تازہ تر ین

میری دھرتی کے ہیرے موتی

خدا یار خان چنڑ …. بہاولپور سے
دنیامیں فن اوراسکی قدرکی تاریخ جتنی پرانی ہے اسکی ناقدری اورفنکارکی زبوں حالی کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے عجیب المیہ ہے کہ ہمیشہ فنکارکوشدیدمزاحمت کاسامنا رہتاہے اس کی وجہ شایدیہ ہے کہ فنکارنئی بات کہتاہے جس سے زمانے کے ذہنوں میں موجودبوسیدہ بتوں پرایک ضرب کاری لگتی ہے جودنیاکوہرگزپسندنہیں‘ یہ توفن کی طاقت ہے جس میں اس قدرجان ہے کہ اپناوجودمنواہی لیتی ہے ۔دنیائے فن میں کئی ایسے نام گزرے ہیں جواپنے فن میں اوجِ ثریاپراوردرحقیقت ایک خستہ مکان کی کوکھ میں تنکوں کی چھت تلے بھوک سے ایڑیاں رگڑرہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں کہاں آبِ زم زم کاکنواں پھوٹتاہے؟اوربالآخروہ بھوک سے دم توڑدیتا ہے لیکن ہم پرایک بڑاقرض چھوڑجاتاہے جس کی بھریائی ممکن نہیں ۔لیکن دنیامیں ایک جشن کاسماں ہوتاہے ہرطرف اعترافِ فن کی باتیں ،فنکارکے نام شامیں اورراتیں ….یوں لگتاہے منہ چڑایاجا رہاہو۔
کیا اسی لمحہ کاانتظارتھا؟؟؟ کیازندہ قومیں اپنے محسنوں کے ساتھ ایساسلوک کرتی ہیں ؟یہ دنیامکافاتِ عمل کی جگہ ہے یہ کوئی قرض نہیں چھوڑتی بلکہ برابرحساب لیتی ہے ۔پھرتاریخ گواہ ہے ایسی قومیں جن حالات اورمصائب کاسامناکرتی ہیں الامان الحفیظ…. کیا ہمارا حساب نہیں ہوگا؟سقراط کوزہرکاپیالہ پینے پرمجبورکس نے کیا؟ کیااس کاقصورصرف سچ بولناتھا؟شاعرکسی بھی معاشرے کی حساس ترین اکائی کانام ہے جومعاشرے کی آنکھیں ، کان اوردماغ کاکام کرتے ہیں اورمعاشرے کودرست راہ دکھاکراس کاقبلہ درست کرتے ہیں جومعاشرے پرایک بڑااحسان ہے ۔ پچھلے دنوں ایک دوست سے عظیم انقلابی شاعرحبیب جالب کی قبر پکی کروانے کاواقعہ سناتودل خون کے آنسوروپڑاکہ وہ حبیب جالب جس کے اشعارسابق وزیراعلیٰ شہبازشریف اورکئی سیاست دان بڑے شوق سے اپنے جلسے جلوسوں میں گایااورگنگنایاکرتے ہیں اس کی قبرکوچندہ اکٹھاکر کے پکا کروانا پڑا….صدرایوب خان کے دورمیں جب بنگال کے قومی شاعرنذرالاسلام کوصدارتی ایوارڈ دیاگیاتویہ بتایاگیاکہ ان کاایک مجسمہ شہرمیں آویزاں کیاجائے گاجس پرقریباً تین لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ جس پرنذرالاسلام بولے کہ میں خوداس مجسمے کی جگہ جاکروہاں کھڑے ہونے کوتیارہوں خداراآپ اس پرآنے والی لاگت مجھے دے دیجئے تاکہ میرے گھر کا ٹھنڈا چولہاجل سکے۔۔۔
موجودہ دورمیں فیض فریدی دنیائے ادب کاایک بڑانام تصورکیاجاتاہے وہ جدیدسرائیکی غزل کے بانی تھے اورکینسرکی بیماری سے لڑتے رہے لیکن اپنے علاج کی طاقت نہیںرکھتے تھے ۔آخرکارایڑیاںرگڑرگڑ کر زندگی ہارگیا کیاان کوعلاج معالجہ فراہم کرناحکومت کی اولین ذمہ داری نہیں تھی؟میری دھرتی کاعظیم فنکار استادفقیرابھگت جوکہ ہردورمیں مقبول اورزندہ رہیں گے ۔ایک کچے مکان میں دم توڑگئے اورہم پرقرض چھوڑ گئے ۔ایسے ہی عظیم صوفی گائیک پٹھانے خان جوروہی سے تعلق رکھتاتھاکیسے کسمپرسی کی زندگی گزارتاچل بساجسے بعدازاں تمغئہ امتیازسے بھی نوازاگیا۔اس کے نام پرکئی سیمیناربھی منعقدکئے گئے اورکروڑوں کمائے اوراڑائے گئے پر فقیرابھگت ایک ڈسپرین کی گولی تک کوترستارہا۔(عمربھرسنگ زنی کرتے رہے اہل وطن۔ یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزازکے ساتھ)میری ہی دھرتی کاایک بڑانام جوکسی تعارف کامحتاج نہیں اورہرخاص و عام میں یکسرمقبول ہے شاکرشجاع آبادی جوایک عظیم اوردکھی انسانیت اورپاکستان کے لئے درددل رکھنے والاشاعرہے‘ آج یہ دنیاہرجلوس میں ان کے اشعار پڑھتی ہے سیاست دان ان کاکلام پڑھ پڑھ کراپنی سیاست چمکاتے ہیں‘ حقیقت میں وہ ایک مہلک مرض سے لڑرہے ہیں۔ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ اپنا علاج کراسکیں ۔جہاں ان کے نام پرسیمیناروں اورمشاعروں پرکروڑوں خرچ کئے جاتے ہیں وہاں وہ شاکرایک ڈسپرین کی گولی کوترس رہاہے شاکرکاایک ڈوہڑاملاحظہ فرمائیں۔
میکوں تیڈا ڈکھ تیکو میڈا ڈکھ
میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
جتھاں ظلم دی ہے پئی بھاہ بلدی
میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
جتھاں اج انصاف داناں کئینی
میکوں پورے پاکستان دا ڈکھ
ایسے ہی میرے دوست ارسلان جتوئی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ صادق آبادسے تعلق رکھنے والاایک شاعربشیردیوانہ جوکہ 6,7کتابوں کامنصف ہے آج کسمپرسی کی زندگی گزاررہاہے اورکسی حکومتی امدادکامنتظرہے ۔بہاول پورکے شاعردیوانہ بلوچ جن کی کئی کتابیں چھپ کرمارکیٹ میں آچکی ہیں اب بھی کئی کتابوں کاموادچھپنے کے لئے ان کے پاس پڑاہے۔ اب وسائل نہ ہونے کی وجہ سے شاید یہ کبھی نہ چھپ سکیں ۔حکومت کوایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہئے ان کی انقلابی شاعری آنے والی نسلوں تک پہنچنی چاہئے ۔اسی طرح حاصل پورکانعت گوشاعرساجدامین کالکھاہواکلام ہرمحفل نعت میں پڑھاجاتاہے لیکن غربت کی وجہ سے اپناکلام چھپوانے کی سکت نہیں رکھتا پچھلے دنوں میں اسے صدارتی ایوارڈ سے نوازاگیا بس ساری زندگی اسی ایوارڈ کودیکھ دیکھ کرجیتارہے گایہ بیچارہ ایوارڈ کوکیاکرے گا اس کاتوگھرکاچولہاجلانے کے لئے سارادن مشقت محنت مزدوری میں گزر جاتا ہے ہوسکتاہے ایوارڈ لینے کے لئے اسلام آبادکاکرایہ بھی قرض لے کرگیاہو۔بھاڑ میں جائے ایسے ایوارڈ جومقروض بنادے ۔نہ جانے کب کوئی انقلاب آناہے۔یہاں تویہ حال ہے انقلاب لانے والے خوداپنی زندگی میں نہ لاسکے ۔امام انقلاب کہلانے والے مشہورتحریک ِ ریشمی رومال کے بانی جناب مولاناعبیداللہ سندھی جن کی خدمات کوروس،جرمنی سمیت کئی ممالک تسلیم کرتے ہیں اورپوری دنیامیں کئی روڈاورکئی پارک ان کے نام سے منسوب ہیں ۔آج خانپورمیں اپنی آخری آرام گاہ میں لیٹے یہ سوچ رہے ہیں کہ خودان کی قوم کب ان کی صلاحیت کااعتراف کرتے ہوئے ایک مرلہ زمین ان کے نام سے منسوب کرے گی۔ خدااس قوم کواپنے محسنوں کی خدمات کویادرکھنے اوران کااکرام کرنانصیب فرمائے (آمین)
پاکستان کے اندرانسان کی زندگی میں کوئی قدرنہیں ہوتی وہ بیچارہ ساری زندگی مشکل ترین حالات میں زندگی گزارجاتاہے اس کے مرنے کے بعدخوب اس کے نام کی شامیں منائی جاتی ہیں سیمینارکروائے جاتے ہیں ان چیزوں کافائدہ نہ توان کی روح کوہوتاہے اورنہ ہی ان کے خاندان کوہوتاہے ۔پیسہ کمانے والے ان فنکاروں ،شاعروں کے نام کمالیتے ہیں دراصل شاعر،فنکار،لکھاری حضرات اکثرغریب ہوتے ہیں یہ درویش صفت انسان ہوتے ہیں یہ تھوڑے میں ہی صبرکرکے اللہ کاشکراداکرتے زندگی گزارکرچلے جاتے ہیں ۔مگریہ ہمیشہ ہمیشہ امرہوجاتے ہیں ان کومرتے مرتے بھی صدیاں لگ جاتی ہیں ۔ان کافن ان کی تحریریں ان کو زندہ رکھتی ہیں حکومت پاکستان کوچاہئے غریب فنکاروں ،شاعروں ،لکھاریوں پرخاص توجہ دی جائے یہ لوگ ملک کاسرمایہ ہوتے ہیں اگریہ لوگ نہ ہوں توزندگی بے رونق نظرآتی ہے ان لوگوں کی وجہ سے رونقیں بہاریں ہیں یہ بیچارے خوداندرسے خزاں کاشکارہوتے ہیں جس طرح یہ معاشرے میں خوشیاں بکھیرتے ہیں معاشرے پران کابھی حق ہوتاہے معاشرے کوبھی ان کاخیال رکھناچاہئے ان لوگوں کی قدرکرنی چاہئے ۔یہ لوگ دھرتی کے ہیرے اورموتی ہوتے ہیں زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کویادرکھتی ہیں ۔
(کالم نگارچیئر مین تحریک بحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved