تازہ تر ین

”پاش پاش ہوکے بکھرا ہوا وہ لہو “

عامر بن علی….مکتوب جاپان
کراچی سے منتخب سابق رکن قومی اسمبلی اور نوجوان سیاستدان سید علی رضاعابدی کو کرسمس کے دن ان کے گھر کی دہلیزپرقتل کردیاگیا۔ایک صاف ستھرے ،مہذب ، تعلیم یافتہ، دلیراور باصلاحیت سیاستدان کے قتل سے پاکستانی سیاست میں جوخلا پیدا ہواہے وہ مدتوں پورا نہیں ہوگا۔محب وطن اور دردمنددل رکھنے والے لوگ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کرتے رہیں گے۔ان کے بہیمانہ قتل سے امن کی خواہش اور امید رکھنے والوںکوشدیدجذباتی دھچکالگاہواہے۔تمام اہم سیاسی جماعتوںکے سربراہان اور قائدین نے دہشت گردی کے اس ظالمانہ واقعے کی شدیدمذمت کی ۔بلاول بھٹوزرداری توصنم بھٹوکے ہمراہ علی رضا عابدی کے والدین سے تعزیت کرنے کے لئے خود ان کے گھرپہنچے۔کراچی پریس کلب کے باہرسیدعلی رضا عابدی کی والدہ نے اظہارِ یکجہتی اور افسوس کرنے والوں،اس کی یاد میںشمعیںروشن کرنے والوں سے خطاب کیا۔اس خطاب میں انہوں نے جس جرات مندی اور دلیری سے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہارکیا،اور فیض واقبال کی جوشاعری پڑھی ،اس نے تمام اہل دل کو رلا دیا۔اس باہمت خاتون کی آواز میں ہلکی سی بھی لرزش نہیںتھی۔جواںسال بیٹے کی موت کادکھ تو لہجے میںضرورتھا۔مگرچٹان جیساحوصلہ اور بے خوفی بھی تھی۔جب وہ پڑھ رہی تھیں کہ:۔
نہ گنواﺅ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوادیا
جوبچے ہیںسنگ سمیٹ لوتن داغ داغ لٹادیا
کروکج جبیںپہ سرکفن میرے قاتلوںکوگماںنہ ہو
کہ غرورعشق کابانکپن پس مرگ ہم نے بھلادیا
جو رکے توکوہ ِ گراں تھے ہم جوچلے توجاں سے گزر گئے
رہِ یارہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا
بہت سے قارئین شائد نہیں جانتے ہوں گے کہ علی رضا عابدی کی والدہ محترمہ خود بھی صاحبِ دیوان شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔”زندان ذات“ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوچکا ہے۔میری ان سے خاص نسبت کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمارے ضلع خانیوال سے تعلق رکھتی ہیںاورہمارے دوست سیدمصدق شاہ کی ہمشیرہ ہیں۔چندسال پہلے ان کے شعری مجموعے کی تقریب رو نمائی خانیوال میں منعقد ہوئی توصدارت کے لئے لاہور سے امجداسلام امجد خصوصی طورتشریف لائے ،جبکہ مہمان خصوصی میرے بڑے بھائی رانا بابر حسین تھے جوکہ ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں۔صحافی وشاعردوست طاہرنسیم نے علی رضا عابدی کی والدہ امّ سارہ کاشعری مجموعہ مجھے عنائت فرمایااور تقریب رونمائی میں اظہارِ خیال کرنے کی فرمائش بھی کی ۔بلا شبہ میرے لئے یہ اعزاز کی بات تھی۔کتاب کے مطالعہ کے بعدجو میرے تاثرات وجذبات کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں تھے میرا خیال ہے کہ ان کے اظہار سے آپ علی رضا عابدی کی حوصلہ مند اورباہمت والدہ کے نظریات ،سوچ وفکراور شخصیت سے تعارف حاصل کرسکیںگے۔ان کاذرا یہ شعرملاحظہ فرمائیں۔
دار ہو کہ خنجرہویاکہ زہرکا پیالہ
ان گنت سزائیںہیںجرم اک کہن تنہا
”زندان ذات“کامطالعہ کرکے مجھے طمانیت کااحساس ہوا۔امّ سارہ کے پاس کہنے کے لئے بہت کچھ ہے اور انہیںبات کہنے کا سلیقہ بھی آتاہے۔ان کے ہاںاردوشاعری کی مثبت روایات کاپاس واحترام بھی موجود ہے۔حمدونعت ومنقبت سے آغاز اورسلام بحضورامام عالی مقامؓ سے شعری مجموعے کے اختتام سے امّ سارہ کی مذہب سے جذباتی وابستگی کاپتہ ملتاہے۔ان کی شاعری اردو ادب کے قدیم وجدیدموضوعات کاحسین امتزاج ہے۔کہیں ہمیںاردوشاعری کی صنف سہراملتی ہے،جوکہ اب نایاب ہوتی جارہی ہے،تودوسری طرف ”چشم دید“جیسی جدیدنظمیں۔کیاخوبصورت شاعری ہے۔امّ سارہ کی ذراغورفرمائیے :۔
الجھے ہوئے ذہنوںسے نکل کرکبھی دیکھو
اس دھوپ کاکیارنگ ہے جل کر کبھی دیکھو
ان لوگوںکی خاموش صدائیںذرا سننا
صاحب !تمہیںکیاکہتے ہیںنوکرکبھی دیکھو
درحقیقت جب کوئی اہل ِقلم اپنی شعری کاوشوںکے ساتھ سامنے آتاہے تواس کے کلام کامطالعہ اس بات کامتقاضی ہوتاہے کہ ہم اسے بالکل اسی نگاہ سے دیکھیں۔جیسے ایک کھلتے ہوئے پھول کو دیکھتے ہیں،یعنی ہرنئے پھول کو اس کی پنکھڑیوںکی بناوٹ،اس کے رنگوںکی دل آویزی اور اس کی مہکارکے حوالے سے انتہائی غیرمحسوس طور پردوسری بہت سے پھولوںسے جدا کرکے دیکھااور پرکھا جاتاہے۔شعروسخن کی شاخوںپربھی جب کوئی نئی آواز کھلتی ہے تو وقت کا تقاضایہی ہوتا ہے کہ اسے آوازوںکے ہجوم سے جدا کرکے بغورسنا جائے ،کہ یہ ایک بامعنی اور باشعور آوازکے طورپراپنے عہدسے جڑی ہوئی ہے،یامحض پڑھتے ہوئے شور کی لایعنیت کا ایک حصہ ہے۔امّ سارہ کی شاعری اپنے معاشرے اورعہدوزماںسے باخبری کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
دوڑہے مشینوںکی جگمگاتے صحرامیں
اوراک طرف لیٹی خواہش وطن تنہا
ان کے پہلے شعری مجموعے ”زندان ذات“میں جن شعری امکانات کی موجودگی کے اشارے ملتے ہیںوہ اس بات کی نوید دیتے ہیںکہ وہ دیگرقلم کاروںکے قافلے میںبھرپورتیاری اور اعتماد کے ساتھ شامل ہوچکی ہیں۔اوریہ نظم تولگتاہے جیسے ام سارہ نے اپنے بیٹے سید علی رضاعابدی کے لئے ہی لکھی ہو،وہی سردی کا موسم اوروہی خون کی ارزانی۔
ان سبھوں کے بدن
گرم و زندہ بدن
برف کے یخ تھپیڑوںسے پھٹنے لگے
ان کے ہرعضوسے خون رسنے لگا
اس لہو کی حرارت بھری ایک بوند
برف کی یخ زمیں پرتڑپنے لگی
پاش پاش ہو کے بکھراہوا وہ لہو
اک شگاف اس زمیںمیں بنا نہ سکا
چند لمحوںکی سردی میں گم ہو گیا
(کالم نگار جاپان میں خبریں کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved