تازہ تر ین

اپوزےشن اتحاد ‘حکومت اور جمہورےت؟

راﺅغلام مصطفی….عوامی کٹہرا
چند ماہ کی حکومت کےخلاف اپوزےشن جماعتوں کی جانب سے بننے والے اتحاد کو سنجےدہ سےاسی و عوامی حلقے قبل از وقت قرار دے رہے ہےں کےونکہ کسی بھی نئی حکومت کے قےام کے بعد اس کی سمت کا تعےن ہونے مےں کم از کم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔اگر کوئی حکومت اس عرصہ مےں اپنی سمت کا تعےن نہ کر سکے پھر اےسی حکومت کے لئے اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے مواقع کم اور مشکلات زےادہ ہوتی ہےں۔مسلم لےگ ن اور پےپلز پارٹی کے درمےان جو اتحاد عمل مےں آےا ہے اس سے ےقےنا حکومت کی مشکلات مےں اضافہ تو ہوگا لےکن ےہ اتحاد بھی ماضی کے اتحادوں کا عکاس ثابت نہ ہو۔مسلم لےگ ن اور پےپلز پارٹی کی جماعتوں کے درمےان اقتدار حاصل کرنے اور سہارے دےنے اورگرانے کے لئے مفاہمت اور سازشوں کی تارےخ آج کے ہونے والے اتحاد پر بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔مسلم لےگ ن مےں اےک مضبوط سنجےدہ دھڑا موجود ہے جس نے ہمےشہ حکومت اور اداروں کےساتھ ٹکراﺅ کی سےاست کو مسترد کےا ہے۔مفاہمتی دھڑے مےں مےاں شہباز شرےف‘ چوہدری نثاراور راجہ ظفرالحق سمےت کئی سنےئرعہدےداران شامل ہےں سابق وزےر داخلہ چوہدری نثار نے تو متعدد بار ڈھکے چھپے انداز کی بجائے کھلم کھلا مےاں نواز شرےف اور اسکے قرےبی حوارےوں پر تنقےد کےساتھ ساتھ اداروں کےساتھ نہ ٹکرانے کا مشورہ دےا۔لےکن مےاں نواز شرےف کے گرد سائے کی طرح منڈلاتے خوشامدی ٹولے نے نہ صرف ان کو بند گلی مےں دھکےل دےا بلکہ ان کے سےاسی مستقبل کو بھی داﺅ پر لگا دےاستم ظرےفی تو ےہ ہے کہ اب بھی خوشامدی شرےف برادارن کو مفاہمت کی بجائے ٹکراﺅ کی پالےسی پر گامزن کرنے کا لائحہ عمل اپنائے ہوئے ہےں۔
آصف علی زرداری جن کا پاکستان کی سےاست مےں اےک زےرک سےاستدان کے حوالے سے بڑا کلےدی کردار رہا ہے انہوںنے ہمےشہ مفاہمت کی سےاست کے بل بوتے پر کبھی اپنی شخصےت اور پارٹی کومشکلات کی منجدھار مےں نہےں دھکےلا اور ان کا سےاسی کےرئر ملک مےں موجود سےاسی جماعتوں اور سےاستدانوں کے لئے کرپشن کے الزامات کے باوجود اےک جاندار مثال کے طور پر موجود ہے۔پےپلز پارٹی کے گرد نےب کا جونہی گھےرا تنگ ہوا آصف زرداری اپنی اور پارٹی کی بقاءکے لئے مےدان سےاست مےں ترپ کے پتوںکےساتھ حکومت اور اداروں کو زےر کرنے کے لئے اتر آئے ہےں اور مسلم لےگ ن کےساتھ اتحاد کر کے سےاسی فضا کو جنگ و جدل مےں بدل کر رکھ دےا ہے۔بد قسمتی سے ان دونوں جماعتوں کی اپنے اپنے اقتدار کو حاصل کرنے‘سہارا دےنے کے لئے گٹھ جوڑ کی تارےخ جتنی پرانی ہے اتنی ہی جمہور کو جمہورےت کے ثمرات سے محروم رکھنے کی تارےخ بھی ان کی ناکام جمہوری حکمرانی پر قدغن لگائے ہوئے ہے۔پاکستان واحد ملک ہے جہاں اےک دوسرے کےساتھ دست و گرےبان اور نعرے بازی کی سےاست کرنے والے سےاستدان موجود ہےں ۔جو اپنے ذاتی مفادات اور نمود و نمائش مےں اس قدر ڈوبے ہوئے ہےں کہ اپنے قومی فرائض اور عوام کے حقوق کو ےکسر بھلا چکے ہےں۔مضبوط جمہورےتوں کو اےماندار اور باوقار سےاسی قےادت‘ متحرک اور باشعور سول سوسائٹی‘انتھک بلدےاتی نمائندے ‘شہری انتظامےہ‘ذمہ دار پرےس ‘ خواتےن‘ نوجوانوں اور لسانی اقلےتوں کی شرکت درکار ہوتی ہے۔ حکمرانوں کا عوام کو جمہوری حقوق فراہم کرنا کوئی عوام پر احسان نہےں ہے دنےا مےں جمہوری ممالک کی طرح پاکستان مےں بھی جمہورےت سےاستدانوں سے باز پرس کرنے‘ آزاد مےڈےا کا تحفظ کرنے‘طاقت کے سامنے کلمہ حق کہنے اور خواتےن‘نوجوانوں ‘اقلےتوں سمےت ہر کسی کو مساوی حقوق دےنے کا نام ہے۔
پاکستان مےں جمہوری حکومت تو صرف عوام کو دلاسہ دےنے کے مترادف ہے آمرےت پسند ذہنوں کے حامل حکمرانوں نے عوام کو مسائل کی اےسی دلدل مےں دھکےل دےا جہاں سے نکلنا کسی معجزے سے کم نہےں ہے۔ مہنگائی‘ بےروزگاری‘لوڈشےڈنگ‘کرپشن و بدعنوانی‘ اقرباءپروری‘ انصاف کی عدم دستےابی جےسے مسائل جمہوری حکمرانی کے دعوےداروں کی آمرانہ پالےسےوں پر ماتم کرتے نظر آتے ہےں۔ آج اگر ان کے مفادات کےخلاف عوام کے وسائل اور قومی خزانے کی باز پرس کے حوالے سے احتسابی ادارے متحرک ہوئے تو ےہی جمہورےت کے پروردہ حکومت اور رےاستی اداروں کے سامنے سےنہ سپر ہو کر حساب چکتا کرنے سے سراسر انکاری ہےں ۔ےہ کےسی جمہورےت ہے جہاں اےلےٹ کلاس کی باز پرس کے لئے کوئی خودمختار مﺅثر نظام نہےں ہے جہاں احتساب سے بچنے کے لئے مےثاق جمہورےت کے نام پر نام نہاد اتحاد وجود مےں آجاتے ہےں اور عوام کے نام پر وفاق اور اداروں کو سربازار للکارا جاتا ہے۔ملک مےں موجود سےاسی جماعتوں کے قائدےن نسل نو کے دل و دماغ مےں اےسی منفی طرز سےاست کے ذرےعے کس قسم کے سےاسی شعور کی آبےاری کا فرےضہ سرانجام دے رہے ہےںےہ حالات ان کے لئے غور و فکر کے متقاضی ہےں۔پارٹی راہنماﺅں کی شخصےت قابل تقلےد ہوتی ہے ان کے بے شمار فالوورز ہوتے ہےں جو ان کے کردار و عمل کے نشےب و فراز پر گہری نظر رکھتے ہےں۔مسلم لےگ ن اور پےپلز پارٹی دو اےسی جماعتےں ہےں جنہوں نے ہمےشہ خاندانی سےاست کو فروغ دےا جس کے باعث موروثی سےاست نے ملک مےں اپنی جڑےں مضبوط کےں۔ان دونوں جماعتوں کی اےک دوسرے پر الزامات لگانے اور اخلاقی اقدار کو روندنے کی اصل وجہ بھی صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہی رہی ہے۔
بلا شبہ آج ملک کو کرپشن سے پاک کرنے اور مےرٹ پر مبنی معاشرے کے قےام کی اشد ضرورت ہے سابقہ ادوار مےں کرپشن و بدعنوانی کے باعث مےرٹ اور قانون و آئےن کی حکمرانی کو بلڈوز کےا جاتا رہااور عوام بے وسےلہ ہو کر ناانصافےوں کے بوجھ تلے دب کر راندئہ درگاہ ہوتے رہے جبکہ حکمران اشرافےہ طبقات کی من مانےاں اور ناجائز ذرائع سے قومی خزانے اور قومی وسائل کے لوٹ مار کی کہانےاں زبان زد عام رہےں۔ےہ ملکی حالات کرپشن و بدعنوانی کے خلاف بہت بڑے آپرےشن کے متقاضی تھے تاکہ عوام کو حکمران اشرافےہ کے طبقات کی جانب سے مسلط کردہ استحصالی نظام سے خلاصی حاصل ہو سکے۔پاکستان تحرےک انصاف کی حکومت کےخلاف جو اپوزےشن اتحاد وجود مےں آےا ہے ےہ سب چور اور چوکےدار کو بچانے کے لئے ہے ۔تحرےک انصاف کی حکومت کو بھی اب احتساب سے آگے اےک قدم بڑحاتے ہوئے عوام کو حقےقی معنوں مےں رےلےف دےنا چاہےے کےونکہ عوام کو رےلےف نہ ملنا بھی اپوزےشن اتحاد کو تقوےت فراہم کررہا ہے جو کہ حکومت کے لئے اچھا شگون نہےں ہے۔ جب تک حکومت معاشی حالات کو درست کر کے عوام کو رےلےف کی صورت تبدےلی کی جھلک سے آشنا ئی نہےں دےتی حکومت کے لئے مشکلات بدستور قائم رہےنگی۔
عوام کو حروف تہجی مےں بٹی سےاسی جماعتوں کے قائدےن سے کوئی سروکار نہےں اگر تحرےک انصاف کی حکومت بھی عوام سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری مےں ناکام رہی تو پھر ےہی تبدےلی حکومت وقت کے لئے سوہان روح بن جائے گی۔ اس وقت غرےب دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہا ہے مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر عوام کی شہہ رگ سے لہو نچوڑ رہا ہے ۔مےڈےا مےں حکومت کی ناکامی کے ڈونگرے بجائے جا رہے ہےں اس کے باوجود حکومت کو اصل صورتحال کا ادراک نہےں ہے۔اگر عمران خان کے گرد اےسے افراد موجود ہےں جو سب اچھا کے آگے فل سٹاپ لگا رہے ہےں تو پھر حکومتی کارکردگی کا زائچہ سب اچھا کی نفی کر رہا ہے۔وزےراعظم عمران خان کو اپنے گردوپےش کا جائزہ لےنے کی ضرورت ہے کےونکہ اب بھی اگر عوام کو رےلف فراہم نہ کےا گےا تو مزےد تاخےر کی گنجائش نہےں ہے سابقہ حکومتوں کے کردار و عمل کے انجام کوپےش نظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو مفاد عامہ کے حق مےں ترجیحی بنےادوں پر فےصلے کرنے چاہےے۔۔۔!
(کالم نگارقومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved