تازہ تر ین

افغان طالبان جیت گئے ؟

کامران گورائیہ
امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے لیکن چند روز قبل طالبان کی جانب سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ آئندہ مذاکرات سعودی عرب کی بجائے قطر میں ہونگے۔ طالبان کے اس مطالبہ کو امریکا نے بھی تسلیم کر لیا ۔ روس ، پاکستان اور سعودی عرب سمیت جہاں کہیں بھی افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات ہوئے گو کہ وہ نتیجہ خیز تو ثابت نہ ہوسکے مگر افغان طالبان سمیت فریقین اس بات پر اب بھی آمادہ ہیں کہ امن مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ افغانستان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجہ میں ہی افغان طالبان امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہوئے تھے ۔ امریکا اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں افغان حکومت کے کردار کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی بلکہ چند روز قبل افغان طالبان نے اپنی حکومت کی موجودگی میں ہی کہاامریکا سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس دن سے اقتدار سنبھالا ہے تب سے انہیں امریکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی بری طرح سے کھٹکتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی سے ناصرف امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں بلکہ ان پر کروڑوں روپے سالانہ بھی خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ افغانستان کے انتظامی امور چلانے کے لیے بھی امریکا کو اربوں ڈالر افغانستان کو دینا پڑتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان میں تعینات سابق امریکی کمانڈر نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ امریکا افغانستان میں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا اس لیے ضروری ہے کہ امریکی افواج کو بلا تاخیر واپس بلوالیا جائے ۔
طالبان افغانستان میں ایک بار پھر طاقتور ہو رہے ہیں وہ ناصرف بہت سارے افغان شہروں پر قابض ہو چکے ہیں بلکہ آئے روز مختلف فوجی چوکیوں اور سکیورٹی اداروں پر حملے کر رہے ہیں جس سے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ امریکا کے لیے افغانستان میں رہنا گلے میں پھنسی ہوئی ہڈی کی طرح جیسا مسئلہ بن چکا ہے اسی لیے وہ افغانستان سے با عزت طور پر اپنی افواج کا انخلا چاہتا ہے۔ غالباً اسی خواہش کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو خط لکھ کر افغانستان کے مسئلہ پر تعاون کی درخواست کی تھی ۔ ٹرمپ کے خط کے جواب میں پاکستان نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے کردار کو تسلیم کرنے پر زور بھی دیا ۔ چین ، روس، ایران، سعودی عرب سمیت بہت سے دیگر ممالک دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کے معترف ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پاکستان نے نا صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانی و مالی قربانیاں دیں بلکہ دہشتگردی کے خاتمہ میں حوصلہ افزا حد تک کامیابی بھی حاصل کر لی ہے۔ پاکستانی افواج آج بھی دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے حالت جنگ میں ہےں مگر امریکا نے کبھی بھی پاکستان کی قربانیوں کو فراخدلی سے قبول نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ڈو مور کا مطالبہ دہرایا۔ طالبان نے پاکستان کی ثالثی میں جس دن سے امریکا سے براہ راست مذاکرات شروع کیے ہیں اس دن سے دنیا بھر میں پاکستان کی عزت و توقیر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکا مذاکراتی عمل کے سلسلہ میں طالبان کے تمام مطالبات تسلیم کرتا چلا آ رہا ہے جسے طالبان کی عارضی کامیابی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا خیر مقدم کرنے والے ممالک میں روس، برطانیہ، چین اور سعودی عرب سمیت بہت سے دیگر ممالک شامل ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اس مذاکراتی عمل میں پاکستان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے عزت و قار اور اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ، دنیا بھر میں امن کے خواہش مند تمام ممالک نے امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات شروع کروانے میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کی صدق دل سے تعریف کی ۔ یہ ایک ایسا سنہری موقع ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان جو اپنے اولین خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ اب یہ ملک امریکا سمیت کسی کی جنگ نہیں لڑے گا کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس ملک کے حق میں بھی امریکا سمیت تمام اثرو رسوخ رکھنے والے ممالک سے مطالبات منوائےں ۔ پاکستان کو ناصرف افغانستان میں امن و امان کے دیر پا قیام سے دلچسپی ہے بلکہ اسے اقتصادی و معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ جہاں طالبان کھل کر اپنے مطالبات منوا رہے ہیں وہاں پر پاکستان بھی امریکا سمیت دنیا سے جیو اور جینے دو کا مطالبہ کرے کیونکہ اب یہ ملک زیادہ دیر تک دہشت گردی ، بدامنی اور معاشی بدحالی کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔
پاکستان کو امریکا سے تعلقات بہتر بنانے چاہئیں، یہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے مگر اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کے لیے بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا باعث بنے ہوئے ہے۔ یہی نہیں جب پاکستان نے امریکا کے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کروایا ہے تو پھر امریکا بھی مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لیے بھارت پر دبا ڈالے کیونکہ اس دیرینہ مسئلہ کی وجہ سے خطے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اگر مسئلہ کشمیر کا مستقل حل نہیں نکالا جائے گا تو افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات نتیجہ خیز تو ثابت ہو جائیں گے مگر انہیں دیر پا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور مظالم کا سلسلہ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ انسانیت سوز سلوک کی انتہا کر دی گئی ہے۔ مقبوضہ وادی کے مسلمانوں پر زندگی کا ایک ایک لمحہ جینا مشکل سے مشکل ہو رہا ہے مگر امریکا سمیت دنیا کے تمام ممالک اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی وہ تمام تنظیمیں بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ بھارتی افواج کے مظالم سے مقبوضہ وادی لہو لہو ہو چکی ہے مگر بھارت سے آزادی کے متوالوں کا جوش و خروش دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور وہ اب اپنی تحریک کو کسی نتیجہ پر پہنچا کر ہی دم لینا چاہتے ہیں۔ اس لیے پاکستان خطے میں اپنی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکا سمیت دنیا بھر کے سامنے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا مطالبہ رکھے بلکہ ایل او سی پر بھارت کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیاں بھی رکنی چاہئیں۔ امریکہ سمیت دنیا کے تمام بااثر ممالک کو اس معاملہ پر بھی پاکستان کے مو¿قف کی حمایت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہاں پر ایک بات بہت ہی اہم ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے کہ بھارت افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے مگر کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے ناصرف خطہ میں جاری امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے پاک بھارت تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ افغان طالبان کی جیت اور کامیابی کا مستقبل کیا ہے مگر اس حقیقت سے نظریں چرانا ممکن نہیں کہ وہ قطر میں اپنا مرکز فعال کر چکے ہیں جس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ وہ بھی افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے پاکستان کی ضمانت پر امریکا سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ۔ اس موقع پر حکومت پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کا قبلہ تبدیل کرتے ہوئے اور پاکستان کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکا اور برطانیہ سے اپنے مطالبات کو تسلیم کروانا ہوں گے کیونکہ اس سے بہتر موقع پھر دوبارہ میسر نہیں آئے گا۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved