تازہ تر ین

دو قومی نظریہ۔ زندہ جاوید حقیقت1

الطاف حسن قریشی….خصوصی مضمون
16دسمبر 1971ءہماری تاریخ کا ایک انتہائی دل فگار دن ہے جب مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا اور اس کی فوجیں ڈھاکے تک پہنچ گئی تھیں۔ لیفٹیننٹ جنرل اے کے نیازی کو بھارتی کمانڈر اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ نریندر مودی نے گزشتہ سال اِس امر کا بڑے فخر سے انکشاف کیا کہ ہم سالہا سال سے مکتی باہنی کی تشکیل اور فوجی تربیت میں مشغول اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے میدان تیار کرتے رہے۔ اِس اعترافِ جرم کے بعد سلامتی کونسل کو پاکستان کے خلاف طاقت استعمال کرنے پر جارح بھارت کے خلاف مقدمہ چلانا چاہئے تھا، مگر اس کی آنکھیں بند رہیں۔ وہ تو اِن مظالم پر بھی مہر بہ لب ہے جو بھارت کی افواج ان جواں ہمت کشمیریوں پر ڈھا رہی ہے جنہوں نے حقِ خودارادیت کا پرچم اٹھا رکھا ہے اور اِس عظیم نصب العین کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ یہ حق انہیں سلامتی کونسل نے طویل بحث و تمحیص کے بعد جنوری 1949 میں دیا تھا، مگر وہ اپنی قرارداد پر بھارت سے عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث علاقائی اور عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
سقوطِ مشرقی پاکستان کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے فاتحانہ انداز میں کہا تھا کہ ہم نے اپنی آٹھ سو سالہ غلامی کا مسلمانوں سے انتقام لے لیا ہے اور دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ہمیشہ کے لئے ڈبو دیا ہے۔ ان کی اِس لاف زنی کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آیا کیونکہ بنگلہ دیش کے عوام نے بھارت کے اندر ضم ہونے سے انکار کرتے ہوئے اپنا تشخص قائم رکھا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان سے علیحدگی کا عمل جن اندوہناک واقعات پر منتج ہوا، ان سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہت کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ علاوہ ازیں ان میں خوفناک دراڑیں ان غلط اعدادوشمار نے بھی ڈال دی تھیں جو بھارتی پریس اور بھارتی سیاست دانوں نے پاکستانی فوج کے مظالم کے بارے میں گھڑ لئے تھے۔ خود شیخ مجیب الرحمن نے کسی تحقیق کے بغیر ڈھاکہ پہنچتے ہی یہ بیان داغ دیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں تیس لاکھ سے زیادہ بنگالی ہلاک ہوئے اورلاکھوں خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں۔ اب تو بنگالی محققین کی مستند تصانیف منظرِ عام پر آ چکی ہیں جن میں برسوں کی کاوش کے بعد یہ حقائق جمع کئے گئے ہیں کہ ایک سال پر محیط خانہ جنگی میں صرف چند سو لوگ مارے گئے اور خواتین کی آبروریزی کے قصے زیادہ تر افسانوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروپیگنڈے کا غبار بیٹھ جانے کے بعد بنگلہ دیش میں کروڑوں عوام بھارت کی جعل سازیوں سے پوری طرح واقف ہو چکے ہیں اور پاکستان سے کٹ جانے کا دکھ ان کی روحوں میں گاہے گاہے دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی پاکستان اور بھارت کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں، تو بنگلہ دیش میں پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگتے ہیں جس سے ان کے درمیان پائے جانے والے گہرے تاریخی رشتوں کا برملا اظہار ہوتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے انگریزوں اور ہندوو¿ں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی تھی، بلکہ یہ کہنا زیادہ حقیقت کے قریب ہو گا کہ سیاسی اور فکری جدوجہد کا آغاز مشرقی بنگال سے ہوا اور آل انڈیا مسلم لیگ کی داغ بیل ڈھاکہ میں دسمبر 1906 میں ڈالی گئی۔
 پاکستان14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آیا، تو اس کے مغربی اور مشرقی بازوو¿ں کے درمیان ہزار میل سے زائد کا جغرافیائی فاصلہ حائل تھا۔ مشرقی پاکستان کو چاروں طرف سے بھارت نے گھیر رکھا تھا۔ اِن غیرمعمولی حالات میں سب سے اہم ضرورت پاکستان کے حکمران اور سرکاری حکام کی سیاسی حکمتِ عملی اور منصفانہ طرزِعمل سے فاصلے کم کرنے کی تھی، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ بھارت مشرقی پاکستان کے سر پر بیٹھا ہوا آئے دن مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریاں پیدا کرنے کے لئے نئے نئے فتنے اٹھاتا رہتا۔ بنگلہ زبان میں جو لٹریچر دستیاب تھا، اس میں نذرالاسلام کے سوا زیادہ تر غیرمسلم شاعروں اور نثر نگاروں کی تخلیقات غالب تھیں۔ شاعرِ مشرق حضرت اقبال کی شاعری کے بنگلہ زبان میں ترجمے ہونا شروع ہوئے، مگر وہ طلبہ تک اِس لئے نہ پہنچ سکے کہ انہیں تعلیم دینے والے اساتذہ خاصی بڑی تعداد میں غیرمسلم بنگالی تھے، تاہم پورے مشرقی پاکستان میں دینی مدارس کا ایک جال بچھا ہوا تھا جن میں تدریس کا سلسلہ اردو زبان میں جاری رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اضافہ ہوا جن میں بنگلہ قومیت کا پرچار ہونے لگا۔ اس کے برعکس مسلم قومیت کا تصور اجاگر کرنے اور بنگلہ زبان میں اسلامی تعلیمات کو جنگی بنیادوں پر فروغ دینے کی ضرورت تھی، لیکن ہمارے منصوبہ سازوں کو اِن بنیادی معاملات پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں تھی جبکہ ہمارے سیاست دان چھوٹے چھوٹے مفادات کے پیچھے دوڑتے اور سول حکام نوآبادیاتی حکمرانی کے مزے لوٹتے رہے۔
اِن تمام باتوں کے باجود مشرقی پاکستان میں یہ احساسِ تفاخر پایا جاتا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے شہری ہیں، ان کی فوج کا دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتا ہے اور وہ بھارت کے مقابلے میں ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر ابھرتے جا رہے ہیں۔ اِس احساسِ تفاخر کو قائم رکھنے اور قومی یک جہتی کو پروان چڑھانے کے لئے ہر سطح پر ایسے اقدامات لازم تھے جو معاشرے میں برابری اور اقتدار میں مو¿ ثر شراکت کا احساس دلاتے رہیں۔ 1954میں وزیراعظم محمد علی بوگرا کی قیادت میں دستور تیار ہوا جسے دستور ساز اسمبلی نے منظور بھی کر لیا اور یہ طے پایا کہ قائداعظم کے یومِ ولادت کی مناسبت سے اسے 25 دسمبر کو نافذ کر دیا جائے گا۔ وہ ہر اعتبار سے حددرجہ متوازن اور شہریوں کے حقوق کا محافظ دستور تھا، مگر گورنر جنرل ملک غلام محمد نے سول اور ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ سے آئین ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔ چار سال بعد صدرا سکندر مرزا نے 1956ءکا دستور چاک کر کے ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا جس کے بطن سے صدارتی نظام نے جنم لیا۔ بنیادی جمہوریت کی بنیاد پر فیلڈ مارشل ایوب خاں صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے 1962ءمیں جو دستور نافذ کیا، اس نے مشرقی پاکستان کو عملًا مغربی پاکستان کی کالونی بنا دیا۔ جنرل یحییٰ خاں نے 25مارچ 1969ءکو زمامِ حکومت سنبھالی، تو ایک ایسا لیگل فریم آرڈر نافذ کیا جس کی رو سے قومی اسمبلی میں مشرقی پاکستان کو اکثریت حاصل ہو گئی۔ اب مشرقی پاکستان کے ارکانِ اسمبلی اپنی اکثریت سے آئین منظور کر سکتے تھے اور قانون بھی بنا سکتے تھے۔ 1970 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی دو کے سوا تمام نشستیں جیت لیں اور وہ اس پوزیشن میں آ گئے کہ اپنی مرضی کا دستور منظور کر لیں۔ انتخابی مہم کے دوران شیخ صاحب نے بدترین فسطائیت کا مظاہرہ کیا اور کسی حریف سیاسی جماعت کو جلسہ کرنے نہیں دیا۔ ان کے احکام پر صوبائی انتظامیہ بے چون وچرا عمل کر رہی تھی۔ اِس ابھرتی ہوئی صورتِ حال میں ان عناصر کے حوصلے جواب دینے لگے جو مسلم قومیت کے زبردست حامی اور پاکستان کی وحدت کے علمبردار تھے۔ مشرقی پاکستان کے گورنر ایڈمرل احسن اور مارشل لاءایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب خاں نے جی ایچ کیو سے باربار اِس امر کی اجازت چاہی کہ شیخ مجیب الرحمن کو حدود میں رکھنے کے لئے طاقت استعمال کی جائے، مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ایک سال کی طویل انتخابی مہم کے نتیجے میں عوامی لیگ سیاسی منظر نامے پر حاوی ہو گئی۔ (جاری ہے)
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved