تازہ تر ین

سی ٹی ڈی کا انٹیلی جنس آپریشن اس طرح ہونا چاہیے کہ ہر شخص سوچنے پر مجبورہو اسکی جان محفوظ ہے: ذوالفقار راحت، پولیس اصلاحات کیلئے ناصر درانی آئے مگر مداخلت کی وجہ سے چارج چھوڑ گئے: آغا باقر، اطلاع درست بھی تھی تو گرفتار کرلیا جاتا، ذاتی عناد پر بھی بات ہونی چاہیے: امجد اقبال ، ایف آئی آر میں اہلکاروں کے نام درج، حکومتی وزراءکے بیانات بغیر سوچے سمجھے: میاں افضل ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار ذوالفقار راحت نے کہا کہ ساہیوال کا سانحہ بہت اندوہناک ہے سی ٹی ڈی کا انٹیلی جنس آپریشن جب اس طرح ہو سکتا ہے تو ہر شخص ہی سوچنے پر مجبور ہے کیا اس کی جان محفوظ ہے واقعے کے بعد بیانات میں تضاد بھی افسوسناک ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جعلی پولیس مقابلوں سے پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے، پولیس اصلاحات کے لئے ناصر درانی آئے لیکن مداخلت کی وجہ سے چارج چھوڑ گئے۔ حکومت کو اب کام کر کے دکھانا ہو گا۔ اس وقت لیڈر شپ کا امتحان ہے۔ نااہلی کی درخواست پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس طرح کی درخواستیں سماعت کے لئے مقرر ہونے سے چہ مگوئیاں جنم لیتی ہیں اور ملکی حالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست پر انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں زرداری کے خلاف فیصلہ آ بھی سکتا ہے۔ کالم نگار و پروگرام کے میزبان آ غا باقر نے کہا ہے کہ ساہیوال واقعہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اس قسم کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے اگر ذمہ داران کو سزا ملتی تو ان واقعات کا تدارک ہو سکتا تھا۔سوال یہ ہے جن کے بچوں کے ماں باپ ہلاک ہو گئے کیا ان بچوں کو پھولوں کا گلدستہ دینا کچھ عجیب نہیں لگتا۔ قطر سے وزیراعظم عمران خان کچھ نہ کچھ لے کر ہی آئیں گے۔تحریک انصاف نے بھی زرداری کے خلاف نااہلی کے لئے رٹ دائر کر دی ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کارامجد اقبال نے کہا کہ ساہیوال واقعہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات قبل از وقت ہے ساہیوال واقعہ سی ٹی ڈی کی پیشہ وارانہ غفلت ہے جعلی پولیس مقابلے الگ اصطلاح ہے۔فرض کریں اطلاع درست بھی تھی تو گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے خیال میں اس واقعے پر ذاتی عناد پر بھی بات کر نی چاہئے جو کسی نے نہیں کی۔ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں کہ دہشت گرد فیملیوں کے ساتھ سفر کرتے رہے لیکن درست معلومات کی بنیادپر ہی کارروائی ہونی چاہئے۔قطر کے طالبان کے اس حد تک تعلقات ہیں کہ وہاں طالبان کا دفتر کھلا ہوا تھا۔ نمائندہ خصوصی وکالم نگارمیاں افضل نے کہا کہ ساہیوال واقعے پر حکومتی وزراءکے بیانات قبل ازروقت اور بغیر سوچے سمجھے تھے۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ پولیس کی مدعیت میں ساہیوال واقعے کی جوجوایف آئی آر کاٹی گئی اس میں تمام سی ٹی ڈی اہلکاروں کے نام ہیں۔ وزیراعظم عمران خان قطر گئے ہوئے ہیں دیگر ملکوں کے دورے بھی کر چکے ہیں چلیں کچھ نہ کچھ تو آ ہی رہاہے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved