تازہ تر ین

کشمیریوں کی تحریک آزادی عروج پر(1)

ہلال احمد تانترے….مہمان کالم
جموں و کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے مابین دونوں ملکوں کے یومِ آزادی ہی سے پیدا ہوا، جب جموں و کشمیر کے تاریخی پس منظر، مذہبی رجحان اور جغرافیہ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسے جبری طور پر بھارت کے قبضے میں معلق رکھا گیا۔ بہت سے اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے جد و جہد کر تے رہے۔ لیکن1947ءسے آج تک بھارت، کشمیر میں ایجنٹوں کی خرید کا کھیل کھیلتا رہا ، کبھی جمہوریت کے نام پر اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا، کبھی ترقی کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو فریب دیتا رہا اور پھر مظلوموں کے بنیادی حقوق دینے سے پہلو تہی کرتا رہا۔ 190ءکے عشرے میں جب یہاں کے لوگوں کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ بھارت دھوکے سے کام چلارہا ہے تو کشمیر کے باسیوں نے عسکریت کی راہ اپناتے ہوئے اقوام عالم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔
اکیسویں صدی میں قدم رکھتے ہی کشمیریوں نے حکمت عملی تبدیل کی اور بھارتی رویے سے بغاوت کے طور پر عوامی احتجاج کی راہ اختیار کی۔ لوگ بلالحاظ جنس و عمر گلیو ں کوچوں کا ر±خ کرتے ہوئے پر امن طریقے سے استبداد کے خلاف صداے احتجاج بلند کرتے رہے اور اپنے اخلاقی حق کے مطالبے کو دہراتے رہے۔ پر امن عوامی مظاہرے بھارت کے لیے وبالِ جان ثابت ہوئے، کیوں کہ لوگوں کے پاس نہ کوئی ہتھیار ہے اور نہ کوئی عسکری مواد۔ لیکن ان پرامن مظاہرین کے ساتھ بھی ایساسلوک کیاجا رہا ہے، جیسے کوئی بندوق بردار فرد، انتظامیہ پر حملہ کرنے آرہا ہو۔
اب بھارت ، خاص طور پر نئی دہلی میں برسرِاقتدار حکمران پارٹی کشمیر کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق مختلف شوشے چھوڑ کر عوامی رد ِعمل کو کچلنے کے بہانے تراش رہی ہے۔ اکتوبر2018ءکے دوران اس سلسلے میں ایک باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں اگر کسی قسم کی گڑبڑ ہوئی تو ذمہ داری احتجاجی اپیل کرنے والوں کے کندھے پر ہوگی۔ اس حکم نامے کا مقصد ہند مخالف احتجاج پر قدغن لگانا ہے۔موجودہ حالات کو،2016ءکی ہمہ گیر عوامی لہر کے پس منظر میں سمجھنا مناسب رہے گا۔ برہان مظفر وانی کے جاںبحق ہونے کے بعد، جموں و کشمیر کے طول و عرض میں عوامی احتجاجی لہر کے اثرات، اِس واقعے کو مزاحمتی تحریک میں ایک بڑے سنگ میل کی حیثیت دیتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے تناظرمیں عوامی احتجاجی لہر کی اس نئی تحریک کو اگر’ دورِ ما قبل برہان اورما بعدِ برہان‘ کے دو اَدوار میں تقسیم کیا جائے تو مناسب ہوگا۔ ان اَدوار کی تقسیم کی کئی وجوہ ہیں۔ جن میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اب اگر کہیں حکومتی فورسز کی مڈبھیڑ عسکریت پسندوں سے ہوتی ہے تو وہاں پرعسکریت پسندوںکے حق میں عوامی مظاہرین کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کشمیری نوجوان، بھارت کے جنگی جنون کو دیکھتے اور اس کے مقابلے میں یہ جانتے ہوئے کہ عسکریت پسندوں کی تعداد محض چند درجن نوجوانوں پر مشتمل ہے، دیگر نوجوان عسکریت کی طرف پے در پے مائل ہورہے ہیں۔ سری نگر کے ایک ہفت روزہ انگریزی اخبارنے حال ہی میں ریاستی پولیس کے اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ”اس سال250 کے قریب عسکریت پسندوں کو مارا گیا لیکن ابھی اتنی ہی تعداد میں سرگرمِ عمل ہیں“۔ جموںو کشمیر کی تحریک میں یہ پیش رفت برہان وانی کے جاں بحق ہونے کے بعد ہی دیکھنے کو ملی۔
2016ءکی عوامی لہر، کشمیر کی تاریخِ مزاحمت کی طویل مدتی احتجاجی لہر تھی،جو قریباً چھے مہینوں سے زیادہ وقت تک چلی۔ اس دوران اتحادِ ملت کانفرنسوں، ہڑتالوں ، احتجاجی دھرنوں ، شبینہ مظاہروں اور مختلف کثیرالتعداد پرامن طریقوں سے بھارت کے جابرانہ قبضے کے خلاف ایک منظم آواز اٹھائی گئی۔ اِس پرامن، جمہوری جدوجہد کو بندو ق کی نوک پردبانے کے لیے بھارتی جمہوریت کی فورسز نے100 سے زیادہ نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہزاروں کی تعداد میں مضروب کیے گئے، سیکڑوں پیلٹ (چھروں) سے آنکھوں کی بینائی سے محروم کیے گئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس دوران بھارت کے متعصب میڈیا نے اس عوامی لہر کے خلاف پروپیگنڈے کا نہ تھمنے والا طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ اس عوامی احتجاجی لہر کو دہشت گردی کا نام دینے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ پھر اس کو پاکستان کی پشت پناہی سے جوڑاگیا۔ اس کے بعد اوڑی کے فوجی بیس کیمپ پر حملے کی خود کارسازی کی گئی کہ کسی طرح سے عوامی ابھار کو شوشے کی نذر کیا جائے۔پھر سرجیکل اسٹرائک کا ہنگامہ گھڑکے عوام کو دھوکا دینے کی ناکامیاب کوشش کی گئی۔ اس پر بھی عوامی لہر نہ تھم سکی تو پاکستانی بلتستان کو میڈیا پر ایک فتنے کی صورت پیش کیا گیا۔ اس سے بھی عوامی احتجاج کا سلسلہ نہ رک سکا تو پھر آل پارٹی ڈیلی گیشن کے ذریعے مزاحمتی قائدین کے گھروں پر لایعنی دستک دی۔ وہ مستردہوئی تو مزاحمتی قائدین کے خلاف میڈیا کی عدالتیں بٹھاکر ان کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دی۔ رات کے اندھیروں میں چھاپوں کا سلسلہ شروع کرکے عوامی و مبنی برحق احتجاجی لہر کو دبانے کی ناکام کوشش ہوئی۔ اس کے بعد متنا ز عہ و اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ چلایاگیا۔ کسی نے کہا کہ: ”یہ95 فی صد کے خلاف محض5 فی صد افراد کی مزاحمتی ہنگامہ آرائی ہے“۔ پھر کٹھ پتلی حکومت کی وزیر اعلیٰ نے ڈھٹائی سے کہا کہ: ”لوگوں کا حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں مرنا درست ہے کیوں کہ وہ وہاں مٹھائیاں لینے کے لیے نہیں جاتے“۔ اسی طرح پاکستان کے ساتھ جنگ کا مفروضہ پیش کرکے لوگوں کو اتنا بہکایا کہ کنٹرول لائن اور اس کے ملحقہ دیہات میں جان کی حفاظت کے لیے مورچے تک کھود ڈالے گئے۔ اسی ضمن میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کو میدان میں اتارا اور مزاحمتی لیڈرشپ وتاجران کو ڈرانے، دھمکانے یا پابند سلاسل کرنے کا گر آزمایا گیا، مگر پھر بھی عوامی بغاوت میںکوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ رفتہ رفتہ کشمیر کی عزت مآب خواتین کے بال تراشنے کے سنسنی خیز عمل کو بھی آزما یا گیا، لیکن کشمیر کے لوگوں نے اس آزمایش سے بھی لڑ کر استبداد کے مذموم مقاصد کو پیوند خاک کیا، اور اپنے مشن کی آبیاری کے لیے ا ٓگے کی طرف بڑھتے چلے گئے۔
گذشتہ دوبرسوں کے دوران ان مثالوں سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ بھارت اپنی بے بسی پر سٹپٹا رہا ہے اور اقوام عالم کے ایوانوں میں دھوکا دہی کا معاملہ کر رہا ہے۔2018ءکا سال اس حوالے سے سخت خون خرابے کی نذر ہو گیا۔ وردی پوش اہلکاروں نے کشمیریوں کی ایک کثیر تعداد کو جرمِ بے گناہی کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بھارتی جمہوریت نے جہاں ڈیڑھ سالہ ہبہ نامی بچی کی معصوم آنکھوں پر پیلٹ گن سے وار کرکے بینائی چھین لی، وہیں خواتین سمیت نوجوانوں اور بزرگوں کی ایک کثیر تعداد کو بھارت کی مختلف جیلوں میں ٹھونس دیا اور مختلف کالے قوانین میں جکڑکر ان سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ ایک غیر سرکاری انجمن کی طرف سے10 دسمبر2018ءکو ایک تقریب میں جاری کردہ رپورٹ بعنوان خون میں لت پت وادی میں اعداد و شمار کی زبانی کہا گیا کہ: گذشتہ برس میں وادی میں آٹھ خواتین سمیت 103 عام شہریوں کو فورسز اور نامعلوم بندوق برداروں نے نشانہ بنایا، اور کچھ شہری مظاہروں کی جگہ بارودی مواد پھٹنے کے نتیجے میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پھر واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ ”2010ءکے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سنگین اضافہ ہوا ہے“۔ رپورٹ کے مطابق ”عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان مختلف خونیں معرکہ آرائیوں کے دوران جاے وقوع کے نزدیک 40نہتے شہری لقمہ اجل بن گئے، جب کہ ایک طالبہ اور آٹھ خواتین جن میں ایک حاملہ خاتون بھی تھی، جاں بحق ہوئے۔ علاوہ ازیں نامعلوم بندوق برداروں نے بھی16شہریوں کو ہلاک کیا اور دو بچوں سمیت آٹھ شہری آتشیں مواد کے پھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ مرنے والوں میں مزاحمتی کیمپ کے سات سیاسی کارکنان بھی شامل ہیں، حتیٰ کہ دماغی طور پر معذور دو افراد کو بھی نہیں بخشا گیا۔اس دوران احتجاجی مظاہروں میں شریک دونوجوانوں کو فورسز نے گاڑیوں کے نیچے کچل کر ہلاک کردیا۔ کشمیر کے ایک معروف صحافی اور مقامی انگریزی روزنامہRising Kashmir کے مدیر اعلیٰ شجاعت بخاری کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولیوں کا نشانہ بنایا“۔ (جاری ہے)
(بشکریہ: ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved