تازہ تر ین

شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی دینے کی تجویز اہم پیشرفت : ضیا شاہد ، دونوں ملک چاہیں تو عافیہ کا فیصلہ ہو سکتا ہے : سردار آصف ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات ہونا ہی خوشی کی خبر ہے کیونکہ پڑوسی ملک میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان کے لئے بڑی خوشی کی بات ہے۔ پہلے مرحلے پر امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان گفتگو شروع ہوئی وہ ایک دن ہوتی رہی۔ آج دوسشرا دن تھا کہ آج خبر ہے کہ افغان حکومت کا وفد بھی وہاں پہنچ گیا ہے تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ یہ آسان کام نہیں ہے یہ بڑا کٹھن کام ہے کہ یہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں اس لئے کہ طالبان وہ جو ایک مطالبے سے ہر گز دستبردار نہیں ہونا چاہئے وہ کہہ چکے ہیں کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی غیر ملکی نہ رہے دوسری طرف امریکہ پس و پیش کا اظہار کر چکا ہے پہلے ہی اور کہہ چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ فوج ضرور رہنی چاہئے۔ ایک تو اس پر اختلاف ہو سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اشرف غنی کی حکومت جو آج کل افغان حکومت کے صدر ہیں حالانکہ ان کے 80,70 فیصد علاقوں پر طالبان قابض ہیں اور بڑی محدود جگہ پر حکومت کر رہے ہیں ان کی خواہش ہے کہ طالبان سے ایسے مذاکرات ہوں کہ وہ افغانستان میں موجودہ حکومت سے مل کر کوئی حکومت بنانے پر آمادہ ہو جائیں۔ اس نکتے پر ماہرین کی رائے ہے کہ طالبان کے لئے بڑا مشکل ہو گا اگر موجودہ حکومت میں بطور پارٹنر شامل ہوں وہ یہ کہیں گے کہ موجودہ حکومت کو ختم ہونا چاہئے اور نئی حکومت بننی چاہئے۔ مذاکرات سے خطے میں تبدیلی یہ آئے گی کہ پوری نہ سہی کافی بڑی تعداد امریکنوں کو یہاں سے جانا پڑے گا۔ دوسری بات جو وہاں کوئی الیکشن ہوں یا کسی طریقے سے اتفاق رائے سے حکومت بنائی جائے کوئی نئی حکومت میں وہاں بنتے دیکھ رہا ہوں اور اشرف غنی کی اسی طرح کی حکومت کو طالبان شاید قبول نہ کریں۔ پاکستان نے بڑیامید ظاہر کی ہے خاصی طور پر عمران خان نے کہا ہے اور مبارکباد پیش کی مذاکرات شروع ہونے پر اور اس کا کریڈٹ بھی جاتا ہے حکومت پاکستان کو، نہ پاکستان کی وزارت خارجہ، افواج پاکستان کو جو بہت سنجیدہ ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ کسی قسم کی سیٹ اپ بنتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دونوں اطراف ایک دوسرے کو فیس سیونگ کا موقع ضرور دیں گے اور من و عن نہ تو طالبان کی ساری بات مانی جائے گی اور نہ امریکہ کی یا افغانستان میں موجودہ حکومت کی ساری بات مانی جائے گی۔ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مذاکرات کی کامیابی کا انتظار ہے۔ کوئی نیا فارمولا سامنے آئے گا جس میں سبھی کی کوئی نہ کوئی بات رہ جائے گی۔
شیخ رشید نے کہا کہ نوازشریف مریم کے لئے این آر او ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ آصف زرداری کو بلاول کے لئے این آر او میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دوسرا یہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی نسلوں کو تباہ کر لیں گے اس پر گفتگوکرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ نسلوں کی تباہی والی بات زیادہ اہم ہے دراصل وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ اپنی شرائط پر مجبور نہ کریں اور نوازشریف کی صاحبزادی مریم اور دوسری طرف آصف زرداری کے صاحبزادے بلاول بھٹو کوئی نئی سیاست کو لے کر آتے ہیں اور ان کو کامیابی ملتی ہے تو چونکہ یہ دونوں حکومتوں میں نہیں رہے۔ اور ان پر کرپشن کے اس طرح چارجز بھی نہیں ہیں سوائے لندن کیسز ضرور مریم کے خلاف ہیں میں یہ سمجھتا ہوں ایک تو شیخ رشید نے یہ بات کہی ہے اور دوسری طرف یہ انکشاف کیا کہ نوازشریف این آر او میں اپنی بیٹی کو بچانا چاہتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ روزانہ دوسرا دن ہے کہ وہ مقدمہ جو نوازشریف کے خلاف ہے جس میں وہ پیش ہوتے ہیں اس میں کل بھی اخبار نویسوں کی پٹائی کی گئی تھی مسلم لیگ ن کے ورکرز کی طرف سے، آج پھر کی گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ میڈیا پر ہے کہ وہ معافی قبول کرتا ہے۔ میرا خیال ہے اخبار نویس کافی عصے میں ہیں۔ ایک تو اخباری صحافیوں کے مالی معاملات ایسے ہیں اخبارات بند ہو رہے ہیں اور جو لوگ کام کر رہے ہیں ان کو بروقت ادائیگی نہیں ہو رہی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اخبار نویس پہلے ہی اپنی مشکلات کے ساتھ تنگ ہیں اوپر سے ان کو روزانہ ڈوز پڑ جاتی ہے۔ جھاڑو پھرنے سے مطلب یہ ہے کہ اگر آج بھی آپ دیکھیں تو سعد رفیق، ان کے بھائی کے خلاف کیس آ گیا، ان دونوں کے خلاف وعدہ معاف گواہ موجود ہیں جناب شہباز شریف کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے سلسلے میں جو جے آئی ٹی کا قیام بڑی خوفناک خبر ہے اور اب تو کہا جا رہا ہے ٹی وی چینلز بار بار یہ خبر دے رہے ہیں کہ آئندہ دنوں میں ایک بہت بڑی شخصیت گرفتار ہونے والی ہے کہا جاتا ہے کہ کائیٹ فلائنگ کے طور پر ان کا اشارہ جو ہے وہ شہبازشریف کے علاوہ رانا ثناءاللہ کی طرف اور سعد رفیق کی طرف ہے۔ بہرحال لگتا ہے خاص طور پر کہا جا رہا ہے کہ ایک بڑی شخصیت گرفتار ہونے والی ہے۔ اب وہ بڑی شخصیت کون سی ہے۔ سعد رفیق پہلے ہی پکڑے جا چکے ہیں اور شہباز شریف بھی پہلے ہی گرفتار ہیں۔ رہ دے کر رانا ثناءاللہ ہی ہو سکتے ہیں۔ نیب کو عدالت کے اختیارات ہیں آپ کو پتہ ہے کہ میں کورٹس کے بارے میں ریمارکس دینے سے بہت احتیاط کرتا ہوں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر کے اس بیان پر کہ اگر گرفتاریاں اسی طرح ہوتی رہیں تو ہو سکتا ہے کہ اگلا اجلاس اڈیالہ میں ہو۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ الفاظ کی جگت بازی ہے جس طرح سے ہمارے ہاں تھیٹر میں اداکار آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر مسلسل 15,10 منٹ تک ایک دوسرے پر جملوں سے وار کرتے ہیں۔ یہ جگت بازی کہلاتی ہے۔ سیاستدانوں میں جگت بازی کی مہم جاری ہے اس کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔ فروغ نسیم کے بیان پر کہ اگر اپوزیشن ساتھ نہیں دے گی تو پھر آرڈیننس کے ذریعے قانونن سازی کی جائے گی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں اس بات کا احتمال موجود ہےکہ چائنا کے ساتھ معاہدات کی کاپی فراہم کرنے سے مطلب یہی ہے کہ آئی ایم ایف کو تیار کیا جا رہا ہے اور آئی ایم ایف سے ضرور قرضہ لیا جائے گا۔ ایک بڑی تیز خبر جو ابھی تھوڑی دیر پہلے آئی ہے کہ امریکی کانگریس نے کہا ہے کہ ہمیں شکیل آفریدی کو امریکہ کو دے دیں دوسری طرف عافیہ صدیقی جس کو سزا ہوئی ہے پاکستان کے حوالے کر دے۔ جس رینج کے آدمی نے یہ تجویز دی ہے وہ ایشیائی سب کمیٹی کا چیئرمین امریکی کانگریس کا ممبر ہے یہ خود ان کے کانگریس کے ممبر کا کہنا ہے اس طرح سے عمل شروع ہوا ہے اس میں پاکستان نے مثبت رول ادا کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس پر غور شروع ہو گیا ہے کہ ہمیں شکیل آفریدی لے کر عافیہ صدیقی پاکستان کو دے دینی چاہئے اس کا مطلب یہ سیریس بات ہے لگتا ہے اس سلسلے میں کوئی پرپوزل سامنے آنے والی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔ کیونکہ ہم بھی بڑی مشکلات کا شکار ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ پنجاب پولیس کے افسران قانون شکن نکلے ہیں 5 سال میں 2013ءسے 2017ءتک 98 ہزار 482 ملازم وہ جرائم میں ملوث ہیں جس کی تفصیل سامنے آ گئی ہے۔ جس میں 5 سال میں 495 ڈی ایس پیز بھی مقدمات میں ملوث ہیں، انسپکٹر بھی مقدمات میں ملوث ہیں۔ قانون کی پاسداری کروانے والے اتنے بڑے پیمانے پر قانون شکنی میں ملوث ہیں تو ملک کیسے چلے گا۔ پولیس نے رویہ نہ بدلا تو پولیس کے بارے میں عرف عام میں کہا جاتا ہے کہ اسے اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں تو کوئی نئی فورس بنی تو شاید صحیح ہو جائے۔ ورنہ ڈولفن بنا دیں جو مرضی نام دے دیں۔ جب تک پولیس کے لچھن یہی رہیں گے لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے نفرت ہی رہے گی۔ پولیس معاشرے کا مفید شہری بنے اور تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے۔ پولیس اول تو کارروائی کرتی نہیں اور اگر کرتی ہے تو رسمی طور پر کسی کو معطل کر دیا جاتا ہے پھر اس کی انکوائری کرنے والا بھی پولیس والا ہی ہوتا ہے۔ پولیس کے خلاف انکوائری کا فرض رینجرز کو سونپنا چاہئے خاص طور پر قتل اور اس جیسے سنگین و خوفناک جرائمٹ کی انکوائری کسی دوسری فورس کے سپرد کرنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا قصور میں ایک بار پھر بڑا دلحراش واقعہ پیش آیا ہے، کسی دکان کے سامنے ایک غریب آدمی نے اپنی چھوٹی سی دکان سجا لی جس پر اس کی مونچھیں و بھنویں کاٹ کر سَر کے بال مونڈ دیئے، ناک میں نکیل ڈال کر بازاروں میں گھمایا گیا۔ میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں کہ قصور کے لوگوں میں کوئی نقص نظر آتا ہے، کیا جب یہ واقعہ پیش آیا تو اردگرد لوگ دیکھ نہیں رہے تھے۔ اصل مجرم تو خاموش رہنے والے ہیں۔ قصور کے شہریوں سے درخواست ہے کہ اپنے شہر کو ایسے جرائم سے خود پاک کریں، ان کے شہر کے معاملتا درست کرنے کیلئے کوئی دوسرے شہر سے نہیں آئے گا۔
سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی خان نے کہا ہے کہ شکیل آفریدی کو دے کر عافیہ صدیقی کی واپسی ممکن ہے، امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ تو نہیں لیکن مشرف کے دور میں بھی امریکہ کو کچھ لوگ دیے گئے تھے۔ عافیہ، شکیل معاملے میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ مسئلہ عجیب و غریب ہے ہم ایک امریکن خاتون کو لے کر ایک پاکستانی شہری کو دیں، جو دونوں ممالک چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکیل آفریدی کا کیس درست طریقے سے نہیں چلا اس کو ایک انتظامی قسم کی سزا فاٹا میں لے جا کر دی گئی حالانکہ اس کا جرم ایبٹ آباد میں ہوا ہے، ٹرائل فاٹا میں ہوا ہے جہاں پاکستان کے آئین کے مطابق فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک قانونی قباحت ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک انتظامی کورٹ تھی اس طرح ان کو امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کو اپنے قوانین کے حوالے سے دشواری آئے گی۔ دونوں حکومتیں فیصلہ کر لیں تو ہو سکتا ہے۔
نمائندہ خبریں قصور جاوید ملک نے کہا کہ غریب شہری پر وحشیانہ تشدد کا واقعہ دانستہ طور پر پولیس کی کوتاہی و مجرمانہ غفلت کے باعث پیش آیا۔ قصور کے علاقے مصطفی آباد میں یہ واقعہ پیش آیا، ملزمان انتہائی بااثر ہیں، انہیں وہاں کے ایم پی اے کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا واقعہ 15 دسمبر کو پیش آیا تھا، خبریں میں خبر شائع ہونے پر گزشتہ روز مقدمہ درج ہوا۔ پولیس نے متاثرہ شہری کے گھر جا کر روایتی کارروائی کی۔ متاثرہ شہری کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ملزمان کی دکان کے سامنے ایک چھوٹی سی دکان کھول لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 200 سے زائد بچوں سے زیادتی معاملے کی خبر بھی سب سے پہلے خبریں نے دی، غریب شہری پر وحشیانہ تشدد کی خبر کو بھی سب سے پہلے خبریں نے شائع کیا۔ دو واقعات ہیں ایک ہی ایم پی اے ہے جو ملزمان کو سپورٹ کر رہا ہے۔
نمائندہ خبریں شعیب بھٹی نے کہا ہے کہ 2013ءسے 2018ءکے اندر 2 لاکھ 98 ہزار 482 پولیس افسران و ملازمین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ جس میں 9315 ڈی ایس پی، 50 ہزار کے قریب انسپکٹرز 53000 کے قریب سب انسپکٹرز، ایک لاکھ 76 ہزار کانسٹیبلز، 40 ہزار کے قریب ہیڈ کانسٹیبلز ہیں۔ کرپشن میں بھی 9 ہزار 780 کے قریبب بھی پولیس افسران شامل ہیں۔ ایسے پولیس افسران بھی ہیں جنہوں نے انن 5 سالوں کے اندر 495 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا تھا، المیہ یہ ہے کہ آج تک ان میں سے کسی افسر یا ملازم کو سزا نہیں ہوئی، ان کے خلاف ایف آئی آر ضرور درج ہوئیں لیکن کبھی کسی کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved