تازہ تر ین

نیا سال۔ نئے چیلنجز‘ نئے عزائم

محمود شام ….خاص مضمون
2018پاکستان کی اہم مسندوں پر تبدیلیوں کے بعد گزر چکا ہے۔ ایوان صدر، وزیر اعظم ہاﺅس، وزیر اعلیٰ ہاﺅس لاہور، وزیر اعلیٰ ہاﺅس بلوچستان، وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے پی میں مکین بدل چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہاﺅس کراچی میں البتہ وہی چہرہ ہے۔ گزشتہ سال کو بجا طور پر احتساب کا سال کہا جاسکتا ہے۔ آسمان کی آنکھ نے بڑے بڑے مقتدر اور با اثرلوگوں کو عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے دیکھا۔ جیل کی کوٹھڑی میں تنہا سوچوں میں گم پایا۔ اربوں روپے کی خورد برد کے حقائق سامنے آئے۔ خلق خدا حیرت زدہ ہوگئی کہ وہ جنہیں رہبر سمجھتے رہے وہ تو راہزن نکلے۔ انتخابات میں عوام نے پرانی سیاست گری کو مسترد کردیا۔ نئے حکمرانوں کو 5سال کے لئے منتخب کیا۔ بنیادی مقصد تھا کہ سرکاری خزانے کی لوٹ مار روکی جائے۔ سرکاری گاڑیوں کا بے جا استعمال بند کیا جائے۔ کلیدی عہدوں پر اہل افراد کو متعین کیا جائے۔
نئے حکمرانوں کی کارکردگی کے بارے میں ابھی کچھ فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا کہ صرف چند مہینے ہی تو ہو ئے ہیں۔ چالیس برس کی چالبازیاں، بدعنوانیاں۔چند مہینے میں تو صرف گرد جھاڑی جاسکتی ہے۔ اس کے نیچے کیا کچھ چھپا ہے۔ اسے اتنی جلد صاف نہیں کیا جاسکتا۔ یوں سمجھ لیجئے یونانی حکمت کے تحت نبض پر انگلیاں رکھی ہوئی ہیں۔ طبیب امراض کی تشخیص میں مصروف ہے۔ ایلوپیتھی کی اصطلاح میں مریض کے مختلف ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں۔ کچھ کی رپورٹس مل گئی ہیں کچھ کی رپورٹس آنے والی ہیں۔ یہ انتہائی حساس دورانیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمیں ایک پورا سال اور مل رہا ہے۔ بارہ مہینے، 52ہفتے، 365دن۔ اگر ہمیں احساس زیاں ہو۔ گزشتہ برس ہم نے کس کس طرح ضائع کئے۔ بے عملی میں یا بے سمتی میں۔ اور ان غفلتوں کے نتیجے میں ہم کن کن المیوں سے دوچار ہوئے، کتنے اربوں کے خسارے ہمارے حصّے میں آئے۔ دنیا سے ہم اور کتنے پیچھے چلے گئے۔ تو ہمیں اس آنے والے سال کی قدر و قیمت کا احساس ہوسکتا ہے۔
میں تاریخ کا طالب علم بھی ہوں اور جغرافیے کا بھی۔ معیشت کے نشیب و فراز جاننے کے لئے کوشاں رہتا ہوں۔ پاکستان کا ہم عمر ہوں۔ اس کے جو وسائل ہیں میرے وسائل ہیں۔ اس کے جو مسائل ہیں میرے مسائل ہیں۔ اس پر جو گزرتی ہے میں بھی اپنے آپ پر گزرتی محسوس کرتا ہوں۔ اپنے تجربے اور مشاہدے کے تناظر میں بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ 2019ءمشکلات کا سال ہوگا۔ حکمرانوں کےلئے بھی، اور رعایا کے لئے بھی۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ امید بھی ہے کہ حکمرانوں کی نیت درست ہے۔ وہ اپنی سمت متعین کرنے کےلئے اقدامات کررہے ہیں۔ عام پاکستانیوں کو اگر چہ اب بھی مایوس کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا سب منفی امور تلاش کرکے لاتے ہیں۔ مسئلہ دکانداری کا ہے کہ وہ مثبت رویوں میں آگے بڑھتی ہی نہیں۔
کچھ لوگ اب تک اپنی تجوریاں بھرتے آئے ہیں۔ اپنے مفادات کی تکمیل کرتے رہے۔ غیر ملکی قرضے جن منصوبوں کے لئے حاصل کئے گئے وہ نا مکمل رہے۔ لیکن ان کی املاک میں توسیع ہوتی رہی۔ سمندر پار ان کی بلڈنگیں کھڑی ہوتی رہیں۔ اس کا ثبوت کئی ہزار ارب روپے کے بیرونی قرضے ہیں اور پاکستانی روپے کی ڈالر کے سامنے گرتی ہوئی قیمت۔
اب 2019ءکا پہلا تقاضا تو یہ ہوگا کہ روپے کو سہارا دے کر ڈالر کے مقابلے میں کھڑا کیا جائے۔ اس کے لئے ماہرینِ معیشت بہتر تجاویز دے سکتے ہیں۔ وزیرِ خزانہ، وزیرِ تجارت یقینا ان معیشت دانوں، صنعت کاروں اور تاجروں سے مشاورت کررہے ہوں گے۔ دوسرے ممالک بھی ایسی صورت حال سے گزرے ہیں۔ یورپ کئی بار افراط و تفریط کا شکار ہوا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کو ایسے معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم دیکھیں کہ انہوں نے کیا راستے اختیار کئے جس سے وہ ان مشکلات سے کامیابی سے باہر آگئے۔ ان کی معیشتیں پھر رواں دواں ہوگئیں۔
معیشت، سیاست، تجارت، امن و امان، قدرتی وسائل، روزگاراورتعلیم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی شعبہ بھی الگ تھلگ اپنے طور پر ترقی نہیں کرسکتا۔ اس لئے متعلقہ افسران کو ساری صورت حال کا مجموعی جائزہ لینا ہوگا۔ سب محکموں کو بیک وقت حرکت میں لانا ہوگا۔ زر مبادلہ کا معاملہ صرف برآمدات سے بہتر ہوسکتا ہے۔ برآمدات کے لئے صنعتی شعبے کا فعال اور متحرک ہونا ضروری ہے۔ برآمدکنندگان شکوہ کناں ہیں کہ انہیں گیس بقدر ضرورت میسر نہیں ہے۔ پانی جتنا چاہئے وہ نہیں ملتا۔ توانائی کی قلّت سنگین ہے۔ امن و امان کی خرابی بھی رکاوٹ بنتی ہے۔
پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے کراں وسائل سے نوازا ہے۔ افرادی قوت بھی بے مثال ہے۔ یہی پاکستانی جب خلیجی اور یورپی ریاستوں، سعودی عرب، بحرین ، دبئی، لندن، مانچسٹراور کینیڈا جاتے ہیں تو وہاں ان کی کارکردگی لائق صد تحسین ہوتی ہے۔ مانچسٹر کے کارخانے، دبئی کے تجارتی مراکز، سعودی عرب کی فیکٹریاں اور تعلیمی ادارے پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں سے ہی تیز رفتار ہیں۔ اپنی افرادی قوت کو ہم اگر پاکستان میں ویسا ہی حوصلہ افزا ماحول فراہم کرسکیں تو ہمارے نوجوان یہاں بھی صحراﺅں کو گل و گلزار کرسکتے ہیں۔
پاکستان کے اقتصادی ماہرین سے دنیا بھر کی حکومتیں اپنے مسائل کے حل کے لئے مشاورت کرتی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے ان کی خدمات مہنگے داموں حاصل کرتے ہیں۔ اندرون و بیرون ملک مقیم یہ ماہرین دل سے چاہتے ہیں کہ اپنے وطن، پاکستان کو بھی اپنی تجاویز سے آگے لے جاسکیں۔ ان کی ایک میٹنگ بلائی جاسکتی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو آئندہ کم از کم پندرہ سال کا روڈ میپ بنانا چاہئے۔ پاکستان کے لوگوں کو ہی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کے لئے کیسا ملک چاہتے ہیں۔ سیاسی طور پر کیسا؟ مذہبی حوالے سے کیسا؟ صنعت و تجارت کے اعتبار سے کیسا؟ ان سب کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے دفاعی اور عسکری امور میں تو دنیا کے ساتھ ہے بلکہ کئی معاملات میں بہت سے ملکوں سے آگے۔ پاکستان کی تینوں افواج جدید ترین ہتھیاروں سے آشنا ہیں۔ نئی نئی ٹیکنالوجی کی مہارت رکھتی ہیں۔ ان کی ٹریننگ کے انتظامات اور معیار ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہیں۔ لیکن تعلیم، معیشت، صنعت و حرفت میں یہ دنیا سے پیچھے رہ گیا ہے۔ سب سے زیادہ ضروری تو اس تیزی سے بڑھتے رجحان کو روکنا ہے کہ ہم ایک ٹریڈنگ ملک بن رہے ہیں۔ یعنی ہم غیر ملکی اشیاءاور مصنوعات کی منڈی بن رہے ہیں۔ اپنے کارخانے اور ملیں مسمار کرکے شاپنگ سینٹر قائم کرنے کی رفتار بہت تیز ہورہی ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ یہاں دنیا کا بہترین نہری نظام ہے۔ زراعت پر اس سال زیادہ توجہ دے کر اسے برآمدات کا سر چشمہ بنایا جائے۔ ہمارے کاشتکار بہت محنتی ہیں، موسم کی نبض پر انگلیاں رکھتے ہیں، زمین کے مزاج سے واقف ہیں۔ انہیں سازگار ماحول، جدیدآلات اور سال بھر کے اہداف دیئے جائیں اپنی اور دنیا کی ضرورتوں سے آگاہ کیا جائے۔ پھر زراعت پر مبنی صنعتوں کا سلسلہ قائم کیا جائے تو زراعت کا شعبہ بھی ہمارے روپے کو بڑا سہارا دے سکتا ہے۔جب تک زراعت سے وابستہ افراد کے سامنے کوئی عالمی نقشہ نہیں ہوتا، وہ اپنے علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
تعلیم کا شعبہ بھی بہت زیادہ توجہ کا متقاضی ہے۔ ہمارے ہاں یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان میں بعض یونیورسٹیاں عالمی سطح پر اپنا مقام بھی بنارہی ہیں۔ ہمارے فارغ التحصیل باہر کی یونیورسٹیوں میں پڑھا بھی رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے تو بہت کوششیں ہورہی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنے طور پر بہت محنت کررہا ہے۔ یونیورسٹیوں کو ایک سمت، ایک ہدف بھی دیا جارہا ہے۔ لیکن تعلیم تجارت بنتی جارہی ہے۔ اس لئے معاشرے میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آرہی۔اکثر ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ پرائمری تعلیم پر بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہئے اور ایک کمیشن پرائمری ایجوکیشن کے لئے بھی قائم کیا جائے۔ آئندہ 15سال کا روڈ میپ اگر بنانا ہے اور اسے کامیاب بھی کرنا ہے تو اس کا آغاز پرائمری ایجوکیشن کمیشن سے کیا جائے ہماری تعلیم کی بنیاد مضبوط ہوگی تو اعلیٰ تعلیم کے ثمرات بھی معاشرے میں نظر آئیں گے۔
دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب اور ردّالفساد بہت کامیاب رہے ہیں۔ ان کے نتیجے میں ملک میں امن اور ہم آہنگی قائم ہوئی ہے۔ اب خود کش دھماکے نہیں ہورہے۔ انتہا پسندی کے مظاہر دیکھنے میں نہیں آرہے۔ لیکن اس طرف سے بالکل مطمئن ہوجانا بھی درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ مختلف عوامل کی بنا پر مذہبی انتہا پسندی اب بھی موجود ہے۔ فرقہ پرستی شدت اختیار کررہی ہے۔ ریاست کی پالیسیوں سے شدت میں کمی آرہی ہے مگر اب بھی جہاں جہاں انتہا پسندی کے بیج بوئے جارہے ہیں ، خود کش بمباروں کی فصلیں تیار کی جاتی ہیں، وہاں دل اور ذہن جیتنے کی ضرورت ہے۔سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کو اپنے اپنے علاقوں میں علمائے کرام، خطیبوں ا ور اماموں کے ساتھ مل کر انتہا پسندی کو دور کرنے کی مسلسل اور مربوط کوششیں کرنی چاہئیں۔ نہ صرف مسلمانوں میں آپس میں محبت اور یگانگت پیدا کی جائے بلکہ غیر مسلم ہم وطنوں کو بھی مکمل تحفظ اورسکون میسر ہونا چاہئے۔
داخلی صورت حال کے ساتھ ساتھ 2019ءخارجہ پالیسی میں بھی تبدیلیوں اور مستعدی کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمارے ہمسائے بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ موجودہ حکمران پارٹی سخت مشکلات کا شکار ہے۔ وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے اس لئے بہت سی ریاستوں میں وہ الیکشن ہار رہی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مسلمانوں سے نفرت کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔مسلم اقلیت ان کی شعوری پالیسیوں کے باعث بد ترین حالات سے دوچار ہوچکی ہے۔ اپنی سیاسی ناکامیوں کا بدلہ لینے کے لئے وہ پاکستان کےلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ حال ہی میں کرتارپور راہداری کا آغاز ان کےلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ہمیں بھارت کی طرف سے اس پورے سال خبردار رہنا ہوگا۔ عالمی سطح پر بھارت کی اقلیت دشمن پالیسیوں کو بہت تندہی اور وضاحت سے اجاگر کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں ہمارے سفارت خانے مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں سست روی کا شکار رہتے ہیں۔ہمارا دوسراہمسایہ افغانستان بھی امریکہ اور بھارت کے زیر اثر ہمارے لئے مشکلات پیدا کرتا رہے گا۔ امریکہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کرسکا۔ اس لئے امریکی عوام کا اپنی حکومت پر دباﺅ ہے کہ وہ اس جنگ میں مزید ڈالر صَرف نہ کریں اور اپنے فوجیوں کو واپس لائیں۔ افغانستان کی حکومت کئی صوبوں میں اپنی عملداری کھوچکی ہے۔ اس لئے افغانستان کی طرف سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ سیاسی اور فوجی قیادت کو بہت سوچ سمجھ کر ایک مربوط افغان پالیسی اختیار کرکے ممکنہ سازشوں اور المیوں سے بچنا ہوگا۔
مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے انصاف کی تیز رفتار فراہمی کے لئے جس جذبے سے کام کیا سارے پاکستانی اس کے معترف ہیں۔ انہوں نے یقینا عوام کو ایک ولولہ تازہ دیا ۔ پانی کی قلت کے لئے ڈیموں کی تعمیر کے لئے بیداری اور شعور پیدا کیا۔ پاکستان کو مسلسل مصائب میں مبتلا کرنے والے با اثر لوگوں کو کٹہرے میں لاکر بے کسوں اور بے بسوں کو یقین دلایا کہ قانون کی حکمرانی قائم ہوسکتی ہے۔ انصاف سب کو فراہم ہوسکتا ہے۔ شہروں کے ماسٹر پلان مسخ کرنے کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہوا ہے۔ تجاوزات ہٹانے کا انتہائی جراتمندانہ اقدام ان ہی کے حکم سے شروع ہوا ہے۔ وہ اس سال کے آغاز میں ریٹائر ہورہے ہیں۔ عوام اس تذبذب میں مبتلا ہیں کہ کیا سپریم کورٹ اس فعالیت، تیز رفتاری اور استعداد کو برقرار رکھ سکے گی؟
مختلف محکموں اور شعبوں کی غفلت سے پاکستان میں جو لاقانونیت شروع ہوئی جس کے نتیجے میں کرپشن نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ کسی شعبے میں عام کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتے تھے۔ بڑے مگرمچھوں کے خلاف کارروائیوں سے عام پاکستانیوں میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔ ایک امید کی چنگاری روشن ہوئی ہے۔ 2019ءمیں اگر انصاف کی فراہمی اور قانون شکنی کے خلاف کارروائیاں اسی طرح جاری رہتی ہیں تو پاکستانی قوم کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور وہ اپنی صلاحیتیں اس ملک کی پیش رفت کے لئے بروئے کار لاسکے گی۔
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved