تازہ تر ین

اِک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں!

راﺅغلام مصطفی….عوامی کٹہرا
یوم یکجہتی کشمیرہر سال کی طرح اس باربھی بھرپور جوش وخروش سے منایاگیا۔ اس دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریبا ت میں عوام نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا۔جنت نظےر کشمےر مےں بسنے والے کشمےرےوں کے جذبہ حرےت کو دہشت و وحشت کی فضا قائم کر کے بھارتی سرکار دبانے کی ناکام کوشش مےںمصروف ہے اور بھارت آٹھ لاکھ فوج کے ذرےعے مقبوضہ کشمےر مےں انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے جو سفاکےت کےساتھ جبر کی تارےخ رقم کر رہا ہے۔ اس بربریت پر عالمی قوتےں‘انسانی حقوق کی علمبردار تنظےمےںاور اقوام متحدہ‘سلامتی کونسل جےسے فعال ادارے بھی خاموش رہ کر مقبوضہ کشمےر مےں بھارت کی جانب سے کشمےرےوں پر ڈھائے جانےوالے ظلم کو تقوےت دے رہے ہےں۔ پاکستان کے دورہ پر آنےوالی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر مارےا فرنےنڈا کےساتھ صدر‘وزےراعظم اور وزےر خارجہ نے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کشمےر مےں ہونےوالی انسانی حقوق کی بدترےن پامالی کی جانب توجہ مبذول کروائی لےکن مارےا فرنےنڈا نے صرف اتنا کہا کہ انسانی حقوق کا احترام کےا جانا چاہیے جس سے اندازہ لگانا مشکل نہےں اقوام متحدہ جےسا ادارہ بھی بھارتی بربرےت کےخلاف لب کشائی سے گرےزاں ہے۔ صےہونی قوتوں کو پاکستان اور مقبوضہ کشمےر سے زےادہ اپنے مفادات عزےز ہےں۔
1946ءکو جب قائد اعظم مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرےنگر گئے تو وہاں انہوں نے سےاسی‘دفاعی‘اقتصادی اور جغرافےائی زمےنی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمےر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دےا۔لےکن افسوس قائد اعظم کے بعد پاکستان کے کسی بھی حکمران نے قائد کے آہنی عزم کے تسلسل کو قائم نہےں رکھا۔1990ءمےں سابق امےر جماعت اسلامی قاضی حسےن احمد کی اپےل پر اس وقت کی حکومت نے کشمےری مسلمانوں سے اظہار ےکجہتی کے لئے 5فروری کو ےوم اظہار ےکجہتی کشمےر مناےا جو آج تک ہر سال پانچ فروری کو مناےا جاتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمےر کا مجموعی رقبہ 84471مربع مےل ہے جس مےں سے باون ہزار مربع کلو مےڑ پر بھارت جبری طور پر قابض ہے جبکہ 32ہزار مربع کلو مےڑ رقبہ پر پاکستان کا کنٹرول ہے جس مےں سے چار ہزار مربع مےل کے رقبہ پر آزاد جموں و کشمےر واقع ہے۔
کشمےر مےں بھارتی فوج کی جانب سے ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزےاں اس کرہ ارض پر بسنے والی انسانی حےات سے ڈھکی چھپی نہےں ہےں ۔بھارت جس نے برطانےہ اور کانگرےس پارٹی کی گود مےں بےٹھ کر جمہوری سبق تو ےاد کر لےا لےکن شاےد ےہ بھول گےا کہ جس دن بھارت کے طول و عرض مےں ےوم جمہورےہ مناےا جاتا ہے اسی دن مقبوضہ کشمےر کے قرےہ قرےہ مےں بھارتی غاصب فوج کے جاری ظلم و بربرےت کے خلاف ےوم سےاہ مناےا جاتا ہے جو بھارت کی جمہورےت پر بہت بڑا داغ ہے۔بھارتی جمہورےت‘ بغل مےں چھری منہ مےں رام رام ‘کے مصداق ہے بھارت مےں بسنے والی مختلف نسلےں‘زبانےں اور مذاہب اس کے نقشے کو مکمل کرتے ہےں لےکن چالباز ہندو سےاسی پنڈتوں نے سےکولر ازم کی آڑ مےں جمہوری ڈرامہ رچا کر آمرےتی سوچ کے ساتھ بادشاہت قائم کی ہوئی ہے۔کشمےر مےں بسنے والے مسلمان بھارت کی آٹھ لاکھ غاصب فوج کی جانب سے نسل کش پالےسی اور مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور سےاہ پرچم لہرا کر دنےا کے سامنے جمہورےت کے لبادے مےں چھپے اس کے آمرےتی چہرے کو بے نقاب کر رہے ہےں۔بھارت کشمےر مےں 1989ءسے جاری حق خود ارادےت کی تحرےک کو سبو تاژ کرنے کے لئے جو استبدادی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اب اس مےں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شدت آتی جارہی ہے۔کشمےر ی مسلمانوں پر بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے اعداد و شمار کا اگر جائزہ لےا جائے تو اب تک اےک لاکھ کشمےری مسلمان شہےد ہو چکے ہےں اےک لاکھ بےس ہزار اےسی شہادتےں ہےں جو رپورٹ نہےں ہو سکےںاس کے باوجود بھارت سرکار کشمےر مےں جاری حق خودارادےت کی تحرےک کو بےرونی دہشت گردی سے جوڑ کر بے بنےاد پروپےگنڈہ کرنے مےں مصروف ہے۔بھارت کی ہٹ دھرمی‘انا‘تکبر اور جبر کی انتہا کا نتےجہ ےہ کہ 2016ءمےں حرےت پسند مجاہد برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمےری نوجوانوں مےں بھارت مخالف سرگرمےوں مےں شدت دےکھنے مےں آرہی ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمےر مےں موجود بھارتی فوج کے لئے آزادی کی تحرےک سوہان روح بنتی جارہی ہے۔بھارتی پولےس کے اعداد و شمار کے مطابق کشمےر کی تحرےک آزادی مےں جو کشمےری نوجوانوں کے شامل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ 2013ءمےں اکتےس فےصد تھا جو گذشتہ سال 2018ءمےں بڑھ کر چھےاسٹھ فےصد تک جا پہنچا ہے ۔
ان حالات کے پےش نظر عالمی مےڈےا نے بھی زمےنی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تبصرے مےں ےہ سوال اٹھا دےا کہ کشمےر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ نےوےارک ٹائمز نے اپنے ادارےے مےں لکھا کہ کشمےر مےں بھارتی فوج کا روےہ سفاکانہ اور بزدلانہ ہے ۔بھارت کشمےر مےں جو مسلمانوں کے خون سے ہولناک تارےخ رقم کر رہا ہے اس سے بھارتی چہرہ بری طرح بے نقاب ہوتا جارہا ہے اب تو بھارتی مےڈےااور دانشور طبقہ بھی اس نتےجہ پر پہنچ چکا ہے کہ کشمےر بھارت کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔ بھارتی دانشور سنتوش بھارتےہ نے مودی سرکار کے نام ”اٹھتا ہوا کشمےر“کے نام سے کھلا خط لکھا جس مےں تحرےر کےا کہ اگر چہ کشمےر کی زمےن ہمارے ساتھ ہے لےکن کشمےری ہمارے ساتھ نہےں ہےں۔حکمران پارٹی کے رہنما سابق وزےر خارجہ ےشونت سنگھ کی جانب سے ےہ کھلا اعتراف کےا گےا کہ کشمےر کے متعلق نئی دہلی کی پالےسی کنفےوژن کا مجموعہ ہے اور کشمےری عوام جذباتی طور پر بھارت سے دور ہوتے جا رہے ہےں۔بھارت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں نے کشمےر مےں ہونے والے مظالم اور بھارت سرکار کی ہٹ دھرم پالےسےوں پر بہت بڑا سوالےہ نشان لگا دےا ہے ۔پاکستان مےں موجود مےڈےا اور دانشور طبقہ کو چاہےے کہ کشمےر مےں ہونےوالے بھارتی مظالم کے خلاف بھر پور آواز بلند کرتے ہوئے بھارت کے غےر جمہوری چہرہ کی دنےا کے سامنے نقاب کشائی کرے تاکہ دنےا جان سکے کہ بھارت کا اصل چہرہ کتنا بھےانک ہے۔ موجودہ حکومت کو بھی ےہ بات ازبر کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمےر مےں جاری تحرےک آزادی کے حق مےں بھر پور آواز بلند کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ ہموار کرے تا کہ بھارت اقوام متحدہ مےں کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے پر مجبور ہوا‘قوام متحدہ جےسے ادارے کو کشمےر مےں ہونےوالی انسانی حقوق کی پامالےوں کا نوٹس لے کر تحقےقات کے لئے کمےٹی تشکےل دے۔تاکہ جمہوری تقاضوں کے پےش نظر کشمےری مسلمانوں کو استصواب رائے کا حق دےا جائے اور کشمےری مسلمان آزاد اور خود مختار حےثےت مےں اپنے مستقبل کا فےصلہ کر سکےں۔
(کالم نگارقومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved