تازہ تر ین

کشمیریوں کی تحریک آزادی عروج پر(2)

احمد تانترے….مہمان کالم
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حکومتی ذرائع اور اخباری اطلاعات کے اعدادوشمار کے مطابق: ”سال گزشتہ میں (17 دسمبر تک) کشمیر میں250سے زائد عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا، اسی طرح حکومتی فورسز کے 90اہلکار بھی ہلاک ہوئے“۔ عسکریت پسندوں میں صدام پڈر، سمیر ٹائیگر، الطاف کاچرو، توصیف شیخ، عمر گنائی، نوید جٹ کے علاوہ کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی جاں بحق ہوئے،جن میں پروفیسر رافی، ڈاکٹر منان وانی اور ڈاکٹر سبزار احمد صوفی قابلِ ذکر ہیں۔ 9دسمبر کو جب انسانی حقوق کا دن منانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں، وہیں کشمیر میں سرینگر کے مضافات میں2 نوعمر عسکریت پسندوں سمیت3 نوجوان جاں بحق ہوئے۔ ان میں ایک کانام مدثر احمد تھا جو محض14 سال اور نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ دوسرا نوجوان ثاقب بلال 17سال کی عمر اور بارھویں جماعت کا طالب علم تھا۔حیران کن طور پر ثاقب بلال نے کشمیر کے مسئلے پر بنائی گئی بالی وڈ فلم ’حیدر ‘ میں کردار بھی ادا کیا تھا۔13 دسمبر کو سوپور کے علاقے میں مزید دو عسکریت پسند جاں بحق ہوئے، جن میں ایک نے سائنس میں گریجویشن کی تھی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے پیشہ ورانہ کورس سے بھی فارغ التحصیل تھے۔ اس دوران 15دسمبر کو کشمیر میں اس وقت قیامت صغریٰ برپا کر دی گئی، جب3 عسکریت پسندوں کے حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے کے بعد علاقے میں عام شہریوں پر براہِ راست فائرنگ کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سات نوجوانوںکو بھارتی افواج نے موت کا نوالہ بنا دیا اور 60سے زیادہ افراد کو زخمی کردیا۔ ان میں23 سالہ عابد حسین ایم بی اے گریجویٹ تھے اور انڈونیشیا میں روزی کما رہے تھے اور وہیں ایک مقامی لڑکی سے شادی کی تھی۔ عابد اپنے پیچھے بیوی سمیت تین ماہ کی بچی زَیناکو چھوڑ گئے۔ دوسرے نوجوان لیاقت احمد نے گھر سے اسکول کے لیے داخلہ فیس لے کر ضلع پلوامہ کا رخ کیا تھا، لیکن حالات کی خرابی کی وجہ سے گھر کی طرف واپسی کی راہ لی، جہاں وہ گولی کا نشانہ بنے۔تیسرے نوجوان سہیل احمد نے نویںجماعت پاس کرکے حال ہی میں دسویں جماعت میں داخلہ لیا تھا۔ چوتھا نوجوان عامر احمد اپنے والد کا اکلوتا بیٹا تھا۔ پانچویں نوجوان اویس یوسف بارھویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ چھٹے نوجوان کی شناخت توصیف احمد کے طور پر ہوئی، جو پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ پھر ساتویں نوجوان عاقب بشیر جو کہ محض14سال کی عمر اور ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عاقب بشیر کے والد مقامی ہسپتال سے گزر رہے تھے کہ ان کو خیال آیا کہ زخمیوں کی عیادت کروں اور خون کا عطیہ دوں۔ وہاں زخمیوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے ان پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی، جب وہ وہاں پر اپنے بیٹے کی نعش دیکھ کر چلّا اٹھے کہ ”یہ ہو چھ میون نیچو ! “(یہ تو میر ا بیٹا ہے!)۔ عسکریت پسندوں کی شناخت ظہور احمد، عدنا ن حمید اور بلال احمد کے طور پر ہوئی۔ ظہور احمد نے مقامی آرمی کے ایک یونٹ سے2017ءمیں فرار ہوکر عسکریت کی راہ اختیار کی تھی۔ ان میں24سالہ عدنان، 19 سالہ بلال بھی تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کب تک یہ خون کی ہولی کھیلتا رہے گا؟ کیاایسی دھونس، دباﺅ اور جبر و تشدد کی پالیسی سے کشمیریوں کو زیر کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ متنازعہ خطے میں مظالم ڈھانے یا مار دھاڑ کی کارروائیاں عمل میں لانے سے کسی بھی انسان کو آزادی اور انصاف کے حصول سے روکا نہیں جا سکتا۔ پھر، جب کشمیر کے لوگ اپنے حق کی خاطر قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیںکرتے، تو دنیا کی کوئی طاقت ان سے اِس حق کو بھلا دینے کا کیسے تصور کرسکتی ہے؟ اس بات کا قدم قدم پر ثبوت ملتا ہے کہ مقامی لوگ، عسکریت پسندوں اور حکومتی فورسز کے مابین تصادم کی جگہوں پر، عسکریت پسندوں کو بچانے کی خاطر باہر نکل آتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ انکاﺅنٹر یا تصادم کی جگہوںپر، گولیوں کی گھن گھرج میں کیوں عسکریت پسندوں کو بچانے کی خاطر نکلتے ہیں ؟ اس ’کیوں‘ پر اگر تھوڑا سا غورکیا جائے تو بات یہ سمجھ میں آجاتی ہے کہ عسکریت پسندوںکے ساتھ لوگ اپنی وابستگی کافطری اظہار کرتے ہیں اور ان سے جذبہ عقیدت کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ان کی جانوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ چندنوجوان ہیں جنھوںنے عسکریت کی راہ اپنالی ہے لیکن عام لوگ انھیں اپنے سے دور نہیںسمجھتے، بلکہ تصادم کی جگہوں پر نکل کر وہ اقوامِ عالم کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ: ”اگرچہ بظاہر یہ وہ نوجوان ہی ہیں، لیکن پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے عسکریت پسندوںکو مارنے کے ساتھ ساتھ پہلے ہمارے سینوں پر گولیاں برساﺅ“۔
لوگوںکے اس غیر مبہم رجحان سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ کشمیر کی پوری قوم بھارت نواز سیاست دانوں سے بے زار ہے۔ بھارت اپنی فوجی طاقت کے بل پر بدمست ہو چکا ہے اور کشمیری قوم کے ساتھ بحیثیت مجموعی بر سرِ جنگ ہے۔ کشمیر کے متعلق دہلی کی پالیسی کاحاصل اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ ریاست میں حالات اور زیادہ مخدوش ہو جائیں۔ زمینی صورتِ حال اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیر کی پوری قوم جابرانہ قبضے کے خلاف اپنا تن، من ،دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔
کیا یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی کہ عسکریت پسند جب کسی تصادم آرائی میں پھنس جاتے ہیں اور اپنے والدین سے آخری ملاقات کی خاطر فون پر بات کرتے ہیں تو کشمیر کی عظیم مائیں انھیں دلاسہ دیتی ہیں کہ ”میرے لاڈلے، تم نے نہیں جھکنا، میں نے تمھاری اسی لیے پرورش اور تربیت کی ہے، اسی لیے تو پڑھایالکھایا ہے کہ تیرے سینے پر گولی لگتے دیکھ لوں اور تو اپنے گھر شہادت کا عظیم مرتبہ پاکر آئے، میں تمھیں دولھے کی طرح سجا کر رب ذوالجلال کے حوالے کرنے کے لیے تیاربیٹھی انتظار کروں “۔بیٹا جب ماں سے دنیا میں اس کی کسی حق تلفی کی معافی طلب کرتے ہوئے کہتاہے کہ ”ماں! اب تو میں بھاگتے بھاگتے تھک گیا ہوں، مجھے تو اللہ پاک کا بلاوا آیا ہے اور ہم وہیں ملیں گے“ تو عزیمت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ماں کہتی ہے کہ ” بیٹے! تو مجھے معاف کرنا، مجھے نہیںمعلوم کہ اپنے رب کے راستے میں شہادت دینے کے لیے میں تمھاری تربیت صحیح طور پر کرسکی یا نہیں، میری جان تم پر فدا ہو، جاﺅ! مَیں تم سے وہیں اللہ کی عدالت میںملاقات کروں گی “۔
اپنے مقصد کے لیے نظریاتی و جذباتی وابستگی کی اس انتہا کو دیکھ کر شاید ہی کوئی ذی حِس انسان اس خودفریبی کا شکار ہوسکتا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو دبائے رکھنا ممکن ہے، یا ان کی آواز کو کچل ڈالنا ، انھیں بدنام کرنا، یا انھیں ان کے مقصد سے دور کرنے کا کوئی منصوبہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ (ختم شد)
(بشکریہ: ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved