تازہ تر ین

لینگلینڈزدِی گریٹ

اسرار ایوب….قوسِ قزح
عمران خان سے پہلی ملاقات بنی گالا میںاُن کے گھر ہوئی ،کئی برس پہلے ۔میرے سوال کچھ ایسے تھے کہ جواب میںکپتان کا موڈ خراب ہوگیا۔ملاقات ختم ہونے سے پہلے میں نے کہا کہ اگر آپ کو میرے اور اپنے رشتے کا پتہ چل جائے تو آپ کا موڈ ایک دم ٹھیک ہو جائے گا۔ انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا کہ جیفری ڈگلس لینگلینڈز آپ کے بھی استاد ہیں اور میرے بھی، تو وہ بے اختیار مسکرانے لگے۔ لینگلینڈز کا نام ہی ایسا ہے کہ جسے سن کر اُن کا کوئی بھی شاگرد ایک دم ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔
لینگلینڈز1917میں”ہل، انگلینڈ“میں پیدا ہوئے، 1939میں وہ برطانیہ ہی کے ایک سکول میں ریاضی اور سائنس کے استاد تھے جب دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی اور انہیں فوج میں شمولیت اختیار کرنا پڑی،1944میں وہ برطانوی آرمی آفیسر کی حیثیت سے”برٹش انڈیا“ آئے اوربٹوارے کے بعد برطانیہ جانے کے بجائے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے پاکستان ہی میں آباد ہو گئے، پاکستانی فوج میں چھ برس تک افسران کی سلیکشن اور ٹریننگ پر مامور رہے ،میجر کے رینک پرفوج کو خیر آبادکہا اورایک مرتبہ پھردرس و تدریس سے منسلک ہوگئے،کم و بیش 25برس ایچیسن کالج لاہورمیں پڑھاتے رہے اور پھر1979 میںکیڈٹ کالج رزمک (شمالی وزیرستان)کے پرنسپل بن گئے جو ایک ہی برس قبل قائم کیا گیا تھا۔
1981میں انکے ساتھ میری پہلی ملاقات ہوئی جب میں اس دور اُفتادہ کیڈٹ کالج میں داخل ہوا، ساتویں جماعت میں۔ اُس سے پہلے میں کبھی کسی انگریز سے نہیں ملا تھا البتہ” بڑے بوڑھوں“ سے یہ ضرور سُن رکھا تھا کہ انگریزوں کا آخری ٹھکانہ جہنم ہوتا ہے،وہ بڑے گندے ہوتے ہیں،کئی کئی ہفتے نہاتے نہیں اور اُن سے ایک عجیب سی بُو آتی ہے، تو پہلی مرتبہ لینگلینڈز کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے لاشعوری طور پر وہ عجیب سی بُو سونگھنے کی کوشش شروع کر دی لیکن اُن سے تو ہمیشہ خوشبو ہی آیا کرتی تھی اور اُن جیسا صاف ستھرا اُستاد پورے کالج میں کوئی اور نہیں تھا۔بحیثیت پرنسپل انکی مصروفیات اتنی تھیںکہ بس ایک ہی کلاس کو پڑھاپاتے تھے جو آٹھویں ہواکرتی تھی، یعنی مجھے بھی اُن سے پورا ایک برس انگریزی پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہفتے میں ایک روز وہ ہمیں دوسری جنگِ عظیم یا اپنی سیر بینی کے قصے سنایا کرتے تھے تو اُن سے خوب گپ شپ بھی ہواکرتی تھی، اتنے شفیق تھے کہ سابق کمانڈو اور ایک کیڈٹ کالج کے پرنسپل ہوکر بھی ہم نے انہیں کبھی کسی کو اونچی آواز میں ڈانٹتے ہوئے بھی نہیں سُنا۔
ضیاالحق نے نیا نیا مارشل لا لگایا ہوا تھا اور ہر طرف اسلامی ماحول چھایا ہوا تھا، مختلف جماعتیں ہمیں یہ ترغیب دیتی تھیں کہ لینگلینڈز کو دائرہ اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتاتی تھیں کہ ایک کافر کو مسلمان بنانے والاخود تو کنفرم جنتی ہے ہی ، ایک مخصوص تعداد میں عزیز و اقارب کوبھی کسی حساب کتاب کے بغیر اپنے ساتھ جنت لے جا سکتا ہے اور ہم سونے سے پہلے رات دیر تک بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچتے رہتے تھے کہ کسے جنت لے جائیں گے اور کسے نہیں لے جائیں گے؟ہماری دعوت و تبلیغ کے جواب میں اُن کاپہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیوں قبول کروں؟اوراسکا جواب ہمارے پاس اسکے سوا کچھ نہیں تھا کہ اسلام قبول کرنے سے جنت ملتی ہے۔دوسرا سوال یہ تھا کہ اسلام قبول نہ کروں تو کیا ہوگا؟اور اسکا جواب اچھے اچھوں کے پاس بھی اسکے علاوہ اور کیا ہوتا ہے کہ اسلام قبول نہ کرنے سے انسان جہنّم میں چلاجاتا ہے؟تیسرا سوال یہ تھاکہ اس کا مطلب ہے ہمارے دور کے کم و بیش سبھی بڑے بڑے سائنس دان،تخلیق کار،فلاسفر،مفکّروغیرہ جہنّم میں جائیں گے؟ہم نے کہا جی ہاں اور وہ مسکرا کر بولے کہ پھر تو میںبھی جہنّم میں ہی جانا پسند کروں گا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ یہ سب لوگ اپنی ذہانت، تخلیق، سچائی اور ایمانداری سے جہنم کو جنت میں تبدیل کر دیں گے اور دوسرے لوگ ہوسکتا ہے کہ جنت کو جہنم بنا دیں۔لینگلینڈز نے بڑی گہری بات کی جواُس وقت تو سر سے گزر گئی لیکن اب بڑی اچھی طرح سمجھ آرہی ہے،آپ خود ہی فرمائیے کہ کیاقدرتی آب و ہوا کے اعتبار سے کینیڈا جہنم اور پاکستان جنت نہیں؟ اور کیا کافروں نے کینیڈا کو جنت اور ہم نے پاکستان کو جہنم نہیں بنا یا ہوا؟
لینگلینڈزنے شادی نہیں کی تھی،ایک جڑواں بھائی تھے جوبرطانیہ ہی میں مقیم تھے، پاکستان میںاُن کی فیملی بس ایک خوبصورت سی بلی پر مشتمل تھی جسے وہ ایچیسن کالج سے ساتھ لائے تھے، ہم کیڈٹ کالج ہی میں تھے جب اس بلی کا انتقال ہوا اور ہماری پوری کلاس تعزیت کے بہانے پرنسپل کی رہائش گاہ تک جا پہنچی۔
1989میںرزمک کو خیر آباد کہہ کرانہوں نے چترال (یعنی ایک اور دوردراز جگہ)کے پہلے پرائیویٹ سکول کا چار ج سنبھالا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے بین الاقوامی معیار کا ادارہ بنا دیا، یہ ادارہ اب لینگلینڈز سکول اینڈ کالج کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ 2012ءتک وہ اسی ادارے کے ساتھ منسلک رہے اور پھرعلالت کے باعث دوبارہ ایچیسن کالج لاہورآ گئے جہاں چند روز قبل انکے انتقال تک انہیں پورے عزت و احترام کے ساتھ رکھا گیا، انہوں نے 101برس کی بھرپور عمر پائی جس کی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ وہ سادہ خوراک کھاتے تھے، پیدل چلنا نہیں بھولتے تھے،مال و دولت کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے،کسی سے نفرت نہیں کرتے تھے اور خوش رہتے تھے ۔
لینگلینڈز کے شاگرد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہوں گے جنہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہوگا لیکن یہ سیکھنے کے لئے شاگرد ہونا ضروری نہیں کہ اچھائی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اورپاکستان سے محبت کےلئے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔کسی اور کے بارے میں تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن مجھے زندگی بھر جب بھی کوئی غیرمسلم پاکستانی نظر آئے گا، لینگلینڈز کی یاد آ جائے گی اورمیرا دل احترام سے جھک جائے گا۔
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved