تازہ تر ین

سانحہ ساہیوال‘ حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس

اسرار ایوب….قوسِ قزح
اٹلی کے صدر”جیوانی لیونے“ پر کرپشن کے سنگین الزامات عائدہوئے، وہ دو مرتبہ وزیرِ اعظم بھی رہ چکے تھے، انہوں نے کہا کہ قوم کے لئے میری جان بھی حاضر ہے تو لوگوں نے کہا کہ ہمیں آپ کی جان نہیں استعفیٰ چاہیے،چنانچہ1978ءمیں انہیںعہدہ صدارت سے مجبوراًمستعفی ہونا پڑا۔اور ساہیوال کے المناک سانحے پر ہمارے صدر اوروزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ گہرے صدمے سے دوچار ہیں ، توہر دو سے بجاطور پرکہا جا رہا ہے کہ صدمہ اٹھانے کے لئے لواحقین بہت ہیں، آپ حضرات ذمہ داران کو کیفرِکردار تک پہنچانے کی کوشش کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
مشہور فلسفی شاعرخلیل جبران کا خیال یہ تھاکہ شرمناک ترین قوم وہ ہوتی ہے جو عقائد سے بھری ہوئی لیکن مذہب سے خالی ہو،وہ اناج کھائے جو خود نہ اُگائے،وہ کپڑا پہنے جو خود نہ بُنے، اپنے کھنڈرات پر ناز کرے، اس وقت تک بغاوت پر آمادہ نہ ہو جب تک موت کے منہ میں نہ پہنچ جائے،اس کے سیاست دان اور سفارت کار لومڑ اور فلسفی مداری ہوں،تخلیق سے عاری ہو اور اس کا ہنر نقالی ہو،ہر حکمران کا استقبال خوشی کے نقارے بجاکر کرے اور آوازے کَس کَس کے اسے خیر آباد کہے، قومی یکجہتی سے دور ہو کر اسطرح ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہو کہ ہر ٹکڑا خود کو ایک الگ قوم تصور کرنے لگ جائے۔خلیل جبران کی نظم”شرمناک ترین قوم“ پڑھ کر یوں لگتا تھا جیسے انہوں نے ہمارا قصیدہ لکھ دیا ہو لیکن اب یہ احساس ہوتا ہے کہ ہماری حالت تو اس سے بھی کہیں خراب ہے۔
آپ خود ہی فرمائیے کہ کیا دنیا میںکہیںاور بھی ایسا ہوتا ہو گا جیسا ہمارے یہاں آئے روز ہوتا ہے ؟ کراچی کی اُس تین سالہ بچی سے شروع کیجئے جسے دو پولیس والوںنے مل کر ریپ اور قتل کیاتھااور حال ہی میں ہونے ساہیوال کے واقعے تک آئیے ، اس دوران کتنے ہی ایسے واقعات منظرِ عام پر آئے جنہیںدیکھ کرایک مرتبہ تو قدرت بھی کانپ اٹھی ہوگی لیکن ہمارا قانون ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوا ؟بورے والا کی اس مریضہ کو یاد کیجئے جسے ہسپتال میںعلاج کے نام پر بے ہوشی کا انجکشن لگا کر گینگ ریپ کیا گیا ، اور پانچ سال کی وہ بچی جسے لاہور کے ایک پرائیویٹ سکول میں ہوس کے بھینٹ چڑھایا گیا تومیڈیا میں یہ خبر نشرہوئی کہ ایف آئی آر اس لئے درج نہیں کی جا رہی کہ سکول کا مالک ایک بااثر شخص ہے۔اس بچے کا واقعہ بھی کس سے پوشیدہ ہے جسے درندگی کا نشانہ بنا کر ایک مسجد میں سولی پر لٹکا دیا گیا لیکن اہلِ محلہ کی نشاندہی کے باوجود امام مسجد نے نمازِ باجماعت میں تاخیر نہیں ہونے دی اور اسے ادا کرنے کے بعد ہی بچے کو سولی سے اتارا گیا؟کیا اسی لئے پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے؟ اسلام سے یاد آیا کہ مذاہب کے نام پر بھی تو دنیا میں بڑے بڑے معرکے ہوئے لیکن کیا کبھی سکول کے پھول جیسے معصوم بچوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی؟اور اس باپ کے دُکھ پر تو ایک مرتبہ عرش بھی لرز اٹھا ہوگا جو اپنی بیٹی کے گینگ ریپ کی شکایت لے کر تھانے گیا تو الٹا اُسی کے خلاف” ایف آئی آر“ کاٹ دی گئی۔ ایف آئی آر کی بات چلتی ہے تو بے اختیار ماڈل ٹاﺅن کے ان بے چاروں کی یادبھی آجاتی ہے جو دن دیہاڑے پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے لیکن انہیں انصاف فراہم کرنے یا کروانے کے بجائے ہم نے ان کے نام پر سیاست کی اور طویل عرصے تک کرتے رہیں گے۔
عمران خان نے گزشتہ الیکشن سے پہلے اپنے گیارہ نکات کا اعلان کیا تھا جن میں پہلا نکتہ قومی یکجہتی کا تھا جسے فروغ دیے بغیر امن و خوشحالی کاخواب کسی صورت شرمندہءتعبیر نہیں ہو سکتا،انہوںنے کہا تھا کہ ہمارے یہاں ایک نصابِ تعلیم رائج نہیں ، امیروں اور غریبوں کے بچے الگ الگ سکولوں میں پڑھتے ہیں اور الگ الگ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، تو ان حالات میں قومی یکجہتی کہاں سے آ سکتی ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے یہاں قانون بھی دو طرح کے رائج ہیں، ایک کمزور کیلئے اور دوسرا طاقتور کیلئے، قانون کا سارا زور اول الذکر پر ہی چلتا ہے جبکہ ثانی الذکر اس کی دھجیاںسرِ عام اڑاتا پھرتا ہے اوریہ قومی یکجہتی نہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس حقیقت کا ادراک عمران خان سے بہتر کسے ہو سکتا ہے کہ ساہیوال جیسے واقعات برپا کرنے والوں کو کیفرِکردار تک نہ پہنچانے سے کس قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں؟ آپ خود ہی فرمائیے کہ جن بچوں کے سامنے ان کے بے گناہ ماں باپ کو اس بےدردی سے قتل کیا گیاانہیں انصاف نہ ملا اور وہ سچ مچ کے دہشت گردبن گئے تو اس میں عجیب کیا ہو گا؟
عمران خان اب تو خود وزیرِ اعظم ہیں،توا ب انہیں اس قسم کے واقعات کا سخت ترین نوٹس لینے سے کس نے روک رکھا ہے؟ ساہیوال کے سانحے کو ٹیسٹ کیس بنا کر اس قسم کے تمام واقعات(جن میں سے کچھ کا حوالہ کالم کے شروع میں دے چکا ہوں)کی جانچ پڑتال ازسرِ نو کروانی چاہیے اور ہر قیمت پر یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ان واقعات میں ملوث کسی اہلکار کو بھی نشانِ عبرت کیوں نہیں بنایا جا سکا ، چاہے اس کےلئے کسی بین الاقوامی تفتیشی ایجنسی سے ہی معاونت کیوں نہ لینی پڑے؟
اِس واقعے پر پوری قوم کو متحد ہو کراُس وقت تک خاموش نہیں ہونا چاہیے جب تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہیں ہو جاتااوراس واقعہ میں ملوث افراد کیفرکردارتک نہیں پہنچ جاتے۔ یہ حکومت کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے‘ دیکھیں وہ اِسے کیسے حل کرتی ہے۔
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved