تازہ تر ین

”موت کا لمس “

سجاد جہانیہ…. دیکھی سُنی
اس مجہول الاحوال شخص نے عجیب سا سوال کردیا:”تم نے کبھی موت کو چھوا ہے۔۔؟“میں حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا۔اک ذرا توقف، پھر بولا:”کبھی موت کا لمس محسوس کیا ہے۔۔؟“”نہیں، کیسا ہوتا ہے؟“یونہی لطف لینے کو میں نے پوچھا۔”سرد اور سنسناتا ہوا۔ جیسے کم زور تار سے گیارہ ہزار وولٹ کا کرنٹ گزار دیا جائے تو وہ سنسناتی ہے۔ اگر کبھی سن سکو تو بندوق کی نال کو چھوڑ کے سیسہ جیسے سنسناتا ہوا منزل کی جانب بڑھتا ہے، ویسی سنسناہٹ“ میں ہونقوں کی طرح بِٹر بِٹر اس کو دیکھتا رہا۔”یہ لمس بڑا دیرپا ہوتا ہے، قابض ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی خانہ بہ دوش احساس نہیں کہ کچھ دیر کو پڑاﺅ کیا اور پھر بوریا لپیٹ لیا۔ یہ تو ڈیرے ڈال لیتا ہے۔ رہ رہ کے اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے“۔وہ دم لینے کو رکا تو میں نے کہا ”میں تو سمجھا تھا تم صورت سے انٹ شنٹ لگتے ہو مگر تم تو دماغی طور پر بھی ہلے ہوئے ہو۔ مادے کو غیر مادے سے جوڑے دے رہے ہو۔ چھوا مادے کو جاتا ہے، موت کا کون سابدن ہوتا ہے جس کا لمس لیا جائے؟“۔وہ زور سے ہنسا۔ اس کی ہنسی مجھے اس پھوار کی طرح لگی جس نے میرا تن بدن استہزا کے پانی میں بھگو دیا۔ گویا وہ میری جہالت کا لطف لیتا ہو۔”اچھا تم نے چھوا ہے کبھی موت کو۔۔؟“ اس کا سوال میں نے اسی کو لوٹا دیا۔”ہاں نا، میرے تو اندر بسا ہے یہ۔ شب کا بدن دونیم ہوتا ہے تو اِک بوجھل بے چینی کے ساتھ آنکھ کھل جاتی ہے۔ بوجھ ہٹانے کی کوشش میں اِدھر ادھر دو چار کروٹیں لیتا ہوں اور پھر مکمل بیداری۔ تھکی ہوئی، ہانپتی، لمبے لمبے سانس لیتی بیداری۔ یوں لگتا ہے کوئی پکارتا ہے، صدا دیتا ہے کہ اٹھ چھوڑ یہ صحت و آسودگی کا ٹھاٹھ اور رختِ سفر باندھ لے۔”چل میلے نوں چلئے”وہ میلہ جو ازل سے لگا ہے، جہاں سے لوگ نکالے جاتے ہیں اور پھر لوٹا دئے جاتے ہیں۔ ہر دو مرتبہ مجبور و لاچار ہوتے ہیں“۔ اس کے چہرے پر تاسف کی پرچھائیاں تھیں۔ پھر بولا”نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں، ہم کو عبث بدنام کیامیں بڑی کوشش کرتا ہوں کہ پھر سے نیند کے گھاٹ اتر جاﺅں مگر وہ سونے نہیں دیتے۔ وہ جو بقول تمہارے، مادی آنکھ کے لئے نادیدہ ہوتے ہیں مگر احساس کی بصارت پر قطعی واضح، آفتابِ نیم روز کی چمک جیسے نمایاں۔ وہ کہتے ہیں ہم تجھے لینے کو آئے ہیں، ابھی کوئی زبردستی نہیں مگر ایک دن آئیں گے تو خالی ہاتھ نہ لوٹیں گے۔ آخر تجھے لے جانا ہے۔ تب مجھے وہ ٹھنڈا لمس اپنے بدن، ہاں اسی مادی بدن، کے پور پور پر محسوس ہوتا ہے۔ مساموں کے راستے اندر اترتا ہوا لمس۔ یہ موت کا لمس ہوتا ہے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ چل دینے کا اذن دیتا لمس“
اس کے جھاڑ جھنکار چہرے پر لمحے بھر کو خوف کا سایہ کسی لڑکھڑاتے شرابی کی طرح لہرا کے گزر گیا۔اب میں نے اپنی مسکراہٹ اور آواز کو استہزا کا تڑکا لگایا”تم ڈرتے ہو موت سے۔۔؟ جب اس سے فرار ممکن ہی نہیں تو پھر ڈر کیسا“۔”تم چاہو تو اسے ڈر کہہ سکتے ہو مگر وہ ڈر نہیں، اس کے اریب قریب کا کوئی احساس ہے۔ پتہ نہیں اس احساس کا نام کسی لغت میں درج ہے یا نہیں۔ بہر حال، میرے ساتھ کچھ زندگیاں جڑی ہیں جن کا نگران و نگہبان مجھے بنایا گیا ہے۔ صدیوں کی گود میں پرورش پا کر بالغ ہوئے انسانی شعور نے اور الہامی احکامات نے یہ نگہبانی مجھے سونپی ہے۔ ان کا حق ہے مجھ پر۔ وہ میری سوچوں کا محور ہیں، میری ترجیحات کی فہرست میں سب سے اولیٰ۔ان نادیدہ وجودوں کی پکار پر مجھے سب بےکار لگنے لگتا ہے۔ یہ روز و شب کا دورانیہ، اس میں بندھی زندگی اور روز مرہ کی جدوجہد، بھاگ دوڑ۔ زندگی میں آگے بڑھنے کی جاں توڑ کوششیں۔ ہل مِن مزید کی خواہش۔ ترقی کی دھن بلکہ جنون۔ سب سمیٹ لینے کی سعی۔ یہ سب مجھے بےکار لگنے لگتا ہے۔ بودا، کھوکھلا اور بے مصرف۔ گزرے ہوئے دنوں کی ساری بھاگ دوڑ ایک کارِ فضول لگتی ہے، سراب کے پیچھے ہلکان ہوتے کسی بے حال مسافر کی مثال۔ اسبابِ دنیا کی محبت سے لے کر انسانوں سے کی جانے والی محبت و عداوت سب بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔پھر مجھے یہ فکر گھیر لیتی ہے کہ میں یہاں کیوں ہوں۔۔؟ یہ نادیدہ وجود جو مجھے پکارتے ہیں، یہ کہاں لے جانے کو آتے ہیں؟ وہ کون دیار ہے اور کون جگہ؟ کیسا دیس ہے وہ اور کیسی فضائیں؟ ممکن ہے وہاں کی راتیں اجنبی ہوں یا شاید ان سے میری پرانی آشنائی ہو۔ مجھے کچھ یاد نہیں۔ مادے کے بوجھ تلے دب کے سب بھول گیا ہوں۔ جو بھی ہے، یہ مجھے سونے کیوں نہیں دیتے۔ جاڑوں کی طویل، خاموش سناٹے بھری راتوں میں تو یہ بہت زچ کرتے ہیں“ بولتے بولتے وہ روہانسا ہوگیا۔”کب سے ہے یہ مسئلہ تمہارے ساتھ۔۔؟“ اب مجھے اس پر ترس آنے لگا۔”پتہ نہیں۔ وہ جہاں سے آتے ہیں، وہاں وقت نام کی کسی شے کا وجود نہیں سو مجھے نہیں معلوم۔ ان کی موجودگی وقت کو بھی موت آشنا کردیتی ہے۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ ایک زمانہ تھا جب ایسی سرد راتوں کی طوالت مجھے اپنے کمبل کی فصیل میں آسودگی بھری بے فکری سے سویا ہوا پاتی تھی۔ سویرے بھی خود کو کھینچ کھانچ کر نیند کے انبار تلے سے نکالا کرتا تھا۔ مگر اب۔۔۔ اب تو میری نیند کسی گیس بھرے غبارے کی طرح بستر سے اٹھ کر خلاﺅں میں بولائی پھرتی ہے۔“
وہ سر جھکا کے خاموش ہوگیا۔ اب مجھے اس پر ترس آنے لگا۔ پھر بولا:”زندگی کیا ہے، موت کیا ہوتی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن میں ایک ہی وقت میں دونوں کا لمس پاتا ہوں۔ آگ اور پانی ایک دوسرے سے پہلو ملائے بیٹھے ہیں میرے اندر۔ نہ آگ بجھتی ہے نہ پانی ہی بھاپ بن کے اڑتا ہے۔ پانچ حواس بہرحال زندگی کا تعارف تو ہیں، وہ لمس کیا ہے جو راتوں کو سونے نہیں دیتا۔ تنگ آ کے میں موت کی تعاقب میں نکلا۔ دانش والوں سے، علم والوں سے پوچھا۔ اتنی متضاد آرا، اس قدر مختلف نکتہ ہائے نظر۔۔!! میں مزید الجھن کا شکار ہوگیا“وہ رکا اور پھر رازدارانہ لہجے میں بولا:”تمہیں ایک بات بتاﺅں، کسی کو بھی نہیں پتہ حیات کیا ہے، موت کیا ہے۔ کس نگر سے آئے ہیں اور کس دیس جانا ہے۔ سب اندازے لگاتے ہیں اور اپنا اپنا سچ لئے پھرتے ہیں۔ سائنس اور روحانیت دونوں کی عمارت قیافوں پر کھڑی ہے اور بے انتہا محدود علم کی بنیاد پر قائم کئے گئے گمانوں پر“۔”تم اس قدر الجھن اور اذیت میں ہو، ہروقت موت کا لمس اٹھائے پھرتے ہو تو موت کو خود سے بڑھ کر گلے کیوں نہیں لگا لیتے؟ مکتی پاجا، اس پردے کے پار کون دیس اور کون دیار ہیں، دیکھ لو جاکے، اس اذیت سے تو نکل آ گے کم از کم“۔ میں نے کہااس نے چونک کے میری طرف دیکھا، کچھ دیر گھورتا رہا پھر بولا: ” یار تم تو واقعی گھامڑ ہو، نرے احمق۔ ہے تو خیر یہ بھی گمان ہی مگر یقین کی سرحدوں کے آس پاس چہل قدمی کرتا ہوا گمان۔ یاد رکھنا، زندگی کی فصیل کو ازخود توڑ کے نکلنے والے لامحدود مدت تک اذیت لئے بھٹکتے رہتے ہیں۔ اگلے دیسوں کی سیر وہی دیکھتے ہیں جو طبعی عمر کو بوسیدہ کر کے حصار جاں سے نکلتے ہیں۔ خیر! میں تو اس عذاب میں گرفتار ہوں، تم خود کو بچائے رکھنا۔ موت کو اور اس کے لمس کو حواس پر سوار نہ ہونے دینا۔ میرے جیسی کیفیت تم پر سواری کی کوشش کرے تو اس کی کھوج نہ کرنا، اس خیال کو بٹانے کا چارہ کرنے پر توانائیاں خرچ کرنا۔ موت کی تلاش میں حتمی جواب کوئی نہیں ملتا۔ بس جب جانا ہی مقدر ٹھہرا تو جب جائیں گے دیکھ لیں گے کہ وہ کیسا دیار ہے۔جب میں نے تم سے موت کے لمس کا پوچھا تو میرا مقصد تمہارا امتحان لینا نہیں تھا۔ یہی کہنا تھا کہ اگر اس کے لمس بردار تمہارے اردگرد بھٹکتے ہےں تو اس کو زیادہ قریب نہ پھٹکنے دینا۔ بس ان سے کھیلتے رہنا کہ ہاں مجھے تم یاد ہو“۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved