تازہ تر ین

سانحہ ساہیوال دلخراش واقعہ ، پولیس نے آنکھیں بند کر کے پورا خاندان مار دیا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ساہیوال کا واقعہ اتنا دلخراش ہے کہ اس کی جوں جوں تفصیلات سامنے آتی جا رہی ہے پہلے سے بھی زیادہ دکھ ہونے لگتا ہے کہ ہم کس قسم کے معاشرے میں زندہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کے بھی ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی سا الزام لگ سکتا ہے ایک مرتبہ کچھ کہا گیا دوسری دفعہ کچھ کہا گیا۔ تیسری مرتبہ کچھ کہا گیا۔ پولیس پنجاب تو بڑی شاندار روایات رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں جب روس میں ماسکو کیپٹل تھا۔ مثال دی جاتی تھی کہ اگر پنجاب کی پولیس کو مشن سونپا جائے کہ جو کوسیجن وغیرہ جو سربراہ مملکت ہوتے تھے ان کی گھڑی گم ہو گئی۔ انہوں نے حکم دیا کہ میری گھڑی تلاش کی جائے۔ کہتے ہیںکہ یہ کام پنجاب پولیس کے سپرد کیا یہ کام بہت باصلاحیت ہیں تو پولیس کے لوگوں نے تین مختلف مقامات پر تین آدمی گرفتار کر لئے اور تینوں نے مان لیا کہ ہم نے گھڑی چوری کی ہے۔ پنجاب پولیس ٹارچر اتنا کرتی ہے اور مشہور ہے کہ جو جرم تسلیم نہ کرتا ہو اسے پنجاب پولیس کے حوالے کر دو۔ پنجاب پولیس کے افسر تو پڑھے لکھے آ رہے ہیں مگر نیچے جو عام اہلکار ہے تو اتنا ہی بدتمیز ہے۔ قانون کی زبان وہ خود نہیں سمجھتا۔ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں سرخ بتی جل رہی ہوتی ہے اور پولاس والا بڑے ٹھاٹ سے موٹر سائیکل چلاتا ہوا گزر جاتا ہے۔ ماورائے قتل کرنے والے پولیس افسروںکی سفارشیں بہت بڑی بڑی ہیں اور سب سے بڑی سفارش پیسہ ہے ان کا پیسہ، ان کی جائیدادیں اور ان کا رہن سہن، شان و شوکت دیکھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح سے دھن دولت میں کھیلتے ہیں۔ اثرورسوخ اور دولت کی وجہ سے یہ لوگ صاف بچ نکلتے ہیں۔ ایک تو ہم رکتے ہی نہیں 14 سو سال میں۔ ایک دم سے مدینہ کی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اللہ کے بندو ہمارا افسر، ہمارا اہلکار، سرکاری ملازم، عام شہری کیا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ریاست مدینہ جیسا سلوک کیا جائے۔ کیا مدینہ کی ریاست کا سربراہ اپنے تحفظ کے لئے اتنے سپاہی کھڑے کر سکتا تھا کیا مدینہ میں جو حاکم تھا اس کے جسم پر جو کپڑے ہوتے تھے عام آدمی پوچھ سکتا تھا کہ ”عمر جو بات کر رہے ہو ہمیں پہلے یہ بات بتاﺅ اتنا لمبا پہنا ہوا ہے سب لوگوں کو ایک ایک چادر ملی تھی یہ ایک چادر میں نہیں بنتا۔ یہ تم نے کرتا کہاں سے لیا۔ اس کو وضاحت کرنا پڑتا تھا کہ ایک چادر میرے بیٹے کو ملی تھی ایک مجھے ملی تھی تو میرے بیٹے نے اپنی چادر بھی مجھے دے دی تھی جس پر می ںنے لمبا کرتا بنوایا ہے۔ ہم کس سے موازنہ کر رہے ہیں کیا ہمارا حاکم جو ہے معاف کیجئے گا خواہش بڑی اچھی ہے۔ عمران خان صاحب کی لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ یہ ملازمین سرکار جو ہیں یہ مدینہ کی ریاست بننے دیں گے سانحہ ساہیوال بارے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے جب ایک بندہ منت کر رہا ہے اس کے ساتھ بیوی بچے ہیں اگر غلط اطلاع مل بھی جائے کہ تو کیا اِن کو نظر نہیں آتا کہ فیملی ہے بے گناہ لوگ ہیں اسلحہ ان کے پاس نہیں ہے کیا پولیس والے اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ صرف ایک غلط اطلاع ملنے پر صحیح ہو یا غلط ہو وہ اپنی گن کی نالیاں سیدھی کر دیتے ہیں اور اندے کو تڑپتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں کیوں آخر جو حملہ کرنے آئے تھے کیوں اس طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ آدمی دیکھ کر ہی سمجھ لیتا ہے کہ ساتھ عورت ہے چھوٹے بچے ہیں۔ وہ منتیں کر رہا ہے گولی نہ چلاﺅ، گولی نہ چلاﺅ کیا پولیس والوں کے کان نہیں ہوتے دل نہیں ہوتا۔ آنکھیں نہیں ہوتیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ میں جب اس واقعہ کا خاکہ اپنے ذہن میں بناتا ہوں تو مجھ سے تو یہ تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ اگر غلط فہمی ہو بھی گئی اور نشاندہی غلط ہوئی اور غلط گاڑی کی یا کم از کم افراد کی غلط نشاندہی ہو گئی لیکن جب اتنے قریب سے گولیاں چلائی گئی ہیں تو سارے متاثرین نظر آ رہے تھے ایک آدمی ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا ہے بچوں کو گولی مت مارو، گولی نہ چلاﺅ سمجھ نہیں آتی اس کے باوجود پولیس کس طرح بے حس ہو جاتی ہے۔ اس میں جلدی کی کیا ضرورت تھی آپ نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ گن پوائنٹ پر ان کو باہر کھڑا کر لیں۔ کون سی ایسی قیامت آ گئی تھی بغیر سوچے سمجھے انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی صف ماتم بچھی رہی۔ پولیس ایک جھوٹ بولتی ہے پھر اسے چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولتی ہے ساہیوال واقعہ میں بھی اسی طرح کئی بیانات بولے گئے۔ بچوں کے سامنے والدین کا قتل اور پھر بچوں کو گھسیٹ کر باہر نکالنا سب غیر انسانی رویہ ہے پنجاب میں نظم و نسق کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے جانے کس بنا پر عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ لگایا ہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ قطر سے واپس آ کر فوری ساہیوال جائیں تمام تر صورتحال کا خود جائزہ لیں ایسے واقعات حکمرانوں کیلئے ٹیسٹ کیس ہوتے ہیں کہ کیا وہ عوام کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ سارا نظام ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سرکاری مشینری بالکل زیرو ہو چکی ہے۔ سرکاری ملازمین بے حس لاشوں کی طرح ہیں جو اوپر سے سیٹی بجنے پر چل پڑتے ہیں یا رک جاتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام پریشان ہیں روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور حکومتی رہنماﺅں کی ریاست مدینہ کی باتیں یہی ختم نہیں ہوتیں انہیں چاہئے کہ یہ مثال دینا بند کر دیں کہ ہمیں تو کہیں اس مثالی ریاست جیسی کوئی بات یہاں نظر نہیں آتی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved