تازہ تر ین

توقعات اورخدشات میں گھری حکومت(4)

طیب اعجاز قریشی….خاص مضمون
2017ءسے مودی سرکار سر توڑ کوشش کررہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کردیا جائے۔ اس ضمن میں اسے امریکی حکومت کا بھی ساتھ حاصل رہا۔ چنانچہ دونوں قوتوں کی سعی رہی کہ مختلف بین الاقوامی ریگولیٹری ادارے پاکستان پر ایسی پابندیاں لگا دیں جن کی بدولت کاروبار و تجارت کرنا مشکل ہوجائے۔ دونوں قوتوں کی مخالفانہ مہم نے بھی پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا۔
پاکستان کی خوشی قسمتی کہ بھارت اور امریکا کے اتحاد میں چند ماہ قبل دراڑ آگئی۔ تب روسی صدر پیوٹن نے بھارت کو جدید ترین روسی میزائل، ایس۔ 400فروخت کرنے کا اعلان کیا۔ بھارت اور روس کی قربت امریکی جرنیلوں کو بالکل نہیں بھائی اور امریکااپنے نئے ایشیائی ساتھی سے خاصا دور ہو گیا۔ حتیٰ کے صدر ٹرمپ نے بھارت کے یوم جمہوریہ پر مہمان خصوصی بننے سے صاف انکار کر دیا۔
اسی دوران افغانستان سے باعزت واپسی کے لئے امریکی فوج کو پھرپاکستان سے مدد لینا پڑ گئی۔ افغانستان میں امریکا نے اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑی ہے۔ اربوں ڈالر اس جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے باوجود اتحادی افواج طالبان کو شکست نہ دے سکیں۔ اب امریکا عوامی دباﺅ اور معاشی بحران کے سبب بھی بیرونی جنگوں پر اٹھنے والے بے محابا جنگی اخراجات سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ا س لئے صدر ٹرمپ نے شام اور افغانستان سے افواج واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔
بھارت‘ امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے گٹھ جوڑ سے پاکستان پچھلے دو برس کے دوران عالمی سطح پر سیاسی و معاشی طور پر کسی حد تک تنہائی کا شکار ہو گیا تھا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کے غیر ملکی دوروں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان کی تنہائی میں خاطر خواہ کمی آئی اور بین الاقوامی سطح پر اس کا وقار خاصی حد تک بحال ہو گیا۔ ماہ جنوری میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نوجوان ولی عہدوں نے پاکستان آنے کی نوید سنائی ہے۔
واضح رہے کہ احتساب کا عمل عمران خان کی حکومت آنے سے قبل مقتدر قوتیں شروع کر چکی تھیں۔ اس کا سارا کریڈٹ پی ٹی آئی حکومت نہیں لے سکتی۔ احتساب کے حوالے سے ریاستی اداروں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کو احتساب کا کریڈٹ لینے کے بجائے اپنی کارکردگی دکھانے پر زور دینا چاہئے جو فی الوقت ہمارے سامنے نہیں آسکی۔ یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ احتساب کا عمل شفاف طریقے سے جاری رہنا چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیب کے ادارے کی کارکردگی بڑھانے کیلئے اس میں باصلاحیت وکلاءاور وائٹ کالر جرائم کی تفتیش کے ماہرین بھی تعینات کیے جائیں تاکہ احتسابی عمل تیزتر ہو سکے۔ نیز خیال رکھا جائے کہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ محض شک یا شکایت کی بنا پر کسی تاجر‘ استاد‘ سیاستدان یا سرکاری ملازم کی پگڑی نہ اچھالی جائے۔ جب تک الزام ثابت نہ ہو‘ اس کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ یہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت جلد از جلد قوم کے سامنے اپنا عملی منصوبہ لائے جس کی تشکیل میں تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کے تمام فعال طبقات سے رابطہ کرے اور انہیں متحرک کرے تا کہ وہ تعمیری سرگرمیوں میں حکومت کے ساتھ شریک کاربن سکیں۔
پچھلے دنوں وزیرداخلہ برائے مملکت نے یہ خوفناک انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ستر فیصد بچے بچیاںنشے کے عادی بنتے جا رہے ہیں۔ اس انکشاف نے معاشرے میں ہیجان پھیلا دیا اور والدین تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہ سچائی آشکارا کرتی ہے کہ ہمارے نوجوان منفی سرگرمیاں اپنا رہے ہیں۔ وجہ کہ ان کے سامنے کوئی مقصد حیات نہیں اور نہ ہی کوئی انہیںصحیح ہدایت دے رہا ہے۔ اس لئے نوجوان نسل مثبت و تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے منفی کام انجام دینے لگی ہے۔
اس وقت کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں جو نوجوان نسل کو مثبت سمت متعین کرنے میں مدد دے سکے۔ تمام جماعتیں اور حکومتیں بھی اس ضمن میں ناکام ہو چکی ہیں۔ اسی لئے نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں۔ ان کے لئے نوکریاں بھی محدود ہیں۔ حدیہ ہے کہ کھیل کے میدان بھی کم ہو چکے۔ غرض ہمارے معاشرے میں اب ایسی سرگرمیاں بہت کم رہ گئی ہیں جن میںحصہ لے کر نوجوان اپنی توانائیوں اور جوش و جذبے کو مہمیز دے سکیں۔ حکومت وقت کو چاہئے کے وہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر نوجوانوں سے بھر پور مدد لے۔ یوں انہیں بھی اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع ملے گا۔
وطن عزیز کے سیاسی افق پر نظر جمائی جائے تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے موجودہ حکمران فصیح و بلیغ باتیں تو کرتے ہیں مگر عمل ان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مثلاً حکومتی دعویٰ ہے کہ نیب کے اقدامات سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن وزرائے کرام نہ صرف نیب اقدامات کی درست پیشن گوئی فرما دیتے بلکہ میڈیا میں ان کا بھر پور دفاع بھی کرتے ہیں۔ ملک میں سیاسی تناﺅ بڑھ رہا ہے ۔ لوگ بھی تقسیم کا شکار ہوچکے۔ پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کوئی سرکاری عہدہ لینے کو تیار نہیں۔ بیور کریٹ کسی کاغذ پر دستخط کرنے سے گھبراتے ہیں‘ انہیں ڈر ہے کہ کل نیب انہیں دبوچ لے گا۔
قومی سیاست میں مخالفتیں اب دشمنی کا روپ دھار رہی ہیں۔ گویا ممکن ہے کہ آج جو اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں‘ آنے والے وقت میں انہیں جیل یاتراکرنی پڑ جائے۔ معیشت پر جمودطاری ہے۔معنی یہ کہ چادر چھوٹی ہو رہی ہے‘ اس لئے پاﺅں مزید سکیڑنے پڑیں گے۔ ملک میں چھوٹے کاروبار اور کارخانے بے شمار ملازمتیں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں ان کی بقاکو خطرات لا حق ہو چکے۔
پس پردہ ایک طاقت حکومت وقت کو قرضے دلوانے میںسرگرم ہے۔ مدعا یہ ہے کہ معیشت میں استحکام لایا جا سکے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ شاہد خاقان عباسی اور ڈاکٹر مفتاح اسماعیل شاید زیادہ جلدی اور معاشی افراتفری پھیلائے بغیر یہ کام انجام دے پاتے۔یوں قومی معیشت کو کم سے کم نقصان پہنچتا۔
اس وقت بیشتر حزب اختلاف جیل جاتی دکھائی دیتی ہے۔ گویا اب عمران خان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ اپنی جماعت کوکیونکر متحدو یکجارکھیں گے۔ اگر وہ ناکام رہے تو خدانخواستہ پاکستان میں انتشار بڑھ سکتا ہے۔
قارئین کرام! حالات سے واضح ہے کہ وطن عزیز سمیت دنیا کے اکثر ممالک سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ یہ بین الاقوامی اعجوبہ دراصل مثبت اور منفی دونوں عوامل رکھتا ہے کہتے ہیں‘ تخریب کے بطن ہی سے عموماً تعمیر بھی جنم لیتی ہے۔ یہ مثال خصوصاً پاکستان پر صادق آتی ہے۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کمزور ہونے سے جو خرابیاں درپیش آئی تھیں‘ مقتدر قوتیں اب انہیں ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چونکہ خرابیوں نے معاشرے میں جڑیں پکڑ لی تھیں‘ اسی لئے ان سے چھٹکارا پانا پیچیدہ و کٹھن مرحلہ بن چکا۔ لیکن جب بھی یہ دور ہوئیں‘ وطن عزیز میں ترقی و خوشحالی کے مثالی دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ہم سینے میں امید و خوشی کی شمع روشن کئے بے تابی سے ان سنہرے دنوں کی راہ تک رہے ہیں۔ (ختم شد)
(بشکریہ:اردوڈائجسٹ)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved