تازہ تر ین

عام آدمی کوریلیف ملناچاہئے

جاوید ملک …. مساوات
قومی اخبارات میں شائع ہونیوالی ایک رپورٹ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ موجوہ حکومت نے صرف ایک ہفتے کے دوران ہی 113 ارب روپے کا قرض لیا ہے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شائع ہونیوالے اعدادوشمار کے مطابق 31 جولائی 2017 ءسے لیکر 4 جنوری 2018 ءتک حکومت نے بجٹ سپورٹ کے لیے 835 ارب 70 کروڑ روپے قرض لیا جبکہ گزشتہ برس یہی قرضہ 353 ارب 40 کروڑ روپے تھا جبکہ دیکھا جائے تو اس طرح حاصل کردہ قرض میں 136 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے تک حکومتی قرض 722 ارب تھا تاہم 4جنوری تک یہ قرض 835 ارب 70 کروڑ تک پہنچ گیا اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی جانب سے قرض میں 113 ارب روپے کا صرف ایک ہفتے کے دوران اضافہ ہوا ہے۔
2008 ءسے شروع ہونیوالے بدترین عالمی معاشی بحران نے جہاں جاپان ،امریکہ اور چین جیسی بڑی معیشتوںکو ہلاکر رکھ دیا وہیں پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت بھی بدترین انہدام کا شکار ہوچکی ہے۔ سنجیدہ تجزیہ نگاروں کے مطابق معیشت کی اِس دگرگوں کیفیت کیساتھ یہاں کوئی مستحکم اقتدار قائم نہیں ہو سکتا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ معیشت اور بالعموم پورے سیٹ اپ میں اصلاحات کی کوشش نہیں کی گئی ۔ حکمران طبقات کے سنجیدہ دانشور مسلسل بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور سماجی تضادات کی نشاندہی کر رہے ہیں اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے ایسی کسی کوشش سے حکمران طبقات کے اپنے تضادات بھڑک اٹھتے ہیں اور بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے ۔نواز لیگ جسے یہاں کی پرانی اور سنجیدہ سیاسی جماعت گردانا جا سکتا ہے ، کی حکومت نے سنجیدگی سے ایسے بہت سے اقدامات کرنے کی کوشش کی جس سے کچھ استحکام پیدا کیا جا سکے ۔ ٹیکس نیٹ میں اضافے ، کالی معیشت کو قانونی دھارے میں لانے ، نجکاری، ہندوستان کیساتھ تجارت کھولنے ، ملک کے اندر اور باہر بنیاد پرست پراکسیوں کی پشت پناہی کی پالیسی ختم کرنے ، یمن میں فوجیں بھیجنے سے انکار، افغانستان میں سٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسی ترک کرنے اور سب سے بڑھ کر ڈیپ سٹیٹ کو لگام دینے اور ’سویلین بالادستی‘ قائم کرنے کی کوششیں بحیثیت مجموعی نظام میں ایسی اصلاحات کرنے کی سعی تھی جس سے امن و امان کی صورتحال کچھ بہتر ہو، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کو کم کیا جا سکے ، تجارت کو فروغ دیا جائے اور سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول قائم کیا جائے ۔ نواز شریف یہ سب کچھ کسی انقلابی نیت سے نہیں بلکہ خود اپنے طبقے اور قومی سرمایہ داری کو ٹھوس کردار دینے کی کوشش کے تحت کر رہا تھا۔ لیکن اس سے بعض طاقتوں کیساتھ جو ٹکرا¶ پیدا ہوا اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔یہ کیفیت ایک بار پھر یہاں کے حکمران طبقات کی تاریخی کمزوری اور ان کی سیاست کے کھوکھلے پن کی غمازی کرتی ہے ۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کا مسئلہ یہ تھا کہ ایک تو وہ نواز لیگ کے ذریعے مزاحمت کی کوشش کر رہا تھا جو کبھی بھی مزاحمتی پارٹی نہیں رہی بلکہ بنیادی طور پر دکانداروں اور تاجروں کی دائیں بازو کی پارٹی ہے جس کا خمیر ہی ضیاالحق کی رجعتی آمریت سے اُٹھا تھا۔ دوسرا یہ کہ مروجہ سیاست کے لحاظ سے اگرچہ نواز شریف اور مریم نے بہت جارحانہ لفاظی کا استعمال کیا، جس کی مثال شاید پنجاب کی حاوی سیاست میں پہلے نہیں ملتی، لیکن ان کے تمام تر نعرے اور لفاظی اِسی نظام کی حدود میں مقید تھی جس میں وسیع تر عوام کے لئے کوئی خاص کشش موجود نہیں تھی۔اس کے باوجود نواز شریف اورمریم نے بڑے جلسے کیے ۔ آبادی کا ایک حصہ، جس میں محنت کش طبقے کی پسماندہ پرتیں بھی شامل تھیں، ان کی طرف متوجہ ہوا۔ جس میں 2013ءکے بعد ہونے والے معاشی پھیلا¶ اور نسبتاً استحکام جیسے عوامل کارفرما تھے ۔ لیکن محض ’مظلومیت‘ اور’ووٹ کو عزت دو‘ جیسے کمزور اور مبہم نعروں کے ذریعے ایک وقت تک ہی لوگوں کی حمایت یا ہمدردیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس حمایت اور ہمدردی کو جرا¿ت مندانہ تحریک میں بدلنے کے لئے عام لوگوں کے مسائل حل کرنے کے انقلابی پروگرام درکار ہوتے ہیں جو ان کے پاس نہیں تھے لیکن اس پوری ایجی ٹیشن کا بیڑا غرق کرنے میں میرے خیال میں شہباز شریف کا بنیادی کردار تھا جنہوں نے سزا سنائے جانے کے بعد لاہور میں نواز شریف اور مریم کے استقبال کے لئے نکلنے والی ریلیوں کو نہ صرف دانستہ طور پر سبوتاژ کیا بلکہ جو لوگ آئے‘ انہیں بھی مال روڈ کی سیر کرواتے رہے اور ایئرپورٹ نہ پہنچنے دیا۔ اگر ٹھیک نیت سے اِن ریلیوں کو منظم کیا جاتا تو کم از کم طاقت کا بڑا مظاہرہ کیا جا سکتا تھا، روکے جانے کی صورت میں لاہور اور دوسرے شہروں میں خاصی ایجی ٹیشن کی جا سکتی تھی اور اِس سارے مومینٹم کو آگے انتخابات کی طرف موڑا جا سکتا تھا۔
یہ درست ہے کہ مسلم لیگ اور تحریک انصاف دونوں کی سماجی حمایت درمیانے طبقات میں موجود ہے لیکن پھر ’درمیانے طبقے ‘کو گہرائی میں دیکھ کر دونوں پارٹیوں سے وابستہ سماجی رجحانات میں تمیز کرنا ضروری ہے ۔ مسلم لیگ کی حمایت درمیانے طبقے کی جس پرت میں موجود ہے وہ چھوٹے سرمایہ دار، تاجر اور دُکاندار ہیں۔ یہ بالعموم تجارت سے وابستہ چھوٹے کاروباروں والا درمیانہ طبقہ ہے جو ’پیٹی بورژوازی‘ کی مارکسی تعریف کے قریب ترین ہے ۔ ماضی میں جماعت اسلامی جیسے رجحانات کی بنیاد بھی یہی طبقہ رہا ہے ۔ اس پرت سے اوپر مسلم لیگ جس طبقے کا نمائندہ رجحان رہا ہے وہ بڑے سرمایہ دار ہیں جو زیادہ تر صنعت سے وابستہ ہیں۔اس کے برعکس تحریک انصاف کی سماجی بنیادیں 1980ءکے بعد نیولبرل سرمایہ داری کے ارتقا (بالخصوص سروسز سیکٹر کے پھیلا¶) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے درمیانے طبقے پر مبنی ہیں۔ یہ زیادہ تر نوکری پیشہ شہری مڈل کلاس ہے جسے نجی تعلیمی اور کاروباری اداروں کا کارپوریٹ زدہ ’پڑھا لکھا‘ طبقہ بھی کہا جا سکتا ہے جو پچھلی تقریباً دو دہائیوں میں تیزی سے پھیلا ہے ۔ محنت کش طبقے کے عدم تحرک کے ادوار میں اپنے مخصوص سماجی اثرورسوخ کے پیش نظر یہ مڈل کلاس دوسرے طبقات کے مختلف افراد یا پرتوں کو بھی اپنے ثقافتی اور سیاسی اثرورسوخ میں لے لیتی ہے ۔
1980ءکی دہائی کے بعد کے مخصوص ماحول میں میڈیا اور نصابوں کے ذریعے اس شہری مڈل کلاس کی ذہن سازی اور تربیت ضیاالحق کی اقدار اور اخلاقیات میں ہوئی ہے جس کے ماڈرنزم کیساتھ ملغوبے نے ایک عجیب تذبذب، ڈھٹائی اور نیم فسطائی منافقت کو جنم دیا ہے ۔ دُکاندار یا تاجر طبقے کی نسبت اِس طبقے کے لوگ زمینی حقائق سے کہیں زیادہ کٹے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں ”اپنی محنت سے آگے بڑھنے “ کی مخصوص اَپ سٹارٹ نفسیات کے تحت ان کے شعور میں فردِ واحد کا کردار مبالغہ آرائی کی حد تک بڑھ جاتا ہے ۔نواز شریف کا المیہ یہ بھی تھا کہ اس کی حکومت کی معاشی پالیسیوں سے تیزی سے ابھرنے والا یہ نیا درمیانہ طبقہ جس فرسٹریشن کا شکار ہوا اور اس کو اوپر چڑھنے اور اپنی مالی و سماجی حیثیت بڑھانے کی جو جلدی تھی ایسے میں اسے مذہبیت اور ماڈرنزم کے ملغوبے پر مبنی عمران خان کی ’’تبدیلی‘‘ کا راستہ نظر آیا۔
لیون ٹراٹسکی نے ہٹلر کے تناظر میں طبقے اور لیڈر کا آپسی تعلق نہایت خوبصورتی سے بیان کیا تھا کہ ’’… لیڈر ہمیشہ لوگوں کے درمیان ایک رشتہ ہوتا ہے ۔ ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو (کسی طبقے کی) اجتماعی ضرورت کو پورا کرتا ہے … ہر بھڑکا ہوا پیٹی بورژوا‘ ہٹلر نہیں بن سکتا تھا۔ لیکن تھوڑے تھوڑے ہٹلر کا بسیرا ہر بھڑکے ہوئے پیٹی بورژوا میں ہے ۔‘‘
غور سے دیکھیں تو ایسے چھوٹے چھوٹے ہٹلر ہمیں پاکستان کی ہر بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعت کے لیڈروں میں نظر آتے ہیں۔
یہ مختصر وضاحت ضروری ہے کہ بورژوا معاشیات میں صارفین کے رویوں کے مطالعہ سے لے کر مارکسزم کے تحت طبقات کے سیاسی کردار یا سیاسی مظاہر کی طبقاتی بنیادوں کے تعین تک، سماجی علوم میں ہمیشہ عمومی رجحانات کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور استثنائی صورتوں کی اہمیت ثانوی ہوتی ہے ۔ مثلاً ایک سرمایہ دار یا کچھ سرمایہ داروں کے سوشلزم کے حامی ہو جانے سے سرمایہ دار طبقے کا کردار نہیں بدل سکتا۔عام آدمی کو تو اپنے مسائل حل ہونے میں دلچسپی ہے اور ان لوگوں کوریلیف ملنا چاہئے۔ عوام کونئی موجودہ حکومت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں اگر حکومت ان کی توقعات پرپورا نہ اتری آئندہ عوام کا کسی بھی سیاسی جماعت پراعتماد ختم بھی ہوسکتا ہے۔لہٰذا حکومت عوام کوریلیف دینے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved