تازہ تر ین

امریکی ڈالرکازوال؟

اعجاز شیخ……..معیشت نامہ
عالمی سطح پر ڈالر کی بالادستی کو ختم کرنے کے لےے یورپین ممالک نے تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔دیگر ممالک بھی اس حقیقت سے آشناہو گئے ہیں کہ محض کاغذی نو ٹ ( ڈالر ) کی وجہ سے انہیں تجارتی لین دین کے لےے ہمہ وقت ڈالر کے دباﺅ کا سامنا ہے ۔ حال ہی میں چین اور پاکستان نے ایک معاہدہ کے مطا بق اپنی اپنی کرنسیوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کا معاہدہ کیا ہے ۔ جس سے چین کو اور بالخصوص پا کستان کو باہمی تجارت کے لےے ڈالر کی ضرورت نہیں رہے گی ۔یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ تیل پر انحصار کرنے والے ممالک میں سب سے زیادہ امریکہ کو اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لےے حرارت کی ضرورت ہے ۔ تیل ہی ایک ذریعہ ہے جس سے اس کی بقا وابستہ ہے ۔لہٰذا اس کے حصول کے لےے کبھی وہ افغانستان اور کبھی عراق پر تسلط جمانے کی کوشش میں سر گرداں ہے ۔ امریکہ سمیت دنیا میں تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ نئے دریافت شدہ ذخائر سے کہیں زیادہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق موجودہ تیل کے ذخائر آئندہ پچیس سے پچاس سال تک ختم ہوجائیں گے ۔ جس کے نتیجے میں ” ڈالر “ سے وابستہ ممالک معاشی انحطاط کا شکار ہو جائیں گے ۔ جنگ عظیم دوم کے بعد اب تک ڈالرز سے تیل کی ادائیگیاں وابستہ ہیں ۔ مگر ”وینزویلا “جس کا شمار تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں تیسرے نمبر پر آتا ہے نے اپنے تیل کے سسٹم کو بارٹر سسٹم کے تحت کر لیا ہے ۔ یعنی پہلے وہ تیل کے بدلے ڈالرز میں وصولیاں کر تا تھا ۔ مگر اب وہ تیل کے عوض وہ اشیاءجن کی اُسے ضرورت ہو گی وہ امریکہ سمیت دوسرے ممالک سے لے گا ۔ شمالی کو ریانے بھی ڈالر سے چند سال قبل علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ جس کی بڑی وجہ امریکی حکومت کو5 ارب ڈالر سے زائد بجٹ کے خسارے کا سامنا کر نا پڑا تھا۔ اقتصادی ماہرین کے بقول امریکہ کی توسیع پسندی اُسے مزید خسارے سے دوچار کر دے گی ۔ امریکہ بھی جا نتا ہے کہ آئندہ سالوں میں اُسے مزید خسارے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس سے بچاﺅ کے لےے اس نے Investment میں شرح سود پر نمایا ں اضافہ کیا ہے۔جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاروں نے فی الحال ڈالر کو وقتی طور پر سنبھالا دیا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ڈالرز کے مقابلے میں یو رو کرنسی کے ریٹ میں بہت نمایا ں اضافے کا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کی رائے کے مطابق آئندہ دنوں میں امریکی معیشت کا دارومدار صرف بیرونی سرمایہ کا روں کے رحم و کرم پر رہ جائے گا ۔ حقیقت میں امریکہ کی توسیع پسندی اور ضرورت سے زیادہ جنگی اخراجات امریکی ڈالر کے زوال کا باعث بنے گا۔ آج کل معاشی اور اقتصادی زبان میں Regionalization کی اصطلا ح عام استعمال ہو رہی ہے ۔ اس سے مراد کئی ممالک کا آپس میں اکٹھے ہو کر کام کرنے کا ہے کیونکہ فی زمانہ کسی ممالک کے لےے ممکن نہیں رہا کہ وہ تن تنہا دنیا کی منڈیوں سے اپنے تجارتی لین دین کو بیلنس رکھ سکے ۔ جس کی مثال ایشیائی پیسفک اکنامک کونسل، عرب لیگ اور سارک کے معاہدے ہمارے لےے باعث تقلید ہیں ۔ آئندہ سالوں میں جو ملک بھی علا قائی منڈیوں سے وابستہ نہیں رہیں گے وہ اقتصادی لحاظ سے پیچھے رہ جائیں گے ۔ اس لےے یہ نہا یت ضروری ہے کہ چین اور پاکستان نے حال ہی میں جو معاہدہ کیا ہے کہ باہمی تجارت کے لےے دونوں ملک اپنی اپنی کرنسیوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھو لیں گے ۔جس سے پا کستان کی کرنسی قدرے ڈالر کے دباﺅ سے فی الحال دور رہے گی ۔ ایک خطہ میںبسنے والے ممالک کو بھی ایک اقتصادی بلا ک بنا لینا چاہےے اور ایک مشترکہ کرنسی کے قیام کو عمل میں لا یا جائے ۔ حیران کن بات ہے کہ مسلم آبادی دنیا کا 25% فیصد ہے اور تمام ممالک کی تجارت تقریباً 23 ہزار ارب ڈالر کے قریب ہے ۔جس میں مسلم ممالک کی تجارت کا حصہ صرف 16 ارب ڈالر ہے ۔ا س میں سے سب سے زیادہ امیر اور تیل پیدا کرنے والے مسلم ممالک شامل ہیں ۔ جن کی کمائی دوسرے یورپی ممالک سے کہیں زیادہ ہے ۔ لہٰذا مسلم ممالک پٹرول سے ملنے والے ڈالروں کے عوض ہر چیز کو اپنی دہلیز پر موجود پانے کے خواہش مند ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہر چیز ان کو میسر ہے تو وہ تجارتی سر گرمیوں میں کیونکر اضافہ کریں مگر یہ حقیقت اٹل ہے کہ تیل کے ذخائر ، جن کا استعمال بے دریغ ہو رہا ہے ‘ کی پیداوار آئندہ سالوں میں کم سے کم ہو تی جا رہی ہے جس کی بدولت تیل پیدا کرنے والے اور پیٹرو ڈالر کے عوض ڈالر وصول کرنے والے ممالک کو کڑے وقت کا سامنا ہو گا۔ لہٰذا ایک وقت ایسا بھی آجائے گا کہ ڈالر بھی گراﺅنڈ ہو جائے گا ۔
اقتصادی ماہرین باقی خطوں میں جن خدشات کا ذکر کر تے ہیں ان میں جنو بی ایشیاءکے ممالک بھی شامل ہیں ۔ اگر اس خطے کے رہنے والوں نے آئندہ وقتوں کے لےے اقتصادی بلاک کے قیام کو یقینی نہ بنایا تو یہ خطہ بھی معاشی میدان میں تن تنہا رہ جائے گا ۔ لہٰذا اس بحران سے نمٹنے کے لےے جنو بی ایشیاءکے ممالک کو بھی ایک اقتصادی بلاک کے قیام کا عمل فوراً شروع کر دینا چاہےے ۔ سارک اور دیگر کانفرنسوں میں اس امر کی طرف زور دیا گیا ہے ۔ مگر بھارت کی دورخہ پالیسی سے ہم ایسا نہیںکر پا ئے ۔ بھارت نے ہمیشہ سے برتری کے زور پر ہمسایہ ممالک کو نیچا دیکھانے کی پا لیسی جا ری رکھی ہوئی ہے ۔ حالانکہ اقتصادی بلاک بننے کی وجہ سے زیادہ فائدہ اسی کے حصے میں آتا ہے ۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کو جلد علم ہو جائے گاکہ وہ تن تنہا کبھی بھی معاشی میدان میں ترقی نہیں کر سکتا ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مقابلہ چین جیسی نہایت مضبوط اور مر بوط ٹریڈ سے وابستہ قوم سے ہے ۔ لہٰذا جنو بی ایشیاءکے تمام ممالک کو اقتصادی بلاک بنانے کے لےے حکمت جلد تیار کر لینی چاہےے ورنہ معاشی عفریت کے سیلا ب کے سامنے کوئی ملک بھی ٹھہر نہیں پائے گا اور ان ممالک میں بسنے والی عوام کبھی خوشحال زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے ۔
(ماہرمعاشیات اورمعاشی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved