تازہ تر ین

سکیورٹی یقین دہانی پر فنچ خواجہ پاکستان آنے پر رضامند

سڈنی(آئی این پی) آسٹریلوی کرکٹر ایرون فنچ اور پاکستانی نژاد عثمان خواجہ نے پاکستان میں کھیلنے پررضامندی ظاہر کردی مگر میچزکھیلنے سے متعلق فیصلے کا اختیار آسٹریلوی کر کٹ بورڈ کے اوپر چھوڑ دیا۔آسٹریلوی ون ڈے ٹیم کے کپتان ایرون فنچ نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کو خوش آئند قرار دیدیا ہے۔عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہوا، مجھے وہاں جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،حتمی فیصلہ کرکٹ آسٹریلیا نے کرنا ہے۔ اوپنر ایرون فنچ کا کہنا ہے کہ یواے ای کے اسٹیڈیمز تماشائیوں سے خالی ہوتے ہیں ، پاکستان میں میچز ہوں گے تو یقینی طور پر اسٹیڈیمز میں ایک سیٹ بھی خالی نہیں ملے گی۔آسٹریلوی میڈیا کےمطابق کینگروز کے پاکستان میں جاکر کھیلنے کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پانچ میں سے دو میچز لاہور یا کراچی میں کھیلنے کی خواہش ظاہر کررکھی ہے۔کرکٹ آسٹریلیا نے مثبت اشارے ضرور دیے ہیں لیکن ابھی تک شیڈول کو حتمی شکل دینے سے گریزاں ہے، اوپنر ایرون فنچ اور عثمان خواجہ نے پاکستان جاکر کھیلنے کا معاملہ کرکٹ آسٹریلیا پر چھوڑ رکھاہے، ایرون فنچ کا کہنا ہے کہ یواے ای کے اسٹیڈیمز تماشائیوں سے خالی ہوتے ہیں جب کہ پاکستانی فینز اپنی سرزمین پر کرکٹ میچز دیکھنے کے لیے بہت پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔

، اگر پاکستان میں میچز ہوں تو یہ ان سب کے لیے اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے، جب بھی وہاں پر میچز ہوں گے تو یقینی طور پر اسٹیڈیمز میں ایک سیٹ بھی خالی نہیں ملے گی۔عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ میں پاکستان میں پیدا ہوا، مجھے وہاں جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن حتمی فیصلہ کرکٹ آسٹریلیا نے کرنا ہے اور جیسا وہ کہیں گے، اس کے مطابق ہی ہم نے میچز کھیلنا ہیں، وہ ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ اس بارے میں کیا بہتر فیصلہ ہوگا۔آسٹریلوی میڈیا کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو کیوین روبرٹس نے چند دن پہلے یہ واضح کیاتھا کہ ہم کھلاڑیوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ماہرین کی مشاورت سے ہی معاملات کو فائنل کریں گے۔واضح رہے کہ 2017میں تین آسٹریلوی کرکٹرز ٹم پین، بن کٹنگ اور جارج بیلے ورلڈ الیون کی طرف سے پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں جب کہ کرس لین پی ایس ایل کے میچز پاکستان میں کھیل چکے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved