تازہ تر ین

نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور قصہ قائداعظمؒ پر فلم کا….(2)

ضیا شاہد
میں نے جناب مجید نظامی کی زندگی میں انہیں قائداعظمؒ پر ایک مضبوط اور جامع سوانح عمری شائع کرنے کے علاوہ قائداعظمؒ پر فیچر فلم بنانے کا مشورہ بھی دیا تھا، وفاقی حکومت سے اسکی اجازت لی تھی، فلم پروڈیوسر سے اس کی رجسٹریشن کروائی تھی، امجد اسلام امجد صاحب سے اس کا اسکرپٹ لکھنے کی بات کی تھی، لیکن مجید نظامی صاحب نے یہ کہہ کر وعدہ فردا پر ڈال دیا کہ آپ ہمیں ایک خط لکھیں ، پھر ہم اس پر غور کرینگے ، میں نے کہا جناب ! خط لکھنے کی کیا ضرورت ہے ، آپ کا بورڈ آف گورنرز جب چاہے مجھے طلب کرلے، نہ آپ کے ادارے نے کوئی جامع کتاب شائع کی ہے جو ریسرچ کا نتیجہ ہو اور نہ ہی کوئی فلم یا ٹی وی سیریل بنائی ہے ، یہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو تقاریر سناکر کتنے لوگوں تک بات پہنچا سکتے ہیں، میرے کئی بار توجہ دلانے کے باوجود کچھ بات نہ بنی حالانکہ میں نے اس کے لئے فنڈز مہیا کرنے کی پیشکش کی تھی کہ میں فلاں فلاں صاحبان سے بات کرچکا ہوں جن سے ہم پانچ پانچ کروڑ روپے کنٹریبیوشن لے سکتے ہیں، جناب ایس اےچ ہاشمی ایم ڈی اورئینٹ ایڈورٹائزر بھی میرے ہمراہ تھے۔ ہم نے اس مقصد کیلئے ایک فلم کا ادارہ قائد فاو¿نڈیشن بھی بنایاتھا، مگر نظامی صاحب کے دل کو شاید یہ بات نہیں لگی، یا کوئی اور مجبوری تھی۔ رائل پام کلب کے سابق سربراہ رمضان شیخ کے والد شیخ یوسف صاحب بھی ہمارے شریک کار تھے، دو حصے داروں کا ذمہ کراچی سے ہاشمی صاحب نے اپنے ذمے لےا تھا، پندرہ کروڑ کا سرمایہ کچھ کم تھااور ہمارا تخمینہ تیس کروڑ تھا، جس میں دہلی ، بمبئی، کراچی ، سری نگر اور لندن کے سپاٹ فلم بندی کے علاوہ 1947ءکے مناظر کی عکس بندی بھی شامل تھی، ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ جناب مجید نظامی جن کا نام نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی وجہ سے معروف حیثیت رکھتا ہے‘ کا اعتماد، نگرانی ، حصے داری ہمیں حاصل ہو جائے۔
لیکن
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
قارئین بات ہو رہی تھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی‘ جو میرے خیال میں جامع سوانح عمری لکھنے کے علاوہ فیچر فلم تیار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا۔ یہاں سینکڑوں‘ ہزاروں تصاویر کے حوالہ جات تھے۔ اس کے علاوہ لاکھوں روپے کی کتابیں‘ حوالے‘ تصاویر میں خود بھی جمع کرچکا تھا۔ میں نے قائداعظم کی شکل سے مشابہت والے افراد تلاش کرنے کے لئے روزنامہ جنگ میں ایک مقابلہ بھی کروایا تھا۔ میرے پاس بہت سارے ضروری حوالے بھی تھے کہ کون سے منظر کو کہاں فلمایا جاسکتا ہے۔ لیکن برسوں تک نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے مجھے ہاں کہی نہ ناں۔ حتیٰ کہ مجید نظامی مرحوم نے اپنے آخری دنوں میں بھی مجھے کہا کہ آپ ہمت کریں۔ میں نے کہا کہ جناب آپ کی نگرانی ہی میں یہ کام ہوسکتا ہے۔ مگر وہ خاموش ہوگئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اتنے فضول قسم کے لایعنی اداروں کو چلاتی ہے اور بے کار پیسے ضائع کرتی ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کو مضبوط بنایا جائے‘ اس کے لئے باقاعدہ گرانٹ مقرر کی جائے۔ اسے قائداعظم ثانی اور مسلم لیگ نون کا بغل بچہ بنانے کی بجائے غیر سیاسی فورم بنایا جائے۔ واضح رہے کہ میں نے صدر پرویز مشرف سے دو ملاقاتوں میں تجویز دی تھی کہ لندن میں جناح ہاﺅس کی عمارت خریدلی جائے۔ جو ایک پاکستانی مسٹر خالد بٹ نے حاصل کر کے حکومت پاکستان سے رابطہ بھی کیا تھا۔ مگر بیکن ہاو¿س کے نام پر بے شمار بلڈنگوں کے مالک خورشید قصوری بطور وزیر خارجہ‘ نے یہ کہہ کر ہماری تجویز مسترد کر دی کہ خالد بٹ پیسے بہت مانگتا ہے۔ وہ عمارت اتنے کی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بات سرا سر غلط تھی۔چھوٹی سی بلڈنگ معمولی رقم سے حاصل کی جاسکتی تھی۔ جس کے ایک کمرے میں خالد بٹ نے قائداعظمؒ کا بستر‘ پڑھنے کی میز‘ کرسی اور کپڑوں کی الماری محفوظ کی ہوئی تھی۔ زندہ قومیں اپنے لیڈروں کی زندگی کے ایک ایک لمحے کو محفوظ بناتی ہیں۔ مگر استاد محترم جناب مجید نظامی نے نامعلوم کِن کِن مشکلات سے یہ چھوٹا سا ادارہ بنایا بھی تھا تو اسے زبردست تحقیقی سنٹر بنانے کی بجائے چند باباو¿ں کی جنت بنا دیا گیا تاکہ ان کے دلوں کو تسلی ملتی رہے کہ وہ بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔ میں نے قائداعظمؒ پر ان کی زندگی کے بعض واقعات‘ ”سچا اور کھرا لیڈر“ کی شکل میں جمع کئے۔ خوبصورت طبع کے ساتھ کتاب چھپوائی۔ جس کی افتتاحی تقریب رائل پام ہی میں منعقد ہوئی جس میں حکومت میں آنے سے چند ہفتے قبل اورالیکشن سے پہلے‘ عمران خان نے افتتاحی تقریب کی صدارت کی تھی۔ میں عمران خان سے گزارش کروں گا کہ جس قائداعظمؒ کا نام لیتے ہوئے وہ نہیں تھکتے۔ ان کے نام پر بننے والے ان دونوں اداروں یعنی نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ پر توجہ دیں‘ انہیں تباہی سے بچائیں ورنہ آنے والی تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کا سب سے بہترین مصرف مرحوم مجید نظامی کا یہ آئیڈیا تھا کہ اس کے چھوٹے سے آڈیٹوریم میں علمی اور فکری نشستیں بلائی جائیں۔ سنجیدہ قومی موضوعات پر اہل علم و فکر اپنے خیالات کا اظہار کریں‘ نشست کے آخر میں تمام شرکاءجو جی میں آئے ان سے پوچھ سکیں۔ میں نے خود آبی دہشت گردی سے لے کر کالاباغ ڈیم تک اور سندھ طاس معاہدہ سے لے کر بھارت کی طرف سے ستلج اور راوی کا سو فیصد پانی بند کرنے پر یہاں طویل لیکچرز دئیے ہیں۔ جناب نظامی صاحب کی زندگی میں پہلے فلور پر بنے ہوئے جلسہ گاہ میں بے شمار تقاریب میں تقریریں کی ہیں۔ یہ نشستیں بھی علمی اور قومی جذبات کو تسکین دینے کا باعث بنتی ہیں۔ جناب مجید نظامی کے بعد حافظ محمد سعید نے دعویٰ کیا کہ وہ ان کے خلا کو پُر کرنے کے لئے فکری نشستوں کا قیام عمل میں لائےں گے۔ لیکن عملاً وہ کچھ نہ کر سکے۔ شاید ان کا میدان علمی اور فکری کی بجائے پہلے کشمیر اور پھر اینٹی بھارت تحریک کی آبیاری تھا۔
میں نے برسوں پہلے پی ٹی وی کے پروڈیوسر شوکت زین العابدین اور کیمرہ مین کے ذریعے 23 مارچ 1940ءکے اجلاس میں شریک زندہ افراد کے انٹرویو مرتب کرنا شروع کئے تھے۔ لاہور میں قائداعظمؒ جہاں جہاں ٹھہرے اور جہاں جہاں قیام کیا۔ ان مقامات کی فلمیں بھی بنائی تھیں۔ صرف ممدوٹ ہاﺅس ہی نہیںبلکہ میں نے پہلی مرتبہ ایبک روڈ پر قطب الدین ایبک کے مزار کے قریب وہ بلڈنگ ٹریس کی تھی جس کے بالائی کمرے میں قائداعظمؒ ایک رات سوئے تھے۔ میں نے ہی لنڈا بازار کے قریب مال واڈہ پیلس کی عکس بندی کی تھی۔ جواب مارکیٹ اور شادی ہال بن چکا ہے۔ جس کی جگہ پر میاں عبدالعزیز مالواڈہ کی رہائش گاہ تھی۔ جنہیں قائداعظمؒ کا شرف میزبانی ملا تھا۔ کہ قائدؒ ان کے گھر بھی ایک رات قیام پذیر رہے تھے۔
 آج کتنے لوگ ہیں جو قائد پر فلم بنائیں‘ کتاب لکھےں یا نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ جیسے اداروں کی اہمیت کو محسوس کرےں؟ قائداعظمؒ ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔ اُستاد محترم مجید نظامی آپ کے سامنے ہماری نظریں جھکی ہوئی ہیں کہ ہم آپ کو صحیح معنوں میں خراج تحسین تک نہ پیش کرسکے۔   (ختم شد)
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved