تازہ تر ین

ذرا اک نظر ادھر بھی!

ضیاءالحق سرحدی….یقیں محکم
تندرستی ہزار نعمت ہے اور صحت کو برقرار رکھنے کے لئے پرہیز کے علاوہ علاج بھی ضروری ہے ۔ تاہم وطن عزیز میں جعلی ادویات کا کاروبار تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں ایڈز، کینسر، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی جیسے مہلک امراض بھی بڑھ رہے ہیں۔ فارمیسی میں جو کام ایک فارمسٹ کے کرنے کا ہوتا ہے وہی کام ایک ایسا آدمی کررہا ہوتا ہے جو فارمیسی کی ابجد سے بھی نابلد ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 50فیصد ادویات جعلی ہیں اور غلط نسخوں پر بنائی جا رہی ہیں، معصوم اور غریب عوام اپنا حق حلال کا پیسہ ان جعلی ادویات کی مد میں اپنے لئے موت کا سودا کررہے ہوتے ہیں۔ڈرگ رجسٹریشن اتھارٹی کی نااہلی کے سبب ایسی کئی دوائیاں رجسٹر ہو رہی ہیں جو سراسر انسانی صحت کےلئے مضر ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق پچھلے کچھ سالوں میں جتنی دوائیاں رجسٹر ہوئیں ہیں پچھلی کئی دہائیوں میں نہیںہوئیں۔ اور ان سب سے زیادہ نقصان عوام کو اور سب سے زیادہ فائدہ ان جعل ساز کمپنیوںکوہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں بڑی اور قابل بھروسہ سمجھی جانے والی دواﺅں کے نام پر جعلی ادویات کی فروخت بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ میڈیکل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اصل اور نقل میں پہچان کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
پاکستان میں جہاں ہر شعبے میںاچھے اور برے لوگ موجود ہیںوہاں اس شعبے میں بھی بے ایمانی کے کھوٹے سکے بخوبی چل رہے ہیں۔ پیسوں کی خاطر لوگوں کی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ کیپسولز کے اندر گندم یا میدے کا آٹا اور سیرپ کے نام پر رنگین پانی فروخت کیا جا رہاہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صحت کی کم سہولتوں کے حوالے سے پاکستان بہت پسماندہ ملک ہے جہاں ادویات اور غذاکی قلت کے باعث روزانہ1184بچے وفات پا جاتے ہیں45فیصد بچوں کی اسی وجہ سے ذہنی اور جسمانی گروتھ مکمل نہیں ہو پاتی اور وہ وقت سے پہلے ہی موت کی نیند سو جاتے ہیں۔
وطن عزیز جہاں غذا، تعلیم ،رہائش ،ہر طرح کی آلودگی ،صاف پانی کی عدم فراہمی سمیت دیگر بہت سے بنیادی مسائل زندگی کو مسرت اورراحت فراہم کرنے کی بجائے ساری عمر روزی روٹی پوری کرنے والا جانور بنا دیتے ہیں وہیں پر حیرت انگیز طور پر صحت کے حوالے سے جنم لینے والی بیماری کے علاج پر پاکستان کا ہر شہری اپنے آمدن کا اوسطاً 37فیصد ادویات کی خرید اری اور ڈاکٹرز کی فیسوں کی مد میں ادا کر دیتا ہے۔ اس پر ظلم کی انتہاءیہ ہے کہ پاکستان کے اندر فروخت کی جانیوالی ادویات ناصرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ فروخت ہونیوالی ان ادویات میں سے ستر فیصد دوائیں جعلی اور جان لیوا ہوتی ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی جعلی ادویات سے ہر سال اربوں روپے کمائے جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ جرم ہر سال ہزار ہا انسانوں کو وقت سے پہلے قبروں میں اتار رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں جعلی وغیر معیاری ادویات کے کاروبار کا سالانہ حجم دوسو ارب ڈالر کے قریب ہے۔کئی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں جتنے بھی کاروباری شعبوں میں قانونی اور معیاری مصنوعات کی غیر قانونی اور غیر معیاری نقل تیار کرکے جتنا بھی منافع کمایا جاتا ہے،ان میں جعلی ادویات سے ہونے والا منافع سب سے زیادہ ہوتا ہے۔پاکستان میں جعلی ادویات کا کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے،ان کی وجہ سے مریض ہلاک بھی ہو جاتے ہیں اور کئی شہروں میں جعلی ادویات بنانے کی فیکٹریاں بھی قائم ہیں۔ایسے اہلکاروں کے ان دعووں کی تردید کے لیے محض چند بڑے حقائق کی طرف اشارہ کرناہی کافی ہوگا۔چند سال قبل پاکستان کے دو شہروں میں کھانسی کا شربت پینے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔وجہ یہ تھی کہ شربت تو کھانسی کے علاج کے لیے تھا مگر پینے والوں نے اسے نشے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں پیا تھا اور کھانسی کے اس شربت میں ایک ایسا زہریلا مادہ بھی تھا،جو نہیں ہونا چاہیے تھا اور جو صارفین سے بھی پانچ گنا زیادہ خطرناک تھا اسی طرح درجنوں کئی جعلی ادویات بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جو مریضوں کی بیماری میں طوالت حتیٰ کہ ان کی موت تک کی وجہ بن جاتی ہیں۔پاکستان میں دواسازی کی صنعت کے غیر جانبدار ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک کی تعداد 191ہے۔ان میں سے صرف 20فیصد ریاستوں کے پاس فارما انڈسٹری سے متعلق کوالٹی کنٹرول کا بہترین نظام موجود ہے۔اس کے برعکس پاکستان میںجو آبادی کے لحاظ سے دنیاکا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے،آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ چند حلقے تو یہ دعوے بھی کرتے ہیں کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں کچھ ” رجسٹرڈ دوا ساز ادارے“ایسے بھی ہیں،جو فارماسیوٹیکل فیکٹریوں کے طور پر ”دو دو کمروں کے گھروں “میں کام کر رہے ہیں۔ایسی ادویات بنانے والے کئی افراد ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر کروڑوں کا منافع کما رہے ہیں۔جو ڈاکٹر ایسا کرتے ہیںیا محض کسی خاص کمپنی کی تیار کردہ ادویات ہی مریضوں کے لیے نسخے میں لکھتے ہیں،انہیں بیش قیمت تحائف ملتے ہیں یا بیرون ملک دورے کرائے جاتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی تیاری اور فروخت کی صورتحال ڈرا دینے والی ہے۔لاہور اور پشاور جیسے شہروں میں بھی جعلی ادویات بنانے والے خاصے فعال ہیں۔جو نقلی دوا بیس روپے کی لاگت سے بنتی ہے،وہ ڈھائی تین سو روپے میں بیچی جاتی ہے،جس میں ہر کسی کا حصہ ہوتا ہے۔دودو کمروں کے گھروں کو فیکٹری بنا کر رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ وہاں جو کچھ بنتا ہے،اس میں موت تو ہو سکتی ہے،زندگی نہیں ۔ایسی کئی ادویات اپنی خراب پیکنگ سے بھی پہچانی جا سکتی ہیں۔ڈاکٹر مریض کو جودوائی تجویز کرتا ہے،کبھی کبھی کیمسٹ کوئی دوسری دوائی بیچنے کے لیے مجوزہ دوائی اپنی مرضی سے تبدیل بھی کر دیتا ہے۔اس وقت ملک میں قریب 37ہزار ادویات رجسٹرڈ ہیں،جن کے استعمال سے انسانی اموات کا تو کسی کو کوئی علم نہیں لیکن ان کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ یقینا اپنا خون نچوڑ کر پیسہ کمانے والے پاکستان کے سفید پوش اور غریب حلقوں کے لاکھوں پیاروں کو ہر سال موت کی نیند سلادیتے ہیں یا پھر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لا علاج مریض بنا دیتے ہیں۔ڈرگ رجسٹریشن اتھارٹی کے افسران اس بات کو سنجیدہ لیتے ہوئے جعلی ادویات بنانے والی جعل ساز کمپنیوں کے خلاف سخت اور مﺅثر اقدامات کریں اور نقلی ادویات کی رجسٹریشن کو منسوخ کی جائیں تاکہ لوگوں کی قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved