تازہ تر ین

بدعنوانی‘ ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ

عابد کمالوی…. حلقہ¿ زنجیر
ہمارے خیال میں ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بدعنوانی ہے۔ 72 سال ہونے کو آئے ہیں کسی بڑے بدعنوان بیوروکریٹ، سیاستدان سرکاری عہدہ رکھنے والے اور عوام الناس کے پیسے ہضم کر نے والے کو نشان عبرت بنا دیا جاتا تو شاید بدعنوانی کی برائی اگر ختم نہ ہوتی تو بہت کم توہوجاتی ۔ افسر شاہی اور سرکاری مناصب پر فائز کرپٹ افراد سے لوٹی ہوئی رقم سے متعلق تحقیقات اور سزائیں دینے کے لئے محکمہ انسداد رشوت ستانی ،ایف آئی اے ،اور پھر قومی ادارہ برائے احتساب یعنی نیب سرفہرست ہیں اس کے علاوہ بھی دیگر ایجنسیاں اس کھوج میں لگی رہتی ہیں کہ کون کیا کر رہا ہے ؟کون ماضی میں کیا تھا اور اب کیا ہے۔؟
پاکستانیات کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی معاشی ترقی، صنعت و حرفت اور دوسرے شعبوں کی پیشرفت اور اس میں مخلصانہ طریقے سے ملک کی خدمت کرنے والے افراد کی سر گرمیوں پر گہری نظر رکھتا ہوں شاید قدرت اللہ شہاب کے حوالے سے پڑھ رہا تھا کہ جب ایوب خان نے زمام اقتدار سنبھالا تو اس نے طے شدہ پروگرام کے مطابق متعدد کمیٹیاں اور کمیشن تشکیل دئیے‘ ان کمیٹیوں میں ایک ایڈمنسٹریٹو آرگنائزیشن کمیٹی بھی قائم کی گئی جس کی ذمہ داریوں میں اعلیٰ سروسز کے انتظامی ڈھانچے کی تنظیم نو اور دوسرے امور شامل تھے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین کو ایک مراسلے میں یہ تجویز دی گئی کہ سروسز کے مختلف شعبوںمثلا کسٹم، پولیس، انکم ٹیکس، ایریگیشن ،پبلک ہیلتھ ،صحت ،تعلیم خواہ وہ وفاق کے زیر انتظام ہو یا صوبے میں کام کر رہے ہوں‘ کے ذمہ دار افسران سے غیرمشروط اور بغیر تاریخ کے استعفے لے لیے جائیں ۔۔پھر جب کسی افسر کے خلاف رشوت کے پختہ ثبوت مل جائیں یا وہ اس سلسلے میں عوامی سطح پر بد نام ہو جائے تو اسے فی الفور نوکری سے فارغ کردیا جائے۔ چنانچہ مراسلہ لکھنے والے افسر نے خود کو بارش کا پہلا قطرہ ثابت کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ بھی اس خط کے ہمراہ لف کردیا‘ جب یہ مراسلہ چھوٹے بڑے افسران کے پاس پہنچا تو انہوں نے اسے شرارت اور سازش پر محمول کیا جس کے نتیجے میں یہ تاریخی تجویز دب کر رہ گئی اور اس کے ساتھ بھی و ہی سلوک ہوا جو شروع دن سے سا زش اور شرارت کے ساتھ ہوتا رہاہے۔ قارئین عزیز ! بظاہر تو یہ ایک معمولی تجویز تھی جس سے حکومت کو یہ اختیارات مل جاتے کہ جب کسی افسر کو چاہا تو اسے نوکری سے نکال دیا اور اسے دفاع کا موقع بھی نہیں دیا گیا لیکن اس سے ہونا یہ تھا کہ دو چار افسروں کے فارغ کیے جانے پر ایک تھڑ تھلی مچتی اور دوسرے اس سے عبرت پکڑتے۔
قارئین !یہ بھی کوئی اتنی پرانی بات نہیں، کل جو اپنی دھواں دار تقریروں میں ڈائس پر رکھے ہو ئے مائیکس کو الٹا کر یہ کہتے ”زرداری سن لو تم سے کرپشن کا پیسہ نکلوانے کے لئے سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور تمہارے پیٹ سے لوٹا ہوا پیسہ نکلوا کر اسے قوم پر نچھاور کردینگے“لیکن آج وہ لوگ خود اللہ کی پکڑ میں آ گئے ہیں ‘ان پر اربوں روپے لوٹنے کے الزامات ہیں‘ یہی نیب جو سابقہ حکمرانوں کے دور میں بھی موجود تھا اور اس کے چیئرمین کی تقرری میں اس وقت کی مسلم لیگ نون کی حکومت اور اپوزیشن کی منشا شامل تھی اسی پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو جھوٹ کے پلندے کہا جا رہا ہے اور جن کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ان کی باتیں اور بیانات سن کر یہ شعر یاد آ رہا ہے؛۔
یہ کیسا دور آیا ہے کہ ظالم شخص بھی خود کو
بہت مجبور کہتا ہے بہت مظلوم کہتا ہے
دوسری جانب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں آنے سے پہلے کی اور بعد کی بھی وہ تقاریر یاد آ رہی ہیں جن میں کہہ رہے ہیں کہ۔۔ پاکستان کو ریاست مدینہ میں ڈھالیں گے۔ حضور یہ بیان دینا تو بہت آسان تھا لیکن 70سالہ پاکستان کو نئے پاکستان کی شکل میں بدعنوانی، قبضہ مافیا، منی لانڈرنگ ،رشوت ،سفارش،بے روزگاری، ذخیرہ اندوزی، لوٹ مار اور دوسری سماجی برائیوں سے پاک بنا کر پیش کرنے کا سفر معمولی یا آسان نہیں بلکہ اس میں جان مال اور اپنی خواہشات کھپانا پڑتی ہیں ہم نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو لشکرِ اسلام کی سپہ سالاری کے عہدے سے معزول کیا تو خالد دل گرفتہ ضرور تھے کہ اللہ کی تلوار نیام میں جا رہی تھی اور شہادت کی تمنا خواب بن رہی تھی مگر حکم عدولی کی جر ا¿ ت نہ ہو سکی اور پھر جب عمر فاروقؓ نے جناب عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو گورنری کے عہدے سے سبکدوش کیا تو جناب رسالت مآب کی نگاہوں میں عمارؓ© کی بطور ایک جید صحابی کی قدرومنزلت بھی انہیں یاد آئی پوچھا کہ؛ تم میرے اقدام سے خفا تو نہیں ہوئے ۔؛حضرت عمارؓ کا جواب بہت مختصر مگر جامع اور تاریخی تھا فرمایا ”نہ ہی اپنی تقرری پر خوشی ہوئی اور نہ ہی معزول کیے جانے پر رنجیدہ ہو ں تم نے میرے پاس امانت رکھوائی تھی جسے واپس لے لیا اس میں ناراضگی کی کونسی بات ہے “۔
حرفِ آخریہ کہ اپنے اقتدار کے آغازمیں ہی اپوزیشن،ذرائع ابلاغ ،سوشل میڈیااور دوسرے سماجی وسیاسی دباﺅکے گرداب میں پھنسی پی ٹی آئی حکومت کو مملکتِ خدا داد کو ریاست مدینہ کی شکل میں ڈھالنے کے لئے بہت تلخ فیصلے کرنے جیسے مشکل ترین مرحلے درپیش ہیں ۔
(کالم نگار قومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved