔عرض مدعا یہ ہے کہ اس پاکستان کو بچا لو۔یہ اب بھی کشمیر،فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا خواب ہے امید ہے ۔دوستو دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا ۔پاکستان زندہ باد۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved