تازہ تر ین

دو قومی نظریہ۔ زندہ جاوید حقیقت….2

الطاف حسن قریشی….خصوصی مضمون
1970ءکے انتخابات میں ملک سیاسی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ تقریباً تمام قومی اور صوبائی نشستیں جیت چکی تھی جبکہ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی کو غلبہ حاصل ہو گیا تھا اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کا ایک بھی امیدوار دوسرے صوبے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ دوسری بدقسمتی یہ کہ یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں۔ شیخ مجیب الرحمن، مسٹر بھٹو کو اپنا سب سے بڑا سیاسی دشمن سمجھتے اور یہی معاملہ مسٹر بھٹو کا تھا۔ ان گھمبیر حالات نے سیاسی تصفیے کے امکانات بڑے محدود کر دیئے تھے۔ جنرل آغا یحییٰ خاں یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ دونوں سیاسی لیڈروں کو سبز باغ دکھاتے ہوئے اپنے اقتدار کو طول دے سکیں گے۔ بھارت ایک مدت سے مشرقی پاکستان میں فیصلہ کن مداخلت کی تیاری کر رہا تھا۔ اس نے پاکستانی فوج کو گوریلا جنگ کے ذریعے مفلوج کرنے کے لئے یونیورسٹی کے طلبہ میں کام شروع کر دیا تھا۔ میں سب سے پہلے 1964میں ڈھاکہ گیا اور دورانِ قیام اردو ڈائجسٹ کے قارئین کے علاوہ مجھے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ سے بھی ملنے کا موقع ملا۔ ان کے ایک چھوٹے سے گروپ نے مجھے عشائیے پر دعوت دی۔ ان میں سے دو طالب علم اردو زبان جانتے اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے باقاعدہ قاری تھے۔ اس گروپ نے مغربی پاکستان کے خلاف شکایات کا انبار لگا دیا۔ گفتگو کا یہ سلسلہ دو تین گھنٹوں پر محیط رہا۔ ایک چھوٹے قد کے چاق چوبند طالب علم نے کہا کہ اب ہم ظلم برداشت نہیں کریں گے اور جلد ہی تحریکِ مزاحمت کا آغاز کر دیں گے۔ میں نے پوچھا کہ اس کی کیا شکل ہو گی۔ اس پر وہ نوجوان اٹھ کر چلا گیا، تھوڑی دیر بعد واپس آیا، تو اس کے ہاتھ میں بہت سارے نقشے تھے۔ انہیں اس نے قریب رکھی ہوئی میز پر پھیلاتے ہوئے بتایا کہ ہمارے گروپ نے اہم فوجی تنصیبات کا سراغ لگا لیا ہے۔
میں نے میز پر پھیلے ہوئے نقشے بہت غور سے دیکھے اور میرا سر چکرانے لگا۔ ان میں دریاو¿ں، ریل کی پٹریوں، پلوں، فوجی چھاو¿نیوں اور ان میں اسلحہ خانوں کی تفصیلات درج تھیں اور بھارت سے ملحقہ علاقوں اور فوجی چھاﺅنیوں کے نام بھی درج تھے۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ طلبہ کے مختلف گروپس گوریلا ٹریننگ بھی لے رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم بھارت سے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں مشرقی پاکستان کے مسائل اسلام آباد کے حکمرانوں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا اور ان کے حق میں آواز اٹھاتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا ہمیں آپ سے یہی امید تھی اور اِسی لئے ہم نے آپ کے سامنے اپنا دل کھول کے رکھ دیا۔ واپس آ کر میں نے ”میرا ڈھاکہ“کے عنوان سے مشرقی پاکستان کے احوال قلم بند کئے اور اس واقعے کی طرف بھی ہلکا سا اشارہ کیا جو ڈھاکہ یونیورسٹی میں پیش آیا تھا، مگر اربابِ حکومت نے مجھ سے رابطہ ضروری نہیں سمجھا اور مجھ پر ایوانِ اقتدار کے دروازے بند رکھے۔ میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ بھارت نے 1960کی دہائی ہی میں افواجِ پاکستان کے خلاف نوجوانوں کو مزاحمت کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1971 کے اوائل میں شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ مغربی پاکستان کے لیڈروں کے مذاکرات جاری تھے، تو ایسٹ پاکستان رائفلز جن میں تمام تر بنگالی فوجی شامل تھے، انہوں نے چٹاگانگ میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں، ان کی خواتین اور بچوں کا قتلِ عام کر ڈالا۔ علاوہ ازیں پاکستان پر یقین رکھنے والے شہریوں کو جن میں بنگالی اور غیربنگالی شامل تھے، ان پر تشدد کا عمل ہفتوں جاری رکھا۔ مکتی باہنی کے لوگ انہیںپکڑ کر ریسٹ ہاو¿سز میں لے جاتے اور ان کے بدن سے اذیتیں دے دے کر خون نکالتے۔ مجھے مئی 1971 میں ان ریسٹ ہاو¿سز میں جانے کا موقع ملا۔ تب پاکستانی فوج بغاوت فرو کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی اور ریسٹ ہاو¿سز کے فرش کئی ماہ بعد دھوئے گئے تھے، مگر وہاں ابھی تک فرشوں پر خون کی موٹی تہیںجمی ہوئی تھیں۔ بھارت ایک منصوبے کے تحت پاکستانی فوجوں کو بدنام کرنے اور مشرقی پاکستان کے اندر گوریلا جنگ کی تیاری میں شب و روز مصروف تھا۔ اس دوران ہزاروں بنگالی نوجوان وطن کی حفاظت کے جذبے سے سرشار مردانہ وار اپنی فوج کی مدد کو پہنچے جو البدر اور الشمس کے نام سے منظم کئے گئے تھے۔ انہوں نے قدم قدم پر جاں فروشی کی ناقابلِ فراموش داستانیں رقم کیں۔ اگر بھارت ننگی جارحیت پر نہ اتر آتا، اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں نہ اتار دیتا اور اسلحے کے انبار نہ لگا دیتا، تو مشرقی پاکستان کے عوام داخلی وطن دشمن قوتوں کو شکست سے دوچار کر دیتے اور نئے آئینی انتظامات کے تحت پاکستان اپنا وجود قائم رکھ سکتا تھا۔ بدقسمتی سے اس وقت کے سیاسی بصیرت سے محروم حکمرانوں، مشرقی پاکستان میں فری فار آل انتخابات اور بھارت کی طرف سے ناجائز اور بے رحم طاقت کے استعمال سے بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔
بنگلہ دیش کے عوام اسلام کے رشتے میں آج بھی پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جنرل ارشاد اور خالدہ ضیا کے عہد میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بڑی حد تک معمول کے مطابق تھے جو بھارت کے لئے سخت پریشانی اور تشویش کا باعث بنے ہوئے تھے۔ اسے اس حقیقت سے بھی شدید خوف لاحق تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام کی روح میں دو قومی نظریہ رچا بسا ہے اور یہ ٹوٹا ہوا تارہ کسی وقت بھی مہِ کامل بن سکتا ہے، چنانچہ اس نے اس امکان کو ختم کرنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کر کے شیخ حسینہ واجد کو اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا ہے جسے پاکستان اور اسلام سے بڑی دشمنی ہے اور وہ اس عہد کے تمام نشانات مٹا دینا چاہتی ہے جن میں البدر اور الشمس پاکستان کی سا لمیت کے لئے سر پر کفن باندھ کر نکلے تھے اور حب الوطنی کی ایک لازوال تاریخ رقم کی تھی۔ ظلم کی ایک حد ہوتی ہے اور حسینہ واجد تاریخ کے انتقام سے بچ نہیں سکے گی اور بھارت کو بھی بہت جلد ایک ناقابلِ برداشت صدمہ پہنچنے والا ہے۔ وہاں آرایس ایس حکومتوں کے اندر سرایت کر گئی ہے جو مذہبی جنونیوں کی ایک پرانی تنظیم ہے اور بھارت میں ہندو راج قائم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس نے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ان کی جان، مال اور آبرو محفوظ نہیں جبکہ دلتوں کے گاو¿ں کے گاو¿ں جلا دئیے گئے ہیں۔ یہی وہ حالات تھے جب انیسویں صدی کے نصف سے بیسویں صدی کے نصف تک برصغیر کے مسلمانوں نے دو قومی نظریئے کی بنیاد پر ایک جداگانہ وطن کے لئے سخت جدوجہد کر کے پاکستان حاصل کر کے دم لیا تھا۔
دو قومی نظریے کا باقاعدہ سیاسی اظہار حکیم الامت علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد میں ہوا جو انہوں نے دسمبر 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں دیا تھا۔ اِس خطبے کی بنیاد پر آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک قرارداد کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزاد وطن کے حصول کو اپنا نصب العین قرار دیا، مگر ان دو تاریخی واقعات کے علاوہ مختلف وقتوں میں مسلم زعماءنے تقسیمِ ہند اور مسلم ریاست کے قیام کی سو سے زائد اسکیمیں اور تجاویز پیش کیں جو مسلمانوں کی نفسیات کا ایک ناگزیر حصہ بنتی چلی گئیں۔ پاکستان کے ایک نامور محقق جناب خواجہ رضی حیدر نے اپنی مایہ ناز تصنیف قراردادِ پاکستان میں وہ تمام تجاویز مستند حوالوں سے یکجا کر دی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ دو قومی نظریے کو برصغیر کے مسلمانوں میں کس قدر مقبولیت حاصل تھی اور ان کے تحت الشعور میں کس قدر گہرائی کے ساتھ اتری ہوئی تھی۔ ان زعماءمیں قومی اور ملکی مفکر، دینی رہنما، نامور تخلیق کار، تحریکِ آزادی کے لیڈر ، پورے ہندوستان کے عوامی قائدین اور چوٹی کے اربابِ نظر شامل تھے۔ اختصار کی غرض سے ہم یہاں چند ایک اسمائے گرامی پر اکتفا کریں گے اور وہ سال بھی درج کریں گے جب تجویز پیش کی گئی تھی۔ سر سید احمد خان (1867) جمال الدین افغانی (1879) عبدالحلیم شرر (1890) اکبر الٰہ آبادی (1905) مولانا محمد علی جوہر (1911) خیری برادران (1917) مولانا حسرت موہانی (1921) مولانا عبید اللہ سندھی(1924) مولانا اشرف علی تھانوی (1928)، سر آغا خاں (1928) مرتضی احمد خاں میکش (1928) علامہ محمد اقبال (1930) چودھری رحمت علی (1932) محمد ہاشم گزدار(1937) مولانا ظفر علی خاں (1937) سید ابوالاعلیٰ مودودی (1938) سید علی راشدی (1939) چودھری خلیق الزماں (1939) نواب زادہ لیاقت علی خاں (1939) عبدالستار خاں نیازی (1939) فقیر آف ایپی (1939) راجہ صاحب آف محمود آباد (1939) سر عبداللہ ہارون (1940) آل انڈیا مسلم لیگ (1940)
اِن اکابرین کی تجاویز بڑے پیمانے پر مسلم حلقوں میں سالہا سال تک موضوعِ گفتگو بنی رہیں اور ان کے طرزِ احساس میں راسخ ہوتی گئیں۔ ان میں تقسیمِ ہند کا آہنگ بلند ہوتا گیا اور عظمتِ رفتہ کی بحالی کا شعور گہرا ہوتا گیا۔ انڈین کانگرس ہندوستان میں رام راج قائم کرنے کی تگ و دو کر رہی تھی، جبکہ دعوی یہ کرتی تھی کہ وہ تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے، سرسید احمد خان، ڈاکٹر اقبال اور قائداعظم محمد جناح نے اِس فریب کا پردہ چاک کیا اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کے حصول کو قومی نصب العین قرار دیا۔
علامہ اقبال ہندوستان میں اسلامی ریاست کے قیام کو اسلام کی تمدنی قوت کی حیثیت سے زندہ رکھنے کے لئے ناگزیر سمجھتے تھے اور یہی ان کا تصورِ پاکستان تھا جس کی بنیاد پر وہ ہماری تاریخ میں مصورِ پاکستان کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 23مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت فرماتے ہوئے قراردادِ لاہور کی منظوری کے موقع پر اپنے خطبہ صدارت میں جو کچھ ارشاد فرمایا تھا، وہ اس مکتبہ فکر کو سنجیدہ غوروخوض کی دعوت دیتا ہے جو آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ ہندو اور مسلمان کا رہن سہن ایک جیسا ہے اور ان کی عادات وخصائل میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ قائداعظم نے بڑی صراحت سے فرمایا تھا:
”ہندوو¿ں اور مسلمانوں کا تعلق دو مختلف مذہبی فلسفوں، معاشرتی رواجوں اور روایات سے ہے۔ ان کے درمیان شادیاں ہوتی ہیں نہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں دو ایسی تہذیبوں کے پیرو ہیں جن کی بنیاد متصادم خیالات اور تصورات پر ہے۔ یہ واضح ہے کہ وہ تاریخ اور ہے جس پر ہندوو¿ں کو فخر اور ناز ہے، وہ اور ہے جس پر مسلمان نازاں ہیں اور جس سے ان کے دلوں میں امنگ پیدا ہوتی ہے۔“
ان زریں اقوال کی اساس پر پاکستان وجود میں آیا اور ہندوستان تقسیم ہوا۔ اب اگر اہلِ پاکستان کو اپنی آزادی اور خودمختاری کی حفاظت کرنا اور اسے ایک تمدنی قوت کے طور پر زندہ رکھنا ہے، تو انہیں دو قومی نظریے پر قائم رہنا اور آقائے نامدار حضرت محمد کے ساتھ اپنا رشتہ مستحکم بنانا ہو گا۔ پاکستان کے قیام کے بعد پاکستانی قوم معرضِ وجود میں آ چکی ہے جس میں مسلمان عظیم اکثریت میں ہیں اور اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی ضمانت دستور نے دی ہے۔ عظیم اکثریت کو اپنے عقیدے، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔ (ختم شد)
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved