تازہ تر ین

ریاست مدینہ کی تشکیل‘عملی تقاضے

حافظ محمدسعید….خاص مضمون
ہماری حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہم نے مدینہ منورہ والانظام پاکستان میں قائم کرناہے ۔یقینی بات ہے اگرایساہوجائے آسمانوں سے برکتیں اتریں گی۔لوگوں کے دل جڑیں گے‘ایک صحیح اسلامی معاشرہ تشکیل پائے گا۔ پھرسارے کام اللہ تعالیٰ آسان فرما دے گا۔جبکہ اس وقت مشکلات ہیں، ہمارے مسائل اتنے پیچیدہ ہو چکے ہیںکہ تنخواہ دینے کے لیے خزانے میں رقم نہیں‘ ترقیاتی منصوبے بند کرنے پڑرہے ہیں۔پھرآئی ایم ایف جیسے عالمی استحصالی اداروں کارخ کیاجارہاہے۔آئیے!ہم دیکھتے ہیں مدینہ میں بھی ایسی کیا مشکلات تھیں پھران کاکیسے حل کیاگیا؟
پاکستان کے سارے معاشی ماہرین ‘وزارت خزانہ کے ذمہ داران ‘بجٹ بنانے والوں کے لئے ضروری ہے کہ مدینہ کے اس دورکی تاریخ کامطالعہ کریں کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے ‘کیاحالات تھے،کیا مشکلات تھیں‘کتنی غربت تھی‘کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ ہفتوں کے ہفتے گزرجاتے‘نبی کے گھر کے چولہے میں آگ بھی نہ جلتی تھی۔ صحابہ کرامؓ کا بھی یہی حال تھا۔ ایک ایک کھجور پر دن گزرتا۔ان مشکل ترین حالات میں بھی نبی اکرم نے کیسی تربیت فرمائی۔ مانگنا نہیں سکھایا،کشکول نہیں پکڑایا،امرااوردوسرے ملکوں کے حکمرانوں کے دروازوں پرامدادکے لئے دستک نہیں دی کہ عرب کے فلاں سردار کے پاس جا¶۔حالانکہ اس وقت بھی بڑے بڑے سرداراور مالدار لوگ موجود تھے۔بلکہ آپ نے فر مایا جودنیا میں مانگ کے گزارا کرے گا‘قیامت کے دن اس کے چہرے کی آب (رونق )ختم ہوجائے گی۔آپ نے مانگنے کی بجائے مشکلات برداشت کرنے کے طریقے اور مسائل حل کرنے کے سلیقے سمجھائے ہیں۔ نبی اکرم نے مدینہ آکرسب سے پہلے مسجدبنائی۔ مسجد میں صفہ بنایا‘تربیت گاہ بنائی‘وہاں لوگوں کو تعلیم دیتے‘ تربیت کرتے‘دین سکھاتے۔جونئے لوگ آتے‘ ان کی بھی تربیت ہوتی اور مدینے کے جوباسی تھے‘رہنے والے تھے‘ ان کی بھی تربیت ہوتی تھی‘سمجھایا جاتا تھاکہ مانگونہیں صدقہ کرو۔فرمایا:کسی کے پاس بہت تھوڑا مال ہے تو وہ ایک کھجور صدقہ کرکے بھی اللہ سے جنت لے سکتاہے۔
آپ کو معلوم تھا کہ مدینہ میں وسائل نہیں اور مکہ کے مسلمانوں کے آنے سے مدینہ کی آبادی بھی بڑھ گئی تھی۔ صرف کھجور ہی وہاں کی بڑی فصل تھی۔اسی پر گزارا ہوتاتھا۔ مدینہ میں گندم کاشت نہیں ہوتی تھی۔ان حالات میں اللہ کے نبی صدقے کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جس کے پاس زیادہ مال ہے‘وہ زیادہ صدقہ کرے‘ جس کے پاس تھوڑا مال ہے‘وہ تھوڑاصدقہ کرے‘اسے بھی اجر بہت ملے گا۔ابھی زکوٰة کاحکم نازل نہیں ہواتھا۔یہ مدنی دور کی ابتداتھی۔اس لئے ابتدامیں آپ نے صرف صدقے کی ترغیب دی ۔
ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ”وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کی طرف آئیں“
یہ لوگ جولٹے پٹے‘اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کرکے سب کچھ ‘گھربار ‘برادری‘خاندان چھوڑکے ‘ مال و دولت ‘تجارت سب چھوڑ کے اللہ کے دین کے لیے آئے ہیں اور پھر وہ لوگ( تبووالداراوالایمان من قبلھم) جنہوں نے ایمان بھی قبول کیا اورمدینے میںپہلے سے آباد ہیں یعنی انصار:یہ انصار ان لوگوں سے بڑی محبت کرتے ہیں جوان کی طرف اللہ کے دین کی خاطرہجرت کرکے آئے ہیں۔ان لوگوں کے دلوں میں ایثار کے بڑے جذبے ہیں۔انہیں خود تو بھوک لگی ہوتی ہے لیکن اپنے مہمان کی خاطر اپنی بھوک کوکنٹرول کرتے،مہمان کو کھانا کھلانے کے لیے اپنی ضروریات کوروک لیتے اورپنے بھائی کی حاجات پوری کرتے ہیں۔
صرف یہ نہیں ہے کہ ظاہری طورپر یہ سب کچھ کررہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی قلبی کیفیت کی گواہی قرآن مجیدمیں دے رہا ہے کہ یہ دل سے ایمان والوں کے ساتھی اور محبت کرنے والے ہیں۔
اے برادرانِ اسلام!یہ ہے مدینہ کی ریاست جہاں اللہ تعالیٰ کے نبی نے پہلے دلوں کی حالت کو بدلا۔پہلی تبدیلی یہ لائے کہ تربیت کرکے مثالی لوگ تیار کردیے ۔بھوکے کوکھاناکھلانابظاہر ایسا کوئی کارنامہ نہ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی بہت اہمیت ہے۔
بھائیو!یہ کرنے والے کام ہیں۔جب تک ایسی تربیت نہیں ہوگی‘ ہمارے تعلیمی اداروں میں جب تک نبی اور صحابہ کرام ؓکی سیرت نہیں پڑھائی جائے گی‘ قرآن مجید نہیں پڑھایاجائے گا‘قرآن مجید کے سچے واقعات نہیں پڑھائے جائیں گے‘ہمارے تربیتی اداروں میں مدینہ کامعاشی نظام نہیں پڑھایاجائے گا،سودی نظام اورقرضوں سے چھٹکاراحاصل نہیں کیاجائے گا‘تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے،پاکستان معاشی مشکلات اورقرضوں کے گرداب سے نہیں نکلے گا۔
آج ہمارے وزیرخزانہ کشکول لے کرملک ملک پھررہے ہیں۔ہمارے وزیرخارجہ امریکہ سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی امداد(کولیشن سپورٹ فنڈ)جو آپ نے روکی ہے‘ بحال کریں۔جواب میں وہ شرطیں لگاتے ہیںکہ افغانستان میں طالبان کومارو۔ ان کوقتل کرنے میں ہماراساتھ دو۔پاکستان میں سودی نظام قائم کرو۔کشمیرکانام نہ لو ۔اس لئے کہ کشمیرکانام لینا دہشت گردی ہے۔جو پاکستان میں کشمیرکانام لیتے ہیں‘ ان کو پکڑو۔ان پرپابندیاں لگا¶۔پاکستان کو امریکہ کی ایک ریاست بناﺅپھرامداد بحال ہوں گی۔اب فیصلہ ہمارے وزیراعظم نے کرناہے کہ پاکستان کوامریکہ کی ریاست بناناہے یامدینہ کی ریاست۔اگرہمارے وزیراعظم پاکستان کوریاست ِ مدینہ بنانے میں واقعی مخلص اورسنجیدہ ہیں توپھراپنے اندرجرا¿ت پیداکریں۔پاکستان کومدینہ جیسی ریاست بناناہے تو موجودہ ماحول کوچھوڑ کر مدینہ والاماحول تیار کریں۔
ہم نے نبی اکرم اورصحابہ کرامؓ کی سیرت کے جو واقعات عرض کیے ہیں‘یہ اس وقت کے ہیں جب ابھی زکوٰة فرض نہیں ہوئی تھی۔حلال وحرام کے ضابطے ابھی لازم نہیں ہوئے تھے‘ اسلامی معیشت کی بنیادیں کیا ہیں‘ ابھی قرآن مجید میں اس کے بارے میں ہدایات نہیں اتری تھیں‘یہ مدنی زندگی کا بالکل ابتدائی دورتھا۔چنانچہ پہلے مرحلے پر مہاجرین اور انصارکے درمیان م¶اخات کا سلسلہ قائم کیاگیا….تربیت کاماحول بنایاگیا۔سچی بات ہے کہ آج بھی کرنے والاپہلاکام یہی ہے ‘تربیت کریں‘تربیت گاہیں بنائیں‘نبی کی سب سے پہلی تربیت گاہ مسجد تھی۔نبی نے مدینہ آکر سب سے پہلے مسجدبنائی۔ مسجد کے ساتھ چھوٹے چھوٹے سادہ گھربنائے گئے۔ آج ہم کئی کئی کنال اور ایکڑوں کے گھر بناتے ہیں اور دنیا بھر کی آرائشیں وہاں جمع کرتے ہیں۔ہماری بربادی کی اصل وجہ یہی پر تعیش رہن سہن ہے۔مدینہ کی ریاست میں مسجد بھی کچی، گھربھی سادہ ‘چھوٹے اور کچے تھے۔کھجور کے پتے ڈال ڈال کر مسجدکی چھت بنائی گئی۔یہ نبی کی مسجد کاحال تھا۔ان مسجدوں میںکیے گئے سجدے اللہ کو بڑے پسندتھے۔
اس طرح مدینہ میں ایک ایسامعاشرہ تشکیل پایا جس کی بنیاد اللہ کی رضا تھی لیکن ہمارا معیار کیاہے ‘ ہم کس کی رضاچاہتے ہیں۔ہمارا معیاریہ ہے کہ اگرامریکہ ہم سے خوش ہے توملک میں خوشحالی آئے‘ امداد بھی ملے گی‘ معاہدے بھی چلیں گے‘ دنیا بھی ساتھ دے گی۔مغربی ملکوں سے بھی سہولتیں بھی ملیں گی۔ آئی ایم ایف اور ورلڈبنک سے قرضے بھی ملیں گے۔
برادران اسلام!آیئے دیکھتے ہیںریاست مدینہ کا معیار کیاتھا۔ ریاست مدینہ کی کامیابی کامعیار اس بات پرتھا کہ تم سے اللہ راضی ہے ۔۔۔۔یانہیں۔© یہ ہے کامیابی کی بنیاداور اصل فرق جوہم بھول چکے ہیں۔
جب مدینہ میں نبی آئے تووہاں سب سے پہلے مسجد تعمیر کی اور‘دوسری طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کوا نس بن مالکؓ کے گھر میں جمع کیاوہاں آپ نے انصار ومہاجرین کے درمیان م¶اخات کاایک سلسلہ قائم کیا۔ ایک وثیقہ لکھااس وثیقہ میںبسم اللہ لکھنے کے بعد جوپہلی سطرلکھی‘ آیئے!ہم اس کا مطالعہ کریں۔ وثیقہ کی پہلی سطر یہ تھی ”یہ وثیقہ نئے اسلامی معاشرے کی تشکیل کی بنیادہے“۔ اس میں اللہ کے نبی لکھوارہے ہیں کہ یہ انصارومہاجرین جو لاالٰہ الااللہ کی بنیاد پر ‘ایک کلمے کی بنیاد پر مسلمان بن کے مدینہ میں اکٹھے ہوئے ہیں‘ان سب کی حیثیت ایک امت کی ہوگی۔ آج کے بعد نہ کوئی انصاری ہے نہ کوئی مہاجرہے نہ کوئی کسی قبیلے کی بات کرے گا‘نہ اپنے خاندان کی عظمت کی بات کرے گا‘سب مسلمان ایک امت ہیں۔حضرت بلالؓ غلام تھے،حبشہ سے بکتے ہوئے آئے‘ ان کا سوشل سٹیٹس حضرت ابوبکرؓ کاسٹیٹس اورباقی سب مسلمانوں کاسٹیٹس ایک قراردیاگیا۔یہاں تک کہ خاندانوں‘ قبیلوں‘ علاقوں کافرق ختم کردیاگیا‘ میں فلاں علاقے سے ہوں‘میرا علاقہ اونچاہے‘ میراصوبہ بڑاہے‘ میرا خاندان اونچا ہے‘یہ سب فرق کلمے نے ختم کردیے۔ یہ سب وثیقہ کی پہلی سطرکی برکت تھی جس کے مطابق مدینہ کی ریاست تشکیل دی گئی۔ اللہ کے نبی نے یہ سب لکھوایااورتحریرکروایا حالانکہ اللہ کے نبی جو زبان سے کہتے ‘ وہی کافی ہوتا تھااورصحابہ کرامؓکے دلوں میں سیدھا اترتا چلاجاتاتھا۔
میں سمجھتاہوں کہ میرے رب نے اس میں حکمت یہ اختیارکی کہ نبی کے لکھوانے سے ایک دستاویز تیارہو جائے۔صحیح بخاری اوراحادیث کی دیگر کتابوں میں نبی کی یہ تحریریں محفوظ ہوجائیں تاکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے رہنما بن جائیں۔اسلام میں فوقیت تقویٰ والے کو حاصل ہے۔ جب اسلامی ریاست میں یہ معیار و کردار ہوگا توپھرانشاءاللہ پاکستان مدینہ کی ریاست بن جائے گا ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران،امراءوزرا ءبھوک ،تکلیفیں اورمشقتیں اٹھانے کے لیے تیارنہیں۔وہ قوم سے قربانی کامطالبہ توکرتے ہیں خودقربانی نہیں دیتے۔ ہمارے حکمرانوں کے قول وفعل کایہ تضادپاکستان کوفلاحی ریاست بنانے میںسب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
مدینہ منورہ میں یہاں سے ہزار گنازیادہ غربت تھی لیکن اتنے سخت معاشی حالات میں بھی کسی سے بھیک نہ مانگی ۔ اللہ نے ہمارے جوانوں کو جو قوّت بخشی ہے‘ قربانی وشہادت کے جوجذبے عطا فرمائے ہیں‘ واللہ! ایسی قوت دنیامیں نہ کسی فوج میںہے نہ معاشرے میں۔اللہ نے اس ملک کوبہت کچھ دیاہے۔ اس ملک کو صرف ایک سچے اوراللہ سے ڈرنے والے حکمران کی ضرورت ہے جونبی اکرم کی سیرت کے مطابق تربیت کر کے اس ملک کو‘معاشرے کو اور مسلمانوں کو تیارکرے۔ہم اپنے حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ اگرآپ پاکستان کومعاشی مسائل سے نکالنا،معیشت بہترکرناسودی قرضوں سے جان چھڑانا اوریہاں مدینے والا معاشرہ قائم کرناچاہتے ہیں توپھر اپنے تربیتی تعلیمی اداروںمیں پڑھائے جانے والے نصابوں کی اصلاح کرنا ہو گی۔
(کالم نگارامیرجماعت الدعوة پاکستان ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved