تازہ تر ین

شکنتلا کی آپ بیتی

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
”اس سرکاری ہسپتال میںمجھے بڑی جدوجہد کے بعد درجہ چہارم میں خاکروب کی ملازمت ملی تھی۔یہ ہسپتال، مہاراشٹر کے علاقے پونا کے نواح میں کھڈکی نامی قصبے میں واقع ہے۔یہاں سے شاید ایک فرلانگ کے فاصلے پر فوجی کنٹو نمنٹ کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے، اسی لیے وہاں فوجیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کی بات ہے۔ میں نے 2014میں وہاں ملازمت کا آغاز کیا۔ شروع میں تو سب بہت اچھا رہا لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ مجھے اپنے وجود سے گھن آنے لگی۔ “
یہ کوئی کہانی نہیں، شکنتلا دیوی نام کی تیس سالہ بیوہ کی آپ بیتی ہے جو گزشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوئی۔اخبار کے مطابق شکنتلا دیوی پیدائشی طور پر بولنے اور سننے کی قوت سے محروم ہے، شادی کے دو تین برس بعد ہی اس کا شوہر بیمار ہوکر مر گیا۔اب اس کی زندگی کی واحد امید اس کا بیٹا ہے جس کی عمر اس وقت بارہ برس کے لگ بھگ ہے۔شکنتلا کا کہنا ہے کہ اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی شروع ہی سے ہسپتال میں اس کی نائٹ ڈیوٹی لگائی جاتی رہی۔ ”ایک رات میں ہسپتال میں فیملی وارڈ کا ایک واش روم صاف کر رہی تھی کہ اچانک ایک باوردی بھارتی فوجی دھکا دے کر اندر داخل ہوا اور اس نے دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی۔میں سماعت سے محروم ہوں اس لیے اس کے قدموں کی آواز سن نہیں سکی۔بول بھی نہیں سکتی اس لیے چیخ پکار بھی نہیں کر سکی۔جنہیں میں دھرتی کا محافظ سمجھتی تھی ان ہی میں سے ایک نے میری عزت کا جنازہ نکال دیا۔عجیب بے بسی تھی، اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سنانے کے لیے نہ تو میرے پاس آواز تھی اور نہ ہی ہمت۔ شاید ایک ہفتے بعد ایک او ر فوجی جوان وہاں زیر علاج اپنی والدہ کو دیکھنے آیا تو میں نے اشاروں سے اسے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی سے آگاہ کیا، اس سے درخواست کی کہ میری بات اپنے افسروں تک ضرور پہنچا دے۔ اس نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور یقین دلایا کہ وہ مجھ سے ہر ممکن تعاون کرے گا۔اس نے جس تعاون کا یقین دلایا تھا وہ دو دن بعد ہی میرے سامنے آگیا۔ میں حسب معمول نائٹ ڈیوٹی پر تھی، رات کے تقریباً دو بجے وہ فوجی جوان اسی شخص کے ساتھ وہاں نمودار ہوا جس نے میری عزت کو تار تار کیا تھا۔ دونوں وردی میں تھے۔اس سے پہلے کہ میں صورت حال کو سمجھتی، وہ دونوں مجھے گھسیٹتے ہوئے ایک سٹور روم میں لے گئے اور میرے ساتھ ظلم زیادتی کی وہی داستان دہرائی گئی۔ اس بار یہ بھی ہوا کہ ان میں سے ایک نے سارا منظر موبائل فون کی مدد سے ریکارڈ بھی کر لیا۔ وہ مجھے اس فلم کی بنیاد پر مسلسل بلیک میل کرتے رہے اور میری عزت سے کھلواڑ ان کا معمول بن گیا۔بعد میں اس سارے گھناﺅنے عمل میں ان کے دو اور ساتھی بھی شریک ہوگئے۔
“ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق شکنتلا نے بالآخر خوف اور ڈر کی چادر کو اپنے وجود سے اتار پھینکا اور قریبی تھانے میں اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم کی رپورٹ درج کروادی۔بہت سی این جی اوز اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں بھی شکنتلا کے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر سراپا احتجاج ہیں۔یقینا معاملے کے ذمے داروں کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا جائے گا لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں اس طرح کا ظلم ریاست مقبوضہ جموں کشمیر میں تو معمول کی بات ہے، وہاں بھارتی فوجیوں کے جنسی تشدد کا شکار ہونے والی بے بس عورتوں کے حق میں نہ تو این جی اوز آواز اٹھاتی ہیں اور نہ ہی کسی پولیس افسر میں اتنی ہمت ہے کہ ان فوجیوں کےخلاف کوئی رپورٹ درج کر سکے۔وہاں بھارتی فوج کے بہت سے انٹیلی جنس یونٹ بھی معاملات کی خبر گیری کے لیے ہر وقت موجود رہتے ہیں لیکن شاید ان کے پاس کرنے کو اور بہت سے ضروری کام ہیں۔حال ہی میں ان انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مقبوضہ جموں کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے 24 نام نہادعسکریت پسندوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، فہرست میں ان سب کو دہشت گردوں کے نام سے پکارا گیا ہے۔اس طرح کی فہرستوں کا جاری ہونا کوئی نئی بات نہیں، نئی بات یہ ہے کہ اس فہرست میںشامل سب کے سب ”دہشت گرد“انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ دو صاحبان تو ایسے بھی ہیں جو پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور ایک اور جیالوجی کے مضمون میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے بالکل آخری مراحل میں ہے۔مذکورہ فہرست کو دیکھ کر ایک نہایت مثبت خیال ذہن میں جنم لیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے جاری بھارتی فوج کے بدترین مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود بھی وہاں کے لوگوں نے حصول علم کا دامن نہیں چھوڑا۔مدتوں سے استحصال کا شکار اپنی قوم کو ایک بہتر اور روشن مستقبل دینے کے لیے انہوں نے حصول علم کو ایک طاقت ور ترین ہتھیار جان کر اپنی ساری توجہ اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے پر مرکوز کردی۔
دوسری بات یہ کہ اس فہرست کو دیکھنے والا ہر شخص ان عوامل پر غور کرنے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے جنہوں نے اتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کردیا۔ایک اور بات بھی خیال کا حصہ بنتی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ قابض قوتیں کشمیر میں تعلیم یافتہ لوگوں کی بڑھتی تعداد سے خوفزدہ ہوں اور اس طرح کی بے بنیاد فہرستیں جاری کرنے کے بعد یہ قوتیں فہرست میں شامل لوگوں کو چن چن کر ختم کردینا چاہتی ہوں تاکہ تحریک آزادی کشمیر کسی منطقی انجام کو نہ پہنچ پائے۔ اس فہرست میں پہلا نام ڈاکٹر اعجاز الدین خان کا ہے جو عربی میں پی ایچ ڈی ہیں، دوسرے پی ایچ ڈی ڈاکٹر محمد رفیق بھٹ ہیں جن کا مضمون سوشیالوجی ہے جبکہ جیالوجی کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کے قریب طالب علم کا نام عبدالمنان ہے۔باقی کے لوگوں میں بھی اکثریت ان کی ہے جن کی کم سے کم تعلیمی استعداد ایم اے ایم ایس سی ہے۔اگر اس فہرست کو درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ بات اپنی جگہ نہایت تشویشناک ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجیوں کا ظلم و ستم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔لوگ پوچھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ کبھی حل ہوگا بھی یا نہیں، اور اگر حل ہوگا بھی تو کیسے ہوگا۔ان تمام سوالوں کا جواب اقوام متحدہ کے ذیلی کمیشن UNCIPکی اس قرارداد میں واضح طور پر موجود ہے جو 5جنوری1949کو منظور کی گئی تھی۔ اس قرارداد کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے تمام لوگوں کو ایک آزادانہ حق رائے دہی دیا گیا اور کہا گیا کہ وہاں کے لوگ استصواب رائے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔اگر اقوام متحدہ کی اس قرارداد کا ابتداءہی میں احترام کرلیا جاتا تو آج کشمیر کا شمار انتہائی خوشحال اور ترقی یافتہ ریاستوں میں ہوتا۔کشمیری لوگ محنتی بھی ہیں اور وفادار بھی اور حصول علم کے شوقین بھی۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان میں استقامت بھی ہے ، عزم بھی اور ارادے کی پختگی بھی۔ اگر اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق انہیں آزادانہ حق رائے دہی دے دیا جاتا تو کشمیریوں کو نقشہ عالم پر ایک نمایاں مقام حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد تو دور کی بات، بھارت نے بے چارے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑنا شروع کردیے جن کی مثال اس جدید مہذب معاشرے میں شاید ہی مل سکے۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ظلم کو ہتھیار بناکرسچائی کی سمت بڑھنے والے قدموں کی رفتار کو کم تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس سفر کو کبھی روکا نہیں جاسکتا۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved