تازہ تر ین

اچھے اور برے لوگوں کی دنیا

اشبہ کامران….اظہار خیال
زندگی انتہائی مختصر ہے جس میں انسان کیلئے اپنے حقیقی مقاصد کے شعور کی رسائی کا بھی وقت ملنا محال ہوتا ہے ۔دنیا میں صرف دو طرح کے انسان ملتے ہیں ،اچھے یا برے ،اچھے لوگ اپنے مقاصد اور دنیا کی حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں جبکہ برے لوگ اپنے حقیقی مقصد حیات اور حقائق کا ادراک نہیں رکھتے۔انسان کو دوسروں کی زندگی میں بہتری لانے کا آفاقی پیغام ہے ۔ کئی انسان زندگی کے حقائق کی کھوج میں برسر پیکار رہتے ہیں اور انکی ہی جدوجہد کے طفیل دنیا میں امن سلامتی اور خوشحالی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ،تاہم انکے برعکس زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو دوسروں کیلئے جینا محال کرنے کی راہیں کھولتے ہیں ۔ایسے لوگ دنیا میں اپنے مفاد اوروقتی فائدے کیلئے دوسروں کی خوشیاں اور مقاصد کی پروا نہیں کرتے ،ایسے لوگ دوسروں کی زندگی کے راستے اور مقاصد مسددوکرنے کا سبب بنتے ہیں ۔انسان کی تخلیق کا مقصد شائد دوسروں کے کام آنا ہے ۔
دنیا میں انسانی رویوں کے حوالے سے ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اچھے انسانوں کو جب بھی قیادت کا موقع ملا انکے ذریعے اچھی اقوام بنتی گئیں ۔جن قوموں کو بری قیادتیں نصیب ہوئیں ان قوموں کی شناخت تاریخ نے برائی کی مثال بناکر پیش کردی ۔زندہ رہنے کیلئے درکار سہولیات کے حصول کی تگ ودو کے غلط طریقوں سے لیکر انفرادی لحاظ سے بااثر افراد کی دھونس ،دھاندلی اور بے قاعدگیوں نے ا یسے انسانی منفی خونخوار معاشرت کی بنیاد رکھی جن کو ہزاروں سال بعد بھی تاریخ نے برائی کے حوالے سے یاد رکھا ،تاہم جو لوگ انسانی فلاح کیلئے اپنے مقاصد اور اہداف کی جانب سرگرم رہے انکی نیت ٹھیک رہی وہ کامیاب ہوئے اور انکے ادھورے کام بھی تاریخ میں سنہری حروف میں رقم ہوتے رہے ،انکے چھوڑے ہوئے کام کی تکمیل کیلئے آنیوالی نسلوں میں مشن بناکر جدوجہد کے راستے استوار کرنے والے بھی تاریخ کے ہیرو قرار پائے ۔اچھائی اور برائی کے درمیان فرق سمجھانے والے بھی اچھائی کا محور بناکر تاریخ نے زندہ رکھے ۔دنیا میں انسان کی بہتری اور فلاح کیلئے سرگرم بے شمار شخصیات کے حوالے موجود ہیں ۔قوموں کو شعور دیکر جینے کے مقاصد سے روشناس کرانے والوں میں برصغیر کے ایک معتبر نام محمد علی جناح ہیں ۔جنہوں نے ایثار اور مروت سے خطے کے مظلوم مسلمانوں کو یکجا کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے اپنے مرشد و رہنما حضرت محمدکے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ریاست مدینہ کی طرز پر حکومت کے قیام کی راہ ہموار کردی ۔رسول اکر م نے جب پہلی اسلامی ریاست قائم کرتے ہوئے اس پہلی اسلامی فلاحی مملکت کا نام رکھنے کیلئے صحابہ کرامؓ سے مشاورت کی تو پہلے پہل چند صحابہؓ نے رسول اکرم کو پہلی اسلامی مملکت کا نام ”دولت اسلامیہ “رکھنے کا مشورہ دیا ،تاہم نبی اکرم نے قرار دیا کہ اس نئی ریاست میں تمام انسانوں کو بلا تفریق مذاہب و نسل برابر کی شہریت حاصل ہوگی ،تمام انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہونگے اورہرمذہب کا پیروکار اپنے طریقے سے عبادت کرنے میں مکمل آزاد اور خود مختار ہوگا اس لئے رسول اکرم نے پہلی اسلامی ریاست کا نام ”دولت اسلامیہ “کی بجائے ”دولت عربیہ “رکھنے کی تحریری طور پر منظوری دیدی جس کی دستاویز آج بھی محفوظ ہیں ۔
برصغیر میں انہیںاصولوں کو اپناتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے نئی اسلامی نظریاتی مملکت کے قیام کی بنیاد رکھی ۔قائداعظم محمد علی جناح بھی ایک فلاحی اسلامی ریاست قائم کرنے میں کامیاب رہے ۔اس مملکت کے عوام کی فلاح کیلئے انتہائی منظم اور مربوط جدوجہد کا آغاز کیا گیا ۔اس حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی نے زیادہ ساتھ نہ نبھایا 14 اگست1947 کو پاکستان بنانے والے محمد علی جناح 11ستمبر 1948کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے ،قائداعظم کے اس نظریاتی پاکستان کو من وعن آگے نہ بڑھایا جاسکا ۔آج ہم عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں ،قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد دنیا کے سامنے غلط رنگ دیکر پیش کئے گئے ،قومی مفاد کا نام لیکر ذاتی فائدے حاصل کرنیوالوں نے پاکستان کے حقیقی نظریاتی جانثاروں کو نظر انداز کردیا ۔کرپشن کے طوفان کی زد میں آنیوالوں نے قوم کا وقار ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ۔ ملکی وسائل کی بندر بانٹ نے قومی خزانہ خالی کردیا ، اخلاقی اقدار کا دیوالیہ نکالا جارہا ہے ۔اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات و افکار کے برعکس ملک دشمنی پر مبنی نظریات پھیلائے گئے ہیں ۔ فلاحی ریاست کے تصور کو چکنا چور کرکے رکھ دیا گیا ۔پاکستان کو بچانے کیلئے آج پھر قیام پاکستان والے جذبے سے لیس باصلاحیت باکردار اور ایماندار قیادت کی ضرورت ہے ۔
(کالم نگار مختلف موضاعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved