تازہ تر ین

جیپ ریلی،روہی میلہ اورخواجہ فرید

اکمل شاہد ……..نقطہ نظر
اکیسویںخواجہ فرید روہی امن میلہ کی تشہیر چولستان جیپ ریلی سے بھی زیادہ ہورہی ہے‘ اس کی وجہ یہاں کے مقامی لوگوں کی اپنی دھرتی ،اپنے کلچر اور خواجہ فرید سے محبت ہے کہ وہ روہی جاتے تو فیروزہ کا راستہ ہی اختیار کرتے۔آج جس مقام پر روہی میلہ کی تقریبات ہونے جارہی ہیں یہ جگہ بھی ان سے ہی منسوب ہے اس لیے یہاں عام لوگوں کا آنا اور وہ بھی کثیر تعداد میں ایک مثبت اور اچھا عمل ہے کہ وہ روہی جس کو ایک کافی میں خود خواجہ صاحب نے بھی پروحشت اور سنجڑی کہا ہے اب پوری دنیا کے لیے ایک حسین اور سنہرے خوابوں کی وادی بنتی جارہی ہے۔ اس میں ان کے گدی نشین خواجہ معین الدین محبوب کی بے لوث محبت بھی شامل ہے کہ جیسے ہی سالانہ جیپ ریلی اور روہی میلے کی تاریخ طے ہوتی ہے لاکھوں کی تعداد میں آنے والے سیاح تیاریوں میں لگ جاتے ہیں،اب کی بار تو خود وزیراعظم عمران خان نے بھی 2019ءکی تقریبات میں اسے بھی شامل کردیا ہے جس سے لگتا ہے کہ اب کی بار یہ تقریبات زیادہ اچھی ہوں گی اور یہ بھی لگتا ہے کہ قلعہ دراوڑ بھی دیکھنے کے لیے دور دور سے سیاح آئیں گے کیونکہ اس کی دوبارہ تعمیرات بھی جاری ہیں ،اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دفعہ روہی ایک نئے انداز سے پوری دنیا کے سامنے آئے گی اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اس میںصوفی شاعر خواجہ فرید سیں کی محبت بھی شامل ہے کہ انہوں نے کئی برس اس روہی میں گزارے ،اپنی کافیوں میں روہی کے ذرے ذرے کی تعریف کی جس کی وجہ سے اب پوری دنیا سے سیاح اسے دیکھنے کی جستجو رکھتے ہیں اور کئی تو اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ‘ کنڈا پیر فرید سے قلعہ دراوڑ تک کئی روز ایک میلے کا ساسماں ہوتا ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ روہی چولستان کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ادارے کے چیئرمین بھی اس علاقے سے منتخب ہوئے ہیں جو علاقہ خواجہ سیں کی جنم بھومی کہلاتا ہے اس لیے سابقہ ریاست بہاولپور کے لاکھوں لوگ یہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ صوبائی وزیرخزانہ وچیئرمین سی ڈی اے ہاشم جواں بخت چولستان میں منعقد ہونے والی ان تقریبات میں نہ صرف دلچسپی لیں گے بلکہ خواجہ فرید کے نام سے بننے والے اداروں میں بھی دلچسپی لیکر ان میں فنڈز کی کمیوں کو پورا کریں‘مثال کے طور پرخواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہی لے لیں تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے کہ ارباب اقتدار اور افسر شاہی جنوبی پنجاب میں اعلیٰ تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں کس حد تک مخلص ہیں۔اس یونیورسٹی کا آغاز 2014ءمیں ہوا جب پنجاب اسمبلی میں ‘KFUEIT Rahim Yar Khan (Act VIX 2014)’ پاس ہوا۔ شروع میں یونیورسٹی کے پاس اپنا کیمپس نہیں تھا تو اس کی ابتدائی کلاسز کا آغاز گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رحیم یار خان کی عمارت کے ایک چھوٹے سے حصہ میں ہوا۔ اس وقت اس کی مینجمنٹ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے پاس تھی۔ شروع میں ہر طالب علم کے لئے فیس آدھی کر دی گئی تاکہ نئی کلاسز میں زیادہ سے زیادہ داخلے ہوں۔ تقریبا دو سو طلباالیکٹریکل، مکینیکل اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں میں پہلے سال داخل ہوئے اور یہ اس وقت دستیاب سہولیات کے حساب سے ایک بڑی بات تھی۔ سال 2014ءمیں ہی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب نے یونیورسٹی کے 275 ایکڑ اراضی پر قیام کے لئے PC1-3847million کی منظوری دی جس کے تحت یونیورسٹی کے اپنے کیمپس کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔پی سی ون کے تحت 3847million کا فنڈجو سالانہ اقساط کی صورت میںملنا تھا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ پہلے سال کے بعد یہ فنڈ بھی ملنا بند ہو گیا، جس سے یونیورسٹی کی تعمیر کا کام تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔مجبوراََ یونیورسٹی کو فیسیں بڑھانا پڑیں تاکہ یونیورسٹی کے معاملات چلتے رہیں ۔ اس وقت جو یونیورسٹی کا کیمپس نظر آتا ہے اس کے لئے فنڈز یونیورسٹی نے اپنی مدد آپ کے تحت پیدا کئے جس کا بوجھ طلبا پر پڑا۔ اب اس وقت یونیورسٹی میں تین سے چار ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں جن کو ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کے لئے 12بسیں درکار ہیں۔ جبکہ یونیورسٹی کے پاس اس وقت صرف6 بسیں دستیاب ہیں اور نئی بسیں خریدنے کے لئے درکار وسائل کی فراہمی کے لئے یونیورسٹی کی طرف سے درخواستیں ہر متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے پاس ہیں، مگر عرصہ دراز سے کوئی شنوائی نہیں ہے۔اس وقت یونیورسٹی کا کیفے ٹیریا یونیورسٹی کا اپنا فوڈ سانئسز کا ڈپارٹمنٹ چلا رہا ہے، تاکہ کچھ فنڈ زحاصل کیے جا سکیں۔ اس سال اس یونیورسٹی میں بتیس مختلف پروگرامز میں داخلے جاری ہیں۔اگر سال 2014 ءاور سال 2018 ءکا موازنہ کیا جائے تواکیڈمک پروگرام 4سے بڑھ کر32 ہو گئے ،طلبا کی تعداد 200 سے بڑھ کر3000 ہوگئی، اساتذہ کی تعداد5سے بڑھ کر180 ہو گئی، جن میں سے 80 اساتذہ کرام پی ایچ ڈی ہیں۔ کلاس رومز کی تعداد4 سے بڑھ کر140 ہو گئی ہے۔ لائبریری میں 2014 ءمیں ایک بھی کتاب نہ تھی مگر اب 25000 کتابیں موجود ہیں۔ اس یونیورسٹی نے ارباب اقتدار اور افسر شاہی کی عدم دلچسپی اور محدود وسائل کے باوجود ہر حوالے سے ترقی کا سفر جاری رکھا تو اس کا کریڈٹ یونیورسٹی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے کہ انہوں نے اس یونیورسٹی کو ایک مثالی ادارہ بنانے میں میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی محنت کو جاری رکھا۔ کچھ لوگ ان پر کرپشن کا الزام لگا رہے ہیں تو اس کی بھی تحقیقات کی جائیںتاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہوسکے مگر ابھی کیونکہ یہ ادارہ نامکمل ہے ابھی بہت کچھ کرنا باقی رہتا ہے۔ جس کے لئے بہت سارے وسائل درکار ہیں مگر گورنمنٹ نے اس یونیورسٹی کو شروع کر کے اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو جنوبی پنجاب کا یہ قیمتی اثاثہ ضائع ہو نے کا خدشہ ہے۔یہ یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی واحد انجینئرنگ یونیورسٹی ہے اور جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ترقی کی ضامن بھی مگر اس کا جنوبی پنجاب میں ہونا جرم بن گیا اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس ادارے کو جان بوجھ کر وسائل کی فراہمی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر اس ادارے کو وسائل فراہم نہ کئے گئے اور اس کو اہمیت نہ دی گئی تو جنوبی پنجاب کا احساس محرومی اورگہرا ہو جائے گا۔ اس لئے ارباب اقتدار کو فوری طور پر اس ادارے کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ منصوبہ جنوبی پنجاب کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
نئی حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کو انتہائی اہمیت حاصل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کی تعلیمی محرومیاں دور کرنے کے حوالے سے جس مضبوط موقف کا اعادہ کیا جا رہا ہے اس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب کی تعلیمی صورتحال انتہائی ابتر ہے جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کم یابی اور وسائل کی عدم فراہمی نے اسے تعلیمی میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان جیسی شاندار اعلیٰ تعلیمی درسگاہ کو فی الفور فنڈز مہیا کیے جائیں تاکہ غیر تکمیل شدہ پروجیکٹس پر کام شروع ہو سکے اور جنوبی پنجاب کے خطے کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہواور سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی مشاہیر کے پیغام کو بھی آگے بڑھایا جاسکے ۔ ویسے کمشنر بہاولپور نیئر اقبال ،ڈپٹی کمشنر بہاولپور شوذب سعید جیپ ریلی بہاولپور کو کامیاب کرنے اور سیاحوں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ،اسی طرح ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل بھی خواجہ فرید روہی امن میلہ کنڈا پیر فرید کے بہترین انعقاد کے لیے کوشاں ہیں جن کا ساتھ اسسٹنٹ کمشنر آصف اقبال اوران کی ٹیم بھی دے رہی ہے مگر وزیر سیاحت اور وزیرخزانہ وچیئرمین سی ڈی اے نہ صرف یہاں آکر مزید اعلانات کریں بلکہ مقامی لوگوں کی بہتری کے لیے عمران خان کے ویژن کے مطابق نئی پلاننگ بھی کریں ۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved