تازہ تر ین

نوکر شاہی کی نازک مزاجی

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق دِل کی بات
نوکر شاہی کیوں پھٹ پڑی ہے اس کی وجہ عوام کو معلوم ہونی چاہئے اور اس نئے پاکستان میں پرانی عادتیں اب متروک ہوتی جارہی ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہیں اور اُن کی سر زنش اور تحسین دونوں کا پیمانہ کابینہ کو معلوم ہے۔ وزراءصبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک کام کر رہے ہیں اور یہ انداز اور یہ اسلوب حکمرانی نوکر شاہی کے نازک دماغ پر بڑی گراں گزر رہی ہے جس کی وجہ سے وہ عمرانی حکومت کے دشمن جاں بن گئے ہیں ۔ 70 سال سے وہ جس عادت کے عادی تھے اس عادت سے چھٹکارہ آہستہ آہستہ ہورہا ہے اور وہ اپنی اس خُو کے ہاتھوں مجبور اور مقہور ہوتے جارہے ہیں۔ اُن کے اختیارات پر بھی حکومت کی کدال چل رہی ہے اور وزراءکو بھی معلوم ہوچکا ہے کہ ہم اپنی کارکردگی نہیں دکھائیں گے تو وزارت کے قلمدان سے جائیں گے۔ اس لئے شب و روز بدل گئے ہیں ۔ وہ انداز بدل گئے ہیں جو نوکر شاہی کے اطوار تھے اور دروازے کھول کر بیٹھنا پڑے گا اور سائل کی بات سننی پڑے گی ۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں اور رائے دیں کہ کیا عمران خاں یہ کام جو کر رہا ہے بُرا کر رہا ہے یا اچھا کر رہا ہے؟ پاکستان کی تاریخ میں یہ کام کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد دیانت، امانت ، صداقت اور شجاعت ہم نے عملاً دیکھی ہے تو موجودہ وزیراعظم عمران خاں نے دکھائی ہے۔ پورا قبضہ گروپ اور قرضہ گروپ عمران خان کے اسلوب حکمرانی کی زد پر ہے اور قانون کی رو سے وہ جو کر رہا ہے نئے پاکستان کی بہتری اور عوام کی اصلاح اور ملت کی فلاح کے لئے ‘وہ نہ تو چھٹی کر رہا ہے اور نہ ہی ایک دقیقہ بھی فروگذاشت کر رہا ہے ۔ ہیلمٹ پہننے کے فائدے عمران خان کو نہیں عوام کو ہیں اور جو لوگ 60 ہزار کا موٹر سائیکل خرید سکتے ہیں وہ دوہزار کا ہیلمٹ بھی خریدیں بلکہ آج تو عدلیہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ نئی موٹر سائیکل خریدنے کے ساتھ ہیلمٹ خریدنا ضروری ہے ۔ یہ اُن کی زندگی کے تحفظ کا ضامن ہے ۔ اس وقت جنرل ہسپتال کی رپورٹ آگئی ہے کہ ہیلمٹ پہننے کے عمل سے ہمارے پاس روڈ ایکسیڈنٹ میں کمی واقع ہوگئی ہے ۔ 70 فیصد سر کی چوٹیں کم ہوگئی ہیں۔ یہ وہ چوٹیں تھیں جو انسان کا حافظہ ختم کرکے سالوں انہیں اپنے زیر علاج رکھتے تھے اور اُن کی ساری زندگی معذور ہوجاتی تھی۔ اب یہ کام بھی عمران خان پر تنقید کے تیروں کی برسات اور گالیوں کی بوچھاڑ میں وہ کر رہے ہیں جو موٹر سائیکل نہیں چلاتے بلکہ فضا میں سفر کرتے ہیں اور زمین پر تو وہ پاﺅں بھی نہیں رکھتے اُن کو درد ہے غریب عوام کا اور اس درد میں وہ پاگل ہوگئے ہیں۔
زرداری صاحب جن کا دوسرا گھر وہ بڑے فخر سے فرماتے ہیں کہ جیل خانہ میرا دوسرا گھر ہے اور میں بہت جلد اپنے دوسرے گھر جانا چاہتا ہوں۔ اگر مجھے جیل بھیجنا ہے تو جلدی کرو میں ڈرتا نہیں ہوںاور نہ ہی خوفزدہ ہوں۔ پس دیوار زنداںمیں مجھے اطمینان رہتا ہے۔ موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے زرداری صاحب کہتے ہیں کہ یہ انڈر 16 ٹیم ہے اور یہ حکومت کرنا جانتے ہی نہیں ہیں۔ان کا خیال ہے کہ حکومت بلے سے نہیں تیروں سے چلتی ہے یا شیروں سے چلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا جینا دو بھر ہوگیا تھا ۔ تیروں اور شیروں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہو گئی تھی۔ عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے اور وہ عمرانی حکومت کو وقت دینا چاہتی ہے۔تاکہ اُن کی آنے والی نسلیں قبضہ گروپ اور قرضہ گروپ کے شکنجے سے آزاد رہیں اور آزادی کی نعمت سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ اس لئے نوکر شاہی کو بھی اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں کہ یہ کیسا وزیر اعظم آیا ہے جو ہمارے اوپر حکم چلاتا ہے اس سے پہلے تو ایسا نہ تھا۔ وزیر اعظم کو ہم سے بنا کر رکھنی پڑتی تھی اور ہماری پیشانیوں پرپڑے ہوئے بَل قانون بن جاتے تھے۔ وزیر اعظم کو قانون بدلنے پڑتے تھے۔ ہماری باتیں ہی حرف آخر ٹھہرتی تھیں۔70 سال کے بعد یہ کیا ہوگیا ہے کہ جو کہتا ہے کر گزرتا ہے۔ پہلی حکومت قانون میں یوٹرن لیتی تھی ۔ یہ ببانگ دہل یوٹرن لے لیتا ہے اور اس پر تنقید کی اندھا دھند گولیاں بھی چلائی جاتی ہیں مگر وہ اپنی دھن کا پکا اور عوام کا سچا راہنما ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے عوام کے لئے مشکلات پیدا کیں اور اُن گرہوں کو دانتوں سے کھول رہا ہے۔ جس حکومت کو تجارتی خسارہ ورثے میں ملا ہو اور سابق حکمران کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے دور میں ڈالر کی قیمت نہیں بڑھتی تھی اب کرنسی کی قدر کم ہوگئی ہے ۔
اُن کی زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
جو تیرگی میرے نامہ سیاہ میں ہے
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved