تازہ تر ین

صحافی کے سفر نامے

محمد فاروق عزمی….جواں عزم
اپنی اپنی نگاہ کی بات ہے ، دو لوگ ایک ہی کھڑکی سے بیک وقت باہر دیکھتے ہیں، ایک کو گلی کا کچرا نظر آتا ہے دوسرے کو آسمان کے ستارے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی سفر میں ایک ہی راستے پر اکٹھے سفر کرتے ہوئے دو مسافروں کے سفر کے مقاصد جدا جدا ہوسکتے ہیں۔ ان کے مشاہدات و تجربات بھی مختلف ہوسکتے ہیں، دورانِ سفر پیش آئے واقعات و حادثات پر ان کی رائے بھی متفرق ہوسکتی ہے۔
کہتے ہیں سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ سفر بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ”صحافی کے سفر نامے“ جناب ضیا شاہد کی نئی کتاب کا نام ہے۔ ضیا صاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر بار کچھ نیا کچھ انوکھا کارنامہ سر انجام دیتے ہیں ۔ یہ” سفر نامے“ بھی ایک الگ طرح کے کارنامے ہیں، کیونکہ اس میں انہوں نے جس جس ملک کا سفر کیا اسے ایک عام آدمی کی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ ”صحافیانہ“ آنکھ سے وہاں کا مشاہدہ کیا ہے اور ہر جگہ انہوں نے اپنی نگاہ کی بلندی کا معیار اور بھرم قائم رکھا اور ہمیشہ اپنے وطن کے لئے کچھ کھوجنے اور تلا ش کرنے میں وہ ستاروں پر کمند ڈالتے رہے۔ اس خوبصورت کتاب کے پیش لفظ میں وہ خود رقم طراز ہیں کہ
”ایک پاکستانی کی حیثیت سے میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ہم بھی دنیا کی دوسری ترقی یافتہ قوموں کی طرح اپنے اداروں کو مضبوط بنائیں کیونکہ اداروں ہی پر کسی ملک کے نظام حکومت کی بنیاد ہوتی ہے ۔ یہ بنیاد ہی آپ کو اس بات کا سبق دیتی ہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی جگہ پر کیا خرابی پائی جاتی ہے اور اسے ہم نے کیسے دور کرنا ہے“؟
یہ سفر نامہ ضیا صاحب کے امریکہ، اقوامِ متحدہ، برطانیہ، چین، تھائی لینڈ، ہانگ کانگ، کمبوڈیا، لاﺅس او رافغانستان کے سفر کی یادوں، تجربات اور مشاہدات پر مشتمل ہے ۔ مجھے بہت زیادہ مطالعے کا دعویٰ ہرگز نہیں ہے لیکن میں اتنا یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے جتنے تھوڑے بہت ”سفر نامے“ پڑھے ہیں یہ ”سفرنامہ“ ان میں سے اس لحاظ سے یکسر مختلف ہے کہ اس میں ضیا شاہد صاحب کی آنکھ ہر جگہ یہ تلاش کرتی رہی کہ یہاں کیا کمی ہے اور پاکستان میں کیا کمی ہے۔ وہ پاکستان سے باہر جا کر بھی پاکستان کی فکر میں گرفتار رہتے ہیں اور اپنے مشاہدات اور تجربات میں رنگینی اور سنگینی بھرنے کے لئے دوسرے سفر نامہ نگاروں کی طرح خوا مخواہ کے طلسم چشم زلیخا اور دام بردہ فروش کا تڑکا نہیں لگاتے اور حالات و واقعات کو من و عن بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہی ایک سچے کھرے اور ذمہ دار لکھاری کی پہچان ہے وہ زیب داستان کیلئے اپنی طر ف سے کوئی رنگ نہیں بھرتے ۔ اس لیے ”صحافی کے سفر نامے“ پڑھتے ہوئے قاری کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے، کیونکہ خود جناب ضیا شاہد کے پیش نظر اس ”پھیر اٹوری“ کا”اہم“ مقصد یہ رہا کہ وہ ان ممالک میں جاکر یہ دیکھیں کہ ہمارے اندر کیا کمی یا خامی رہ گئی اور کس طرح ہم اپنے پیارے پاکستان کو قائد اعظم رحمة اللہ علیہ کا حقیقی پاکستان بنا سکتے ہیں اور اس کے لیے اقوام عالم سے ہم کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں اور کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔
ضیا شاہد کی تحریریں پڑھ کر ، ان سے مل کر، اور ہمیشہ کام کرنے کی ان کی عادت اور لگن سے با آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ بانی پاکستان کے افکار و نظریات سے بے حد متاثر رہے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں ان افکار و نظریات پر عمل پیرا بھی ہیں ۔ جو بھی محبت وطن شخص پاکستان اور قائد اعظم سے محبت کرتا ہے وہ زندگی کے جس شعبے سے بھی منسلک ہو اسے ہمیشہ یہ خیال رہے گا کہ وہ کس طرح پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے لہٰذا ایک صحافی کی حیثیت سے ضیا صاحب جس ملک بھی گئے، انہوں نے وہاں کے رہن سہن، طرزِ زندگی، معاشرت، معیشت، سماجی زندگی، اداروں کے طریقہ کار کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے معاشرے اور ان کے معاشرے میں کیا فرق ہے۔ سماجی لحاظ سے ہم دوسروں سے کس قدر مختلف ہیں، ان کا رہن سہن ہم سے کتنا جدا ہے اور کیوں ہم ستر سال کے بعد بھی اقوامِ عالم سے بہت پیچھے ہیں۔ یہی سب کچھ اس سفر نامے کا ”امتیاز “ ہے اور پھر یہ محض ”سفرنامہ“ ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی تصویر پیش کر تی ایسی کتاب ہے کہ جس سے اگر سیکھنا چاہیں اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اس کیلئے ”صحافی کے سفرنامے “ ایک راہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضیا شاہد ایک مثبت سوچ کے مالک انسان ہیں، وہ ہمیشہ تصویر کے دونوں رُخ دیکھتے ہیں وہ پاکستان پر تنقید کرنے والوں، اور بات بات پر پاکستان میں نقص نکالنے اور مایوسی پھیلانے والوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ ہمیں اگر ترقی کرنا ہے تو ہمیں دوسروں کی اچھی چیزوں کو اپنانا ہوگا ۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ پاکستان میں بھی دنیا کے دوسرے ملکوں، اور معاشروں سے اچھائیاں چُن چُن کر لاﺅں، مجھے پاکستان کو گالیاں دینے والے زہر لگتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان میں پریشانیاں ہیں، مشکلیں ہیں۔ لیکن دوسروں کے محل دیکھ کر اپنے جھونپڑے کو نذر آتش نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اس ملک کو بہتر بنانا ہے۔ اس کی تعمیر کرنی ہے۔ انہیں پاکستانیوںسے گلہ بھی ہے وہ کہتے ہیں کہ جو پاکستانی دوسرے ملک میں جاکر جتنی محنت کرتا ہے وہ پاکستان میں اتنی محنت نہیں کرتا، ہمیں اس کے دکھ کا، اس کی مشکلات کا اندازہ کرنا ہے، ان رکاوٹوں کو دورکرنا ہے ، جو صلاحیتوں کو پھل نہیں لگنے دیتیں۔
اس سفرنامے میں قاری کی دلچسپی کے بہت سامان ہیں ، کیونکہ یہ کسی ایک ملک کی ”سیرو سیاحت“ کا تذکرہ نہیں ۔ وہ امریکہ جاتے ہیں تو انکل سام کے دیس کی باتیں اپنے پڑھنے والوں سے بھی کرتے ہیں، امریکی تھنک ٹینکوں کی سیر کرتے ہیںتو خارجہ تعلقات اور فلمی دوستیوں پر گفتگو ہوتی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر امریکی نقطہ نظر بھی زیر بحث آتا ہے، عراق کے کیمیائی ہتھیار اور امریکہ کا کردار بھی موضوع گفتگو ہوتا ہے۔ کہیں آپ کی ملاقات ڈاکٹر ملیحہ لودھی سے ہوتی ہے ، ملیحہ لودھی پاکستان کی بڑی معروف سفارت کار ہیں۔ وہ کئی انگریزی اخبارات میں جرنلسٹ رہی ہیں ۔ برطانیہ کے ٹونی بلیئر، پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، صدام کے خلاف لشکر کشی، بیجنگ، شنگھائی ، سٹیٹ کونسل، کابل ایئر پورٹ کا منظر نامہ، کرزئی صاحب سے ملاقات، افغان افواج کا تذکرہ، کمبوڈیا، لاﺅس اور تھائی لینڈ کے علاوہ ہانگ کانگ کی سیر بھی ”سفر نامے“ کی دلچسپی اور خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
قلم فاﺅنڈیشن کی شبانہ روز محنت نے اس پبلشنگ ادارے کو ایک وقار اور جدت عطا کی ہے ۔ ضیا صاحب کی ساری کتابیں چھاپنے کا اعزاز اسی کو حاصل ہے۔ زیر نظر کتاب خوبصورت کلر تصاویر سے مزین ہے۔ ضیا صاحب کی ایسی تصاویر بھی کتاب میں شامل ہیں جن کے کیپشن میں لکھا جاسکتا ہے ”جب آتش جواں تھا“۔ سر ورق پر دیوارِچین اور امریکی مجسمہ آزادی کی تصویر فوراً اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، کاغذ عمدہ، کتابت اعلیٰ اور طباعت بہت اچھی ہے۔ قلم فاﺅنڈیشن کے چیئر مین علامہ عبدالستار عاصم اور صدر جناب محمد فاروق چوہان نے ضیا صاحب کی یہ 14ویں کتاب شائع کی ہے، گویا چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے ۔ اس چاند تک رسائی کیلئے خلائی شٹل کی ضرورت نہیں بس قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل سے ان نمبروں پر رابطہ فرمائیں یا ای میل کریں ۔ قلم فاﺅنڈیشن انٹر نیشنل بنک سٹاپ والٹن روڈلاہور کینٹ۔0300-515101, 03008422518, 0321-4788517 ای میل : [email protected]
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved