تازہ تر ین

سماجی ہم آہنگی مےں نوجوانوں کا کردار

رانا زاہد اقبال …. نقطہ نظر
نوجوان کسی بھی معاشرے کا چاق و چوبند دستہ ہوتے ہےں۔ ےہ انتہائی قےمتی پونجی ہوتے ہےں اور ملک و قوم کی رےڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتے ہےں۔ ےہ اگر اعلیٰ تعلےم ےافتہ اور مطمئن ہوں گے تو ملکی ترقی مےں کبھی رکاوٹ نہےں آئے گی۔ لےکن بد قسمتی سے ہمارا ےہ اہم قومی اثاثہ مختلف مسائل اور الجھنوں کا شکار اور پرےشان حال ہے۔وہ ڈگری لےنے سے پہلے ہی غربت، مہنگائی، بے روزگاری کی اصلاحات نہ صرف واقف ہو جاتے ہےں بلکہ خوفزدہ بھی، اور ےہی آگہی ان کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہے۔ ترقی پذےر ملکوں مےں مہنگی تعلےم نے ان باہمت نوجوانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ غرےب طبقے کا نوجوان مہنگی تعلےم اور معاشی بوجھ کی وجہ سے دوہری اذےت مےں مبتلا ہے۔ ڈگری کے حصول کے بعد نوکری کا خواب سجائے شادی کی فکر مےں گھٹتے ہوئے جب ناامےد ہوتا ہے تو پھر جرائم کی دنےا مےں اس کا استقبال بغےر کسی طبقاتی اونچ نےچ کے کےا جاتا ہے اور وہ اس پراسرار دنےا کا باسی بن کر ہر آسائش حاصل کر لےتا ہے۔ مگر ےہ سب کچھ اپنی زندگی کو گروی رکھ کر حاصل کرنا پڑتا ہے۔اےک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال تعلےمی اداروں سے ہزاروں طلباءفارغ التحصےل ہوتے ہےں مگر اس تعداد مےں نوکری کا ہما کسی کے سر پر ہی بےٹھتا ہے۔ بے راہ روی کا بنےادی سبب بھی ےہی مسئلہ بنتا ہے جس سے ہمارے نوجوانوں کی صحت اور نفسےات شدےد متاثر ہو رہو رہی ہے۔ ان مےں سے کچھ جب مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہےں تو وہ ےا تو خود کشی کر لےتے ہےں ےا پھر جرائم پےشہ گروہوں مےں شامل ہو کر ان کے لئے خام مال ثابت ہوتے ہےں۔ےہ مسائل اےسے ہےں کہ والدےن بھی تماشائی بن کر سب ہوتا دےکھنے پر مجبور ہےں، حکومت بھی ان مسائل پر کوئی خاص توجہ دےتی نظر نہےں آتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اےک اےسا پلےٹ فارم ہو جہاں طلبا باآسانی اپنے مسائل حل کر سکےں، ان پر بحث و مباحثہ ہو اورا ن کاحل نکالا جائے۔ آج کا نوجوان پاگل اور نا سمجھ ہر گز نہےں مگر حالات کے آہنی شکنجوں مےں اس قدر جکڑا جا چکا ہے کہ اس کی سوچ سمجھ کی صلاحےت سلب ہو کر رہ گئی ہے۔
آج نوجوان اپنی زندگی کا لائحہ عمل طے کرنا چاہتے ہےں، ےہ اےک فےصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے اگر اس عمل کے دوران انسان کو کامل ےقےن ہو کہ جو وہ کر رہا ہے اسے اےسا ہی ہونا چاہئے تو کوئی وجہ نہےں کہ وہ کامےابی سے ہمکنار نہ ہو۔ لےکن کےا ہماری نوجوان نسل اےسا ےقےن رکھتی ہے جسے اےمانِ کامل کا درجہ حاصل ہو افسوس اےسا نہےں ہے ان کی بے ےقےنی بتاتی ہے کہ وہ ےقےن کی دولت سے محروم ہےں ورنہ اگر اےسا نہ ہوتا تو آج وہ اےک اجتماعی اضطراب مےں نظر نہ آتے ۔ آج کے اس اضطراری تسلسل کو بہر صورت منقطع کرنا ہو گا ورنہ ےہ بے ےقےنی بڑھ کر ناامےدی مےں بھی ڈھل سکتی ہے ۔ ہمےں اپنے نوجوانوں کو ےہ آگاہی فراہم کرنی ہو گی کہ امےد، ےقےن اور جہدِ مسلسل کی مدد سے اس گرداب سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جس کی آبادی کا تقرےباً 60فےصد طبقہ 6برس سے35برس تک کی نوجوان افرادی قوت پر مشتمل ہے۔ پاکستان کو پرجوش نوجوانوں کی صورت مےں اےک مضبوط بنےاد دستےاب ہے حالےہ خود کش حملے پاکستان کی اس افرادی قوت کے غلط استعمال کی بھےانک مثالےں ہےں۔ ہم نے نوجوانوں کو اپنی ذات کو کھوجنے کا ڈھنگ نہےں سکھاےا ہے نتےجتاً ےہ خود کو اوروں کی حکاےت مےں ہی ڈھونڈتے رہے اس وقت ضروری ہے کہ ہم نوجوانوں کو صحےح صورتحال سے آگاہ کرےں اور انہےں ان کی ذمہ دارےاں ےاد دلائےں۔ نوجوان اہم فےصلے کرتے ہوئے ہےجانی کےفےت مےں مبتلا ہو جاتے ہےں، ےہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کو ان کی زندگی بہتر بنانے کے لئے فےصلہ سازی کے درست طرےقے بتائے جائےں تا کہ ان کی مشق کر کے درست فےصلے کرنے کے قابل ہو سکےں۔
اعلیٰ سطح پر بد انتظامی اور ناانصافی نوجوانوں کو ذہنی انتشار کی طرف لے جاتی ہے اور وہ عمر کے فےصلہ کن موڑ پر معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے بھٹک جاتے ہےں جس کا فائدہ انہےں بھٹکانے والے اٹھاتے ہےں جو انہےں اپنے مقاصد کے لئے ورغلا لےتے ہےں اور وہ شدت پسند تنظےموں کے آلہ¿ کار بننے پر آمادہ ہو جاتے ہےں۔ ےہ صورتحال دعوتِ فکر دےتی ہے کہ ہم اس کے تدارک کے لئے واضح اور ٹھوس راہ اختےار کرےں۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کےسے فراہم ہوں اس کی حکومت کو فکر کرنی چاہئے کےونکہ بےروزگاری بہت سی لعنتوں کو جنم دےتی ہے جن مےں سے اےک لعنت جرائم کا پےشہ ہے۔ اےسے نوجوان جو بےروزگار ہےں انہےں کسی نہ کسی طرح سے اپنی مصروفےات جاری رکھنے کے لئے کسی نہ کسی کام مےں لگنا پڑتا ہے اور کچھ سماج دشمن عناصر بھی ہےں جو انہےں غلط راہ پر لگا دےتے ہےں جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہو کر سماج مخالف سرگرمےوں مےں مصروف ہو جاتے ہےں۔
ہمےں اپنے نوجوانوں سے معذرت خواہ ہونا چاہئے کہ ہم انہےں اس صداقت کا صحےح سبق نہ دے سکے جو ان کے اپنے وجود مےں موجود ہے اگر اےسا کےا گےا ہوتا تو وہ اپنی ذات مےں اس روشنی کو تلاش کر سکتے۔ ہم نے انہےں شجاعت کا وہ سبق پڑھاےا کہ وہ خود کش تو بن گئے نفس کش نہ بن سکے۔ عدل کی وہ صورت گری کی کہ ان کے لئے انصاف محض زرداروں کے ہاتھوں بکی ہوئی شے رہ گےا۔ جہاں مارنے مرنے کا عمل بن گےا جہدِ مسلسل نہےں رہا۔ پاکستان کی نوجوان نسل ہمارا روشن مستقبل ہے اور اپنے مستقبل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ نہےں ہونے دےں گے، دہشت گردی کی جنگ مےں نوجوان نسل کاکردار انتہائی اہم ہے، نوجوان نسل کو صحےح راہ پر گامزن کرنا ہو گا۔ اس سے معاشرے مےں سماجی ہم آہنگی پےدا ہو گی ، نوجوانوں مےں قوتِ برداشت بڑھے گی، احترام انسانےت کا جذبہ فروغ پائے گا۔قائد کے ملک مےں مختلف مذاہب کے درمےان ےکجہتی کا ماحول پروان چڑھے گا۔ ملک کے نوجوانوں سے ےہی تقاضا ہے کہ انہےں جوش کے بجائے ہوش کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے۔ آج ان کی ہوش مندی ہی ملک کا مستقبل طے کرے گی اور جو ملک کا مستقبل طے ہو گا اور وہی ان کا مستقبل ہو گا کےونکہ مستقبل قرےب مےں ملک انہی کے ہاتھوں مےں جانے والا ہے۔
(کالم نگارسماجی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved