تازہ تر ین

حضور کی شانِ رحمت کا ایک عظیم پہلو

ڈاکٹر طاہر القادری ….خاص مضمون
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکربھیجا ہے۔
حضور نبی اکرمکی رحمت کے لاتعداد گوشے ہیں جن کا احاطہ انسانی عقل نہیں کر سکتی۔ اس رحمت کا دائرہ کار صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام عالمین پر محیط ہے۔ عالم انسانیت، عالم جنات، عالم نباتات، عالم حیوانات، عالم جمادات الغرض ہر عالَم جو ہمارے علم میں ہے اور جو ہمارے علم میں نہیں ہے، آقا کی رحمت کاملہ ہی سے فیض پارہا ہے اور آپ ہی کے صدقے قائم و دائم ہے۔ دورِ جدید میں جہاں ہر طرف سائنس و ٹیکنالوجی کی ایجادات کی بھرمار ہے، یہ بھی حضور نبی اکرم کی شانِ رحمت ہی کی بدولت آج انسانیت کے لئے سہولیات و آسائشات فراہم کرنے کے قابل ہے۔ اس لئے کہ آج عالم انسانیت حضور نبی اکرم کے ذریعے رکھی گئی تعلیمی و علمی بنیادوں پر اپنی کامیابیوں کی عمارات قائم کئے ہوئے ہے۔ آپکی آمد سے قبل پوری دنیا جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی، آپ نے جہالت سے بھری دنیا میں جدید علم اور سائنسی تحقیقات کا دروازہ کھولا۔ لہٰذا یہ بات قطعی ہے کہ آج انسانیت سائنسی ترقی کے جس مقام پر پہنچی ہے اُس کا دروازہ کھولنے والے تاجدارِ کائنات ہیں۔ گویا دنیا کو آج علم کی روشنی اور سائنسی تحقیقات کے ذریعے مختلف ایجادات بھی آقا کی رحمت سے ملی ہےں۔ آقا نے ایک اُمّی (ان پڑھ) قوم میں علم کی بنیاد رکھی۔ اس سوسائٹی کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا اور وہاں تعلیم کو ایک نظام کی صورت میں باقاعدہ رواج دیا جہاں علم کا کلچر نہیں تھا۔
آج جب ہم علم کی بات سنتے ہیں تو اس میں ہمارے لیے کوئی تعجب نہیں ہے، اس لئے کہ ہم ایک تعلیم یافتہ معاشرے میں ہیں، جہاں ہر طرف علم اور سائنس کا کلچر ہے۔ آج سے چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں تو وہاں عالم یہ تھا کہ لوگ پانی پینے پلانے پر قتل کرتے، صدیوں تک جنگیں چلتی رہتیں، بچی پیدا ہوتی تو اُسے زندہ درگور کر دیتے۔ عورتوں، غلاموں، غریبوں اور کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں تھے۔ قبائلی جنگیں تھیں۔ معاشرے میں کوئی نظام نہیں تھا۔ امن و امان نہیں تھا۔ دہشتگردی، قتل و غارت گری اور خون خرابہ عام تھا۔ اس معاشرے میں لکھنا پڑھنا کوئی نہیں جانتا تھا۔ امام بلاذری نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ مکہ جیسے شہر میں صرف 15 آدمی ایسے تھے جو لکھنا جانتے تھے۔ گویا ان حالات میں آپ نے اس وقت علم کا دروازہ کھولا کہ جب کوئی علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ آقا علیہ السلام نے انسانیت پر احسان کرتے ہوئے تعلیم کا باقاعدہ نظام اس معاشرے میں نافذ کیا اور تعلیم کو اتنی ترجیح دی کہ غزوئہ بدر کے 70 قیدی (کفار و مشرکین) جن کے پاس رہائی کے پیسے نہیں تھے، انہیں فرمایا کہ جو میرے شہر مدینہ کے 10 ,10 بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دے گا اُس کو بغیر فدیہ کے آزاد کر دیا جائے گا۔ گویا آپ نے تعلیم کے حصول کی اس قدر حوصلہ افزائی کی کہ مال و دولت کے حصول پر بھی تعلیم کو ترجیح دی۔ حضرت زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ جن صحابہ کرامؓ نے غزوہ بدر کے قیدیوں سے پڑھا، میں بھی انہی میں سے ایک ہوں۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ اصحابِ صفہ کو لکھنا پڑھنا سکھانے کےلئے باقاعدہ ماہر تعلیم کے طور پر مقرر ہوئے۔ آقا علیہ السلام نے الصفہ کی شکل میں ایک تعلیمی و تربیتی مرکز قائم فرمایا۔ اس عظیم علمی و روحانی درسگاہ ”صفہ“ سے کم و بیش 700 سے 1000 صحابہؓ نے اکتساب علم کیا ۔
آج سے چودہ سو سال قبل تعلیم اور شرح خواندگی کو بلند کرنے اور علم کے حصول کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس ماحول میں آقا علیہ السلام نے مدینہ منورہ کی مختلف مساجد میں 9 سکول قائم فرمائے۔ اس وقت مدینہ منورہ چھوٹا سا گاﺅں تھا۔ ایک چھوٹے سے گاﺅں اور علاقے میں موجود 9مسجدوں کے ساتھ سکولز قائم کرنا اور علم کے کلچر کو عام کرنا حضور نبی اکرم کی نبوی فراست ہی کا خاصہ ہے۔ حضور نے لکھنے کا باقاعدہ ایک سرکاری شعبہ قائم فرمایا جہاں ہر چیز کے تحریری کاغذات تیار کیے جاتے۔ آقا علیہ السلام نے خود 229 خطوط مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو روانہ فرمائے۔ اس طرح آقا نے مختلف معاہدات تحریر فرمائے۔ 225 سرکاری و سفارتی دستاویزات روانہ کئے۔ یعنی آقا علیہ السلام نے تقریباً 500 سے 1000 تک سرکاری خطوط، معاہدات، دستاویزات تحریری صورت میں روانہ فرمائیں۔ گویا ہر چیز لکھ کو ضابطہ تحریر میں لانے (documentation) کا کلچر پیدا کیا۔ سرکاری خطوط پر مہریں لگانے کو بھی آقانے رواج دیا تا کہ پتہ چلے کہ یہ سرکاری دستاویز ہے، جعلی نہیں ہے۔ اس مہر لگانے کی ابتدا بھی آقا علیہ السلام نے کی۔ اس سے پہلے stamp کرنے کا کلچر نہیں تھا۔ اسی طرح خاص خاص موضوعات میں تخصص کا عمل بھی آقانے شروع کروایا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے فرمایا: جو قرآن میں تخصص (specialize) کرنا چاہے وہ حضرت ابی بن کعبؓ کے پاس جائے، جو قانون سمجھنا چاہے وہ حضرت معاذ بن جبلؓ کے پاس جائے۔ جو فرائض اور وراثت کو سمجھنا چاہے وہ حضرت زید بن ثابتؓ کے پاس جائے۔جو خزانے، حساب و کتاب اور مالیات کا علم سمجھنا چاہے وہ میرے پاس آئے۔ سیدنا مولیٰ علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: جو کائنات کا سب کچھ سمجھنا چاہے وہ میرے پاس آئے۔
آقا علیہ السلام نے صحابہ کرامؓ کو غیر ملکی زبانیں سیکھنے کی تراغیب اور احکامات بھی ارشاد فرمائے تاکہ عالمی سطح تک علم فروغ پائے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے۔ اس سے ایک طرف تعلیم کی تحریک قائم ہوئی اور دوسری طرف مختلف تہذیبوں اور معاشروں کے ساتھ روابط و تعلقات بھی قائم ہوسکے۔ یوں آقا نے دوسری زبانوں کو پڑھنے و سیکھنے کا آغاز فرمایا۔ حضرت زید بن ثابتؓ آقا علیہ السلام کے چیف سیکرٹری بنے، انہوں نے حضورکے حکم پر سریانی و عبرانی زبانیں سیکھیں۔ اس طرح دیگر صحابہ کرامؓ نے فارسی، ایتھوپین، شامی، یونانی اور اس وقت کی عالمی طاقتوں اور دیگر اقوام کی زبانیں سیکھیں۔ ”صفہ“ پر صحابہ کو صرف قرآن اور حدیث نہیں بلکہ قانون، عقیدہ، اخلاقیات،سوشیالوجی، ریاضی، طب ،علم الفلکیات،زراعت، تجارت، کامرس اور (امور خارجہ) foreign policy بھی پڑھائی جاتی تھی۔ مذکورہ بالا تمام علوم و فنون کا ذکر امام احمد بن حنبل کی المسند میں، امام ابودا¶د کی السنن میں، امام ترمذی کی الجامع میں، امام مالک کی الموطا میں، امام حاکم کی المستدرک میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی کی الاصابہ میں موجود ہے۔ ان سب کتب حدیث سے ان تمام علوم و فنون کو جمع کر کے میں نے بیان کر دیا۔ یہ تمام مضامین صحابہ کرامؓ کو پڑھائے جاتے تھے اور وہ ان علوم و فنون کے ماہر ہوتے تھے۔ اسی طرح آقانے خواتین کی تعلیم کا آغاز بھی فرمایا۔ خواتین کو گھروں میں تعلیم دینے کا اہتمام کیا جاتا۔ ازواج مطہرات کے گھروں میں علمی حلقے ہوتے۔ لکھنا پڑھنا سکھانے کےلئے صحابیات مقرر تھیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آقا علیہ السلام نے خواتین کو تعلیم دینے کے لیے باقاعدہ دن مقرر فرما رکھے تھے، جن میں خواتین کو پڑھنے پڑھانے کا فن سکھایا جاتا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ شاعری، طب، قانون، تاریخ اور human sciences کی ماہر تھیں۔ ان امور کے متعلق صحیح بخاری، مسند احمد بن حنبل اور ابن عبدالبر کی الاستیعاب میں تفصیل موجود ہے۔
حضور نبی اکرم نے تعلیم کے فروغ کی ذمہ داری اسلامی ریاست میں مرکز کے سپرد بھی کی اور صوبوں کو بھی اس ضمن میں ذمہ دار ٹھہرایا۔ صوبوں کے اندر باقاعدہ نظام تعلیم جاری کیا اور گورنرز کو ذمہ دار ٹھہرایا کہ وہ دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ بھی ہوں گے اور اپنے ماتحت تمام شہروں کے دورہ جات کریں گے اور وہاں تعلیم کے فروغ کےلئے اقدامات بجا لائیں گے۔ حضرت عمرو بن حزمؓ جب گورنر یمن مقرر ہوئے تو اُن کو تعلیم کی وزارت بھی ساتھ دی گئی اور وہ تعلیمی امور کے ذمہ دار بھی تھے۔ الغرض نظام تعلیم کے باقاعدہ قیام اور تعلیم کے فروغ کے حوالے سے آقا علیہ السلام نے اس قدر اہتمام فرمایا۔ آپ نے نہ صرف حصول تعلیم کی طرف متوجہ کیا بلکہ صاحبانِ علم کی فضیلت و انفرادیت کو بھی مختلف مقامات پر بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا:
”صاحبانِ علم انبیاءکے وارث ہوتے ہیں“۔(ابن حبان، الصحیح، 1: 289، رقم: 88)
علم کو آقا علیہ السلام نے اتنا اونچا درجہ دیا کہ صاحبانِ علم کی وراثت علم کو قرار دیا کہ اللہ کا نبی وراثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑتا بلکہ اس کی وراثت علم ہوتی ہے۔ فرمایا:
یعنی جو علم حاصل کرے وہ نبی کا وارث بنتا ہے اور اس طرح وہ نبی کی وراثت میں سے بہت کچھ پالیتا ہے۔ (دارمی، السنن،1: 110، رقم: 342)
آپ نے علم کے کلچر کو اتنا فروغ دیا کہ فرمایا:
”علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین کیوں نہ جانا پڑے“۔(ربیع، المسند، 1: 29، رقم: 18)
جب علم کے حصول کا کوئی تصور نہ تھا اور لکھنا پڑھنا معیوب سمجھا جاتا تھا اُس دورِ جاہلیت میں علم کو آپ نے اتنا emphasis کیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آج ہمیں اور ہماری نسلوں کو چاہیے کہ پلٹ کر آقاکی دہلیز اور غلامی میں آجائیں۔ حضور کی غلامی اختیار کریں، حضور سے محبت و عشق کریں، حضور کی خیرات کا فیض لیں اور جتنا زیادہ ہو اپنی نسلوں کو علم، عملِ صالح اور آقا کی نسبت و محبت کی طرف راغب کریں، اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے حال پر رحم فرمائے اور آقاکی بارگاہ سے ہمیں پختہ نسبت عطا فرمائے۔ آمین ۔
(کالم نگارسرپرست اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved