تازہ تر ین

نیاسال اورچند گزارشات

ثوبیہ خان نیازی….اظہار خیال
آج بےٹھے بٹھائے اپنے کالج کا زمانہ ےاد آگےا ‘ ہم مےں سے شائد کوئی بھی اپنے طالب علمی کے دور کو بھلا نہےں سکتا ہم اپنے گزرے ہوئے وقت کو ےاد کرتے ہےںتو خوشی و غم کے ملے جلے احساسات شہرِ دل پہ دستک دےنے لگتے ہےں ۔ کچھ کھونے اور کچھ پانے کی کےفےت دل مےں انگڑائےاں لےنی لگتی ہے انگلش لٹرےچر پڑھتے ہوئے اک نظم کے اختتام پہ ہمےں نےو ائےر رےزولےشن کے بارے مےں لکھنے کو کہا گےا تھا ہم سب دوستوں نے نئے سال پہ بہت سی رےزولےشنز بنائےں تھےں کلاس مےں ٹےسٹ ہوا تو مےرے نمبر سب سے زےادہ تھے۔ ےہ معاملہ ذرا معمول سے ہٹ کے تھا‘ اس لےے مےرے لےے ےادگار تھا۔ اب اتنے سال گزر جانے کے بعد صفحہ زےست کو پلٹتے ہوئے سوچتی ہوں وہ تمام رےزولےشنز اور منصوبے جو مےں نے بنائے تھے اور نمبر بھی پورے حاصل کر لےے تھے اب مےدانِ عمل مےں کتنے وعدے وفا کرسکی ہوں اپنی ذات کا دفاع کےے بغےر اپنے حق مےں فےصلہ کرنا آسان نہےں ہوتا۔ ہمےں اپنا آپ اکثر مکمل نظر آتا ہے ، کمزورےاں اور کوتاہےاںہم دوسروں مےں ڈھونڈنا پسند کرتے ہےں۔ ہر معاملہ زندگی مےں حقوق کے طلبگار ہم لوگ اپنے فرائض سے غافل ہونا معمولی بات سمجھتے ہےں۔ وہ رےزولےشنز کےا تھےں؟
مےری اس دور کی معصوم خواہشات ےا آنے والی زندگی کے خواب پےشِ خدمت ہےں‘ نئے سال پہ مےں نے فےصلہ کےا ہے کہ مےں صرف اﷲ سے ڈرونگی ۔ انسانوں کا خوف دل سے نکال دونگی ، نما ز باقاعدگی سے ادا کرونگی، اپنے دےن کی خدمت کرونگی ، دوسروں کے کام آﺅنگی ،غرےبوں اور کمزوروںکی مدد کرونگی ، اپنے اساتذہ کا دل و جان سے احترم کرونگی، کسی کو نقصان نہےں پہنچاﺅنگی ، دل مےں کسی کےلئے نفرت نہےں رکھونگی ، دوسروں کی برائےوں کو محفلوں مےں ڈسکس نہےں کرونگی، دوسروں سے حسد نہےں کرونگی ، وعدہ پورا کرونگی، دل لگا کر خوب محنت کرونگی اور سالانہ امتحان مےں اچھے نمبر حاصل کرونگی‘ اپنے وطن کی حفاظت دل و جان سے کرونگی اور اس کا نام روشن کرونگی‘ نئے سال پر مےری ےہ تمام رےزولےشنزکوئی نئی نہےںتھےں۔ اےسے جذبات سب کے دلوں مےں موجود ہوتے ہےں دل فطرت کے اصولوں پر چلتا ہے اور فطرت ہمےشہ اچھا کرنے ،سوچنے اور سمجھنے پہ اکساتی ہے۔ مےرے احساسات ابھی تک وےسے ہی ہےں‘ مےری قراردادےں جو دل کے ساتھ طے ہوئی تھےں ابھی تک وےسی ہی ہےں دوسروں کے چھوٹے چھوٹے کام کر کے دعائےں لےنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ دوسروں کو عزت دےکر خوشی ہوتی ہے‘ اپنوں کی کامےابےاں مجھے اپنی کامےابےاں لگتی ہےں۔ دوسروں کے دکھ دردمےں دلجوئی کرنا مےرے دل کو پسند ہے۔ مےں اپنوں کے راز دل مےں رکھنے کا سلےقہ جانتی ہوں مےں دوسروں کو آسانےاں دےنا چاہتی ہوں مجھ سے کسی کی بھی عزت نفس مجروح ہوتی دےکھی نہےں جاتی اورمےری نظرےں جھک جاتی ہےں فخر و غرور سے بھرے لہجے اور روئےے مجھے اند ر سے کچل دےتے ہےں۔ مےرے دل مےں ان لوگوں کی عزت اور محبت بڑھنے لگتی ہے جنہےں اﷲ بڑا کر ے بلند مقام عطا کرے دنےامےں خاص کرے تو وہ عاجزی کی دولت سے مالا مال ہوجائےںجو انسانوں کی عزت ان کے صرف انسان ہونے کی وجہ سے کرےں روےوں مےں تضاد ،دوہرے معےار اور منافقت سے مجھے نفرت ہے۔ مےرے نزدےک منافقت موت ہے زندگی حاصل اور لا حاصل کی جستجومےں رواں دواں رہتی ہے۔ کچھ بھی مکمل نہےں ہوتا آخری سانسوں تک خواہشات تعاقب کرتی رہتی ہےں۔ منصوبے اور رےزولےشنز بنتی رہتی ہےں بس اک چےز ضروری ہے مثبت سمت ، پختہ ارادے اور انسانوں کے ساتھ خےر خواہی۔
نئے سال کے آغاز پہ وزےر اعظم عمران خان سے چند گزارشات ہےں ےقےنا انہوں نے اور ان کی حکومت نے بھی بہت سے رےزولےشنز بنائی ہونگی ۔ پہلی گزارش تو ےہ ہے کہ جن نوجوانوں نے آپ کو اپنا آئےڈےل بناےا ہو ا ہے دل و جان سے آپ کے ساتھ چلتے ہےں آپ کو اپنا سمجھتے ہےں ان کو روزگار دےں تاکہ ان کی زندگےاں مصروف ہوں۔ ان مےں چھپی صلاحیتیں بروئے کار آسکےں ان کاقےمتی وقت موبائل فون پہ صرف ہورہا ہے ۔ ےہ معمول کی سرگرمےاںماں باپ کےلئے قابل قبول نہےںوہ اپنے بچوں کےلئے پرےشان ہےں انہےں سکھ کا سانس تک نصےب نہےں۔ جب ان کے بچے برسرِروزگار ہونگے آپ کی حکومت نے اےک کروڑ نوکرےاں دےنے کا وعدہ کےا ہوا ہے۔ اسے پورا کرےں اور اےک اور گزارش ہے جو لوگ بر سرِ روزگار ہےں ان کا رزق روزی مت چھےنےں پچھلے دنوں لےڈی ہےلتھ ورکر ز کے نکالے جانے کا بہت شور مچا ہوا تھاانہوں نے اس سلسلے مےں مال روڈ لاہور آکر دھرنا بھی دےا تھا معمولی سی تنخواہ پہ کام کرنے والی ان ہےلتھ ورکرز کو نوکرےوںسے نکال کر کےا حاصل ہوگا صرف ےہ کہ وہ بے روزگار ہوجائےں گی‘ زندگی کی گاڑی چلانااور مشکل ہوجائےگا وہ آ پ کو دعائےں تو نہےں دےنگی۔وہ بھی اِسی نئے پاکستان کا حصہ ہےں جس کے لےے آپ نے مسلسل 22سال جہدوجہد کی ہے۔ خدارا لوگوں سے ان کا رزق روزی مت چھےنےں۔ لوگوں سے دعائےںلےنا چاہتے ہےں تو ان کو آسانےاں دےںآپ تبدےلی کے نام پہ سامنے آئے ہےں۔آپ سے بہت امےدےں ہےں ورنہ تو بہت آئے اور بہت گئے کچھ بھی نہ ہوا نہ کوئی کچھ بگاڑ سکا ۔ وعدے تو بہت ہوئے مگر وفا کوئی کوئی ہوا۔ حکمران امےر سے امےرتر اور غرےب عوام غرےب سے غرےب ترہوتے گئے مگر اب آپ سے توقعات ذرا مختلف ہےں۔ آپ عام لوگوں کے نمائندے ہےں عام بندے کے دل کو سمجھتے ہےں۔ آپ مےں کچھ کرنے کی صلاحتےں موجود ہےں کچھ اچھا کرنے مےں دےر ہو مگر اندھےر نہ ہو‘ کوئی ماےوس نہ لوٹے ‘کسی کی امےد نہ ٹوٹے‘ چارسو چاہے جتنا مرضی اندھےرا ہو اےک شمع جلے تو روشنی ہی روشنی ہونے لگتی ہے اس روشنی کے تعاقب مےں بھولے بھٹکے مسافر اکٹھے ہونے لگتے ہےں۔ آپ پہ بہت بڑی ذمہ داری ہے ابھی وقت ہے کچھ اچھاکرنے کا پےغام امن و خوشحالی بننے کا ٹوٹے ہوئے اعتبار کو بحال کرنے کا۔کاش اب کے اےساہوجائے۔
سب درد شناس ہوجائےں
دل سے دل کے پاس ہوجائےں
شکستہ دل کی آس ہوجائےں
دور سب خوف و حراس ہوجائےں۔
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved