تازہ تر ین

مڈ ٹرم الیکشن کی بازگشت

کامران گورائیہ
سیاست کے ایوانوں ، کافی شاپس، روزمرہ کی بیٹھکیں یا پبلک ٹرانسپورٹ کا سفر ہو ان دنوں ملک کے کونے کونے میں مڈٹرم الیکشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سیاسی و سماجی ، تجارتی و صنعتی اور ریاستی اداروں کے گلی کوچوں اور گھروں کی کھڑکیوں سے قبل از وقت مڈٹرم الیکشن پر بھرپور انداز سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔ حتیٰ کہ حکومتیں بنانے اور گرانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی قوتوں میں بھی اب اس حقیقت پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے کہ موجودہ حکومت کی نا اہلیوں کے سبب قومی امور چلانا دشوار ہو چکا ہے اور حالات تیزی سے مڈٹرم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مڈٹرم الیکشن پر بات چیت کا سلسلہ عام عوام تک ہی محدود نہیں بلکہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اپنے اقتدار کے 100 روز مکمل ہونے کے بعد صحافیوں سے ملاقات کے دوران اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں ۔ صحافیوں سے ملاقات کے اسی موقع پر وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں شامل وزرا کی کارکردگی سے کچھ زیادہ مطمئن نہیں ہیں اور وہ اپنی کابینہ کے ہر رکن سے 100 فیصد کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔ صحافیوں سے کی گئی اس ملاقات میں قبل از وقت الیکشن اور وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ پر بات چیت کرنے کے کچھ روز بعد ہی وزیراعظم عمران خان نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ جو وزیر پرفارم نہیں کرے گا اسے گھر بھیج دیا جائے گا۔ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے قبل از وقت انتخابات اور وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی بات کو سیاسی و سماجی حلقوں میں انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور ان افواہوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے کہ ملک کے حالات مڈٹرم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کے پہلے 100 دنوں کی کارکردگی کے بعد جو مو¿قف اختیار کیے ہوئے ہیں اور جس طرح سے ان کے بیانات میں تیزی سے یوٹرن آ رہے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھی اس بات کو مزیدتقویت حاصل ہو رہی ہے کہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان خود وزیراعظم عمران خان کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔
ایک سیاسی حقیقت یہ بھی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قبل از وقت انتخابات یا مڈٹرم الیکشن سے متعلق کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا بلکہ ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے قائدین نے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر حکومت کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بارہا کہا کہ حکومت آگے بڑھے ، قانون سازی کرے ، ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسیاں بنائے، تمام اپوزیشن جماعتیں ساتھ کھڑی ہوں گی مگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اب تک کیے جانے والے تمام اقدامات میں بے یقینی کا عنصر نمایاں رہا۔ وزیراعظم عمران خان کے غیر ملکی دورے ہوں یا پاکستان ہی میں رہ کر آئی ایف ایم کے وفد سے مذاکرات کے نتائج مخالفین کی جانب سے انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں منی بجٹ پیش کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے جبکہ حکومت نے اپنے ابتدائی ایام میں غریب عوام پر نت نئے ٹیکسز عائد کر کے انہیں سطح غربت کی لکیر سے بھی نیچے دھکیل دیا ہے۔ عوام میں شدید بے چینی اور تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔اس صورتحال عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والے عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی غریب عوام کی فلاح وبہبودکیلئے فیصلے اور عملی اقدامات ابھی تک کیوں نہیںاٹھائے ہیں ۔ غریب عوام جو پہلے ہی غربت ، مہنگائی ، بیروزگاری اور دہشت گردی سمیت بہت سے دیگر ہوشر با مسائل کی چکی میں برسہا برس سے پس رہے ہیں وہ مزید پسماندگی کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے گذشتہ چند روز کے دوران عوامی اجتماعات میں دیئے گئے بیانات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ آئندہ کے سیاسی منظر نامہ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اسی لیے وہ ناصرف حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ ان کا ہدف حکومت بنانے اور گرانے والے بہت سے ریاستی ادارے بھی ہیں۔ آصف علی زرداری پیشگوئی کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پائے گی اور اگلے چند ماہ میں مڈٹرم الیکشن کا الارم بجا دیا جائے گا۔
ملک کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات میں ایک کمزور طرز حکومت کی قطعی طور پر گنجائش نہیں ہے مگر حکومتیں بنانے اور گرانے والی قوتیں موجودہ حکومت کو کامیابی دلانے کے لیے پر عزم ہیں۔ یہی قوتیں ایک اور منصوبہ بھی بنائے ہوئے ہیں جو کچھ اس طرح سے ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اور اہم رہنماﺅں کو کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت جیلوں میں ڈال دیا جائے ۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماں کی سیاسی پیش قدمی کو ہر قیمت پر روکنے کا پلان بھی ہے۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ اگر کسی بھی ناگہانی صورتحال کے پیش نظر مڈٹرم الیکشن کرانا لازمی ہوئے تو پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کو مڈٹرم الیکشن سے باہر رکھنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں اور پاکستان تحریک انصاف کو مڈٹرم الیکشن کی صورت میں بھارتی اکثریت سے کامیاب کروایا جائے تاکہ وہ چھوٹی بڑی دیگر سیاسی جماعتوں سے بلیک میل ہوئے بغیر مکمل آزادی کے ساتھ حکومت بنائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ حکومت بنانے اور گرانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی قوتوں نے ان کے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے ۔ آصف علی زرداری کے بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا قطعی طور پر مشکل نہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ واقعی ہاتھ ہو چکا ہے ۔ سیاسی شعور اور سوجھ بوجھ رکھنے والے حلقے اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات سے لیکر عام انتخابات اور پاکستان تحریک انصاف کی مرکز اور ملک کے تینوں صوبوں میں حکومت بنانے میں آصف علی زرداری نے حسب ہدایت معاونت کی اور اپنا کردار بے حد ذمہ داری سے ادا کیا مگر اب وہ جان چکے ہیں کہ انہیں سیاسی منظر نامہ سے آﺅٹ کرنے کے لیے مائنس زرداری فارمولا پر کام شروع ہو چکا ہے ۔ مائنس زرداری فارمولا کے تحت بلاول بھٹو اور ان کے والد آصف علی زرداری کے درمیان اختلافات کی بے بنیاد خبریں بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان تلخ حقائق کی روشنی میں آصف علی زرداری نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور جارحانہ انداز اختیار کر لیا ہے۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ انہیں جیل جانے سے ڈر نہیں لگتا بلکہ جیل کو وہ اپنا دوسرا گھر بھی قرار دے چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بارے میں بات کی جائے تو پچھلے 2 ماہ کے دوران ان کا رویہ معنی خیز ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس کچھ اہم معلومات ہیں یا ان کی سیاسی بصیرت ہے کہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ شریف خاندان پر مقدمات بنانے کا جو نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے اس کا مقصد پوری شریف فیملی کو سیاسی میدان سے ہمیشہ کے لیے باہر کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ میاں نواز شریف شاید یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے سپرد کرنے کی منصوبہ سازی کی جا رہی ہے ایسا ہی ایک منصوبہ 2018 کے انتخابات سے پہلے ہی تیار کیا گیا تھا جو ان دنوں قابل عمل نہیں تھا مگر اب ایک بار پھر شریف خاندان کو مقدمات میںپھنسا کر جیلوں میں قید کرنے کی منصوبہ سازی ہو رہی ہے اور اس سیاسی جماعت کی قیادت چوہدری نثار علی خان کے سپرد کرنے کا پلان تیار کیا جا رہا ہے ۔اگر شریف خاندان کو پاکستان مسلم لیگ ن سے بے دخل کر دیا جاتا ہے تو دیکھنا ہوگا کہ چوہدری نثار علی خان بطور پارٹی قائد اپنے فیصلے خود کریں گے یا پھر منصوبہ سازوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر کام کرنا قبول کریں گے۔ منصوبہ ساز عوام کا موڈ بھی دیکھ رہے ہیں وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں اسی لیے وہ محتاط انداز اختیار کرنے پر مجبور ہیں ان حالات میں کہ جب ملک گھمبیر صورتحال سے دو چار ہے دعا گو ہوں کہ حکومتیں گرانے اور بنانے میں کردار ادا کرنے والی قوتیں کچھ ایسی منصوبہ سازی کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں جو اس ملک اور یہاں کے عوام کو خوشحالی کے راستے کی جانب گامزن کرنے میں معاون ثابت ہو سکے تاکہ آئندہ پھر کبھی مڈٹرم الیکشن کی نوبت پیدا نہ ہو۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved